HTV Pakistan

ذکر امام حسین علیہ السلام کی ضرورت و اہمیت

پڑھنے کا وقت: 24 منٹ

شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری …….
"بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔”

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا پر مادیت کا غلبہ ہوتا جارہا ہے جس کے نتیجے میں صرف لوگوں کی عملی اور اخلاقی زندگیاں ہی متاثر نہیں ہورہیں بلکہ لوگوں کے عقائد اور افکار و نظریات تک بھی متاثر ہورہے ہیں۔ جب انسان کے فکر، عقیدہ اور نظریہ میں مادیت کا غلبہ بڑھتا ہے تو اس عقیدے سے ہر وہ پہلو جس کا تعلق روحانیت اور روحانی اقدار و روایات کے ساتھ ہوتا ہے، وہ پہلو کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ شخص جدیدیت کی سوچ Modernistic Approach کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ جدیدیت بھی تجدد پسندی کی شکل میں ہوتی ہے جس میں مادیت (Materialism)، جدیدیت (Modernism) اور لامذہبیت (Secularism) تینوں اکٹھی ہوتی ہیں۔ ان تینوں کا اختلاط ہماری ایمانی زندگی کو متاثر کررہا ہے اور یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔

جدیدیت (Modrenism) اور ماڈرن ہونے کے تقاضوں Modernistic Approach کو پورا کرنے میں اصلاً خرابی نہیں ہے۔ لیکن جب جدیدیت (Modernism) نظریہ اور عقیدہ بن جاتی ہے تو پھر اس سے خرابیاں جنم لیتی ہیں۔
اسی طرح زندگی کی Secular ضروریات بھی ہیں، جن کا پورا کرنا بھی اشد ضروری ہے، اس لئے کہ دین Secular ضروریات کو نظر انداز نہیں کرتا۔ دین صرف مذہبی پہلو (Religious Aspects) کی تکمیل نہیں کرتا بلکہ دنیاوی پہلو Secular Aspects سے بھی مخاطب ہوتا ہے۔ مگر جب Secularism اپنی انتہاء پر چلی جائے تو وہ لامذہبیت میں بدل جاتی ہے، جس سے ایمان کو نقصان پہنچتا ہے۔

اسی طرح مادیت (Materialism) ہے۔ ہمارا جسم مادہ ہے اور روح کے اوپر ایک غلاف کی مانند ہے۔ روح اور مادہ دونوں کے امتزاج سے انسان بنتا ہے۔ روح سے روحانیت جنم لیتی ہے جبکہ مادہ سے مادیت جنم لیتی ہے۔ اصلاً مادیت بھی بری چیز نہیں مگر مادیت جب فکر، فلسفہ، نظریہ اور عقیدہ بنتی ہے یعنی ہمارے افکار اور عقیدے پر اثر انداز ہوتی ہے تو پھر یہ بھی فتنہ بن جاتی ہے۔

جس سوچ، عقیدے اور نظریہ میں جس بھی دور میں یہ تینوں چیزیں ’’جدیدیت، لامذہبیت اور مادیت‘‘ اکٹھی ہوجاتی ہیں تو وہاں اعتقادی، اخلاقی اور ایمانی اعتبار سے بہت بڑا فتنہ وجود میں آتا ہے۔ آج مسلمانوں کی اعتقادی، روحانی، ایمانی، اخلاقی، عملی زندگی اس فتنے سے بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ مادی ضرورتوں، جدید دور کے جملہ تقاضوں اور غیر مذہبی گوشہ ہائے حیات کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہماری مرکزیت ایمان، روحانیت، قرآن و سنت اور روحانی اقدار پر قائم رہنی چاہئے، اس سے اعتدال قائم ہوتا ہے۔

جس طرح روح اور جسم کے مرکب کو انسان کہتے ہیں، خالی جسم کو بھی انسان نہیں کہتے، فقط روح ہو جسم نہ ہو، تب بھی انسان نہیں کہتے۔

اسی طرح روحانی اور مادی (دنیوی) دونوں تقاضے بتمام وکمال اکٹھے ہوں تو دین اور مذہب کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور انسان صحیح ڈگر پر رہتا ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک تقاضا بھی چھوٹ جائے یا کمزور پڑجائے تو انسان اپنا توازن کھودیتا ہے اور سوچ، فکر، عقیدہ اور عمل میں غیر متوازن ہوجاتا ہے۔

اسی لئے اللہ رب العزت نے امت محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا: اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَی النَّاسِ.
’’ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو ‘‘۔ (البقرة، 2: 143)
اگر امت مسلمہ انسانیت کی قیادت کرنا چاہتی ہے تو اسے امت وسط ہونا چاہئے۔ اعتدال پر قائم رہنے والی ایسی امت بننا ہوگا جو اپنا توازن نہ کھوئے۔

مادیت، لامذہبیت اور جدیدیت کے اثرات
مادیت (Materialism) لامذہبیت (Secularism) اور جدیدیت (Modernism) اصلاً ان تینوں چیزوں کو میں برا نہیں سمجھتا مگر جب ان تینوں چیزوں کا امتزاج برے طریق سے ہوتا ہے تو اس کے نتیجہ میں عقائد میں تغیر آتا ہے اور ایسا ہوتا ہوا ہم گذشتہ کئی دھائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس موقع پر آپ کو ایک نصیحت کرنا چاہوں گا اور یہ الفاظ میرے والد گرامی حضرت فرید ملت ڈاکٹر فریدالدین قادریؒ مجھے بطور نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ ’’بیٹے! گھر، لباس، گاڑی، گھڑی اور ضروریات زندگی کی مختلف اشیاء جو جو چیز بھی مارکیٹ میں نئی آئے، استفادہ و استعمال کے لئے لے لیں، کسی شے کے نئے ماڈل لینے میں گناہ اور حرج نہیں مگر صرف عقیدہ نیا نہ لینا، عقیدہ وہی رکھنا جو پرانے لوگوں کا تھا‘‘۔

ہر نئی شے لینے سے آپ ترقی یافتہ ہوتے چلے جائیں گے، دنیا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے جائیں گے جبکہ عقیدہ پرانا رکھنے سے آپ ایمان پر قائم رہیں گے۔ عقیدہ و ایمان کے حوالے سے جتنی نئی باتیں آپ سنتے ہیں، وہ سب نئے فتنے ہیں۔ روایات میں جو طور طریقے ہماری پچھلی نسلوں میں ائمہ، محدثین اور صلحاء کے تھے، ان کو ترک نہ کریں کیونکہ انہوں نے ان عقائد کو اپنی پہلی نسلوں سے لیا تھا۔ ہر پچھلا دور ہماری نسبت آقا علیہ السلام کے دور کے قریب تھا۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا: خَیْرُالْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ وَهُمَا.

’’سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اُن کا جو ان سے ملے ہوئے ہیں اور پھر اُن کا جو اِن سے ملے ہوئے ہیں‘‘۔ (شرح فتح القدیر، ج7، ص378)

حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ کے صحابہ کرام اور اہل بیت کا زمانہ سب سے بہتر ہے۔ پھر وہ زمانہ بہتر جنہوں نے ان (صحابہ و اہل بیت) کو پایا۔ یعنی تابعین، پھر ان لوگوں کا دور جنہوں نے تابعین کو پایا اور وہ تبع تابعین کا دور تھا۔

حدیث کی ظاہری نص کا اطلاق تو صاف ظاہر ہے قرن ثلاثہ (تین زمانوں) عہد صحابہ، عہد تابعین اور عہد تبع تابعین پر ہوتا ہے۔ مگر اس سے ایک اصول نکلتا ہے کہ ان تین زمانوں کو یا آخری تیسرے زمانے کو فضیلت ملنے کی وجہ یہ ہے کہ جس زمانے کو جتنا قرب زمانہ محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور زمانہ نبوت سے تھا وہ زمانہ اتنا افضل ہوگیا۔ اس اصول کا اطلاق جب ہم صدیوں پر کریں گے تو جو صدی آقا علیہ السلام کی صدی سے جتنی قریب تھی وہ پچھلی صدیوں سے اتنی بہتر ہو گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*