• Breaking News

    امریکی فوجیوں کو مارنے کیلئے افغان جنگجوؤں کو انعام کی پیشکش کی



    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق روسی فوج نے افغانستان میں امریکی فوجیوں اور دیگر فورسز کو قتل کرنے کے لیے طالبان سے وابستہ جنگجوؤں کو انعام کی پیشکش کی تھی۔

    برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز نے کہا کہ حکام نے اس معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے مہینوں قبل یہ تعین کیا کہ روسی ملٹری انٹیلی جنس نے گزشتہ برس یورپ میں قتل سے وابستہ کوششوں میں کامیاب حملوں کے لیے انعامات کی پیشکش کی تھی۔

    اخبار نے کہا کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ قریبی طور پر وابستہ جنگجوؤں یا مسلح جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے کچھ انعامی رقم وصول کی۔

    تاہم وائٹ ہاؤس، سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی(سی آئی اے) اور ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ سے متعلق رائٹرز کو جواب دینے سے انکار کردیا۔

    نیویارک ٹائمز نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انٹیلی جنس کے نتائج پر بریف کیا گیا ہے، وائٹ ہاؤس نے ابھی تک روس کے خلاف کسی اقدامات کی اجازت نہیں دی۔

    امریکی اخبار نے کہا کہ 2019 کی لڑائی میں 20 امریکی مارے گئے تھے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کونسی ہلاکتیں شکوک و شبہات کی زد میں ہیں۔

    تقریبا 20 برس تک طالبان سے جنگ کے بعد امریکا، افغانستان سے انخلا، امریکی حمایت یافتہ حکومت اور ملک کے مختلف حصوں پر قابض جنگجو گروہ کے درمیان امن کے حصول کی کوششوں کے طریقوں پر غور کررہا ہے۔

    29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ تھا جس میں امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    امریکی عہدیداران اور نیٹو نے مئی کے اواخر میں کہا تھا کہ اس وقت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب طالبان سے اتفاق کردہ شیڈول سے قبل افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8 ہزار 600 کے قریب ہے۔

    کوئی تبصرے نہیں