نینسی پلوسی نے ایران سے کارروائی روکنے کی اپیل کردی




امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے اسلامی جمہوریہ ایران سے امریکا کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔


اسپیکر امریکی ایوان نمایندگان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکا اور دنیا جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔   
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران سے کارروائی روکنے مطالبہ کیا۔
نینسی پلوسی نے ٹرمپ کی جنگ پر مبنی پالیسی پر بھی تنقید کی، انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی غیر ضروری اشتعال انگیزی کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا، ہمیں امریکی اہل کاروں کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا ہے۔
اسپیکر کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کو ہدف بنا کر بم باری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، ایسے میں اپنے اہل کاروں کا تحفظ ضروری ہے۔
 انھوں نے لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ بے مقصد اشتعال انگیزی کر رہی ہے، جسے روکنا بھی ضروری ہے۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع میں متناسب اقدام اٹھایا گیا ہے۔
ظریف نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے یو این چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے، اس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سے ایران کے سینئر حکام پر حملہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل پر ایران نے امریکا پر جوابی وار کر کے امریکی غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔
گزشتہ رات عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر 35 میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں کم از کم 80 امریکی فوج ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں، دوسری واشنگٹن نے حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے جاری بیان میں کہا کہ انھوں نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں سے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، اڈوں پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے۔
ایرانی حملوں کا نشانہ بنے، ایرانی میزائلوں کا ہدف الاسد اور اربیل میں واقع فوجی اڈے تھے۔
خیال رہے کہ عین الاسد ایئر بیس عراق میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے۔

No comments

Powered by Blogger.