• Breaking News

    ایران میں پارلیمانی انتخابات کیلئے رائے شماری جاری



    ایران میں نئی پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔
    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس ضمن میں اصلاح پسند اور اعتدال پسند پر مشتمل 7 ہزار سے زائد نااہل قرار پانے والے امیدواروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرن آؤٹ کا تناسب ضرورت سے کم ہوگا۔
    خیال کیا جارہا ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں اور سفارتی سطح پر علیحدگی کا سامنا ہے۔
    واضح رہے کہ 290 چیمبر نشستوں کے لیے 208 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔
    ایران کی قیادت اور سرکاری میڈیا نے رائے دہندگان کی شرکت پر زور دیا اور بعض لوگوں نے اسے مذہبی فریضہ کے طور پر پیش کیا۔
    سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صبح 8 بجے پول کھلنے کے فورا بعد اپنے تہران کے دفتر کے قریب واقع ایک مسجد میں اپنا ووٹ ڈالا اور ایرانیوں کو انتخابات میں شرکت پر زور دیا۔
    انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص ایران کے قومی مفادات کی پرواہ کرتا ہے اسے اںتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔
    رواں ہفتے کے آغاز میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ زیادہ ووٹ ڈالنے سے 'ایران کے خلاف امریکیوں اور اسرائیل کے حامیوں کی سازشیں اور منصوبے ناکام ہوجائیں گے'۔
    انہوں نے کہا تھا کہ 'دشمن یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ امریکا کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے کیا نتائج ہیں'۔
    انہوں نے واشنگٹن کی طرف سے امریکی پابندیوں اور دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے بیرون ملک تیل فروخت کرنے کی صلاحیت کو گلا گھونٹ دیا ہے اور اس کی معیشت کو کساد بازاری پر مجبور کردیا ہے۔
    اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کے ذریعے قوم سے ایک اور فتح حاصل کرنے کا مطالبہ کیا۔
    حسن روحانی نے کہا کہ ہمارے دشمن ماضی کے مقابلے میں زیادہ مایوس ہوں گے۔
    واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی کونسل کے دو اعلی عہدیداروں اور انتخابی نگران کمیٹی کے تین ممبران پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔
    امریکی عہدے داروں کا کہنا تھا کہ اتنخابی عمل میں 7 ہزار امیدواروں کو نااہل قرار دینا ایرانی عوام کی آواز کو خاموش کرانے کے مترادف ہے۔
    جس پر ایرانی کونسل کے ترجمان عباس علی نے واشنگٹن کے حالیہ اقدام کو علاقائی امور میں مداخلت اور ظالم کی تازہ مثال قرار دی۔
    خیال رہے کہ مذکورہ انتخابات ایسے وقت پر منعقد ہورہے ہیں جب ایران کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
    امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد تہران کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے جس کے باعث بنیادی سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مہنگائی اور بے روزگاری بڑھی اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی۔
    علاوہ ازیں گزشتہ برس نومبر میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد پرتشدد مظاہروں میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
    واضح رہے کہ ایران میں پارلیمنٹ صرف سالانہ بجٹ اور وزرا کے ممکنہ مواخذے پر بحث کرتی ہے۔
    ایران میں اقتدار بالآخر آیت اللہ خامنہ ای کے پاس ہی ہے جو اہم نوعیت کی پالیسی پر حتمی رائے رکھتے ہیں۔
    ایران کی 8 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی میں سے 5 کروڑ 80 لاکھ ایرانی ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد ہی ووٹ دے سکتے ہیں۔
    پچھلے پارلیمانی انتخابات میں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ رہا ہے جبکہ 2016 میں یہ تقریبا 62 فیصد تھا۔
    صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے ہر امیدوار کو کم از کم 50 فیصد ووٹ لینا ہوتے ہیں جہاں صدر کو براہ راست عوام کے ووٹوں کی روشنی میں منتخب کیا جاتا ہے.

    کوئی تبصرے نہیں