پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا



وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عراق میں امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے بعد خطےمیں پیدا ہونے والی صورت حال پر ایران، سعودی عرب اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے تبادلہ خیال کیا اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی’۔
وزیرخارجہ کے رابطے کے حوالے سے دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ ‘خطے کی بدلتی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا’۔
دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ ‘وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ صورت حال پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کرتےہوئے تنازع سے بچنے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا’۔
شاہ محمود قریشی نے ‘تمام فریقین کو یو این چارٹر کے مطابق پرامن طریقے سے اختلافات کا حل کرنے کی یادہانی کروائی‘۔
وزیرخارجہ نے ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کے وزرائے خارجہ کو’یقین دلایا کہ پاکستان خطے کے کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا اور اپنی سرزمین کسی قیمت پر بھی کسی بھی دوسری ریاست کے خلاف استعمال ہونے نہیں دے گا’۔
بیان کے مطابق ‘وزیرخارجہ نے پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے افغان امن عمل برقرار رہے گا اور مزید پیش رفت جاری رہے گی’۔
دفترخارجہ نے بیان میں مزید کہا کہ ‘پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی لانے اور امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا’۔
قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
نجی ٹی وی چینل سے خصوصی بات چیت کے دوران وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہر وہ کام کریں گے جو خطے کو امن کی طرف لے کر جائے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ ’پاکستان کسی کا یا کسی چیز کا فریق نہیں بنے گا لیکن صرف امن کا شراکت دار بنے گا‘۔
خیال رہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ کے قریب امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پیراملیٹری فورس کے کمانڈر سمیت 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد خطے کی صورت حال کشیدہ ہوچکی ہے۔

ایرانی جنرل کی ہلاکت

خیال رہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔
ایران نے بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر واشنگٹن سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اسے خطرناک نتائج کی دھمکی دی تھی۔
ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا اور ملک میں تین روزہ یوم سوگ کا اعلان کیا تھا۔
بعدازاں اسی روز امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ایرانی فوجی جنرل کی ہلاکت کے بعد چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی فضائی حملے کو 'دفاعی کارروائی' قرار دیا تھا۔
میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ صورت اختیار کر گئے ہیں جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2015 کے جوہری معاہدے کے خاتمے اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان مستقل صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

No comments

Powered by Blogger.