۔2020 میں پرواز کرکے 2019 میں لینڈ کرنے والے طیارے



ہر گزرتا لمحہ ہماری زندگی سے جب نکل جاتا ہے تو دوبارہ واپس نہیں آتا اور ابھی تک سائنسدان وقت کا سفر کرنے والی مشین بھی تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
مگر کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ کچھ افراد 2020 سے چھلانگ لگا کر واپس 2019 میں چلے جائیں؟
کم از کم ٹوکیو سے لاس اینجلس سفر کرنے والے افراد کے ساتھ ایسا ضرور ہوا ہے۔
جی ہاں آل نیپون ائیرویز کی پرواز این ایچ 106 کے مسافروں کے ساتھ یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آیا اور وہ 2020 سے پرواز کرکے واپس 2019 میں چلے گئے۔
ہوائی پروازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ راڈار 24 نے ایک ٹوئٹ میں یہ انکشاف کیا کہ این ایچ 106 نے ٹوکیو سے یکم جنوری کی رات 12 بج کر 24 منٹ پر اڑان بھری، یعنی اس وقت مسافر نئے سال کا آغاز کرچکے تھے۔



اور یہ پرواز لاس اینجلس میں 31 دسمبر کی شام 5 بجے کے قریب لینڈ ہوئی کیونکہ ٹوکیو اور لاس اینجلس کے وقت میں 17 گھنٹے کا فرق ہے۔
یہ پرواز 9 گھنٹے 55 منٹ میں ٹوکیو سے لاس اینجلس پہنچی تھی اور 2020 سے چھلانگ لگا کر ایک بار پھر 2019 کی دہائی میں چلی گئی۔
یعنی اس پرواز میں سوار افراد نے 2 بار نئے سال کا جشن منایا ہوگا۔
ویسے یہ واحد پرواز نہیں ائیرنیوزی لینڈ کی پرواز اے این زی 40 کے مسافروں کو بھی یہ موقع ملا۔
یہ پرواز آک لینڈ سے بحراوقیانوس میں فرانسیسی پولینیشیا کے دارالحکومت پاپیٹی روانہ ہوئی تھی، یکم جنوری کو روانہ ہوکر 31 دسمبر کو اپنی منزل پر پہنچی کیونکہ دونوں کے درمیان وقت کا فرق 23 گھنٹے کا تھا۔



یقیناً گیا وقت پھر واپس لوٹ کر نہیں آتا مگر اس طرح کے عجیب و غریب وقت کے حساب سے ایسا ممکن بھی ہوجاتا ہے۔

No comments

Powered by Blogger.