• Breaking News

    راولپنڈی میں ڈکیتی کے دوران خاتون کا ریپ



    پولیس کا کہنا ہے کہ روات کے علاقے میں 2 خواتین سے نقدم رقم لوٹنے کے بعد ایک کا ریپ کردیا گیا۔
    واقعے سے متعلق درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں کہا گیا کہ ریپ کی متاثرہ خاتون اپنی دوست کے ہمراہ چک بیلی خان میں شادی میں شرکت کے لیے گئی تھی۔
    متاثرہ خاتون ایک سرونٹ کو بھی اپنے ساتھ ٹیکسی میں لے کر رات کو شادی میں شریک ہونے گئی تھی۔
    تاہم خاتون کا کہنا تھا کہ جب وہ چک بیلی خان کے راستے میں تھے تو ایک کار میں سوار 3 افراد نے ان کا راستہ روکا اور ڈرائیور کو گاڑی روکنے پر مجبور کیا۔
    انہوں نے کہا کہ دوسری گاڑی میں سفر کرنے والے 2 افراد زبردستی ان کی گاڑی میں داخل ہوئے اور ڈرائیور کو ٹیکسی ویران جگہ پر لے جانے کا کہا اور وہاں پر انہوں نے ان سے 80 ہزار جبکہ ڈرائیور سے 5 ہزار روپے چھین لیے۔
    انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایک اغوا کار نے بندوق کے زور پر یرغمال بنایا اور پھر ان کا ریپ کیا جبکہ اس کے ساتھ ان کی دوست اور ڈرائیور کو پکڑے رکھا۔
    متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ ملزمان نے انہیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور پھر فرار ہوگئے۔
    ادھر پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کے طبی معائنے کے بعد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی، تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
    خیال رہے کہ کچھ عرصے سے ملک میں ریپ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ کچھ کیسز میں ریپ کے بعد قتل کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
    گزشتہ برس 23 نومبر کو پنجاب کے شہر راولپنڈی کے علاقے ڈھوک چوہدریاں میں 7 سالہ بچی کو ریپ کر نے کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا تھا۔
    اس واقعے کے بارے میں پولیس نے بتایا تھا کہ بچی کو اس کے 18 سالہ چچا نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بعدازاں پولیس کے سامنے ملزم نے بچی کو ریپ کے بعد قتل کرنے کا اعتراف بھی کرلیا۔
    اس سے قبل اسی ماہ راولپنڈی پولیس نے بچوں سے بدفعلی کر کے ان کی ویڈیو بنانے کے الزام میں سہیل ایاز نامی شخص کو گرفتار کرلیا تھا۔
    اس بارے میں سٹی پولیس افسر (سی پی او) فیصل رانا نے  بتایا تھا کہ روات پولیس اسٹیشن میں ایک 13 سالہ لڑکے کی ماں کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا، بعد ازاں ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی۔

    کوئی تبصرے نہیں