قرآن اور بائبل میں انجیر کا ذکر کیوں آیا ہے؟



انجیر وہ پھل ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے اور بائبل میں بھی۔ مقدس کتاب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انجیر کی قسم اٹھائی ہے۔
انجیر کا درخت پستہ قد ہوتا ہے۔ ماہرینِ نباتات کے نزدیک اس کا اصل وطن یونان سے افغانستان اور مشرقی بحیرہ روم کا علاقہ ہے۔ پکنے کے بعد انجیر درخت سے ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔
ہمارے یہاں انجیر کو خشک کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور یوں یہ خاص طور پر سردیوں میں دوسرے میوہ جات کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ طبی ماہرین نے موسمِ سرما میں انجیر کے استعمال کے کئی فوائد بتائے ہیں۔
قدیم زمانے میں بھی اطبا اور حکما اسے مختلف جسمانی عوارض سے نجات کے لیے استعمال کرواتے تھے۔ یہ جسمانی طور پر کم زور اور دبلے لوگوں کے لیے ایک نعمت ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے۔ مختلف زبانوں اور علاقوں میں اسے مختلف ناموں سے پہچانا جاتا ہے تاہم اس کا نباتاتی نام فیک کیریکا ہے۔
انجیر ایسا پھل ہے جسے خشک کر کے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ انجیر کو خشک کرنے کے دوران جراثیم سے پاک کرنے کی غرض سے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور پھر اسے نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں جس سے سوکھنے کے بعد وہ نرم و ملائم اور خوش ذائقہ معلوم ہو۔
انجیر میں پروٹین، معدنی اجزا شکر، کیلشیم، فاسفورس کی مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ ہاضم ہے اور جگر اور تلی کے لیے مفید ہے۔ طبیب اکثر نہار منہ انجیر کھانے کی ہدایت کرتے ہیں اور اس کے بہت سے فوائد بتائے جاتے ہیں۔ یہ قبض سے نجات دلاتا ہے۔ سردیوں میں انجیر بچوں کی نشوونما میں مفید ہے۔ دودھ کے ساتھ انجیر کا استعمال رنگت نکھارتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ پھل خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔


No comments

Powered by Blogger.