فلم ساز نے ہوٹل کے کمرے میں میرا ریپ کیا




بدنام زمانہ ہولی وڈ پروڈیوسر 67 سالہ ہاروی وائنسٹن کے خلاف ’ریپ‘ اور خواتین کے جنسی استحصال سے متعلق معاملے کی سماعت کرنے والی 12 رکنی جیوری کے سامنے ایک اور خاتون پیش ہوگئیں۔
ہاروی وائنسٹن کے خلاف نیویارک کی عدالت میں اہم کیس چل رہا ہے اور عدالت نے ان کے خلاف کیس کی سماعت کرنے کے لیے 12 رکنی جیوری قائم کر رکھی ہے۔
مذکورہ جیوری میں ہاروی وائنسٹن کے خلاف 24 جنوری کو پہلی اداکارہ اینابیلا شیورہ پیش ہوئیں تھیں جب کہ 28 جنوری کو 42 سالہ اداکارہ مریم ہیلی اور 30 جنوری کو اداکارہ ڈان ڈننگ اور ترالے وولف پیش ہوئی تھیں۔
تاہم اب ایک اور اداکارہ جیسیکا مان بھی ہاروی وائنسٹن کے خلاف عدالت میں پیش ہوگئیں۔
جیوری کے سامنے پیش ہونے والی جیسیکا مان نے ہولی وڈ پروڈیوسر پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہاروی وائنسٹن نے ایک ہوٹل کے کمرے میں انہیں ریپ کا نشانہ بنایا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 34 سالہ اداکارہ کا کہنا تھا کہ میری ملاقات ہاروی وائنسٹن سے 2012 میں ایک تقریب کے دوران ہوئی، اس وقت میں نے انہیں بتایا کہ میں اداکارہ بننے کی خواہشمند ہوں، بعدازاں انہوں نے مجھے اور ایک دوست کو لاس اینجلس کے ہوٹل میں مدعو کیا، اس وقت وہ مجھے زبردستی ہوٹل کے کمرے میں لے گئے اور مجھے جنسی طور پر ہراساں کیا۔
اداکارہ کے مطابق اس واقعے کے بعد انہوں نے ہاروی وائنسٹن سے تعلق جوڑ لیا، 'میں نے اس رشتے کا آغاز یہ سوچ کر کیا تھا کہ یہ حقیقی ہوگا تاہم آگے جو کچھ ہوا اس سے مجھے صرف شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا'۔
جیسیکا مان نے پروڈیوسر پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 2013 میں انہوں نے مینہٹن کے ایک ہوٹل کے کمرے میں انہیں ریپ کا نشانہ بنایا اور ان کے اوپر 'پیشاب' بھی کیا۔
اداکارہ کے مطابق ہاروی وائنسٹن نہ نہیں سن سکتے تھے کیوں کہ ایسا کرنے سے ان کو بےحد غصہ آتا تھا۔
عدالت میں جب اداکارہ سے سوال کیا گیا کہ اتنا سب ہونے کے باوجود وہ ہاروی وائنسٹن کے ساتھ تعلق میں کیوں رہیں؟ تو اس پر انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ رہنے کی ایک وجہ ڈر تھی۔
ہاروی وائنسٹن کے ایک وکیل نے جیسیکا مان پر الزام لگاتے ہوئے جیوری کو بتایا کہ اداکارہ پروڈیوسر کو رومانوی ای میلز بھیجا کرتی تھیں اور ان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کا رشتہ تشدد پر مبنی نہیں تھا۔
تاہم جیسیکا مان نے جیوری کے سامنے ہاروی وائنسٹن پر الزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جب پہلی بار انہیں برہنہ دیکھا تو ایسا لگا کہ ہاروی وائنسٹن میں مرد اور عورت دونوں کی جنسی خصوصیات موجود ہیں۔
دوسری جانب ہاروی وائنسٹن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا تعلق باہمی رضامندی سے قائم تھا۔
واضح رہے کہ اب مذکورہ جیوری میں ایک اور خاتون پیش ہوں گی جب کہ جیوری کے سامنے ہاروی وائنسٹن کے سابق وکیل اور ان کے قریبی ساتھی بھی پیش ہوں گے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ جیوری مارچ 2020 تک کیس کی سماعتیں مکمل کرلے گی۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.