ترک صدر 14 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے



ترک صدر رجب طیب اردوان رواں ماہ کی 14 تاریخ کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق یہ بات قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر اسد قیصر نے بتائی، انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں تمام پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں کوالالمپور سربراہی اجلاس میں پاکستان کے شرکت نہ کرنے کے اعلان کے بعد ترک صدر کی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ یہ دوسری ملاقات ہوگی۔
اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان 17 دسمبر کو جنیوا میں پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔
جس کے 3 روز بعد 20 دسمبر کو ترک صدر کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی دھمکی کے باعث کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔
انہو ں نے کہا تھا کہ 'پاکستان کو معاشی دشواریوں کے باعث سعودی عرب کی خواہشات پر عمل کرنا پڑا'۔
قبل ازیں گزشتہ برس 11 اکتوبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 23 اکتوبر کو سرکاری دورے پر پاکستان آئیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کی حمایت کریں گے۔
بعدازاں 17 اکتوبر کو ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ ان کا دورہ ملتوی ہوگیا ہے اور نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، انہوں نے دورہ ملتوی کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔
تاہم اس وقت ترکی شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن میں مصروف تھا جس کے باعث امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے تھے۔
چنانچہ اب ترک صدر 13 فروری کو 2 روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ ترکی اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات انتہائی گرمجوش اور مضبوط ہیں اور ترکی نے ہمیشہ پاکستان کی اخلاقی سفارتی حمایت اور مدد کی ہے۔
اس کے علاوہ ترکی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کا بھرپور حامی بھی ہے جس نے ببانگ دہل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
واضح رہے کہ ترک صدر آخری مرتبہ 2016 میں اپنی اہلیہ اور اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے دورے حکومت میں پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔
اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے ترک صدر کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں شرکت کا بائیکاٹ کیا تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے