Monday, February 24, 2020

استاد کے ‘تشدد’ سے مدرسے کا طالب علم جاں بحق

0


لاہور کے علاقے برکی میں مدرسے کے 9 سالہ طالب علم مبینہ طور پر قاری کے تشدد سے جاں بحق ہوگئے اور پولیس نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) بھی درج کردی۔
پولیس کے مطابق لواحقین نے بتایا کہ برکی کے علاقے میں 9 گلفام علی پر مدرسے کے قاری بلال اور شعیب نے تشدد کیا جنہیں تشویش ناک حالت میں ہسپتال منقتل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔
ایس پی کینٹ لاہور فرقان بلال کا کہنا تھا کہ بچے کی لاش کو ہسپتال سے مردہ خانہ منتقل کردیا گیا اور مقدمہ درج کرکے مبینہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے کے والد نے کہا کہ 9 سالہ گلفام علی مدرسے میں زیر تعلیم تھا جہاں سے قاری بلال نے فون کرکے ان کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع دی جب میں پہنچا تو وہ دم توڑ چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنی مدد آپ کے تحت گلفام کو برج ہیلتھ ہسپتال بھٹہ چوک پہنچایا لیکن وہ تشدد سے فوت ہوچکے تھے۔
کم سن طالب علم کے والد نے پولیس سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ‘قاری بلال اور قاری شعیب نے میرے بچے پر تشدد کرکے انہیں ناحق قتل کردیا لہٰذا انصاف دلایا جائے’۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لواحقین نے لاہور کے رنگ روڈ پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور ٹریفک بھی بلاک کردی، انہوں نے مبینہ تشدد کرنے والے دونوں افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ لاہور میں گزشتہ برس ستمبر میں ایک نجی اسکول میں استاد کے مبینہ تشدد سے دسویں جماعت کے طالب علم جاں بحق ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ طالب علم حافظ حنین بلال کو سبق یاد نہ کرنے پر استاد کامران نے ’تشدد‘ کا نشانہ بنایا۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار بھی کرلیا تھا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی کو تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔
ایف آئی آر میں متوفی بچے کے والد نے بیان دیا کہ ’اسکول پرنسپل اور انتظامیہ ماہانہ فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے میرے بیٹے کو ذہنی اذیت دے رہے تھے تاہم آج ہی فیس جمع کرائی تھی‘۔
ایف آئی آر کے مطابق استاد نے متعدد مرتبہ حنین بلال کو گھونسے مارے اور اس کے بال پکڑ کر چیختے ہوئے دیوار پر سر مارا اور حنین کلاس روم میں ہی گر گیا اور دم توڑ دیا‘۔
Author Image
AboutHTV Pakistan

Soratemplates is a blogger resources site is a provider of high quality blogger template with premium looking layout and robust design

No comments:

Post a Comment