پاکستان کا دہشت گردی سے سیاحت کی طرف غیر معمولی سفر




اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان میں امن و سلامتی کی بہتر ہوتی صورتحال کو 'غیر معمولی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جو چند سال قبل کسی 'قلعے' کی مانند لگتا تھا آج اسے اقوام متحدہ کے اسٹاف کے لیے فیملی اسٹیشن قرار دے دیا گیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں سیمینار سے خطاب کے بعد 'پاکستان کے دہشت گردی سے سیاحت تک کے سفر' سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ 'ہم دیکھ رہے ہیں کہ ریاست سیکیورٹی اور بنیادی سہولیات سے متعلق کام کر رہی ہے اور یہ پیشرفت غیر معمولی ہے۔'
انہوں نے پاکستان میں افغان پناہ گزین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'میں نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدیں کھولیں جہاں دنیا نے اپنی سرحدیں بند کیں بلکہ پاکستانی عوام نے انتہائی سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھر اور دل بھی کھولے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'اسی وقت میں میں نے امن بالخصوص افغانستان میں امن نے لیے پاکستان کے عزم کا مظاہرہ کیا۔'
قبل ازیں نسٹ میں 'اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا کردار' کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ 'مجھے فخر ہے کہ میں امن مشنز کے جوانوں کا ساتھی ہوں، امن مشنز میں کام کرنے والے افسر اور جوان اہم ترین کام کر رہے ہیں۔'
انہوں نے کہا کہ پاکستانی افسران امن مشنز میں فرسٹ کمانڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں، پاکستان کے ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد جوانوں نے امن مشنز کے لیے کام کیا اور امن مشنز میں خدمات انجام دیتے ہوئے پاکستان کے 157 جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے پاکستانی افواج، پولیس اور سویلین کے امن مشنز کے لیے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ 1948 سے اب تک 70 سے زائد امن مشنز کام کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ امن مشنز کو نئے چیلنجز درپیش ہیں اور تنازعات کے حل کے لیے اقدامات میں مشکلات درپیش ہیں۔
انتونیو گوتریس نے پاکستانی حکومت کے امن و سلامتی کے لیے وژن کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ سیکریٹریٹ نے امن و سلامتی کے حوالے سے پیشرفت کی ہے، جبکہ امن مشنز میں حادثات کی شرح کم ہوئی ہے۔
انہوں نے امن مشنز میں پہلی بار پاکستانی خواتین کی شمولیت کو بھی انتہائی خوش آئندہ قرار دیا اور کہا کہ خطرناک علاقوں میں خواتین اہلکار عوام کے اعتماد کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں، امن مشنز کا تشخص آج انتہائی مثبت ہوچکا ہے اور پاکستان امن مشنز کے حوالہ سے بہترین مثال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے جنگ کے طریقہ کار کو بدل دیا ہے، نئے چیلنجز امن کے تمام شراکت داروں کے لیے اہم ہیں۔
انہوں نے سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبہ میں نسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نسٹ کے طلبا تعلیم کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.