دہلی کے انتخابات میں مودی کی جماعت کو بدترین شکست کا سامنا



بھارت میں اہم ریاستی انتخابات کے ایگزٹ پول نتیجے کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو دارالحکومت نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پول کے نتائج میں بی جے پی کو اروند کیجروال کی جماعت سے شکست ہوئی ہے۔
نئی دہلی کے ایگزٹ پول کے نتیجے کے مطابق عام آدمی پارٹی کو 70 میں سے 52 نشستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
نئی دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسودیا نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ‘ہم بھاری مارجن سے جیت رہے ہیں’۔
دوسری جانب بی جے پی کے سربراہ اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے اراکین کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جبکہ انہوں نے انتخابات کے لیے بھرپور مہم چلائی تھی۔
رپورٹس کے مطابق سخت سیکیورٹی میں ہوئے انتخابات میں نئی دہلی کے پولنگ اسٹیشنز کے سامنے ووٹرز کی لمبی قطاریں تھیں جو ووٹ ڈالنے کے لیے انتظار میں کھڑے تھے۔
خیال رہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کی حمایت کرنے والے اپوزیشن کے اراکین پر سخت تنقید کی تھی لیکن وہ 2015 سے دہلی میں حکومت کرنے والی کیجروال کی جماعت کو شکست دینے میں ناکام رہے۔
عام آدمی پارٹی نے 2015 میں دہلی اسمبلی کی 70 میں 67 نشستوں میں کامیابی حاصل کی تھی جو ایک ریکارڈ ہے اور مہم کے دوران کیجروال نے بجلی، پانی اور صحت سمیت عوامی مسائل کو موضوع بنایا۔
بی جے پی کا دعویٰ تھا کہ دہلی کا انتخاب متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والی مسلمان خواتین کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوگا جہاں خواتین شاہین باغ میں 15 دسمبر سے اس قانون کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔
بھارت کی حکمران جماعت نے مہم میں ووٹرز سے کہا تھا کہ اگر وہ شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو بی جے پی کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں۔
قبل ازیں بی جے پی کو مہا راشٹرا میں حال ہی میں ریاستی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب دہلی میں شکست کے بعد تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سے بی جے پی کے حوالے سے عوامی رائے کا اندازہ لگانا آسان ہے۔

شاہین باغ، احتجاجی ریفرنڈم

خواتین کے مظاہرے کے مقام کے قریب قائم ایک فوڈ کمپنی کے سینئر ایگزیکٹو معروف احمد کا کہنا تھا کہ ‘بی جے پی کے پاس شاہین باغ اور پاکستان صرف دو ایجنڈے تھے، اس کے علاوہ ان کے پاس بات کرنے کو کچھ نہیں ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جی ڈی پی گھٹ رہی ہے، معیشت تباہ ہورہی ہے اور حکمران صرف مساجد اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنارہے ہیں’۔
دوسری جانب مودی کے موقف کے حامی فنانشل کنسلٹنٹ ونود کمار کا کہنا تھا کہ ‘میں کسی جماعت کے حوالے سے جانب دار نہیں ہوں لیکن میں شاہین باغ مظاہرے کی توثیق نہیں کر رہا ہوں، مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو شہریت بل پر یقین رکھتے تھے اور حمایت بھی کرتے تھے’۔
نئی دہلی کے انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان 11 فروری کو کیا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.