Friday, January 3, 2020

مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر عالمی طاقتوں کو تشویش

0


امریکی فضائی حملے میں ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد خطے میں بڑھنے والی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی طاقتوں نے اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ کا سفر نہ کرنے کا انتباہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران سمیت تمام فریقین کو موجودہ صورتحال پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں جمعہ کو ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ حملے میں ایک اور سینئر کمانڈر اور عراقی ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے۔
شام نے امریکی اقدام کو کی مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ جارحیت قرار دیا اور کہا کہ امریکا نے خطے میں خطرناک اشتعال انگیزی کا آغاز کردیا ہے۔
برطانیہ نے موجودہ صورتحال میں خطے کے تمام ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک ریب نے امریکی اقدام کی مذمت یا اس کی حمایت کیے بغیر کہا کہ ہم قاسم سلیمانی کی زیر قیادت قدس فورس سے لاحق خطرات کو سمجھ چکے تھے۔
جرمنی نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے اور خطے میں تنازع کا محض سفارتی حل ممکن ہے۔
جرمن حکومت کے ترجمان الریک ڈیمر نے امریکی اقدام کی حمایت تو نہیں کی لیکن انہوں نے اس کارروائی کو ایران کی جانب سے مستقل جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ادھر خطے میں امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو انتباہ جاری کردیا ہے جس کے بعد کویت میں امریکی سفارتخانے نے اپنی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا ہے۔
امریکا کی جانب سے اپنے شہریوں کو جاری ہدایات میں فوری طور پر عراق چھوڑنے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ ایرانی ملیشیا کے حملے کے پیش نظر تمام قونصلر آپریشنز روک دیے گئے ہیں۔
فرانس نے مشرق وسطیٰ خصوصاً ایران اور عراق میں موجود اپنے باشندوں ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ عوامی اجتماعات سے دور رہیں۔
تہران میں فرانسیسی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہے کہ ایران کی جانب سے تین روزہ یوم سوگ کے اعلان کے بعد ہم فرانسیسی شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ اجتماعات سے دور رہیں اور عوامی مقامات پر تصاویر لینے سے گریز کریں۔
نیدرلینڈز نے بھی اپنے اپنے باشندوں کو عراق سے نکلنے کی وارننگ جاری کردی ہے۔
روس کی وزارت نے بھی امریکی کارروائی میں ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ میں اضافہ ہو گا۔
روس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ نے امریکی فضائی حملے کو غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارروائی کرنے والوں کو جوابی نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
چین نے بھی ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ہونے والی کشیدگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکا سمیت تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ ہم عراق کی آزادی اور علاقائی خودمختاری کے احترام کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ادھر موجودہ کشیدہ صورتحال کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اپنا یونان کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔
انہوں نے موثر اور فیصلہ کن فضائی کارروائی کے ذریعے ایرانی جنرل کو ہلاک کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہا اور کہا کہ جس طرح اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، امریکا نے بھی بالکل ایسا ہی کیا۔
فرانس کے نائب وزیر خارجہ ایمیلی ڈی مونٹ چیلن نے مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک مزید خطرناک دنیا کا سامنا کر رہے ہیں اور فوجی اشتعال انگیزی ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتی ہے، جب بھی اس طرح کارروائی ہوتی ہے تو فوجی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔
Author Image
AboutHTV Pakistan

HTV Pakistan

No comments:

Post a Comment