پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ق) کے درمیان مذاکرات کامیاب



حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے درمیان مذاکرات کے بعد معاملات طے پا گئے۔
گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور وزیر تعلیم شفقت محمود پر مشتمل حکومتی مذاکراتی ٹیم نے لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الٰہی کے گھر ان سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہر حکومت کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو بھی مشکلات درپیش ہوں گی ہم اس کا مل کر سامنا کریں گے اور مشاورت کے ساتھ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے'۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق)، وزیر اعظم عمران خان کے دور میں تبدیلی چاہتی ہے جس کے ثمرات نچلی سطح تک جانے چاہیے۔
چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ 'ہمیں وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں اور مثبت پالیسیوں پر کوئی شک نہیں ہے اور چاہتے ہیں کہ ہمارا اتحاد آئندہ انتخابات تک اسی طرح برقرار رہے'۔
دریں اثنا وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ 'حکومت کے اتحادیوں کے بارے میں غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں اور آج فیصلہ ہوگیا کہ ہمارے اتحادی کہیں نہیں جارہے'۔
انہوں نے کہا کہ 'اتحادیوں میں کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں جن پر مخالفین افواہیں پھیلا رہے تھے، ہم نے تمام امور پر بیٹھ کر بات کی اور اتفاق رائے طے پایا'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس دوران مسلسل رابطے میں تھے، ہم پہلے بھی شراکت دار تھے اور آئندہ بھی شراکت دار رہیں گے'۔
انہوں نے مزید کہا کہ 'مسائل پیدا ہوجاتے ہیں، مسائل ہمارے گھر میں بھی ہوتے ہیں مگر ہمیں انہیں حل کرنا ہوتا ہے، ہم عوام کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ یہ شراکت داری آئندہ 3 سال تک جاری رہے گی'۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان اختلافات

تحریک انصاف کی پنجاب حکومت میں ان کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے ساتھ تعلقات اس وقت خراب ہوئے تھے جب عمران خان نے پنجاب اور مرکز میں اتحادی جماعت کے انتظامی و ترقیاتی مسائل کے حل کے لیے جہانگیر ترین کی قیادت میں کمیٹی کو تبدیل کردیا تھا۔
یہ بات سامنے آئی تھی کہ مسلم لیگ (ق) پنجاب کے چند اضلاع جنہیں ان کا سیاسی گھر سمجھا جاتا ہے، میں انتظامی حصہ چاہتی تھی.
کمیٹی کے تبدیل ہونے کے بعد مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے متعدد فیصلوں کا مطالبہ کیا جس میں جہانگیر ترین کی کمیٹی سے طے پانے والے بیروکریسی کے ذریعے انتظامی اختیارات کا نفاذ بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق جہانگیر ترین کی قیادت میں کمیٹی نے مسلم لیگ (ق) کو پنجاب اور مرکز میں با اختیار بنانے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا تھا اور اتحادی جماعت ان فیصلوں پر بھی عمل درآمد کا مطالبہ کر رہی تھی۔
نئی کمیٹی کے قیام کے بعد تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے والے چوہدری پرویز الٰہی معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور حکومت کو اس پر عمل درآمد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنما نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے تو وہ حکومت سے اتحاد کے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔
گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر شفقت محمود نے ذاتی دورہ کرکے چوہدری پرویز الٰہی سے پارٹی کے تحفظات پر غیر رسمی گفتگو کی تھی۔
گزشتہ جمعرات کو گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد کا دورہ کرکے وزیر اعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی کمیٹی کا مشترکہ اجلاس کیا تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے