.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » جرم کہانی » جسم فروشی ہر معاشرے کا حصہ ہے؟

جسم فروشی ہر معاشرے کا حصہ ہے؟

پڑھنے کا وقت: 9 منٹ

منصور مہدی…..

ہر معاشرے اورخطے میں جسم فروش افراد پائے جاتے ہیں، مشرق ہو یا مغرب اور افریقہ ہو یا ایشیاءجہاں پر انسان بستے ہیں وہاں پر جسم فروشی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہو تی ہیں ۔بعض ممالک میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور سیکس ورکرز قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے امور انجام دیتے ہیں اور ان کے بھی وہ حقوق اور استحقاق ہیں جو عام شہریوں کو حاصل ہیں جبکہ بعض ممالک میں جسم فروشی پر پابندی ہے اور وہاں پر ایسے لوگوں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔جسم فروشی دنیا کا ایک قدیم پیشہ ہے اور اس کی سب سے بنیادی وجہ انسان کے اندر حیوانی جبلت اور نفسانی خواہش کی موجودگی ہے۔ اس پیشے کو جہاں پر بعض لوگ اپنی مرضی سے اپناتے ہیں وہاں پر خصوصاً تیسری دنیا کے ممالک میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں جبر و استحصال کے سبب اس پیشے میں شامل ہونا پڑتاہے۔اس کی دیگر وجوہات میں نہ صرف غربت اور بے روزگاری ہے بلکہ تعلیم کی کمی ،معاشرے کی بکھرتی ہوئی انسانی قدریں ، دولت کی غیر مساویانہ تقسیم ،طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ، آبادی میںبے پناہ اضافہ ، مردوں کا خواتین پر بے جا جبر وتشدد ، قانون کی عدم حکمرانی ، اسلامی تعلیمات سے دوری ، بے راہروی ، ڈش اور انٹر نیٹ تک عام رسائی شامل ہے ۔

ہمارے ملک میں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے اور تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے جس وجہ سے نہ صرف سنجیدہ طبقوں بلکہ عام شہریوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے ۔ کوئی شہر اور علاقہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں پرجسم فروش افرادموجود نہ ہوں مگر بعض اوقات حکومتی اداروں کی طرف سے مناسب کاروائی کے نتیجے میں یہ کام چوری چھپے ہونے لگتا ہے اور کبھی ان اداروں کی سرپرستی کی وجہ سے کھلے عام ہونے لگتا ہے۔اکثریتی ممالک میں ایسے افراد کیلئے مخصوص علاقے ہوتے ہیں جنہیں ریڈ لائٹ زون یا بازار حسن کہا جاتاہے۔ لاہور میں موجودہ بازار حسن(ہیرا منڈی) سینکڑوں سال قبل قائم ہوا ۔ اس بازار میں شاہی دربار ، وزاراءاور امراءکی محفلوں میں لوک گیت گانے اور روایتی رقص پیش کرنے والی طوائفیں اور ان کے سازندے رہا کرتے تھے یہاں بسنے والے یہ خاندان بڑے مہذب اور با اخلاق ہوتے تھے اور ان کے پاس شہر کے رئیس اپنی اولادوں کو تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا کرتے تھے.

جبکہ جسم فروش عورتیں لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع موجودہ لنڈے بازار میں رہا کرتی تھیں یہ بازار سکھوں کے دور حکومت تک قائم رہا۔ سکھاشاہی کے دوران اس بازار میں بیٹھی چندخواتین کی وجہ سے جب ہندو مسلم فسادات ہوئے تو کشمیر کے مسلمان راجہ نے لنڈا بازار کی تمام عمارتیں خرید لیں اور یہاں سے تمام افراد کو نکال دیا گیاچنانچہ یہاں پر آباد خاندان پرانی انارکلی کے علاقے میں منتقل ہو گئے مگر انگریز دور حکومت میں یہاں قائم ہونے والی فوجی بیرکوں کی وجہ سے حکومت نے ان سے یہ علاقہ بھی خالی کروا لیا جس پر یہاں سے متعدد خاندان ہیرامنڈی میں منتقل ہو گئے اس طرح ہیرامنڈای میں بھی جسم فروشی کے اڈے قائم ہو گئے یہ سلسلہ پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہا مگرجب جنرل ضیا ءالحق کے دور میں بازار حسن کو بند کر دیا گیا اور یہاں پر کسی بھی قسم کی پرفارمنس ممنوع قرار دے دی گئی تو یہاں کے رہنے والے خاندان شہر کے مختلف علاقوں میں شفٹ ہو گئے اور یوں ایک محضوص علاقے میں قائم ہیرامنڈی پورے شہر میں پھیل گئی اور یہی حال پورے ملک کا ہوا ۔

لاہور شہر میں کوئی ایسی آبادی نہیں کہ جہاں پر کوٹھی خانے موجود نہ ہوں جبکہ بڑی مارکیٹوں ، سڑکوں ، درباروں،باغوں ، پارکوں اور اہم علاقوں میں بھی ان کی بھرمار رہتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور میں 2 لاکھ کے قریب جسم فروش خواتین اور لڑکے موجود ہیں جن میں 1213 سال کی عمر تک سے لیکر 4045 سال کی عمر تک کے افراد شامل ہیں اور ان کی تعداد میں 200 سے لیکر 300 افرادتک ماہانہ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس مانیٹرنگ گروپ(IHRM) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15لاکھ کے قریب جسم فروش افراد موجود ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور انکے مطابق اس کی بنیادی وجہ غربت ہے کیونکہ کل آبادی کے 45فیصد افراد انتہائی غریب ہیںجن میں سے بیشتراپنی بنیادی ضروتوں کو پورا کرنے کیلئے اس پیشے کو مجبوراً اپنا لیتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق ان میں44فیصد خواتین غربت ،32فیصد دھوکے اور فریب ،18فیصد جبر وتشدد،4فیصد وہ خواتین جو انہی گھرانوں میں پیدا ہوئیں اور 2فیصد اپنی مرضی سے شامل ہیں۔

کیونکہ جسم فروشی میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں ان میں سے ایسی خواتین بھی ہیں جو صرف 50 روپے میں اپنی عزت بیچ دیتی ہیں اور بعض ایسی ہیں ہیں جو اپنے آپ کو پیش کرنے کیلئے لاکھوں روپے وصول کر تی ہیں غریب خاندان سے تعلق رکھے والی خواتین انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کررہی ہیں اور ان کے بچے دو وقت کی روٹی کو بھی ترستے ہیں جبکہ بعض خواتین نے پوش علاقوں میں عالیشان مکانات بنائے ہوئے ہیں اور ان کی ہلکی سی مسکراہٹ پر سونے چاندی کے ڈھیر لگ جاتے ہیں ۔جسم فروشی میں اگرچہ ہر دور میں ہیجڑوں کا بھی کردار رہا ہے مگر موجودہ دور میں نو عمر بچوں کی شمولیت خاصی تشویش کی بات ہے۔اس پیشے میں سامنے نظر آنے والی خواتین اور لڑکوں کے علاوہ پس پردہ بڑے بڑے افراد اورگروہ کام کر رہے ہوتے ہیںجن کے رکن مختلف طریقوں اور لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں اس کام کی جانب راغب کرتے ہیں اور اس گروہ کے افراد نوعمر بچوں اور بچیوں کو ورغلا کر اغواءبھی کر لیتے ہیں اوربعد ازاں انہیں زبردستی اس دھندے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔جیسا کے بعض اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوئیں کہ جن کے مطابق لاہور کے بعض بڑے کوٹھی خانوں کی مشہور خواتین زلزلہ زدہ علاقوں سے بے سہارا بچیوں کو لانے کیلئے سرگرم ہو گئیں اور انھوں نے اپنے کارندے ان علاقوں میں بھیج دیے۔ویسے بھی بعض علاقوں میں رقم کے عوض خواتین کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور نو عمر لڑکوں سے دوستیاں رکھنا برا نہیں سمجھا جاتا۔ چند ہفتے قبل زلزلہ آنے سے قبل صوبہ سرحد میں ایک آدمی کی لڑکے سے شادی کافی عرصہ اخبارات کی زینت بنی رہی۔

6 تبصرے

  1. hkihenh jhg ei ju”hoe euedioe ddedeoe dhe doedge, dkidve dkdv diueuu d dujd en dided ed ejde dne jdvedn de e gefgdei v bcykd hdgdj dvbjd djdvd d hdgvd djhdgnd d djg vhjkd dchjdg dfhdcd gd sjdgsdgv dudd vckjdvfnbdbfkd ,fsb

  2. اس قسم کی تحریر سے اگرچے معلومات میں اضافہ ھوا مگر یگر بچے یہ تحریر پڑہین تو برا ثر ہو گا۔۔ بابر

  3. Very good article but it was not necessory to include pictures of nude women.

  1. اصل مصنف کا لنک: My Stories » Blog Archive » صفحہ اول

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*