'بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھائیں گے'



وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہے، ہم سے پہلے بجلی مہنگی خریدنے کے معاہدے کیے گئے، 24سینٹ میں بجلی خریدنے کے معاہدے ہوئے جو بہت مہنگے ہیں۔
تاہم انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) سے متعلق کہا کہ فنڈز کو بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے سے متعلق بتادیا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ جب حکومت میں آئے تو1250 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ہمیں دیا گیا، ہم نے پن بجلی کا صرف ایک معاہدہ 5 سینٹ پر کیا تاہم ہم بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھائیں گے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس سے متعلق تمام فریقین کا ایمرجنسی اجلاس بلایا ہوا ہے۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا 15 سالہ معاہدہ کیا گیا، آج آدھی قیمت پر ایل این جی مل رہی ہے لیکن ہمیں معاہدے میں پھنسا دیا گیا کیونکہ مخالفین کو مہنگائی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا صرف معیشت کے حوالے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو دیکھتی ہے، ہم جب اقتدار میں آئے تو ساڑھے 19 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا،اگر کرنٹ اکاونٹ خسارہ زیادہ ہو تو حالات خراب رہتے ہیں۔

'دوست ممالک مدد نہ کرتے تو ہم دیوالیہ ہوجاتے'

معیشت سے متعلق انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی وہی اچھی ہوتی ہے جو برآمدات میں اضافے کی وجہ سے ہو، تاہم مسلم لیگ (ن) کے دور میں برآمدات 24 سے گھٹ کر 20ارب ڈالر پر آگئی تھی جبکہ تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔
ماضی کی حکومتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں ہمارے اوپر 40 ارب ڈالر کا بیرونی قرض تھا، جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے 10 برسوں میں 100 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے پہلے سال ہمیں 10 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا پڑا، اگر ہم پہلے سال 10 ارب ڈالر کا قرض واپس نہ کرتے تو دیوالیہ ہوجاتے، ایسی صورتحال میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 250 روپے تک پہنچ جاتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ہم دیوالیہ ہوجاتے تو آج مہنگائی کئی گنا زیادہ ہوتی، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو ہم دیوالیہ ہوجاتے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین ساری صورتحال سے پوری طرح آگاہ تھے۔
ڈالر کی قدر سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے روپے کی قدر مستحکم کرنے کے لیے20 ارب ڈالر مارکیٹ میں ڈالے جس سے صورتحال خراب ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں روپیہ 122 سے بڑھ کر 155 پر آیا، روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی ہوئی اور ہر چیز پر اثر پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے سال 75فیصد کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم کیا اور پوری دنیا نے ہماری کارکردگی کو تسلیم کیا ہے۔

انتخابی اصلاحات بل لانے کا اعلان

دوران گفتگو وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات کا بل لانے کا اعلان کیا اور کہا کہ انتخاب بائیومیٹرک ووٹنگ کے ذریعے کرانے میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹرز کے انتخابات بھی خفیہ رائے شماری کے بجائے شو آف ہینڈ کرانے کے لیے ترمیم لے کر آرہے ہیں۔

'آٹے، چینی بحران میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں'

ملک میں آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے بارے میں تحقیقات ہورہی ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام کہیں نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ نامکمل تھی جس کو مزید 20 سوالوں کے ساتھ دوبارہ بھیج دیا ہے اور اس معاملے کی مکمل انکوائری رپورٹ عوام کے سامنے رکھیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں کہ اس پر اپوزیشن کیا ردعمل دیتی ہے۔
واضح رہے کہ اپوزین کے قانون سازوں کی جانب سے بارہا یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ چینی اور آٹے کے حالیہ بحران پر پی ٹی آئی رہنماؤں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ساتھ ہی عمران خان نے یہ بھی کہا کہ جو عناصر قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھاتے ہیں ان کی بیخ کنی کرنا پڑے گی۔
دیگر معاملات پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ مسابقتی کمیشن کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن حکم امتناع پر بیٹھی ہیں، تاہم ہم نے مسابقتی کمیشن کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) صحیح کام نہیں کر رہا تھا، ہم نے اس کونسل کی جگہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان میڈیکل کونسل بنایا، تاہم نجی میڈیکل کالجز کی مافیا اس کے آڑے آگئی۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں بھی تبدیلی کی کوشش کرتے ہیں مفاد پرست مافیا آڑے آجاتی ہے۔
عمران خان کے مطابق ان کے اوپر بھی 6 کیس بنائے گئے تھے لیکن وہ لندن فرار نہیں ہوئے بلکہ حلال کے پیسے کی ایک ایک منی ٹریل دی۔

'میڈیا کو جتنا میں جانتا ہوں کوئی نہیں جانتا'

ذرائع ابلاغ سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو جتنا میں جانتا ہوں کوئی نہیں جانتا، ڈیڑھ 2 سال میں میرے اوپر میڈیا میں جتنے حملے ہوئے ہیں کسی پر نہیں ہوئے، میرےخلاف جھوٹی خبریں بھی جاتی ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ 'میں نے کبھی بھی میڈیا کے حوالے سے چین اور سعودی عرب کی مثال نہیں دی بلکہ ہمیشہ برطانیہ کی بات کی ہے، برطانیہ میں کوئی جھوٹی خبر دے اور جھوٹا الزام لگائے تو وہ ادارے بند ہوتے ہیں'۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرا کوئی کیمپ آفس نہیں میں صرف تنخواہ پر گزارا کرتا ہوں اور اپنے بل خود ادا کرتا ہوں، دنیا میں سب سے کم کسی وزیراعظم کی تنخواہ ہوگی تو وہ میری ہوگی۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اینکر نے میرے اوپر بنی گالا کے گھر کو ریگولرائز کرنے کا الزام لگایا، میں اس کے خلاف عدالت میں گیا ہوں مجھے ابھی تک انصاف نہیں ملا۔
اس کے علاوہ عمران خان کے مطابق ان کے وزیر حماد اظہر کے ٹیکس ریٹرن سے متعلق بھی جھوٹا لگایا گیا، حماد اظہر کو بھی ابھی تک انصاف نہیں ملا، اگر اس قسم کے الزامات اور جھوٹی خبریں لگائی جائیں تو چینل بند کردیے جاتے ہیں۔
انہوں نے ذرائع ابلاغ کے ایک حلقے میں اپنے دورہ چین کے حوالے سے خبر کو 'غلط' کہتے ہوئے کہا کہ اس خبر کی وجہ سے ہمیں چین میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے بیان تک کو بھی تبدیل کرکے پیش کیا جاتا ہے، یہ صرف میری نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.