Thursday, January 2, 2020

شہری پر رشوت دیکر والدہ کو دہشتگرد قرار دلوانے کا الزام

0



سعودی عرب کی پولیس اورعدالت اس وقت ایک منفرد کیس کی تفتیش اور سماعت کر رہی ہے جس میں ایک کاروباری شخص پر اپنی والدہ کو ’دہشت گرد‘ قرار دلانے اور اسے گرفتار کرانے کے لیے رشوت دینے کا الزام ہے۔
اپنی نوعیت کے اس منفرد کیس میں کاروباری بیٹے پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ کو ’دہشت گردوں‘ کی مالی معاونت کرنے کا مجرم قرار دلانے کے لیے پولیس کے ایک عہدیدار کو 40 لاکھ ریال یعنی پاکستانی ساڑھے 16 کروڑ روپے سے زائد کی رقم دی۔
سعودی عرب کے اخبار’اوکاز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مذکورہ کیس کے حوالے سے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ’کاروباری شخص کے مطابق ان کی والدہ بیرون ممالک کا دورے کرتی رہی ہیں اور وہاں جاکر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتی رہی ہیں۔
کاروباری شخص کے مطابق انہیں علم ہوا کہ ان کی والدہ بیرون ملک جاکر مختلف افراد کو پیسے فراہم کرتی تھیں اور وہ افراد مذکورہ رقم کو ’دہشت گرد‘ تنظیموں کے حوالے کرتے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مبینہ طور پر کاروباری شخص نے مذکورہ کیس اس وقت بنایا جب ان کے اور ان کی والدہ کے درمیان ملکیت پر تنازع ہوا۔
رپورٹ میں کے مطابق ایک بار والدہ نے بیٹے کو 22 لاکھ ریال کا چیک دیا تھا اور بعد ازاں والدہ نے بیٹے سے وہ رقم مانگنا شروع کی تو اس نے مبینہ طور پر والدہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور ایک افسر کو رشوت دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کاروباری شخص نے عہدیدار کو 40 لاکھ ریال دیے تاکہ وہ افسر ان کی والدہ کا نام ’دہشت گردوں‘ یا پھر ’دہشت گردوں کی مدد کرنے والے افراد‘ کی فہرست میں شامل کرتا رہے۔
رپورٹ کے مطابق بیٹے نے مبینہ طور پر مذکورہ رقم نہ صرف والدہ کو دہشت گرد قرار دلانے بلکہ اسے گرفتار کرنے کے لیے بھی ادا کی، تاہم عدالت میں اس نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔
عدالت میں کاروباری شخص نے بتایا کہ انہوں نے والدہ پر ’دہشت گردی‘ اور ’دہشت گردوں کی مالی معاونت‘ کے الزامات ضرور لگائے ہیں تاہم انہوں نے انہیں گرفتار کروانے کے لیے رشوت نہیں دی۔
کاروباری شخص نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ایک دوسرے کاروباری شخص نے بتایا تھا کہ ان کی والدہ بیرون ممالک کا دورہ کرنے کے دوران دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتی ہیں۔
کاروباری شخص کے مطابق انہوں نے مذکورہ کاروباری دوست کی جانب سے دی گئی تحریری معلومات کو ہی افسر کو دیا تھا جنہوں نے ان کی والدہ کے خلاف تفتیش شروع کی۔
کاروباری شخص کی والدہ کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انہوں نے خط کے متن کی روشنی میں تحقیق شروع کی اور انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ خط جھوٹا ہے یا سچا۔
پولیس افسر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنا قومی اور قانونی فرض نبھایا چوں کہ انہیں کاروباری شخص کی جانب سے ملنے والے خط میں بیٹے نےہی ماں کو ملک کے لیے خطرہ قرار دے رکھا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ابھی اس کیس کو حل نہیں کیا گیا تاہم اب تک کے آنے والے ثبوتوں سے بات ثابت نہیں ہوئی کہ خاتون دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھی یا انہوں نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی ہو۔

Author Image
AboutHTV Pakistan

HTV Pakistan

No comments:

Post a Comment