.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » اقتباسات » عاشق کی بصیرت

عاشق کی بصیرت

پڑھنے کا وقت: 1 منٹ

محبت کرنے والوں کی کیمسٹری بھی بدل جاتی ہے. محبت کرنے والے کی ذات ایک دل آویز مسحور کن پر اسرار شخصیت کا روپ دھار لیتی ہے. محبت کرنے والے کی آنکھ وہ اسرار بھی دیکھ لیتی ھے جو مجھ جیسے دنیا دار اور آنا پرست دیکھ نہیں پاتے. میرا باپ محبت کا استعارہ تھا وہ صبر اور قربانی کا مرکب تھا اس کو ایک عجیب دکھ تھا. وہ کہتا تھا شہروں میں راستوں کو کوئی سونے نہیں دیتا وہ نگر کو پیڑوں سے شناخت کرتا تھا کیونکہ لوگ تو روز چہرے بدل رہے ہیں. اسے وہ بلند عمارتیں اچھی نہیں لگتی تھیں جن کو دیکھ کر دستار گر پڑے، وہ شہروں کی پھیلی ہوئی آبادی میں سمٹے ہوے لوگوں کو دیکھ کر افسردہ ہو جاتا جو اپنے اپنے خیالات کے مزاروں میں دفن جی رہے ہیں. میرا باپ کہتا تھا ان کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اپنی ذات سے باہر نکل کر نہیں دیکھا.

طارق بلوچ صحرائی کی کتاب "گونگے کا خواب ” سے اقتباس

ایک تبصرہ

  1. بہت خوب صورت تحریر ہے۔ فی زمانہ اپنی ذات سے نکل کر سوچنے کی توفیق بھی میسر نہیں۔ ٹیکنالوجی کے اثرات اور مادہ پرستی نے محبت کو مصنوعی ، رشتوں کو کاغذی اور نسل در نسل چلنے والی روایات، ادب آداب اور احساس تک کو دبا دیا ۔ ایسی تحریریں دل و دماغ پر اثرانداز ہوتی ہیں اور تعمیری سوچ کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*