امریکیوں کے منہ پر زودار طمانچہ مارا ہے، لیکن یہ انتقام نہیں، امام خامنہ ای




رہبرانقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے قم میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ایران نے امریکیوں کے منہ پر طماچہ مارا ہے، امریکی فوری طورپر خطے سے نکل جائیں۔


 امام خامنہ ای نے مقدس شہر قم میں عوام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ہم پورے خطے سے امریکی موجودگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
امام خامنہ ای نے فرمایا: امریکیوں کے منہ پر زودار طمانچہ مارا ہے، لیکن یہ انتقام نہیں۔
امام خامنہ ای  نے شہید میجر جنرل سلیمانی کی شجاعت اور دلیرانہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شہید قاسم سلیمانی شجاع بھی تھے اور حکمت عملی بھی جانتے تھے، بعض لوگ شجاع ہوتے ہیں لیکن ان کے پاس حکمت عملی نہیں ہوتی۔ بعض حکمت جانتے ہیں لیکن شجاع نہیں ہوتے اور وہ اپنی حکمت عملی کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے۔
امام خامنہ ای نے فرمایا: شہید سلیمانی نے دفاع مقدس سے لیکر آج تک بڑے سنگین خطرات کا سامنا کیا۔ شہید سلیمانی صرف فوجی میدان کے ماہر نہیں تھے وہ سیاسی میدان کے بھی بہترین ماہر تھے۔
امام خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ  شہید قاسم سلیمانی کے کام منطق اور اخلاص پر استوار تھے۔ اللہ تعالی نے انھیں شہادت کے بہترین تحفہ سے نواز کر زندہ جاوید بنا دیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسی کے ساتھ عراق میں امریکا کے عین الاسد فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے کی جانب ایک مختصر اشارہ کیا اور فرمایا کہ گزشتہ شب دشمن کے منھ پر ایک طمانچہ رسید کیا گیا، یہ ٹھیک ہے ، لیکن فوجی نقطہ نگاہ سے یہ کافی نہیں ہے ۔
آپ نے فرمایا کہ اس علاقے میں امریکا کی فتنہ انگیز موجودگی ختم ہونا چاہئے ۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی اس خطے میں جنگ لائے ، اختلاف و فتنہ اور تباہی لائے اور انہوں نے خطے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا ۔
آپ نے فرمایا کہ امریکی جہاں بھی گئے یہی کیا لیکن ہم فی الحال اپنے علاقے کی بات کررہے ہیں ۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی ایران میں بھی وہی کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے مذاکرات پر اصرار بھی  کررہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ امریکیوں سے مذاکرات ان کی مداخلت کا پیش خیمہ ہوں گے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک بار پھر خطے  میں امریکا کی موجودگی ختم ہونے پر زور دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس خطے کی اقوام کو امریکا کی موجودگی برداشت نہیں ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن شناسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ دشمن سے مراد امریکا اور صیہونی حکومت ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ سامراجی نظام سے ہماری مراد صرف حکومتیں نہیں ہیں بلکہ اس نظام میں سامراجی حکومتوں کے ساتھ ساتھ  وہ کمپنیاں ، لٹیرے اور ظالم بھی شامل ہیں جو ہر اس مرکز کے مخالف ہیں جو ظلم و غارتگری کا مخالف ہو۔
آپ نے دشمن کی دشمنی کی ماہیت کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ دشمن کی ہم سے دشمنی کوئی موسمی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذاتی اور دائمی دشمنی ہے۔

No comments

Powered by Blogger.