مولانا نے اب دھرنا دیا تو دھر لیے جائیں گے



وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمٰن اس مرتبہ خود دھرنا نہیں دیں گے اور اگر انہوں نے دھرنا دیا تو وہ اب دھر لیے جائیں گے۔
کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور ریلوے میں کوئی اختلاف نہیں اور ہم مل کر کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'کراچی کے منصوبے سندھ حکومت ریلوے سے زیادہ عملی طور پر مکمل کرنا چاہتی ہے'۔
انہوں نے کہا کہ 'کے سی آر سی پیک کا معاہدہ ہے، کراچی سرکلر ریلوے سے متعلق جلد چین کے سفیر کراچی آئیں گے اور ان کے ساتھ ہم مل کر پریس کانفرنس بھی کریں گے'۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق انکروچمنٹ کا جلد خاتمہ کریں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے اعلان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'مارچ تک جو مرضی چاہے مہم چلالیں، عمران خان 5 سال پورے کریں گے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کچھ نہیں کرنے جارہے'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'امید ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن خود دھرنا نہیں دیں گے اور اگر انہوں نے دھرنا دیا تو وہ اب دھر لیے جائیں گے اس دفعہ ان کے ساتھ وی آئی پی سلوک نہیں ہوگا'۔
انہوں نے کہا کہ 'گندم کے بحران کے ذمہ داروں کو عمران خان سزا دیں گے وہ کسی کو ایسے جانے نہیں دیں گے'۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'حیات ایجنسی سے لے کر جتنی ریلوے کی زمینیں ہیں اور جو اسٹاک ایکسچینج کے پلاٹ ہیں یہ سب کیس لے کر ہم عدالتوں میں جارہے ہیں اور اس سے جتنا پیسہ ملے گا وہ کے سی آر میں لگائیں گے اور سندھ حکومت کو بھی دیں گے'۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ 'اقتصادی رابطہ کمیٹی میں ریلوے کی پینشن کا معاملہ اٹھائیں گے اور اسے وفاق کے کھاتے میں ڈالنے کی منظوری دلوائیں گے'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'آج پنجاب کی فارنزک لیبارٹری کی رپورٹ میں مجھے درست ثابت کیا گیا ہے کہ اور بتایا گیا ہے کہ تیز گام سانحے میں جو آگ لگی وہ سلینڈر کی وجہ سے لگی تھی'۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'عدالتوں کے آگے حکومت بے بس ہے اور عدالتیں جو احکامات دیتی ہیں اس پر حکومت کو عمل کرنا ہوتا ہے'۔

شیخ رشید کی وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات

وزیر ریلوے شیخ رشید نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی تھی۔
ملاقات میں چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ، وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب، ایڈووکیٹ جنرل سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ کے سی آر 2 ارب روپے کا منصوبہ ہے اور اس کی بحالی میں 24 کراسنگز ہیں جنہیں ٹھیک کرنا ہے۔
دونوں رہنماؤں میں کے سی آر کے فریم ورک معاہدہ وفاق اور سندھ میں کرنے پر اتفاق کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے سی آر بنانے کے لیے پر عزم ہے اور اس منصوبے کا 15 فیصد ، 40 ارب روپے دینے کے لیے تیار ہے۔
ملاقات میں 4 ہزار 600 سے زائد متاثر عوام کو معاوضہ ادا کرنے پر غور کیا گیا۔
وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ خالی کروائے گئے ٹریک پر چیک پوسٹ بنائیں گے۔
ملاقات میں وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر ریلوے نے اس حوالے سے ایک کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں سرکلر ریلوے کی زمینوں پر سے غیر قانونی قبضے ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے۔
اس ضمن میں پاکستان ریلوے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کا 75 فیصد سے زائد حصہ تجاوزات سے پاک کردیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے بقیہ رہ جانے والے ٹریک سے تجاوزات ہٹانے کے لیے وزارت ریلوے نے حکومت سندھ سے درخواست کی تھی۔
کہا گیا تھا کہ کے سی آر کے راستے اور اطراف کی زمین سے سندھ حکومت تجاوزات ختم کروائے گی اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے یقین دہانی کروائی کہ اسے جتنی جلد ممکن ہو کیا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.