• Breaking News

    استاد کے قتل پر خفیہ ایجنسی کے 29 اہلکاروں کو سزائے موت



    سوڈان کی عدالت نے سابق صدر عمرالبشیر کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک استاد کو دوران حراست قتل کرنے کے الزام پر نیشنل انٹیلی جنس سروس کے 29 عہدیداروں کو سزائے موت سنا دی۔
    غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق دہائیوں تک سوڈان میں حکمرانی کرنے والے عمرالبشیر کو ہٹانے کے بعد یا اس سے پہلے بھی مظاہرین پر تشدد کرنے والے عہدیداروں کو اتنی بڑی سزا کی مثال نہیں ملتی۔
    عدالت کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے ایک وکیل کا کہنا تھا کہ جج نے مشرقی ریاست کسالہ کے مرکزی شہر سے خفیہ ایجنسی کے 27 اراکین کو سزائے موت سنائی جبکہ سزائے موت پانے والے دیگر دو ایجنٹس کا تعلق اسی شہر خاشم القربا سے تھا جہاں احتجاج کرنے والے استاد کو قتل کیا گیا تھا۔
    ان کا کہنا تھا کہ جج نے 13 اہلکاروں کو قید کی سزا دی جبکہ 4 افراد بری ہوگئے، سزا پانے والے تمام افراد عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں۔
    حکومتی ایجنسی کی حراست میں استاد احمد الخیر کی موت سابق صدر کے خلاف احتجاج میں شدت کا نقطہ آغاز بن گئی تھی جس کے حوالے سے ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ حکومتی عہدیداروں نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ زہر خورانی سے وفات پاگئے ہیں لیکن سرکاری تفتیش میں تصدیق کی گئی کی وہ تشدد سے جاں بحق ہوئے۔
    احمد الخیر کے بھائی سعد نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا کہ ‘آج انصاف کی جیت کا دن ہے، تمام سوڈانیوں کی فتح اور انقلاب کے لیے فتح ہے’۔
    سوڈان کے شہر اومدرمان میں عدالت کے باہر سیکڑوں افراد موجود تھے جو فیصلے کے منتظر تھے جن میں سے اکثر نے سوڈان کا قومی پرچم بھی تھاما ہوا تھا اور احمد الخیر کی تصاویر بھی لیے کھڑے تھے۔
    عدالت کا فیصلہ آتے ہی وہاں پر موجود تمام شرکا نے جشن منانا شروع کردیا۔
    سابق صدر عمرالبشیر کے خلاف احتجاج شروع کرنے والی سوڈانیز پروفیشنل ایسوسی ایشن (ایس پی اے) کا کہنا تھا کہ فیصلے نے عدالیہ پر اعتماد کو بحال کردیا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ ‘اس فیصلے سے انقلاب کا شہدا کو پہلا صلہ مل گیا ہے اور شہدا کے لیے یہ سلسلہ جاری رہے گا’۔
    خیال رہے 2019 کے اوائل میں سابق صدر عمرالبشیر کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج کے دوران درجنوں افراد سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بنے تھے۔
    سوڈان کی عدالت نے 14 دسمبر کو سابق صدر عمرالبشیر کو کرپشن کے ایک مقدمے میں 2 سال کی سزا سنائی تھی جو ان کے خلاف دائر کئی مقدمات میں سے ایک تھا۔
    طویل عرصے تک سوڈان میں حکمرانی کرنے والے عمرالبشیر کو رواں برس اپریل میں عوام کے طویل احتجاج کے نتیجے میں فوج نے معزول کردیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔
    عمرالبشیر کو معزول کرنے کے بعد فوج نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا تھا، جس پر احتجاج میں مزید شدت آگئی تھی اور مظاہرین نے مطالبہ کیا تھا کہ فوج حکومت چھوڑ کر واپس چلی جائے اور سویلین افراد کو حکومت کا حق دیا جائے جس پر فوج کو معاہدہ کرنا پڑا تھا۔
    فوج نے 3 جون کو مظاہرین پر گولیاں بھی برسائی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد مارے گئے تاہم اس تشدد کے ذمہ دار کئی فوجیوں کو برطرف کر دیا گیا تھا۔
    فوجی کونسل اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان کئی ماہ تک مذاکرات جاری رہے اور اگست میں مشترکہ حکومت سازی کا معاہدہ ہوا جس پر دونوں فریقین نے دستخط کیے تھے۔
    سوڈان میں اس وقت سویلین اور فوجی کونسل کی مشترکہ حکومت قائم ہے جس کو بتدریج حکومت، سویلین کے ہاتھوں منتقل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

    کوئی تبصرے نہیں