امریکی وزیردفاع نے ایران کے سامنے گٹھنے ٹیک دیے، کشیدگی کم کرنے کی اپیل



بغداد میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد امریکی وزیر دفاع نے کشیدگی کم کرنے کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔


امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایرانی حملوں کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کرنا چاہتے، امریکا ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے۔
وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کی گئی تو امریکا اسے ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ رات عراق میں فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سےدرجنوں حملے کیے ہیں، ایرانی پاسداران انقلاب نے جاری بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے درجنوں میزائلوں سے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، اڈوں پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے، امریکا کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز ہو چکا۔
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں 2 فوجی اڈے ایرانی حملوں کا نشانہ بنے، امریکی، اتحادی افواج پر درجن سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، ایرانی میزائلوں کا ہدف الاسد اور اربیل میں واقع فوجی اڈے تھے، حملوں میں نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگا رہے ہیں، امریکیوں اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔

No comments

Powered by Blogger.