تیز آندھی کا انتظار ........ مظہر بر لاس



’’بیٹے کی لاش بھیجنے سے پہلے مجھے بتائو گولیاں کہاں لگی ہیں اگر سینے پر لگی ہیں تو بھیج دو اور اگر پشت پر لگی ہیں تو میرے گھر اس کی لاش نہ بھیجنا‘‘۔ جی ایچ کیو سے شہادت کی اطلاع ملنے پر یہ الفاظ لیفٹیننٹ فیض سلطان شہید کے والد کے تھے۔
ایسے پُرجوش الفاظ سننے کے بعد اطلاع دینے والے افسر نے کہا ’’سر! مبارک ہو، آپ کے بیٹے کے سینے میں بائیس گولیاں لگی ہیں، اس نے پینتیس دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کیا ہے، آپ کے بائیس سالہ بیٹے نے وطن کے لئے بائیس گولیاں سینے پر کھائی ہیں‘‘۔
جی ایچ کیو سے تفصیل بتائے جانے کے بعد لیفٹیننٹ فیض سلطان شہید کے والد نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کہا ’’اب لاش بھیج دو، خدا کا شکر ہے میرے بیٹے کا شمار بہادروں میں ہوا ہے‘‘۔
یہ واقعہ، یہ جملے اس لئے یاد آ رہے ہیں کہ حالیہ بحث نے کئی واقعات یاد کروا دیے ہیں، کس طرح چونڈہ میں ہمارے جوانوں نے بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا تھا، کس طرح عزیز بھٹی نے بی آر بی پار نہیں کرنے دی تھی، کس طرح کرنل شفقت عباس بلوچ لاہور بچاتا رہا، کتنے ایسے تھے جو لہو سے دھرتی سیراب کر گئے، کتنے ایسے ہیں جو شدید ترین سردی میں سرحدوں پر ساری رات کھڑے رہتے ہیں اور آپ سکون کی نیند سوتے ہیں۔
ذرا اُن سے بھی پوچھ لیں جو افواجِ پاکستان پر تنقید کرتے نہیں تھکتے کہ آئو تمہارے بیٹوں کو فوج میں بھرتی کرتے ہیں، تنخواہ اور پنشن بھی ملے گی، پلاٹ بھی ملے گا مگر سرحدوں پر جاگ کر پہرہ دینا پڑے گا، وقت آنے پر گولیاں کھانا پڑیں گی، شہید ہونا پڑے گا۔
یقین کیجئے ناقدین اپنے بچوں کو بھیجنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ یہ کام جذبے سے ہوتا ہے، جذبہ اور جرأت خدا ہر کسی کو نہیں دیتا۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنا دی ہے۔ مشرف کے دیے گئے بیان پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے، آپ کو تو پتا ہی ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پرویز مشرف کا ہی عطا کردہ ہے۔
قانونی ماہرین اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوالات کے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے، کیا مشرف کو سنا گیا؟ جبکہ اسی دوران بیماری کی بنیاد پر کئی لوگوں کی سزائیں معطل کی گئیں۔
عدالت ملزم کو دفاع کا استحقاق دیتی ہے تو یہ استحقاق مشرف کو کیوں نہ دیا جا سکا؟ 2010میں بننے والے قوانین کا 2007کی ایمرجنسی پر اطلاق کیسے ہو گیا؟ امریکہ میں مقیم امریکی سیاست میں سرگرم قانون دان ساجد تارڑ نے کہا ہے کہ ’’دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا کہ دوسرے فریق کو سنے بغیر سزا دے دی جائے،
میرے خیال میں پرویز مشرف کیس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے، سنگین غداری کیس میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ پاکستان میری جان ہے، 32سال میں یہ محبت کم نہیں ہوئی۔ ایک بات سچ ہے کہ پاکستان میں کوئی پارٹی جمہوری نہیں، خاندانی پارٹیاں ہیں۔ جس دن مشرف کو سزا دی گئی اسے یومِ سیاہ ہی کہا جا سکتا ہے‘‘۔
اعتزاز احسن سمیت نامور وکلا کی رائے سامنے آچکی ہے۔ ایک بات اور بڑی اہم ہے کہ آخر نون لیگ کی حکومت نے بارہ اکتوبر 1999کا قصہ کیوں نہیں کھولا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس وقت غدار کوئی اور تھا، کہیں ایسا تو نہیں کہ مشرف کو قبول کر لینے والی عدلیہ میں وہ نام بھی آتے ہیں جو نون لیگ کے چہیتے تھے، جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا،
اگر یہ مقدمہ 12اکتوبر سے کھلتا تو پھر اس کا تذکرہ بھی ہوتا کہ کون طیارے کو اترنے نہیں دے رہا تھا۔ آئین توڑنا غداری ہے تو پھر آئین تو 12اکتوبر کو توڑا گیا تھا، نومبر 2007میں تو ایمرجنسی لگی تھی، ایمرجنسی لگانے کیلئے بھی وزیراعظم نے صدر کو ایڈوائس دی تھی اگر سب کچھ درست مان لیا جائے تو پھر پرویز مشرف کے دور میں حلف اٹھانے والے وزرائے اعظموں، وزرا اور ججوں کے بارے میں کیا خیال ہے، 2008میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے وزرا نے مشرف سے حلف لیا تھا، حلف اٹھانے والوں میں تو خواجہ آصف، احسن اقبال اور سعد رفیق بھی تھے، مفرور اسحاق ڈار بھی۔
یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ کس نے پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا، کس نے ایکسٹینشن دی؟ جن لوگوں کے ووٹوں سے پرویز مشرف صدر بنے اُن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہمسایہ ملک بھارت میں اندرا گاندھی نے بطور وزیراعظم چھ ماہ کیلئے ایمرجنسی لگائی تھی مگر بھارتی جمہوریت اندرا گاندھی کو غدار ڈیکلیئر نہ کروا سکی۔
مولوی تمیز الدین کیس کا مباحثوں میں ذکر کیا جاتا ہے، بھٹو صاحب کے عدالتی قتل پر بھی بات ہوتی ہے، لوگ تو ججوں کو فون کرنے والوں، وڈیو فلمیں بنانے والوں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ جنرل مشرف نے ملک کی خاطر دو جنگیں لڑیں، یہ بھی درست ہے کہ اس نے کارگل کے محاذ پر بھارت کو نکیل ڈال دی تھی۔ پھر بھارت کو بچانے کیلئے کون سرگرم ہو گیا تھا؟ یہ بات بھی درست ہے کہ پرویز مشرف نے برس ہا برس دفاع وطن میں گزارے۔
یہاں ایک اور واقعہ رقم کر دیتا ہوں کہ یکم محرم بمطابق 20نومبر 1979کو منگل کے روز جب صبح سویرے امام کعبہ شیخ عبداللہ بن سبیل کو چند افراد نے گھیرا، خانہ کعبہ کے تمام دروازے بند کرکے وہاں قابض ہونے کی کوشش کی تو اس کوشش کو پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز کے جس دستے نے ناکام بنایا، اس کی قیادت میجر پرویز مشرف کر رہا تھا۔
صاحبو! چلی ہے رسم تو پھر والیم ٹین، میمو گیٹ اور ڈان لیکس کھول دیں، ماڈل ٹائون بھی کھول دیں، شوگر ملوں سے پکڑے جانے والے را کے ایجنٹ بھی سامنے لے آئیں۔ قائداعظمؒ اور پاکستان کو برا بھلا کہنے والوں کو بھی سامنے لے آئیں۔ خیبر پختونخوا کو افغانستان کہنے والوں سے بھی پوچھ گچھ کرلیں۔ بلدیہ ٹائون اور بارہ مئی کے واقعات بھی سامنے لے آئیں۔
یہ مقدمہ پرویز مشرف کے خلاف وفاق کی طرف سے تھا، نون لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد موجودہ حکومت واپس لے سکتی تھی، ایسا کیوں نہ ہو سکا؟
3دسمبر کو شائع ہونے والے کالم میں بتایا تھا کہ بہت سے سیاستدانوں کو رہائی مل جائے گی، یہ کام ہو چکا ہے، آج بتا رہا ہوں کہ بڑی تیز آندھی چلنے والی ہے، بڑے بڑے مافیا جڑ سے اکھڑ جائیں گے، بڑے بڑے برج الٹ جائیں گے، تیز آندھی کا انتظار کیجئے، بہت کہا تھا کہ
تازہ ہوا کے شوق میں اے ساکنانِ شہر
اتنے نہ در بنائو کہ دیوار گر پڑے


No comments

Powered by Blogger.