.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » انٹرویوز » ہمیں مزید اچھی فلمیں بنانا ہوں گی: اداکار سلیم معراج

ہمیں مزید اچھی فلمیں بنانا ہوں گی: اداکار سلیم معراج

پڑھنے کا وقت: 6 منٹ

ڈارمہ اور فلم کے معروف آرٹسٹ کی ثاقب اسلم دہلوی سے گپ شپ
سلیم معراج پاکستان ہی میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پسندکئے جانے والے فنکار ہیں۔ عوام ان سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتیوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔کچھ لوگ ان کو نوازلدین صدیقی سے ملاتے نظرآتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پاکستانی فنکارکوکسی دوسرے فنکار سے ملانے کی ضرورت نہیںکیونکہ یہ اپنی مثال آپ ہیں۔گزشتہ دنوں ہم نے ان کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا جس کا حال ہم اپنے قارئین کی نذرکر رہے ہیں۔

سوال:آپ کے فنی کریئرکی ابتدا کیسے ہوئی؟
سلیم معراج: 1998 میں ”دستک“ ڈرامہ قطحہ تھیٹر سے میرے فنی کیریئرکا آغاز ہوا جو ثانیہ سعید اور شاہد شفعت چلاتے تھے۔ ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پلے کئے، فرینچ پلے کئے جو پیرالل کہلاتا ہے۔ پھر 1999 میں اشفاق احمدکے لکھے اسکرپٹ”ایک محبت سو افسانے“میں کام کیا جس کی ہدایات مہرین جبار نے دی تھیں۔ یہ بھی میرا بہترین ڈرامہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد ”کرن کہانی“ کا ری میک بنایا گیا جس میں مجھے جمشید انصاری صاحب کا کیا ہوا کردار دیا گیا جو میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھی مگر اللہ کے فضل وکرم سے میرا کردار لوگوں نے خوب سراہا جس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی۔

سوال: آپ نے شوبز میں اتنی کامیابی حاصل کی، اس کا راز کیا ہے؟
سلیم معراج: دیکھیں! جو کوشش ہوتی ہے وہ لازمی نہیں کہ کامیابی کی طرف ہی جائے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے ہر اُس انسان کو جو کچھ کر دکھانے کے لئے گھر سے نکلتا ہے۔ بہت جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور جو یہ سب کرنے کے باوجود کامیابی کا سفر طے نہیں کر پاتا اس کی جدوجہد ایک بکھری ہوئی کہانی کی مانند ہو جاتی ہے۔ مجھ پر اللہ نے کرم کیا اور میری کا پھل مجھے ملا۔
سوال: کبھی ہندوستان جانے کا بھی اتفاق ہوا؟
سلیم معراج: جی میں پانچ سے زائد مرتبہ وہاں تھیٹرکرنے گیا اور ہندوستان کا سب سے بڑا ادارہ ہے جس کا نام ہے ”نیشنل اسکول آف ڈرامہ“ جہاں سے ایکٹر بن بن کرنکلتے ہیں، اُس اسٹیج پر پرفارمنس کرنا کتنی بڑی بات ہے، یہ وہی لوگ جانتے ہیں جن کو یہ موقع ملتا ہے۔

سوال: آپ کے ساتھ ہندوستان کے لوگوں کا رویہ کیسا رہا؟
سلیم معراج: بہت اچھے لوگ ہیں۔ جیسے ہم ہیں ویسے وہ ہیں۔ ہم ان کے فنکاروں کو عزت و احترام دیتے ہیں اور وہ ہمارے فنکاروں کو۔۔۔ وہاں کے عوام میں مجھے محبتیں ہی نظر آئیں۔
سوال: سب سے زیادہ کامیابی اور شہرت کب ملی؟
سلیم معراج: راشد سمیع نے”خدا کی بستی“ کا ری میک بنایا جس میں مجھے مرحوم قاضی واجد کا کیا ہوا کریکٹر ملا جس سے مجھے کافی ہِٹ ملی اور مزید راستے کھلنے لگے، شیما کرمانی نے ٹی وی کے لئے ایک پلے تھر میں بنایا جس کا نام ”آب وسیراب“ تھا، یہ بھی اپنی نوعیت کا منفرد پلے ثابت ہوا۔
سوال : ڈرامے کے سلسلے میں پاکستان سے باہرکتنا جانا ہوا؟
سلیم معراج : پاکستان سے باہر بھی بہت کام کر چُکا ہوں جس میں ہدایت کار سیفی حسن کے چار سیریل تھے۔ ” راستے دل کے“ یہ ہم نے تھائی لینڈ میں کیا، ”ہوٹل“ ڈرامہ ہم نے نیپال میں کیا، ”خراشیں“ ملائیشیا میں کیا اور اس علاوہ اور بھی مختلف پروجیکٹس ہیں۔

سوال: سب سے مشکل کردارکون سا لگا آپ کو؟
سلیم معراج : ویسے تو ہر اچھا کام مشکل ہوتا ہے مگر ڈرامہ ”کاش میں تیری بیٹی نہ ہوتی“میں میرا کردار ایک اولڈ مین کا تھا جو باپ سے دادا بننا چاہ رہا ہے۔ اس میں گیٹ اپ کا بھی بہت کام تھا مگر میرے لئے منفرد تھا اس لئے میں نے حامی بھی بھر لی کیونکہ ایک فنکار کو ہمیشہ مختلف کریکٹرز میں نظر آتے رہنا چاہئے تاکہ اس کے چاہنے والے اس کو ہر رنگ میں دیکھ کر انٹرٹین ہو سکیں۔
سوال : پہلی فلم کس کے ساتھ تھی؟
سلیم معراج : مہرین جبارکی ”رام چند پاکستانی“ میری پہلی فلم تھی۔
سوال: ”رام چند پاکستانی“کے بعد؟
سلیم معراج : ”ذبح خانہ“،”میں ہوں شاہد آفریدی“،”جوش“،”نامعلوم افراد“،”ایکٹر ان لا “،” راستہ“،” ساون“اور فلم ”پری“ میں بھی کام کیا ہے۔
سوال: فلم ”پری“ کے بارے میں کیا کہیں گے؟
سلیم معراج : فلم ”پری“ ہدایت کار سید عاطف علی کی ایک ایسی کاوش ہے جس کو بیان کرنا ناممکن سی بات ہے ،یہ فلم بہت کامیاب رہی لوگوں نے پسند کیا اور سراہا بھی جو ایک خوش آئندہ بات بھی ہے۔

سوال :کس کے ساتھ کام کرکے سیکھنے کا زیادہ موقع ملا؟
سلیم معراج : مجھے سب سے زیادہ شاہد شفعت، ثانیہ سعید، شیماکرمانی کے ساتھ تھیٹر پر سیکھنے کو بہت ملا، تھیٹرکا اور ٹی وی کا فنکار ہونا دونوں الگ الگ باتیں ہوتی ہیں ۔
سوال: ہندوستان سے کوئی آفرز آئیں؟
سلیم معراج : نہیں اب تک کوئی آفرز مجھے موصول نہیں ہوئیں۔ اگر ہوتی ہیں تو میں ضرورکام کروں گا تاکہ اپنے کام سے اپنے ملک کا نام روشن کر سکوں۔

سوال: ”نامعلوم افراد“ آپ کے کرِیئرکی بڑی ہٹ تھی؟کیا آپ کو معلوم تھا یہ آپ کو مزید شہرت کی بلندیوں تک پہنچادے گی؟
سلیم معراج: اچھا میں آپ کو اس فلم کے بارے میں بتاﺅں کہ میں اس فلم میں کریکٹر نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس میں میرا ایک ہی سین تھا اور دوسرا یہ کہ مصروفیات بھی کچھ زیادہ تھیں مگر نبیل کے اسرار پر میں نے وہ کریکٹرکیا۔ جب پریمئیر لانچ ہوا اتفاقاً میں جا بھی نہ سکا مگر میرا اس فلم کا کریکٹر جتنا کامیاب گیا اس کا وہم وگمان بھی مجھے نہیں تھا۔ اگر میں اس سین پر راضی نہ ہوتا تو شاید اتنی بڑی ہٹ نہ لگتی۔ ” نامعلوم افراد“ کے ایک سین کا میری زندگی میں بہت عمل دخل ہے
سوال: آئندہ فلموں کے حوالے سے کیا پلاننگ ہے آپ کی؟
سلیم معراج: میری دو فلمیں انڈر پروڈکشن ہیں جس میں ایک فلم ”جھول“ ہے جو ہدایت کار شاہد شفعت کی ہے اور دوسری میری نین منیارکی فلم ”چلرفورس“ ہے جس سے مجھے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔
سوال: کس قسم کر دار ہمیشہ کرتے رہنا چاہیں گے؟

سلیم معراج: ایسے کردار جن کا کوئی مقصد ہوکیونکہ بنا مقصد کے کیا ہوا کام رائیگاں جاتا ہے۔ میرے چاہنے والوں کو مجھ سے امیدیں ہوتی ہیں اس لئے میں کوئی ایسا کام نہیں کرتا جس سے اِن کو مایوسی ہو، ایک فنکار کے لئے اس کے پرستار ہی سب سے بڑا ایوارڈ ہوتے ہیں۔
سوال: کیا آپ کو اندازہ تھا کہ آپ کا شمارکامیاب فنکاروں میں ہونے لگے گا ؟
سلیم معراج: یہ تو صرف شائقین کی محبت ہے۔ میں تو صرف اپنے کام میں محنت کرتا ہوں، برکتیں تو اللہ کی جانب سے شامل ہو جاتی ہیں جسے سب کامیابی کہتے ہیں۔
سوال: کردار میں خوبصورتی کیسے پیدا ہوتی ہے؟
سلیم معراج :کردارکو اگر سمجھ کر اس کا ایک ایک لفظ خود پر طاری کرنے کی کوشش کی جائے توکام میں نکھار اور خوبصورتی خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ لوگ کبھی آگے نہیں بڑھ پاتے جو اپنے کام اور شخصیت کو سب کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔

سوال: ہمیں اپنے سینماﺅں کے لئے کیسی فلمیں بنانا ہوںگی؟ اورکن کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہوگا؟
سلیم معراج: اچھی فلمیں بن رہی ہیں اور ہمیں مزید بہترین فلمیں بنانا ہوںگی۔ نت نئے موضوعات پرکام کرنا ہوگا اور خیال رکھنا ہوگا کہ فلم ٹیلی فلم نہ بن جائے کیونکہ ٹیلی فلمیں تو ٹی وی اسکرین کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ہم نے پاکستانی فلموں کا سنہرا دور دیکھا اور زوال بھی مگر ہم نے ہمت نہیں ہارنی ہے کیونکہ ہمت وہ ہارتے ہیں جن میں محنت کرنے کی صلاحیتیں موجود نہ ہوں۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی کچھ فلمیں ایسی ہیں جو بہت زیادہ کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ جس کی وجہ اچھا موضوع اور شائقین فلم کی ڈیمانڈ تھی۔ ایسی مزید فلمیں بنائی جانی چاہیئں جنہیں دیکھنے کے لئے پبلک آج بھی بیقرار نظرآتی ہے۔ آج بھی وہ لیجنڈ فنکار موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی فن کے لئے وقف کردی، ہمیں ان کو ساتھ ملاکر چلنا ہے، ان کے تجربات انڈسٹری کو اپنے پیروں پر دابارہ کھڑا کرنے کے لئے ناگزیر ہیں۔

سوال: اب جو فلمیں کامیابی کی جانب گامزن ہیں، آپ کے نزدیک اُس کی کیا وجہ ہے؟
سلیم معراج: آج کی فلمیں بہت جدید طرز پر بنائی جا رہی ہیں اور دیکھئے گا ایک وقت آئے گا کہ ہماری فلمیں بھی کامیاب بزنس کریں، پاکستان میں بھی اور بیرون ممالک بھی۔ جو ہو چکا اُس پر پچھتانے سے بہتر ہے کہ ہم آئندہ بہترین کام کریں۔
سوال: ڈرامہ انڈسٹری کے حوالے سے آپ کیا کہیں گی؟
سلیم معراج: ہماری ڈرامہ انڈسٹری پی ٹی وی کے ابتدائی دور سے ہی کامیابی کی منزلیں طے کر رہی ہے۔ ڈرامہ انڈسٹری کو پروان چڑھانے کے لئے شروع دن سے سخت محنت کی گئی ہے جس کا صلہ اب بھی ہمیں مل رہا ہے۔آج پاکستانی ڈرامے دنیا کے بیشتر ممالک میں دیکھے اور پسند کئے جا رہے ہیں۔
سوال: ڈارمے کی فیلڈ میں ہمارا مقابلہ کس سے ہے؟
سلیم معراج: دیکھیں ہمیں کسی سے مقابلہ نہیں کرنا بس اپنے کام میں بہتری پیدا کرنی ہے تاکہ ہمارا ڈرامہ مزید کامیاب ہو سکے۔

سوال: فائزہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ دونوں نے شادی کب کی؟
فائزہ: ہماری شادی 2004 میں ہوئی تھی۔
سوال: سلیم کی مصروفیات سے آپ کی سیروتفریح کی پلاننگ کینسل بھی ہوتی ہوگی؟
فائزہ: جی ایسا ہوتا رہتا ہے۔
سوال: ایسا ہونے پر غصہ تو آتا ہوگا؟
فائزہ: نہیں میں اپنے شوہرکو مکمل سپورٹ کرنے والی خاتون ہوں۔
سوال: سلیم آپ کا زیادہ خیال رکھتے ہیں یا آپ سلیم کا؟
فائزہ: ہم دونوں ایک دوسرے کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔
سوال:ایکٹنگ کا کوئی ارادہ ہے ؟
فائزہ: نہیں۔
سوال: سلیم کو بطور شوہرکیسا آپ نے پایا؟
فائزہ: سلیم ایک آئیڈیل شوہر ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*