فلاحی مرکز میں لڑکی کی پُراسرار موت، تحقیقات کا مطالبہ



مختلف فلاحی تنظیموں میں پرورش پانے والی لڑکی اقرا کائنات کی پُراسرار موت ایک معمہ بن گئی ہے جس کے بعد کاشانہ لاہور کی سابق سپرنٹنڈنٹ نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
ایک طرف پولیس کا ماننا ہے کہ لڑکی نے خودکشی کی جبکہ کاشانہ لاہور کی سابق سپرنٹنڈنٹ اس بات کو ’من گھڑت‘ قرار دیتی ہیں۔
5 فروری کو انتقال کرنے والی 23 سالہ اقرا کائنات کی شادی ایک برس قبل گرین ٹاؤن کے رہائشی عابد ثنااللہ سے ہوئی تھی۔
اقرا کائنات کی موت اس وقت توجہ مرکز بنی جب دو روز قبل ایدھی سینٹر نے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس میں لکھا گیا تھا کہ ان کا انتقال بیماری کی وجہ سے ہوا جبکہ پولیس کو شبہ ہے کہ لڑکی نے خودکشی کی تھی۔
ایدھی سینٹر لاہور کا کہنا تھا کہ اقرا کائنات، ٹاؤن شپ میں واقع ایدھی ہوم میں داخل ہوئی تھیں اور وہ اس وقت ایک بیماری کا شکار تھیں۔
دوسری جانب پولیس عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ لڑکی نے اپنے شوہر اور سسرالیوں کے ساتھ گھریلو مسائل کے باعث چند روز قبل ’ کیمیکل یا تیزاب ‘ پیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اقرا کو ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں بروقت علاج کی وجہ سے وہ بچ گئی تھیں جس کے بعد انہیں ہسپتال سےڈسچارج کردیا گیا تھا۔
پولیس عہدیدار نے کہا کہ اقرا نے اپنے سسرال واپس جانے سے انکار کردیا تھا لہٰذا انہیں ایدھی ہوم بھیج دیا گیا تھا جہاں وہ انتقال کرگئیں۔
اقرا کی موت منظرعام پر آنے کے بعد فلاحی ادارے کاشانہ لاہور کی سابق کیئر ٹیکر افشاں لطیف نے لڑکی کی اچانک موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
افشاں لطیف نے کہا کہ اقرا نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو، دارلامان اور کاشانہ میں پرورش پائی اور وہ وہاں مقیم لڑکیوں کی حالت زار کی گواہ تھیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر متعقلہ حکام سے کیس کی منصفانہ تحقیقات کا حکم دینے کی اپیل کی۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.