• Breaking News

    ایران کی خطے کے مسائل سے نمٹنے کیلئے 5 رکنی بلاک بنانے کی تجویز



    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر محمد علی حسینی نے خطے کے مسائل سے نمٹنے اور آپس میں معاشی معاملات سمیت دیگر امور میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور ایران سمیت 5 رکنی نئے بلاک کی تجویز دے دی۔
    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق محمد علی حسینی نے اسلام آباد اسٹریٹجک اسٹیڈیز انسٹیٹیوٹ (آئی ایس ایس آئی) میں ایران میں اسلامی انقلاب کی 41 ویں سالگرہ اور پاک-ایران تعلقات کے 72 برس مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ تجویز دی۔
    نئے بلاک کی تجویز دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ایران، پاکستان، ترکی، روس اور چین جیسے ممالک میں خطے کے بہتر مستقبل کے لیے ایک نیا بلاک تشکیل دینے کی صلاحیت ہے’۔
    انہوں نے اپنے خطاب میں افغان تنازع سمیت خطے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اسلام آباد اور تہران کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا۔
    ایرانی سفیر نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کردار پر تنقید کی اور کہا کہ ‘بدقسمتی سے چند ممالک کے کردار کے باعث او آئی سی مسلم امہ کے مسائل کے حل اور مسلمانوں کے مقاصد کی خاطر پوزیشن لینے کے لیے موثر نہیں رہی ہے’۔
    مسلمانوں کو درپیش مسائل پر فوری توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل مسلم دنیا پر نیا ایجنڈا تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    محمد علی حسینی نے کہا کہ ‘مسلم دنیا کو اپنے رہنما اجلاسوں اور ملاقاتوں میں فلسطین جیسے معاملات کو ہٹانے کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے’، انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘صدی کے معاہدے’ کو بھی مسترد کردیا۔
    انہوں نے تجویز دی کہ معاشی تعاون کے لیے ڈی-8 اور معاشی تعاون تنظیم (ای سی او) جیسے دوسرے فورمز کو دوطرفہ معاشی تعاون کے لیے استعمال کیا جائے۔
    دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ‘آپس میں تعاون کے راستے میں حائل ہر قسم کی رکاوٹوں کو ختم کردیا جائے کیونکہ دونوں ممالک میں معاشی امور میں ایک دوسرے کے لیے اہم بننے کی صلاحیت موجود ہے’۔
    ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اس منصوبے کا استعمال اور پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اہم منصوبے سے اس کا تعلق گیم چینجر ہوگا اور پاکستان اور خطے میں معاشی ترقی لائے گا’۔
    ان کا کہنا تھا کہ ‘گوادر اور چاہ بہار کے درمیان ریل کے نظام کو قائم کرنا اور اس کا براستہ ایران، یورپ اور وسطی ایشیا سے جڑنے سے خطے میں اہم معاشی ترقی ہوگی’۔
    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ کئے گئے عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے سے دست برداری کا اعلان کیا تھا اور ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جبکہ دیگر ممالک کو بھی ایران سے معاشی تعلقات ختم نہ کرنے کی صورت میں پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔
    بعد ازاں گزشتہ برس سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو پر حملوں کی ذمہ داری بھی امریکا نے ایران پر عائد کی تھی جس کے باعث خطے میں کشیدگی کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا جبکہ جنوری 2020 کے شروع میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
    ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ فلسطین کے معاملے پر ہمیشہ سے حماس اور دیگر فلسطینی نمائندہ جماعتوں کی حمایت کی ہے۔

    کوئی تبصرے نہیں