بھارتی فوج کشمیر میں ’ریپ‘ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے، ہیومن رائٹس واچ



انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے مزاحمت کرنے والے نوجوانوں سے انتقام لینے کے لیے اُن کے گھر کی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایچ آر ڈبلیو کی انسداد تشدد خواتین کے عالمی دن کے موقع پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی تسلط کے خاتمے کے لیے سرگرم باغیوں کو سبق سکھانے اور حوصلہ شکنی کرنے کیلیے ان کے گھر کی خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیری خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے بھارتی فوج کے اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار قانونی چارہ جوئی نہ ہونے کی وجہ سے بے خوف ہوگئے ہیں اور جب دل کرتا ہے کشمیری خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔
رواں برس جولائی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھی مقبوضہ کشمیر میں عصمت دری اور جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ  بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی دستاویزات اور شواہد پیش کیئے تھے۔
واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں مسلسل لاک ڈاؤن ہے اور قابض بھارتی فوج نے ماورائے عدالت قتل، جنسی زیادتی، جبر اور ٹارچر سیل میں تشدد سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تاریخ رقم کردی ہے۔


No comments

Powered by Blogger.