.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » مضامین » 23مارچ ………… تجدید عہد کا دن

23مارچ ………… تجدید عہد کا دن

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

طارق احسان غوری
23مارچ کا دن ہمیں79سال قبل 1940میں لاہور میں ہونے والے اُس عظیم الشان اجتماع کی یاد دلاتا ہے جو بانی پاکستان قائد ِ اعظم محمد علی جناح کی لازوال قیادت میں”منٹو پارک“ میں منعقد ہوا اور اس اجتماع میں بر صغیر کے 10کروڑ مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ مملکت کے حصول کیلئے تاریخی ”قرار داد پاکستان“ منظور کی گئی۔
جب جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریز سامراج نے مسلمانوں کو سیاسی ،سماجی، معاشی اور تعلیمی میدا ن میں مٹانے کی کوششیں شروع کیں تو متعصب ہندوﺅں نے آگے بڑھ کر انگریز کا سا تھ دیا اور تقریباً 80سال تک مل کر مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ہندوستان پر اپنا غلبہ حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے رہے لیکن مسلمانوں میں غیرت اور ہمت کے ساتھ ساتھ آزادی کی بھرپورخواہش موجود تھی اور وقتاً فوقتاً یہ چنگاری شعلہ جوالا بننے کی طرف مائل ہوتی رہی۔ 1857سے 1920کے دوران مختلف تحریکیں چلائی گئیں جن کا مقصد انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنا تھا ، ان میں تحریک خلافت، تحریک ہجرت اور تحریک ریشمی رومال قابل ِ ذکر ہیں۔
انگریزوں نے مسلمانوں کو زیر کرنے کیلئے اُن پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دئیے اور مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے اُن پر بلاجواز پابندیاں عائد کر دی گئیں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی اور یہ ظلم و ستم نصف صدی تک پورے زور و شور کے ساتھ جاری و ساری رہا اور انہیں مختلف مصائب اور تکلیفوں کا سامنا کر نا پڑ رہا تھا۔ آخر کار مسلمان اکابرین ، علما کرام اور سیاسی قائدین نے انگریز سامراج سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے مختلف جماعتوں کے پلیٹ فارم قائم کر کے اپنی جدو جہد جاری رکھی۔ ٹیپوسلطان ، نواب سراج الدولہ ، رانی جھانسی اور تیتو میر شہید جیسے جانبازوں نے” جذبہ جہاد“ کے ساتھ میدان جنگ میں انگریز سامراج کا مردانہ وار مقابلہ کیا جبکہ سر سید احمد خان، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، راجہ صاحب محمود آباد، سر آغاخان اور علامہ محمد اقبال جیسے اکابرین نے مسلمانوں کو نہ صرف جذبہ حریت اور سیاسی شعور دیا بلکہ تعلیمی اور سیاسی میدان میں آگے بڑھنے اور جدو جہد کرنے کا حوصلہ بھی دیا۔
سب سے پہلے شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ملک حاصل کرنے کی تجویز پیش کی اور مسلمانوں کو اتحاد، جذبہ جہاد ، حریت اور خودی کا پیغام دیا اور اپنی شاعری سے مسلمانوں میں جدو جہد اور آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ مسلمان اکابرین کی ان ہی کوششوں نے 1906میں اُنہیں ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع ہونے کاشعوردیا اور بر صغیر کے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کو متحدہ کرنے اور اُنہیں سیاسی شعور عطا کرنے کیلئے ملک گیر سطح پر کام کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں یہی جدو جہد اُنہیں آزادی کی منزل کی جانب لے جانے کا باعث بنی۔
23مارچ 1940کو” قرار داد لاہور“ کے ذریعے پہلی مرتبہ مسلمان اکابرین نے باضابطہ طور پر ایک علیحدہ مملکت کے حصول کا مطالبہ کر دیا جس میں مسلمان اکثریتی علاقوں پنجاب ، سرحد، بلوچستان، سندھ اور کشمیر کو ملا کر ایک علیحدہ وطن ”پاکستان “کے قیام کا مطالبہ کیا گیا جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے مذہب ، رسوم و رواج اور ثقافت کے ساتھ آزادانہ زندگی بسر کر سکیں اور پاکستان ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست ہو جہاں مسلمان اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کو نافذ کر کے اسلام کے زریں اورآ فاقی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
1940کو آزادی کا یہ فیصلہ کن مرحلہ شروع ہوا اورقائد ِ اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں صرف 7سال کی جدو جہد کے بعد مسلمانوں نے انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور بالآخر 14اگست 1947کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت خدا داد پاکستان معرض ِ وجود میں آگئی جس کا ایک واضح مقصد اور نعرہ تھا
”پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا الٰہ الااللہ محمد الرسو ل اللہ “
تقسیم برصغیرکے وقت انگریز نے طے شدہ اصولوں کے منا فی ” حد بندی “میں نا انصافی کرتے ہوئے گورداس پور کا ضلع ہندوستان کو دے دیا جس کی وجہ سے ہندوستان کو کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کا راستہ مل گیا ۔حضرت قائد ِ اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ افسوس کہ پاکستان کی شہ رگ کشمیر 68سالوں سے ہمارے بدترین دشمن بھارت کے شکنجے میں ہے اور وہ 2کروڑ کشمیریوں کو غلام بنا کے رکھنے کیلئے اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ۔
23مارچ کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پوری قوم 1940والے جذبہ کے ساتھ بیدار ہو کر مادرِ وطن کے تحفظ،سا لمیت اور استحکام کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے۔ ہمیں علامہ محمد اقبال کا خواب پورا کرنا ہے ، ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے بتائے ہوئے زریں اصولوں پر چلتے ہوئے تکمیل پاکستان کیلئے اپنی شہ رگ کشمیر کو دشمن کے پنجوں سے آزاد کرانا ہے ۔
ہر سال23مارچ ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم نے نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے بلکہ پاکستان کی شہ رگ ”کشمیر “کو بھارتی تسلط سے آزادی دلانے کیلئے کردار ادا کرنا ہے اور اقوام متحدہ کی منظور کردہ حق خودارادیت کی قرار دادوں پر عملدرآمد کروانا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*