گائے کے دودھ کا استعمال بچوں کو موٹاپے سے بچانے میں مددگار



اپنے بچوں کو زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کو گائے کے دودھ یا ہول ملک کا استعمال زیادہ کرانا شروع کردیں۔
یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ٹورنٹو کے سینٹ مائیکلز ہاسپٹل آف یونٹی ہیلتھ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن بچوں کو گائے کے دودھ کا زیادہ استعمال کرایا جاتا ہے ان میں موٹاپے کا امکان 40 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں 7 ممالک میں ہونے والی 28 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کرکے بچوں میں گائے کے دودھ کے استعمال اور موٹاپے کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
ایک سے 18 سال کی عمر کے 21 ہزار بچوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں سے کسی میں بھی ثابت نہیں ہوا کہ کم چکنائی والا دودھ بچوں کو موٹاپے سے بچاتا ہے جبکہ 28 میں سے 18 رپورٹس سے عندیہ ملا کہ جو بچے گائے کا دودھ پیتے ہیں، ان میں موٹاپے کا امکان دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
سینٹ مائیکلز ہاسپٹل سے تعلق رکھنے ولے ڈاکٹر جوناتھن میگور نے بتایا کہ ہمارے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ جو بچے کم چکنائی والے دودھ کو استعمال کرتے ہیں وہ گائے کے دودھ پینے والے بچوں کے مقابلے میں کم جسمانی وزن کے مالک نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ مزید تحقیق میں دودھ اور موٹاپے کے خطرے میں کمی کی وجوہات پر روشنی ڈالی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام تحقیقی رپورٹس جن کا ہم نے جائزہ لیا، وہ مشاہداتی تھیں، یعنی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ گائے کا زیادہ چکنائی والا دودھ زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کا خطرہ کم کرتا ہے، ممکنہ طور پر یہ دودھ دیگر عناصر سے جڑتا ہوگا جو موٹاپے کا امکان کم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کنٹرول تحقیق سے اثر اور وجہ کو جاننے میں مدد مل گی جو فی الحال تحقیقی رپورٹس میں دریافت نہیں کی جاسکیں۔

No comments

Powered by Blogger.