Tuesday, February 4, 2020

کوالالمپور اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس ہے، وزیراعظم

0


وزیراعظم عمران خان نے دورہ ملائیشیا کے دوران کہا ہے کہ انہیں گزشہ برس دسمبر میں ہونے والے کوالالمپور سربراہی اجلاس (کوالالمپور سمٹ) میں شریک نہ ہونے پر افسوس ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ دوست ممالک میں یہ غلط فہمی تھی کہ یہ اجلاس مسلم امہ کو تقسیم کرے گا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ کے دوران اپنے ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد سے پتراجایا شہر میں ون آن ون ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد دونوں سربراہان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، اس دوران عمران خان نے کہا کہ ’میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں بہت افسردہ تھا کہ دسمبر کے وسط میں کوالالمپور میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرسکا‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’بدقسمتی سے پاکستان کے بہت قریب ہمارے کچھ دوستوں کو یہ محسوس ہوا کہ شاید یہ کانفرنس امہ کو تقسیم کردے گی، جو واضح طور پر ایک غلط فہمی تھی کیوں کہ کانفرنس کے انعقاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد امہ کی تقسیم نہیں تھا‘۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ کانفرنس میں شرکت کے ’منتظر‘ تھے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ممالک کا مغربی دنیا اور غیر مسلم ممالک کو اسلام کے بارے میں آگاہی دینا انتہائی اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تمام غلط فہمیوں کے پیشِ نظر چاہے وہ دانستہ ہوں یا غیر دانستہ، یہ اہم ہے کہ مسلمان ممالک ہمارے نبی ﷺ کے حقیقی پیغام کے بارے میں بتائیں‘۔
دوران گفتگو انہوں نے ایک مرتبہ پھر ملائیشیا میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔
تاہم آئندہ برس کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’بالکل وہ (شرکت) کریں گے کیوں کہ اب یہ بات واضح ہے کہ کوالالپمور اجلاس نے امہ کو تقسیم نہیں کیا، اگر کوئی چیز امہ کو متحد کرتی ہے تو وہ ضرور آنا پسند کریں گے‘۔

وزیراعظم کا کمشیر سے متعلق موقف پر ملائیشیا کا شکریہ

ادھر مشترکہ پریس کانفرنس میں ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہماری شراکت داری دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے، ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان کثیرالجہت تعلقات ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ ’ان کی اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات میں باہمی تعاون کے امور کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر اچھی گفتگو ہوئی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ ہمارے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔
پریس کانفرنس میں ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اہم معاملات میں رکاوٹیں دور کر نے اور دونوں جانب سے اشیا میں عدم توازن کے مسئلے کو حل کرتے ہوئے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر اتفاق کیا‘۔
پاکستان کے ملائیشیا سے مزید پام آئل کی خریداری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مہاتیر محمد نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پام آئل کے خریداری کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور ’میرے خیال میں پاکستان ملائیشیا سے مزید پام آئل درآمد کرنے کے لیے تیار ہے‘۔
اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’یہ درست ہے، خاص طور پر ہم نے دیکھا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کی حمایت کرنے پر ملائیشیا سے پام آئل درآمد نہ کرنے کی دھمکی دی ہے، (لہٰذا) پاکستان اس کی تلافی کی بھرپور کوشش کرے گا‘۔
خیال رہے کہ ملائیشیا کی جانب سے کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز اٹھانے کے ردِ عمل میں بھارت نے دنیا میں پام آئل پیدا کرنے والے دوسرے بڑے ملک ملائیشیا سے اس تیل کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی اور تاجروں سے خصوصی طور پر ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد روکنے کا کہا گیا تھا۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ملائیشین ہم منصب کا انہیں اپنے ملک مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا جو روایتی طور پر بہت قریبی ہیں‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس دورے کا مقصد (دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے) مزید قریب آنا ہے‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور تعاون کے بہترین تعلقات ہوں گے‘۔
علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائیشین ہم منصب کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے اور بھارتی افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر مہاتیر محمدکا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بھارت پر ایک انتہا پسند اور بنیاد پرست حکومت قابض ہوگئی ہے جس نے کشمیری عوام کو ایک کھلی جیل میں قید کردیا ہے۔

عمران-مہاتیر ملاقات

قبل ازیں ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے دفترِ پہنچنے پر مہاتیر محمد نے وزیراعظم پاکستان کا پرتپاک استقبال کیا جس کے بعد عمران خان نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔
وزیراعظم کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کے متعدد سمجھوتوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جس میں سب سے اہم قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ تھا۔


خیال رہے کہ دورے کے دوران عمران خان ایک تھنک ٹینک تقریب سے بھی خطاب کریں گے جس کا اہتمام ملائیشیا کے اسٹریٹجک اور بین الاقوامی علوم کے ادارے نے کیا ہے۔

وزیراعظم کا دورہ ملائیشیا

واضح رہے کہ عمران خان 2 روزہ دورے پر گزشتہ روز ملائیشیا پہنچے تھے، جہاں کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بونگا رایا کمپلیکس آمد پر ملائیشیا کے وزیر دفاع محمد صابو اور اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا تھا۔
ملائیشیا میں پاکستان کی ہائی کمشنر آمنہ بلوچ اور ہائی کمیشن کے دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، منصوبہ بندی وترقی کے وزیر اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود ان کے ہمراہ ہیں۔
وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے مابین مضبوط تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت دینے کے تناظر میں مشترکہ عزم کی علامت ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا پاکستان اور ملائیشیا عقیدے اور ثقافت کے اعتبار سے قریبی اور دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور اس میں باہمی اعتماد اور مفاہمت کے خواہش مند ہیں۔
وزیراعظم عمران خان مختلف ملاقاتوں کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی امن وسلامتی کے حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار پر بھی بات کریں گے۔

وزیر اعظم کی کوالالمپور اجلاس میں عدم شرکت

خیال رہے کہ پاکستان ان پہلے ممالک میں شامل تھا جن سے ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے سمٹ کا ارادہ شیئر کیا تھا اور گزشتہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجیب طبیب اردوان کو اس بارے میں بتایا تھا۔
بعدازاں ملائیشیا کے نائب وزیر خارجہ مرزوکی بن حاجی یحییٰ نے 29 نومبر کو وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی اور سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی جسے وزیراعظم نے قبول کرلیا تھا۔
تاہم دسمبر کے اوائل میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ ملائیشیا منسوخ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور 14 دسمبر کو سعودی عرب کے دورے کے بعد انہوں نے کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعظم، سعودی عرب کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی وجہ سے اجلاس میں شرکت سے دستبردار ہوئے جس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے ابتدائی دنوں میں معاشی بحران سے نکلنےکے لیے مدد کی تھی۔
بعدازاں 17 دسمبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی تصدیق کردی تھی کہ کوالالمپور میں ہونے والے 20 ممالک کے اجلاس میں پاکستان کی کوئی نمائندگی نہیں ہوگی۔
شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی تھی کہ سربراہی اجلاس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب کو تحفظات تھے۔
انہوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک پریشان تھے کہ اجلاس سے ’ امہ میں تقسم ‘ ہوسکتی ہے اور اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی ) جیسی ایک تنظیم قائم ہوسکتی ہے۔
Author Image
AboutHTV Pakistan

HTV Pakistan

No comments:

Post a Comment