HTV Pakistan

غزوہ بدر تاریخ اسلام کا فیصلہ کن مرحلہ

پڑھنے کا وقت: 18 منٹ


ڈاکٹر محمد طاہرالقادری …….
حق، باطل کے ساتھ کسی مرحلے اور کسی سطح پر بھی سمجھوتے کا روادار نہیں ۔اگر مسلمان اپنے عظیم مشن کو پس پشت ڈال کر باطل کے عقائد ونظریات کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتے اورظالم استحصالی طاقتوں کے عقائد باطلہ کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ بیدارکرکے عافیت کی درمیانی راہ اختیار کرلیتے اوراپنے عقائد ونظریات سے اپنی فکری اورروحانی وابستگی کو کمزور کرلیتے تو معرکہ بدر کبھی برپا نہ ہوتا۔مشرکین مکہ کی تلواریں کبھی بے نیام نہ ہوتیں،کفر اپنے پورے مادی وسائل کے ساتھ جذبہ شہادت سے سرشارمسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو للکارنے اوران کے خلاف صف آراءہونے کی ضروت ہی محسوس نہ کرتا۔
لیکن ہادی برحق ﷺ نے باطل کے ساتھ کسی سمجھوتے کے امکانات کو رد کرتے ہوئے بے سروسامانی کے عالم میں کفر کے ساتھ ٹکر لینے کا عزم کرلیا۔یہ نبوت کا پندرھواں سال تھا ،تاریخ اسلام کا فیصلہ کن مرحلہ،حق اورباطل کی کھلی جنگ ، جنگوں کے ایک طویل سلسلے کی تمہید ،اسلامی تشخص کی پہلی عسکری توجیہہ، اپنے نصب العین کی سچائی پر غیر متزلزل یقین کی علامت اوراپنے وسیع تر تناظر میں دو قومی نظریہ کی حقانیت نہ صرف آزمائش کی کسوٹی پر پورااترتی ہے بلکہ فکری اورنظریاتی حوالے سے فرد کی عملی تربیت کا احساس بھی عمل کی بھٹی سے گزر کر کندن بنا اورپھر یہ کندن فرد کے کردار میں ڈھل کر معاشرے میں خیر کی قوتوں اورنیکی کے رویوں کے فروغ کا ضامن قرارپایا۔
غزوہ بدر کو دیگر غزوات پر کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہے ۔اسے کفرواسلام کا پہلا معرکہ ہونے شرف حاصل ہے ۔خود حضور اکرم ﷺ نے غزوہ بدر کو ایک فیصلہ کن معرکہ قراردیا اورقرآن مجید نے اسے یوم الفرقان سے تعبیرکرکے اس کی اہمیت پر مہرتصدیق ثبت کردی۔فرمایا” جو ہم نے اپنے( برگزیدہ) بندے پر( حق وباطل کے درمیان)فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب بدرمیں مومنوں اورکافروں کے) دونوں لشکر باہم متصادم ہوئے تھے“(الانفال۸:۱۴) بلاشبہ یوم بدر غلبہ حق اور باطل کے مٹ جانے کا دن تھا ،جس دن حق کو واضح اوردوٹوک فتح حاصل ہوئی اورکفرکے مقدرمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذلت آمیز شکست لکھ دی گئی۔مشرکین کا تکبر وغرورخاک میں مل گیا،کبرونخوت کی دستارپاو¿ں تلے کچلی گئی۔جھوٹے تعصبات کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھر گئیں۔ حق کا پرچم بلند ہوا اوربلند ہی ہوتا چلا گیا ۔
جھوٹی انا کا سرجھکا اورجھکتا ہی چلا گیاروشنی کی تلاش کا سفر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا تھا ۔عقیدہ توحید ،انسان کی کتاب روز وشب کے ہرباب کا عنوان بن رہا تھا اورمطلع انسانیت پر ایک نئی صبح طلوع ہورہی تھی۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے۔”اوراللہ چاہتاتھا کہ اپنے کام سے حق کو حق ثابت فرمادے اور(دشمنوں کے بڑے مسلح لشکر پر مسلمانوں کو فتح یابی کی صورت میں)کافروں کی(قوت وشان وشوکت)کی جڑکاٹ دے“ (الانفال۸:۷)
اسباب جنگ:
ہر عمل(Action)کا ایک رد عمل(Reaction) ہوتاہے ۔عمل جتنا شدید ہوگا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوگا ۔قانون فطرات ہے کہ جتنا کسی چیز کو دبا یا جاتاہے وہ چیز اتنا ہی ابھر کرسامنے آتی ہے اورپھر ہر عمل کے چند ایک محرکات ہوتے ہیں۔حق وباطل کے اس معرکہ کی وجوہات حضور ﷺ کے اعلان نبوت سے ہجرت مدینہ تک ان گنت واقعات کے دامن میں پھیلی ہوئی ہیں۔اگرچہ چند واقعات کو اس معرکہ کی فوری وجوہات میں شمار کیاجاسکتاہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تصادم اسی روز ناگزیر ہوگیا تھا جس دن حضور ﷺ نے کفر وشرک کی آگ میں جلتے ہوئے سماج میں اعلائے کلمة الحق کا پرچم بلند کیا تھا ۔جس روز حضور ﷺ نے پتھر کے بتوں کی پرستش کو ترک کرکے خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں سربسجود ہونے کی دعوت دی تھی۔
فار ان کی چوٹیوں پر آفتاب ہدایت کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی اندھیروں نے اپنی بقا کی جنگ کے لئے صف بندی کا آغازکردیا تھا ۔اسلام اورپیغمبراسلام ﷺ کے خلاف سازشوں اورشرانگیزیوں کا سلسلہ اصل میں غزوہ بدر کا دیباچہ تھا ۔ہجرت مدینہ کے بعد جب مسلمان منظم ہونے لگے اورکفار کا یہ خدشہ کہ مسلمان ایک قوت بن کر ابھرے تو ان کا اقتدار ہی نہیں پورا نظام خطرے میں پڑجائے گا ۔حقیقت میں تبدیل ہونے لگا تو مشرکین مکہ کے لئے مسلمانان مدینہ کے ساتھ مسلح تصاد م کے سواکوئی چارہ نہیں رہ گیاتھا۔تاریخ شاہدہے کہ اعلان نبوت کے ساتھ ہی اسلام کے خلاف اعلان جنگ ہوگیا تھا ۔گو اس تصاد م کا موقع پندرہ سال بعد آیا لیکن ایک عرصے سے کفار ومشرکین نفرت کا لاوا اپنے سینوں میںلئے وحشت وبربریت کی تصویر بنے ہوئے تھے ۔اس وحشت وبربریت کا مظاہرہ مسلمانوں کوانگاروں پر لٹاکر ہوتااورکبھی انہیں تپتی ریت پر گھسیٹنے کے غیر انسانی فعل کی صورت میں اسکا اظہار ہوتا۔
کبھی سرکار دوعالم ﷺ کے قتل کی سازش کرکے قریش اپنے خبثِ باطن کا مظاہر ہ کرتے اورکبھی گھاٹی شعب ابی طالب میں خاندان رسول ﷺ کا معاشرتی بائیکاٹ کرکے انتقام کی آگ کو سرد کرتے۔ لیکن یہ آگ سرد ہونے کی بجائے بھڑکتی رہی سینوں میں نفرت کا لاوا کھولتا رہا ۔ہم غزوہ بدر کے تمام ممکنہ اسباب کا جائزہ لیں گے۔غزوہ بدر کے پس منظر میں جن اسباب کا ذکر کیاجائے گا ان کا بھی ایک پس منظر (Background)ہے ،ہم پس منظر اورپیش منظر دونوں کا جائزہ لے کر اس فیصلہ کن معرکے کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی سعی کریں گے۔
کفار کی اسلام دشمنی
جس دن اعلان نبوت کے ساتھ داعی حق نے کفارومشرکین کو دعوت حق دی تھی اسلام دشمنی کاآغاز بھی اسی روز ہوگیا تھا ۔آواز حق پر کفارکان دھرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔نئے اجالوں کو کتاب زندگی کا عنوان بنانے کی ہمت ان میں نہ تھی۔وہ جہالت کی ردائے تار تار سے چمٹے ہوئے تھے۔مشرکین نظام باطل کے حصار سے نکلنے پر قطعاً رضامند نہ تھے۔جب حضور ﷺ نے ان کے عقائد باطلہ کو بے نقاب کرکے توحید کا نعرہ بلند کیااوربت پرستی کے خلاف دعوتی جدوجہد کا آغاز کیا تو کفار مکہ کے ساتھ روایات کہنہ کا علم اٹھائے پورا عالم عرب اسلام اورپیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ۔مکروہ سازشوں کا ایک ایسا جال بناگیا جس سے نکلنے کا تصور وہی عظیم لوگ کرسکتے ہیں جنہیں اپنے نصب العین کی سچائی پر غیر متزلزل یقین ہواورابتلا وآزمائش کے کسی مرحلے پر بھی ان کی جبین شکن آلود نہ ہو۔
حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کی جماعت ہر آزمائش پر پورا اترنے والے انہی نفوس قدسیہ پر مشتمل تھی۔ جنہوںنے قد م قدم پر ایثار وقربانی کی لازوال مثالیں قائم کرکے قیامت تک راہ حق کے سفر پر نکلنے والے مسافروں کو اپنے نقوش پاکی روشنی عطا کی۔وہ کون ساحربہ تھا جو مسلمانوں کے خلاف نہ آزمایا گیا ۔فتنہ وفساد کی آگ بھڑکا کر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ۔اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے اہل باطل اپنی عسکری طاقت مجتمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔تیرہ سالہ مکی دوراس امرپر گواہ ہے کہ کفار اسلام دشمنی میں اندھے ہوچکے تھے۔ نبی آخرالزماں ﷺ کے قتل کے منصوبے بننے لگے شب ہجرت بھی مفسدین اس نیت سے حضور ﷺ کے مکان کا محاصرہ کئے ہوئے تھے وہ کسی صورت میں بھی یہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ اسلامی تحریک اپنے قدم جما سکے۔
اس لئے انہوںنے حبشہ کی جانب ہجرت کرنے والے صحابہ ؓ کا پیچھا کیااورنجاشی سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا کہ یہ مہاجرین ہمارے مجرم ہیںانہیں ہمارے حوالے کردیجئے ۔وہ کب برداشت کرسکتے تھے کہ مسلمان حبشہ میں جا کر سکھ کا سانس لیں یا مدینہ منورہ میں امن وسکون کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اپنی دعوتی مہم کا آغاز کریں۔
تجارتی قافلے اورجنگی بجٹ میں اضافہ
اہل مکہ کا سب سے بڑا ذریعہ معاش تجارت تھا۔بڑے بڑے تجارتی قافلے گردوپیش کی منڈیوں میں رواں دواں رہتے۔مدینہ میں مسلمانوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہوجانے کا انہیں بڑاقلق تھا چنانچہ مشرکین مکہ کے سردار عوام الناس کو خصوصاً نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ اسلام ،پیغمبر اسلامﷺ اوران کے پیروکاروں کے خلاف یہ نفرت جنون اوردیوانگی کی حد تک پہنچ چکی تھی۔کفار مکہ اسلام دشمنی میں بوکھلائے ہوتے تھے۔کفار نے تجارت کے نفع میں سے ایک مخصوص حصہ لازمی طورپر جنگی تیاریوں کے لئے مختص کرنا شروع کردیا ۔دشمن کے تجارتی قافلوں کی ناکہ بندی پر معترض ہونے والے کیوں نہیںسوچتے کہ اس تجارت سے ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے ہتھیاروں کی فراہمی پر خرچ ہورہا تھا۔
دشمن کی عسکری قوت پر کاری ضرب لگانے کے لئے دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی کے حق سے آخر مسلمان ہی کیوں دستبردار رہتے۔کیاانہیں اپنے دفاع میں کوئی قدم اٹھانے کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔مستشرقین اورمعترضین یہ بھی کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہجرت مدینہ سے قبل حضورﷺ کو شہیدکرنے کی سازش کی گئی اورشب ہجرت حضور ﷺ کے کاشانہ مبارک کو برہنہ تلواروں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ کیایہ محاصرہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ نہ تھا۔؟ مسلمان اس وقت دفاعی پوزیشن میں تھے۔مستشرقین کی علمی خیانت کی اس سے بڑی مثال اورکیا ہوسکتی ہے کہ وہ جارحیت پسندوں کی سازشوں کی مذمت کرنے کی بجائے ان مظلومین پر طعن وتشنیع کے تیربرسانے شروع کردیتے ہیں۔
گشتی دستوں کی نقل وحرکت
کفار کی جنگی تیاریوں کے پیش نظر مسلمانان مدینہ بھی چوکنے تھے اورمدینہ منورہ پر کفار کے متوقع حملہ کا جواب دینے کے لئے دفاعی تیار یوں میں مصروف تھے۔اپنے دفاع سے غفلت بہت ہی ناخوشگوار صورتحال پیدا کرسکتی تھی۔سپہ سالار مدینہ حضوررحمت عالم ﷺ نے جو دفاعی حکمت عملی اپنائی ماہرین جنگ اس پر انگشت بدنداںہیں کہ حضور ﷺ نے روایتی انداز اپنانے کی بجائے نئے زاویہ نگاہ سے دفاع مدینہ کے جملہ پہلووں کا جائزہ لیا اورنگران گشتی دستوں کی تشکیل کرکے دشمن کی نقل وحرکت خصوصاً اس کی اقتصادی ناکہ بندی پر اپنی توجہ مرکوز کی اوربہت جلد اس کے حوصلہ افزاءنتائج بھی حاصل ہونا شروع ہوگئے۔حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کے داخلی استحکام اورکسی بیرونی حملہ کے امکانات کے پیش نظر مسلمانوں ،یثرب کے عیسائیوں اوریہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیاجاتاہے ۔غزوہ بدر سے قبل نگران گشتی دستوں کی تواتر سے روانگی کا پتہ چلتا ہے ان میں سے صرف ایک مہم میں کفار سے مڈبھیڑ ہوئی جس کے سربراہ حضرت عبداللہ بن حجش ؓ تھے۔ ( سیرة ابن ہشام،۱:۱۰۶)
ایک مشرک کا قتل
رجب۲ھ میں حضرت عبداللہ بن حجش ؓ کو آٹھ آدمیوں کے ہمراہ دشمن کی نقل وحرکت معلوم کرنے کی غرض سے مکہ اورطائف کے درمیان گھات لگا کر بیٹھنے کے لئے روانہ کیا گیا۔مقام نخلہ پر مشرکین کے ایک قافلے کے ساتھ تصاد م کے نتیجے میں ایک مشرک عمروبن حضرمی ماراگیا ۔دوآدمی قیدی بنالئے گئے اورقافلے کے سامان پر قبضہ کرلیاگیا جب اس واقعہ کی اطلا ع ملی تو آپ ﷺ سخت ناراض ہوئے کیونکہ اس دستے کو لڑائی کرنے کا حکم نہیں دیا گیاتھا چنانچہ اس گشتی دستے کے اراکین سخت تشویش میں مبتلا رہے کہ معلوم نہیں ان کے خلا ف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔
مشرکین کا معاندانہ پروپیگنڈہ
مشرکین مکہ ایک عرصہ سے مسلمانوں کے خلاف سرد جنگ شروع کئے ہوئے تھے ان کی پروپیگنڈہ مشنری ہمیشہ سرگرم عمل رہتی،کردار کشی کا ہر حربہ آزمایاگیا۔ دروغ گوئی کی انتہاکردی گئی۔کفارکی اشتعال انگیز کارروائیوں سے ایک جنگی جنون سا پیدا ہوچکا تھا ۔ابن حضرمی کا قتل حرمت والے مہینے میں ہوا تھا اس لئے مشرکین نے اس واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف خوب اچھالا کہ مسلمانوں نے حرمت والے مہینوں کو بھی حلال کرلیاہے۔عرب قبائل کے لئے حرمت والے مہینوں کااحترام ایک جذباتی مسئلہ تھا ۔ان کے مخالفانہ پروپیگنڈے کا مقصد یہ تھا کہ رائے عامہ کو مسلمانوں کے خلاف اس قدر بھڑکادیا جائے کہ جب وہ حملہ آور ہوں تو مدینہ شہر کے اندر سے بھی لوگ ان کے ساتھ آملیں نیز مدینہ پر حملہ کرنے کے فعل کو کوئی قابل مذمت قراردینے والا بھی نہ ہو۔ (سیرت ابن ہشام، ۱:۴۰۲)
اللہ کافیصلہ
مجاہدین اسلام سے حرمت والے مہینے میں کاروائی محض غلط فہمی کی بنا پر ہوئی۔کیونکہ وہ درست اندازہ نہ لگا سکے کہ آیا حرمت والے مہینے کا آغاز ہوچکاہے یا نہیں۔بہرحال دشمنان اسلام نے اس واقعہ کو خوب اچھالا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پروپیگنڈے کا جواب ان الفاظ میں دیا۔”لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں،فرمادیں اس میں جنگ بڑا گناہ ہے اوراللہ کی راہ سے روکنا اوراس سے کفرکرنا اورمسجد حرام(خانہ کعبہ) سے روکنا اوروہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک (اس سے بھی) بڑا گناہ ہے اوریہ فتنہ انگیزی قتل وخون سے بھی بڑھ کر ہے“ (البقرہ، ۲:۷۱۲) اس آیت کریمہ کے نزول سے گشتی پارٹی کے اراکین کا ذہنی بوجھ کم ہوا۔
سردجنگ میں سرگرمی
مشرکین مکہ سرد جنگ میں سرگرمی سے مصروف عمل تھے۔پروپیگنڈے کے محاذپر جھوٹ کے پلندے اوربہتان تراشیوں کے انبار تخلیق ہورہے تھے،سرد جنگ ہمیشہ گرم جنگ کا پیش خیمہ ہوتی ہے ،آثار وقرائن بتارہے تھے کہ کفارمکہ کا جنگی جنون گل کھلا کررہے گا ۔حضور نبی رحمت ﷺ مدینہ منورہ میں اپنی آمد کے فوراً بعد داخلی امن اورسیاسی استحکام کی طرف متوجہ ہوئے۔آپ ﷺ ابھی مشرکین مکہ سے الجھنا نہیں چاہتے تھے لیکن مذکورہ آیت کے نازل ہونے کے بعد مسلمانوں کو ایک نیا اعتماد ملا۔
باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارنے کا شعور عطا ہوااوران کے حوصلوں،ولولوں اورامنگوں کو نیابانکپن ودیعت ہوا۔اس پس منظر میں مکہ اورمدینہ کے درمیان جاری سرد جنگ میں گرماگرمی کے آثار پیدا ہونے لگے خصوصاً نوجوانوں کا جوش وخروش دیدنی تھا ۔جذبہ شہادت سینوں میں مچلنے لگا ،سراٹھا کر چلنے کی روایت دلنواز کو مفاہیم کے نئے پیراہن پہنائے گئے اگرچہ مشرکین مکہ کویہ احساس ہوچلا تھا کہ اب مسلمان ہمیں للکارنے اورہمارے مدمقابل صف آراءہونے کی پوزیشن میں ہیںلیکن وہ انتقام کی جس آگ میں جل رہے تھے اس نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کررکھا تھا۔
دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی
عربوں کی معیشت کا زیادہ تردارومدار شام کے ساتھ تجارت پر تھا اس لئے مکہ ایک تجارتی مرکز کے طورپر مشہور تھا۔یہ تجارت عربوں کی اقتصادیات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی ۔یہاںاس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہجرت مدینہ نہ محض ایک اتفاقی حادثہ تھا اورنہ مکہ سے فرار کی ہی کوئی کوشش تھی بلکہ یہ طویل المیعاد منصوبہ بندی کا ایک حصہ تھا،مکہ اورشام کے درمیان تجارتی شاہراہ پر مسلمانوں کے قبضہ کے بعد دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی کرنا نسبتاً آسان ہوگیا تھا ۔
اہل مدینہ کو مسلمانوں سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش
ادھر میثاق مدینہ کے ذریعہ جن میں مسلمانوں کے علاوہ یہود ونصاریٰ بھی شامل تھے کا تعاون داخلی استحکام کے لئے بہت ضروری تھاتاکہ مدینہ منورہ کے دفاع کو نہ صرف مضبوط بنایا جائے بلکہ اپنی عسکری قوت کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مخالف عناصر کو دشمن کا ساتھ دینے سے باز رکھاجاسکے۔ یہ حکمت وفراست مثبت نتائج بھی پیدا کررہی تھی اورریاست مدینہ کی حالات پر گرفت بھی بتدریج مضبوط ہورہی تھی اورساتھ ساتھ مدینہ کی سماجی اوراقتصادی زندگی میں بھی انہیں پذیرائی نصیب ہورہی تھی ،کفار مکہ کو یہی بات کھٹکتی تھی چنانچہ انہوںنے مدینہ منورہ کے مشرکوں،منافقوںاوریہودیوں وغیرہ کو دھمکی آمیز خط لکھنا اورانہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کردیا ۔ان اشتعال انگیز کارروائیوں کے پس منظر میں مسلمان کمال حکمت سے آہستہ آہستہ تمام معاملات کواپنے ہاتھ میں لے رہے تھے کفارمکہ کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا اوروہ مسلمانوں کے خلاف جنگی جنون کو ہوادے رہے تھے ۔
کرز بن جابر کی چور ی اورسینہ زوری
دشمن اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا تھا ۔مکہ کی ایک اوراہم شخصیت کرز بن جابر نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کردیا ورمویشیوں کو اپنے ساتھ بھگالے گیا۔اس اشتعال انگیز کارروائی کا ایک مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ڈرایا دھمکایا جائے کہ ہم تمہارے گھر میں آکر بھی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہیں اورکسی وقت بھی مدینہ پر حملہ آور ہوکر مسلمانوں کوتباہ وبرباد کرسکتے ہیں۔
قافلہ ابوسفیان کا تعاقب
اہل مکہ تجارت پیشہ لوگ تھے اورشام کے ساتھ ان کے تجارتی مراسم مدتوںسے قائم تھے۔تجارتی قافلے مکہ اورشام کے درمیان رواں دواں رہتے ،عموماً ان تجارتی قافلوں کی حفاظت کا بھی انتظام کیاجاتا۔،حضور نبی اکرم ﷺ کو اطلاع موصول ہوئی کہ ابو سفیان بن حرب ایک بہت بڑاقافلہ لے کر ملک شام کی طرف جارہا ہے ۔آپ ﷺ دوسو مجاہدین لے کر دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی کےلئے نکلے لیکن قافلہ جاچکا تھا ۔حضرت طلحہ ؓ بن عبیداللہ ؓ اورحضرت سعیدبن زیدؓ کو شمال کی جانب روانہ کیا گیا کہ وہ قافلے کی واپسی پر نظر رکھیں۔یہ اصحاب رسول مقام ”الحورا“ میں ٹھہر گئے جب ابو سفیان ایک ہزار اونٹوں کے قافلے کے ساتھ واپس آیا تو اس کی نگرانی پر مامور صحابہ ؓ نے اس کی اطلاع فوراً مدینہ منورہ میں دی۔حضور ﷺ ۳۱۳صحابہ کو لے کر ۲۱رمضان المبارک ۲ھ کو دشمن کی رسد کاٹنے کی غرض سے مدینہ منورہ سے نکلے۔
ابوسفیان کا واویلا
ابوسفیان کے جاسوسوں نے اسے اطلاع دی کہ مسلمان قافلہ پر حملہ آور ہونے والے ہیںاس نے فوراً مکہ میں سرداران قریش کو اس امر کی اطلاع دی اورفوری مدد چاہی ۔روایات میں ہے کہ ابوسفیان کے ایلچی ضمضم بن عمرو غفاری نے اپنی قمیض اوربعض روایات کے مطابق اپنی چادر پھاڑ دی ۔اونٹ کاکجاوہ الٹ دیا اورقریش کو پکارا کہ ابوسفیان محمدﷺ اوران کے ساتھیوں کے نرغے میں ہے ۔تمہاراسامان تجارت بھی ان کے ہاتھ میں جانے والا ہے اے اہل قریش ابوسفیان کی مدد کے لئے پہنچو۔ کفار مکہ جو پہلے ہی مسلمانوں پر ادھار کھائے بیٹھے تھے مشتعل ہوگئے ۔انہوںنے ہنگامی بنیادوں پر لشکرترتیب دیا جس میں تمام قبائل کے جنگجو افراد کو شامل کیاگیا اوراموال حاصل کئے گئے تاکہ جنگی ضروریات کو پوراکیاجاسکے۔مسلمانوں کے خلاف منظم ہونے والے اس لشکرمیں ابولہب کے سواتمام سردارشریک ہوئے۔
ان جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ زعمائے قریش نے یہ بھی محسوس کیاکہ کہیں لشکر کی روانگی کے بعد مکہ کے دفاع کو کمزور جان کر بنوبکر مکہ پر حملہ نہ کردیں۔لیکن عین اس موقع پر سراقہ بن مالک ادھر آنکلا ،اسلام دشمنی نے دونوں فریقوں کو متحد کردیا اوروہ آپس کی دشمنی بھول گئے۔ سراقہ بن مالک نے قریش کو یقین دلایاکہ ہم اس موقع پر کوئی شرارت نہیں کریں گے۔آپ اطمینان سے مسلمانوں کے ساتھ دودوہاتھ کریں۔یہ یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد قریش کی جنگی تیاریوں کو آخری شکل دی جانے لگی اوران کا جوش وخروش جنون کی آخری حدوں کو چھونے لگا ۔
حسن،رقابت اورانتقام کی آگ چاروں طرف روشن تھی۔ باطل مادی وسائل کی کثرت پراترا رہاتھا ۔مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا زوروشور سے جاری تھا ۔یہ واویلا اس لئے مچایا جارہا تھا کہ قافلہ تجارت کے ساتھ جس جس کے مالی مفادات وابستہ تھے یا جو قبائل مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے ان قبائل اورخاندانوں کا کوئی فرد اس لشکر میں شامل ہونے سے نہ رہ جائے اورسب مل کر اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے قدم سے قدم ملا کر ایک ساتھ بڑھیں۔(البدایہ والنہایہ،۳:۷۵۲)
چند ایمان افروز واقعات
انسانی تاریخ گوا ہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں ایسے محیرالعقول واقعات بھی رونماہوئے ہیں عقل جن کی توجیہہ کرنے سے قاصر رہتی ہے ‘ سوچ جن کے بارے میں سوچ سوچ کر ماﺅف ہو جاتی ہے اور سائنس انہیں اتفاقات کا نام دےکر اپنا دامن چھڑا لیتی ہے لیکن روحانی دنیا میں یہ بظاہر خلاف عقل واقعات کسی استعجاب اور حیرت کا باعث نہیں بنتے کیونکہ اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کو اپنے ایمان وایقان کی بنیاد بنانے والے اپنی ہرسوچ کو مشیت ایزدی کے تابع کر دیتے ہیں وہ اس کائنات رنگ وبوکے اس خالق کی پرستش کرتے ہیں جس کے اذن سے ہوائیں سفر کرتی ہیں اور جس کے حکم سے بنجر زمینوں کو شاداب ساعتوں کا لمس عطا ہوتا ہے جو ہر ذی روح کی ایک ایک سانس کا مالک ہے جو حیی بھی ہے اور قیوم بھی‘ جو علیم بھی ہے اور خبیر بھی ‘ جو جبار بھی ہے اورقہار بھی اورجو رحیم بھی ہے اورکریم بھی ۔یہی احساس انہیں ایمان کی دولت سے نوازتاہے اور وہ ان محیرالعقول واقعات کو کرشمہ خداوندی سمجھ کر من وعن قبول کر لیتے ہیں اوریہی ایمان کی معراج ہے ۔ غزوہ بدرمیں اللہ کی مدد اورنصرت کو آسمانوں سے اترے ہوئے اہل ایمان نے ہی نہیں دیکھا بلکہ مشرکین مکہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے دشمن بھی اس تائیدغیبی کے عینی شاہد ہیں۔
پرسکون نیند
انسان کا ذہن اگر منتشرہو یا اس پر حالات کا دباﺅ ہو تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی نیند ختم ہو جاتی ہے ‘ میدان جنگ میں جہاں جان کے لالے پڑے ہوں‘موت سامنے رقص کر رہی ہو تو خوف کی لہر خون میں سرایت کر جاتی ہے اور بہادر سے بہادر انسان کا پتہ بھی پانی ہونے لگتا ہے اور اس کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ میدان بدر میں اسلامی لشکر کے سپہ سالاراعظمﷺ جاگ رہے ہیں اور اپنے مالک کے حضور گڑگڑا کر التجائیں کر رہے ہیں ‘ فتح وکامرانی کی دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن وہ اسلامی لشکرجس نے صبح باطل کے ایوانوں میں زلزلہ بپاکرنا ہے جس نے مشرکین مکہ کے گھمنڈ کو خاک میں ملانا ہے اور جس نے باب حریت کا نیا عنوان رقم کرنا ہے نیند کے گہرے سمندرمیں ڈوباہوا ہے ‘ یہ نہیں کہ انہیں حالات کی نزاکت کا اندازہ نہیں وہ تومدینے کے دفاع میں پوری پوری رات پہرہ دیتے رہے ہیں ‘ یہ بھی نہیں کہ وہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں یہ بھی نہیں کہ ان کے پاس اتنی افرادی قوت ہے یا وسائل جنگ کی اتنی فراوانی ہے کہ وہ دشمن کو خاطر میں ہی نہیں لاتے‘ البتہ اتنا ضرور ہے کہ انہیں ایمان کی دولت نصیب ہے ‘ تائید خداوندی پر مکمل بھروسہ ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جسے چاہتا ہے زندگی عطا کرتا ہے‘ عزت ‘ ذلت سب اسی کے ہاتھ میں ہے ‘ یہ طمانیت ‘ یہ وقار اور یہ سکون ایمان کی عطا ہے ‘ یہ میٹھی نیند عطیہ خداوندی ہے‘ اللہ نے اپنے محبوب رسولﷺ کے عظیم ساتھیوں پر پرسکون نیند اتاردی ہے ‘ جاگنے کی کوشش کے باوجود لشکریوں کی آنکھیں بندہونے لگتی ہیں لیکن دوسری طرف دشمن اضطراب وبے چینی کی کیفیت سے دوچار ہے‘ جب حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عماربن یاسر دشمن کی نقل وحرکت کی خبریں لے کر واپس آتے ہیں تو بیان کرتے ہیں کہ کفارتوڈرکے مارے کسی گھوڑے کو بھی ہنہنانے نہیں دیتے‘ اس کیفیت کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے۔”جب اس نے اپنی طرف سے(تمہیں) راحت وسکون (فراہم کرنے) کے لئے تم پر غنودگی طاری فرمادی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں(ظاہری وباطنی) طہارت عطا فرما دے اور تم سے شیطان (کے باطل وسوسوں ) کی نجاست کو دورکردے اور تمہارے دلوں کو (قوت یقین ) سے مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے قدم (خوب) جما دے۔(الانفال‘۸:۱۱)نتیجہ اس خدائی مدد کایہ نکلا کہ مسلمان جب صبح نماز کے لئے اٹھے تو چاک وچوبند اور پوری طرح بیدارتھے‘ لیکن ساری رات سونے جاگنے کی کیفیت میں رہنے والا لشکر کفار صبح ہوئی تو شام کی طرح شاخ وقت پر مرجھایا ہوا تھا۔
شیطانی وساوس کاعلاج:
میدان بدر میں شیطان لشکر کفار کا نمائندہ بن کر پوری طرح متحرک تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر اگر مشرکین مکہ شکست کھا گئے تو پھر اسلام کی آفاقی تعلیمات کے فروغ کو دنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکے گی اور پوری دنیا پر توحید کاپرچم لہرانے لگے گا اس لئے وہ مجاہدین کے دلوں میں وسوسے ڈالنے لگا اور انہیں ورغلانے کے لئے طرح طرح کی ترغیبیں دینے لگا اور شکوک وشبہات پیدا کر کے ان کے ایمان کو متزلزل کرنے لگاکیونکہ کفار نے پہلے پہنچ کر پانیوں پر قبضہ کرلیاتھا اور مسلمانوں کو ہر مرحلے پردقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا شیطان نے موقع غنیمت جانا اور بعض مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کر دیا کہ ساری سہولتیں اور مراعات دشمنان دین کو حاصل ہیں اور ہم مسلمان پانی کو بھی ترس رہے ہیں‘ اللہ تعالی نے بغیرظاہری آثار کے بارش کر دی جس کے نتیجے میں پانی کی قلت دور ہو گئی اور جنگی نقطہ نظر سے خاصا فائدہ ہوا کہ کفار کی طرف والی زمین دلدل میں تبدیل ہو گئی لہذا ان کے لئے جم کر لڑنا مشکل ہو گیا‘ مسلمان اونچائی پر تھے اس طرف کی ریت جم گئی اور اونٹوں کے پاﺅں جو پہلے ریت میں دھنس جاتے تھے اب زمین پر اچھی طرح جمنے لگے ‘ قدرت خداوندی کہ ابلیس کی ہر چال ناکام ہو گئی اور مسلمان ایمان کی دولت سے مالامال دشمن پر تابڑ توڑ حملے کرنے لگے۔
اہل مکہ پر مسلمانوں کی فتح کے اثرات
غزوہ بدر میں مسلمانوں کی شاندار اورباوقار فتح کے اثرات فوری طورپر اہل مکہ پر مرتب ہوئے اورقدرتی طورپر ایسا ہونا بھی چاہےے تھا اس عبرتناک شکست نے مشرکین مکہ کے غرور کو خاک میں ملا دیا ،ان کا پندار آرزوٹوٹا تو یہ اپنی ہی نظروں میں ذلیل ورسوا ہوگئے۔ اسلام اورپیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف جنگی جنون کو انتہاتک لے جانے والے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔قریش کی عسکری اورسیاسی شہرت کا خاتمہ ہوگیا ۔مکہ میں حضور ﷺ کو شہید کرنے کی سازش کرنے والے چودہ میں سے گیارہ سردار مارے گئے ۔باقی تین سرداروں نے اسلام قبول کرلیا۔اس شرمناک شکست سے دوچار ہونے کے باوجود انہوں نے کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ان کی آتش انتقام ٹھنڈی نہ ہوسکی۔
کچھ عرصہ تو قریش جنگ میں کام آنے والوں کے فراق میں غم سے نڈھال رہے اورماتم کی ممانعت کے باوجود صف ماتم بچھی رہی۔ذرا سنبھلے تواس شکست کا بدلہ لینے کے لئے پرپرزے نکالنے لگے اوراپنی بکھری ہوئی قوت کو جمع کرنے لگے۔ احساس شکست سے ان کے جنگی جنون میں اضافہ ہوگیا۔یہ اپنے زخم چاٹنے اوراسلام کے خلاف از سرنو صف بندی کرنے لگے۔قریش کے رﺅساکے مختلف اجلاس ہوئے جن میں فیصلہ کیاگیا کہ شکست کا داغ دھونے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر بھرپور تیاری کی جائے تاکہ اسلام پر فیصلہ کن ضرب لگائی جاسکے۔شکست خودرہ قریش نے اپنا غصہ مکہ میں مقیم مسلمانوں پر نکالنا شروع کردیا اوران کا سانس لینا تک دوبھر کردیا۔غزوہ بدر میں شکست سے قریش کی تجارتی سرگرمیاں بھی خاصی متاثرہوئیں لیکن وہ بدستور بغض وعناد کی آگ میں جلتے رہے۔
اہل مدینہ کے لئے مژدہ جانفزا
غزوہ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی وکامرانی کا مژدہ جانفزا شہر خنک کے باسیوں کے لئے خوشگوار موسموں اورشاداب ساعتوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ریاست مدینہ کو داخلی طورپر ہی نہیں خارجی طورپر بھی استحکام ملا۔بے سروسامانی کے عالم میں ابلیسی طاقتوں سے ٹکرا جانے والے اہل ایمان کو ایک نئے حوصلے اورایک نئے ولولے سے نوازا گیا ۔اعتماد کی روشنی ان کے چہروں پر نئے دنوں کا منظر نامہ تحریرکرنے لگی ۔غزوہ بدر حق وباطل کی معرکہ آرائی میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا مسلمانوں کو کفار پر نفسیاتی برتری بھی حاصل ہوئی اورانہیں اپنی ثقافتی اکائی کے تحفظ کے لئے نئے اقدامات کے بار ے میں عزم وعمل کے نئے دروازوں پر دستک دینے کا ہنر بھی عطا ہوا۔مدینہ منورہ کے آسمان سے خوف وہراس کے بادل چھٹ گئے۔مدینہ منورہ کی غیرمسلم قوتیں اب کھلم کھلا اسلام دشمنی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی تھیں۔منافقین مکہ کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔عبداللہ بن ابی کی سرکردگی میں بظاہر جو چند ایک لوگوں نے اسلام قبول کرلینے ہی میںاپنی عافیت سمجھی۔غزوہ بدر میں فتح کے بعد مسلمانوں کو معاشی ،عسکری اورسیاسی حوالے سے بے پناہ فوائد حاصل ہوئے اوروہ تمکنت اوروقار کے ساتھ نئے مسلم معاشرے کی تعمیر میں مصروف ہوگئے۔
دنیائے یہود میں رد عمل
مدینہ اورمدینہ کے مضافات میں آباد یہود قبائل نے غزوہ بدر میں مسلمانوں کی عظیم فتح کی خبر پرحیرت ،خوف اورنفرت کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا۔وہ کیسے گواراکرسکتے تھے کہ مدینہ کی نوزائیدہ مملکت کو سیاسی،معاشی اورعسکری حوالے سے استحکام نصیب ہو۔انہوںنے قدرتی طورپر غزوہ بدر کے انجام پر منفی رد عمل ظاہر کیا۔تاہم جن کے دلوں میں حرف حق کی تلاش کی ذرا سی بھی جستجو تھی اوراپنی کتب میں نبی آخرالزماں ﷺ کے ظہور کے بارے میں درج تمام نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے انہوںنے بخوشی اسلام قبول کرلیاتاہم اس حوالے سے کسی نے بھی ان کے ساتھ کو ئی تعرض نہ رکھا کیونکہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق دین میں کوئی جبر نہیں۔
چنانچہ یہود پر بھی کسی قسم کا دباو نہیں ڈالاگیا یہی وجہ تھی کہ یہودیوں کی بڑی تعداد اپنے سابقہ دین پر قائم رہی ۔اسلام قبول کرنے والے یہودیوں میں کچھ نے تو دل کی گہرائیوں سے اسلام کو اپنی روح کا حصہ بنایا اورچندایک نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی جڑیں کاٹنے کا گھناو¿نا کاروبار شروع کردیا۔میثاق مدینہ کے مطابق یہود اس بات کے پابند تھے کہ وہ مدینہ منورہ پر حملہ کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر شہر رسول کا دفاع کریں گے۔لیکن یہودیوںنے اس معاہدے کی خلاف ورزی شروع کردی ۔کعب بن اشرف تو کھلی دشمنی پر اتر آیا ۔کفار کی شکست پر افسوس کا اظہار کیا۔یہودی درپردہ ہی نہیں اعلانیہ طورپر مشرکین مکہ کو امداد کی پیش کش کرنے لگے کہ وہ آئیں اوراپنی شکست کا بدلہ لیں۔ہم ہر طرح سے معاونت کریں گے۔روز بروز ان کی سرکشی میں اضافہ ہونے لگا ۔ان کا یہ باغیانہ رویہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف تھا۔
مسلمانوں کی فتح کا دیگر قبائل پر اثر
عرب کے دیگر قبائل نے بھی مسلمانوں کی فتح کی خبرکو خوش دلی سے قبول نہیں کیاوہ بھی ان گنت تحفظات کا شکار ہوگئے۔بعض قبائل کی گذر اوقات ہی لوٹ مار پر ہوتی تھی۔تجارتی قافلے بھی ان کی دستبرد سے محفوظ نہ تھے انہیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ اگر مسلمانوں کی حکومت کو استحکام ملااوریہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگئی تو یہ سب سے پہلے اللہ کی حاکمیت اوراس کے قانون کی بالادستی کے لئے اقدامات کرے گی ۔
انہیں یہ بھی ڈر تھا کہ اسلامی حکومت ترجیحی بنیادوں پر امن وامان قائم کرکے لاقانونیت اوردہشت گردی کا خاتمہ کرے گی اس طرح ان کی لوٹ مار کی راہیں مسدود ہوجائیں گی۔یہ لوگ بنیادی طورپر تاجر پیشہ تھے دیگر قبائل کے مفادات ان سے وابستہ تھے اس لئے قریش کی عسکری ،سیاسی اورنفسیاتی شکست ان کے لئے بھی سوہان روح بن گئی۔غزوہ بدر میں ذلت آمیز شکست سے قریش کی سیاسی،مذہبی اورمعاشی قیادت کے بت پر کاری ضرب پڑی اورمعاشرے پر قریش کی گرفت اتنی مضبوط نہ رہی جتنی پہلے تھی۔ان کی مذہبی حیثیت بھی متاثر ہوئی لیکن قبائل مذہبی حیثیت کو اتنی اہمیت نہیں دیتے تھے ان کا سارا زور مالی مفادات پر تھا ۔اس لئے ان کی وفاداریاں بھی اپنے مفادات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی تھیں۔
غزوہ بدر کے اثرات ونتائج
غزوہ بدر جغرافیائی ،سیاسی،معاشی،تہذیبی،ثقافتی اورتمدنی زندگی ہی میں انقلاب آفریں تبدیلیوں کا باعث نہیں بنابلکہ اس نے تاریخ انسانی کے سفرارتقاءکو مختلف حوالوں اورمختلف جہتوں سے نہ صرف یکسر بدل کے رکھ دیا بلکہ تعلیمات اسلامی نے علمی،فکری اوراعتقادی دنیا کو ابہام وتشکیک کی گرد سے پاک کرکے عدل وانصاف کی حکمرانی کے شعور کو پختہ کیااگر خدانخواستہ اس جنگ میں فرزندان توحید کو شکست ہوجاتی اورباطل حق پر غالب آجاتا تو میدان بدر میں حضورﷺ نے اپنی دعاو¿ں میں جس خدشے کی طرف اشارہ فرمایا تھا کہ پھر روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا اوریہ کہ تیرا دین قائم نہ ہوسکے گا۔وہ ظاہر ہوجاتا تو آج کرہ ارض پر نہ انسانی حقوق کا نام لینے والاکوئی ہوتااورنہ جمہوری معاشروں کی تشکیل کا تصور ہی ذہنوں میں جنم لیتانہ امن عالم کے خواب کو تعبیر ملتی اورنہ انسان کے پاو¿ں میں خودساختہ خداو¿ں کی غلامی کی صدیوں سے پڑی زنجیریں ہی کٹ سکتیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*