سرکاری موبائل میں 'ٹک ٹاک' ایپ پر پابندی عائد



سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفاتر میں استعمال ہونے والے موبائل میں مشہور ایپ 'ٹک ٹاک' کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔
برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی ترجمان لیفٹننٹ کرنل روبن اوشوا نے ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے کہا کہ یہ سائبر خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں لاکھوں صارفین کے زیر استعمال ٹک ٹاک ایپ پر اس سے قبل بھی امریکا اور دیگر ممالک میں شکوک کا اظہار کیا گیا تھا اور اس کی جانچ بھی کی گئی تھی۔
ٹک ٹاک اپنے صارفین کو 15 سیکنڈز کے ویڈیو کی سہولت فراہم کرتی ہے، گانوں اور دیگر ویڈیوز کو دلچسپ بھی بنایا جاتا ہے جبکہ صارفین اس کو محدود بھی کرسکتے ہیں۔
امریکی فوج کی ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ فوج نے اپنے عہدیداروں کو دسمبر کے وسط میں ہدایت کی تھی کہ سرکاری موبائل میں اس ایپ کا استعمال روک دیں اور اسی طرح امریکی نیوی نے بھی ایسے ہی اقدامات کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے عہدیداروں کو ذاتی موبائلوں میں اس طرح کی کوئی قدغن نہیں لگائی لیکن ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس نے حال ہی میں ملازمین کو ہدایات جاری کی تھیں کہ جو بھی ایپلی کیشنز ڈان لوڈ کریں تو خاص خیال رکھیں۔
قبل ازیں امریکی قانون سازوں نے اس ایپ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹک ٹاک چینی انٹیلی جنس کے لیے امریکی شہریوں کی دستاویزات فراہم کرنے کا ذریعہ ہوسکتی ہے جو خطرات ہوسکتے ہیں۔
ڈیموکریٹک اور ری پبلکن سے تعلق رکھنے والے کئی سینیٹرز نے اکتوبر میں ٹک ٹاک پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تفتیش کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر اور ری پبلکن سینیٹر ٹام کوٹن نے قائم مقام ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جوزف میگویئر کو ایک خط میں لکھا تھا کہ ٹک ٹاک کے مالک بیٹ ڈینس کو چینی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے صارفین کی معلومات دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ‘صرف امریکا میں 11 کروڑ سے زائد صارفین اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں اور ٹک ٹاک انٹیلی جنس خطرہ ہوسکتا ہے جس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں’۔
انٹیلی جنس حکام پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘اس ایپ سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے’۔
ٹک ٹاک کے حوالے سے امریکی سینیڑز نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ یہ ویڈیو ایپ اگلے برس کے انتخابات میں ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جس طرح 2016 کی مہم میں روس نے امریکی سوشل میڈیا پر گڑ بڑ کی تھی۔
ٹک ٹاک نے اپنی ویب سائٹ میں جاری بیان میں واضح کردیا تھا کہ ‘ہمارے اوپر چین سمیت کسی بھی بیرونی حکومت کا کوئی دباؤ نہیں ہے’۔

No comments

Powered by Blogger.