.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » معراج مصطفےٰ ﷺ، جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداءکی

معراج مصطفےٰ ﷺ، جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداءکی

پڑھنے کا وقت: 14 منٹ

معراج کمالِ معجزاتِ مصطفی ﷺ
جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداءکی
ڈاکٹرمحمد طاہرالقادری
اِس کائناتِ ارض و سماءمیں عجائبات کی ایک دُنیا آباد ہے۔ ہر لمحہ پھیلتی ہوئی یہ کائنات جو اربوں، کھربوں کہکشائوں پر مشتمل ہے، وُسعت پذیری کے عمل سے گزرنے کے ساتھ ساتھ داخلی اور خارجی حوالوں سے بھی تغیر پذیر ہے۔ گویا ہر لمحہ تغیرّات کا لمحہ ہے، ہر ساعت نت نئے اِنکشافات کی ساعت ہے۔ اِس کائناتِ رنگ و بو میں خالقِ کائنات کے فرستادہ رسولانِ مکرّم اور اَنبیائے محتشم کے دستِ حق پرست پر قدرتِ خداوندی سے رُونما ہونے والے ماورائے عقل واقعات کو ”معجزہ“ کہتے ہیں۔ معجزے کی کاملاً مادّی توجیہہ کسی طور بھی ممکن نہیں۔ اس کا تعلق اِیمان، اِیقان اور وِجدان سے ہوتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی سبک سیر ترقی کے باعث جدید تر سائنسی اِنکشافات قدم قدم پر حیران کن حقائق پر سے پردہ اُٹھا رہے ہیں کہ اِنسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور تصویرِ حیرت بن کر اپنے دامنِ شعور کی تنگی کے اِحساس کا ماتم کرنے لگتی ہے۔
اگرچہ سائنس کائنات کے اَن گنت راز ہائے سربستہ سے بھی پردہ اُٹھاتی دِکھائی دیتی ہے لیکن اِس کے باوجود وہ اِن معجزانہ حقائق کی مادّی توجیہات پیش کرنے سے یکسر عاجز ہے جو خالقِ ارض و سماءنے اپنے اَنبیائے محتشم کے دستِ حق پرست پر صادِر فرمائے۔ عقل اُنہیں تسلیم کرے یا نہ کرے یا خود بھی اِشکالات کا شِکار ہو یا ذہنِ اِنسانی کو بھی غبارِ تشکیک سے آلودہ کرے، حقائق بہرحال حقائق ہیں، اُن کے اِنکار سے اُن کی نفی لازِم نہیں آتی۔ معجزہ کسی مادّی تعبیر و تفہیم یا توجیہہ و توثیق کا محتاج نہیں، مقصود صرف اِس اَمر کی نشاندہی ہے کہ جن حقائق کا اِنکشاف حضور رحمتِ عالمﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل وحی اِلٰہی اور علمِ نبوت کی بنیاد پر کیا تھا، آج سائنس اپنے اِرتقائی سفر کے اَن گنت مراحل طے کرنے کے بعد اُن حقائق کی اپنی سی جزوی تعبیر و توجیہہ کرنے کے قابل ہوئی ہے۔ یقینا اِس بات کا اِمکان موجود ہے کہ سائنس آگے چل کر اپنے موجودہ نظریات سے رُجوع کر لے یا اُن میں ترمیم و اِضافہ کو ضروری گردانے، لیکن ہمارے لئے تاجدارِ کائناتﷺ کی زبانِ اَقدس سے نکلا ہوا ہر حرف، حرفِ آخر ہے اور یہی ہماری اِیمانیات کا بنیادی پتھر ہے۔
قاضی عیاض مالکیؒ :
”یہ بات بخوبی جان لینی چاہئے کہ جو کچھ انبیاءعلیھم السلام اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں اُسے ہم نے معجزے کا نام اِس لئے دیا ہے کہ مخلوق اُس کی مِثل لانے سے عاجز ہوتی ہے“۔(الشفائ،۱:۹۴۳)
اِمام خازنؒ :
معجزہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
معجزہ اللہ کے نبی اور رسول کی طرف سے (جملہ اِنسانوں کے لئے) ایک چیلنج ہوتا ہے اور باری تعالیٰ کے اِس فرمان کا آئینہ دار ہوتا ہے کہ:
”میرے بندے نے سچ کہا، پس تم اُس کی (کامل) اِطاعت اور پیروی کرو“۔ اِس لئے کہ نبی و رسول کا معجزہ جو کچھ اُس نے فرمایا ہوتا ہے اُس کی حقّانیت اور صداقت پر دلیلِ ناطق ہوتا ہے اُسے (عرفاً و شرعاً) معجزہ کا نام اِس لئے دیا گیا ہے کہ اُس کی مِثل (نظیر) لانے سے مخلوقِ اِنسانی عاجز ہوتی ہے۔(تفسیر الخازن،۲:۴۲۱)
معارج النبوة:
معجزہ اللہ سبحانہ¾ و تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا اُس کے برگزیدہ نبی کے دستِ مبارک پر اِظہار ہے تاکہ وہ اپنی اُمت اور اہلِ زمانہ کو اُس کی مِثل لانے سے عاجز کر دے۔(معارج النبوة،۴:۷۷۳)
ابو شکور سالمیؒ:
معجزہ کی تعریف یہ ہے کہ سوال اور دعویٰ کے بعد (اللہ کے رسول اور نبی کے ہاتھ پر) کوئی ایسی خارقِ عادت چیز ظاہر ہو جو ہر حیثیت سے مُحال نہ ہو اور لوگ باوجود کوشش اور تدبیر کے اُس قسم کے معاملات میں پوری فہم و بصیرت رکھتے ہوئے بھی اُس کے مقابلے سے عاجز ہوں۔
(کتاب التمہید فی بیان التوحید از ابو شکور: ۱۷)
مندرجہ بالا تعریفات سے یہ بات اظہر مِن الشمس ہو جاتی ہے کہ
٭ معجزہ مِن جانبِ اللہ ہوتا ہے لیکن اُس کا صدُور اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول کے ذرِیعہ ہوتا ہے۔
٭ معجزہ مروّجہ قوانینِ فطرت اور عالمِ اَسباب کے برعکس ہوتا ہے۔
٭ معجزہ نبی اور رسول کا ذاتی نہیں بلکہ عطائی فعل ہے اور یہ عطا اللہ ربّ العزّت کی طرف سے ہوتی ہے۔
٭ معجزے کا ظہور چونکہ رحمانی اور اُلوہی قوّت سے ہوتا ہے اِس لئے عقلِ اِنسانی اُس کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے اور تصویرِ حیرت بن کر سرِتسلیم خم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی حقیقت کا اِدراک نہیں کر سکتی۔
عہدِجدید کا مسلمان غبارِ تشکیک میں گم ہے اور اُسے معجزاتِ نبوی اور کمالاتِ مصطفویﷺ سے بخوبی آگاہ کرنے کے لئے اُس کے ساتھ جدید سائنسی تناظر میں بات کرنا ضروری ہے۔ اگر مسلمان دانشور اِس سلسلے میں محنت کریں تو نہ صرف یہ کہ نوجوان نسل کا اِیمان غارت ہونے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ غیرمسلموں کو بھی عظمتِ مصطفیﷺ سے رُوشناس کراتے ہوئے دَعوت و تبلیغِ دین کا فریضہ بطریقِ اَحسن ادا کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ہم سرورِاَنبیائﷺ کے معجزہ معراج کا جدید سائنسی حوالوں سے بالاختصار ذِکر کریں گے تاکہ عقل کے غلام اور مادّی سوچ رکھنے والے محققین بھی ربوبیت باری تعالیٰ کو دِل و جان سے تسلیم کر کے بارگاہِ خداوندی میں سربسجود ہونے کا اِعزاز حاصل کریں گے۔
عالمِ بشریت کی زد میں
معراج کمالِ معجزاتِ مصطفی ﷺ ہے۔ یہ وہ عظیم خارقِ عادت واقعہ ہے جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداءکی۔ اِنسان نے آگے چل کر تحقیق و جستجو کے بند کواڑوں پر دستک دی اور خلاءمیں پیچیدہ راستوں کی تلاش کا فریضہ سراِنجام دیا۔ رات کے مختصر سے وقفے میں جب اللہ ربّ العزّت حضور رحمتِ عالمﷺ کو مسجدِ حرام سے نہ صرف مسجدِ اَقصیٰ تک بلکہ جملہ سماوِی کائنات (Cosmos) کی بے اَنت وُسعتوں کے اُس پار ”قَابَ قَو´سَیینِ“ اور ”او´ اد´نٰی“ کے مقاماتِ بلند تک لے گیا اور آپ مدّتوں وہاں قیام کے بعد اُسی قلیل مدّتی زمینی ساعت میں اِس زمین پر دوبارہ جلوہ اَفروز بھی ہو گئے۔
آج سے چودہ سو سال قبل علومِ اِنسانی میں اِتنی وُسعت تھی اور نہ اِتنی گیرائی اور گہرائی کہ معجزاتِ رسولﷺ کا کوئی اَدنیٰ جزو ہی اُن کے فہم و اِدراک میں آ جاتا حتی کہ اُس وقت بہت سے علومِ جدیدہ کی مُبادیات تک کا بھی دُور دُور تک کہیں نام و نشان نہ تھا۔ آج عقلِ اِنسانی اپنے اِرتقائ، اپنی تحقیق اور جستجو کے بل بوتے پر جن کائناتی صداقتوں اور سچائیوں کو تسلیم کر رہی ہے، ہزاروں سال قبل اِن کی تصدیق و توثیق وحی اِلٰہی کے بغیر ممکن نہ تھی۔ تاریخ شاہد عادل ہے کہ جمیع مسلمانانِ عالم اِیمان بالغیب اور قدرتِ اِلٰہیہ کے ظہور پر اِیمان رکھنے کی وجہ سے بغیر دلیل معجزاتِ مصطفیﷺ کے ہمیشہ قائل رہے۔ عہدِ حضور ﷺ، عہدِ صحابہ اور بعد میں آنے والے اُن مسلمانوں کا اِیمان قابلِ رشک اور قابلِ داد تھا کہ ظہورِ قدرتِ اِلٰہیہ کے ناقابلِ فہم و اِدراک ہونے کے باوجود اُن کا اِیمان کبھی متزلزل نہیں ہوا، اُن کے آئینہ دل پر کبھی بھی شبہات کی گرد اور وسوسوں کی دُھول نہیں پڑی، اُن کے آئینہ شعور میں بھی کبھی کوئی بال نہیں آیا۔
آج سے چودہ سو سال قبل عقلی بنیادوں پر دورانِ معراج آن کی آن میں ساتوں آسمانوں کی حدود سے گزر کر لامکاں تک جا پہنچنا اور اسی لمحے میں اس کھربوں نوری سال کی مسافت کو طے کر کے واپس سرزمینِ مکہ پر تشریف لے آنا تو کُجا زمین کی بالائی فضا میں پرواز کا تصوّر بھی ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے اوردُوسری طرف آج کا اِنسان اللہ ربّ العزّت کی عطا کردہ تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت عالمِ اَسباب کے اندر رہتے ہوئے اپنی کی سی اِتباعِ معجزہ¿ معراج میں کائنات کو مسخر کرنے کا عزم لے کر نکلا ہے۔اگرچہ آج کا اِنسان صبح و شام فضائے بسیط میں محوِ پرواز ہے لیکن اگر واقعہ¿ معراج کو اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ حیطہ شعور میں لایا جائے تو خلائی سفر کے مخصوص لوازمات کے بغیر کرّہ فضا سے باہر ایتھر (Ather) میں کروڑوں نوری سال کا سفر طے کرنے کا تصوّر آج بھی ناممکن دِکھائی دیتا ہے۔
فضائے بالا کی مختلف کیفیّات
یہ کرہ ارضی گیسوں پر مشتمل ایک ایسے شفّاف غلاف میں لپٹا ہوا ہے، جو زمین پر زِندگی کو ممکن بھی بناتا ہے اور شہابِ ثاقب کی بارِش میں اس پر پرورش پانے والی زندگی کو تحفظ کی رِدا بھی فراہم کرتا ہے۔ آج کے اس خلائی تحقیقات کے دور میں جب اِنسان خلاءکے سفر پر روانہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے مرحلے میں اُسے سینکڑوں کلومیٹر کی گہرائی پر مشتمل زندگی بخش ہوائوں کے اِسی سمندر کو عبور کرنا ہوتا ہے۔
ہوائی سفر میں زیادہ بلندی پر آکسیجن کی کمی کی صورت میں گیس ماسک (Gas Mask) اِستعمال کیا جاتا ہے۔ جہاز کے اندر مصنوعی طور پر ہوا کا دبائو (Air Pressure)بھی بنایا جاتا ہے اور اگر کسی تیکنیکی خرابی کی وجہ سے مکیّف (Air Tight) جہاز میں سوراخ ہو جائے تو جہاز کے اندر کا مصنوعی دبائو تیزی سے گر جاتا ہے، جس سے مسافروں کے اَجسام سخت اِضمحلال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں مسافروں کے منہ، ناک اور کانوں سے خون بھی بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر فوری طور پر دوبارہ مصنوعی دبائو بنانا ممکن نہ ہو تو پائلٹ تیزی سے جہاز کی بلندی گراتے ہوئے اُسے اُس مخصوص سطح تک لے آتے ہیں، جہاں ہوا کا مناسب دبائو موجود ہوتا ہے اور مسافر مزید پریشانی اور جانی نقصان سے بچ جاتے ہیں۔
خلائی سفر کی لابدّی ضروریات
خلائی سفر پر روانگی کے دوران کرہ ہوائی (Atmosphere) سے باہر نکلنے کے لئے کم از کم 40,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ خلانوردوں (Astronauts) کو آکسیجن اور مصنوعی دبائو کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص لباس ”Pressuresuit “ بھی درکار ہوتا ہے جو اُنہیں درجہ حرارت کی شدّت کے علاوہ برقی مقناطیسی لہروں (Electro Magnetic Radiations) سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ EVA Spacesuit جوایک اِنسان کو خلائی سفر کے دوران آکسیجن کی فراہمی ، مناسب حرارت، کمیونیکیشن اور خلاءمیں قیام کے لئے دیگر ضروری سہولیات فراہم کرتا ہے، کے علاوہ Manned Maneuvering Unit (MMU)کی بدولت اِنسان اِس قابل بھی ہو چکا ہے کہ خلائی شٹل سے باہر نکل کر ایک مصنوعی سیارے کی طرح زمین کے مدار میں طویل وقت کے لئے بآسانی چہل قدمی کر سکے۔
تسخیرِماہتاب …. اِنسان کا بعید ترین خلائی سفر
ہوائی سفر کی مشکلات پر بتدریج قابو پایا جا رہا ہے اور اَب یہ سفر کسی حد تک محفوظ خیال کیا جاتا ہے لیکن خلائی سفر میں اِنسان کو فنی اور تیکنیکی پیچیدگیوں کا ہی سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ نفسیاتی اُلجھنیں بھی اُس کا دامن تھام لیتی ہیں۔ خلاءکا سفر خطرات سے خالی نہیں، لیکن جذبہ¿ تسخیرِ کائنات عزم کو عمل کے سانچے میں ڈھالتا ہے تو اِنسان چاند کی سطح پر اپنی عظمت کا پرچم نصب کرنے کے بعد اپنے خلائی سفر کے اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہو جاتا ہے۔ بیسویں صدی میں یہ کارنامہ سراِنجام دیا جا چکا ہے۔
خلائی تحقیقات کے امریکی اِدارے National Aeronautic Space Agency (NASA) کی طرف سے تسخیرِ ماہتاب کے لئے شروع کئے گئے دس سالہ اپالو مِشن کے تحت جولائی 1969ءمیں چاند کا پہلا کامیاب سفر کرنے والے Apolo-11 کے مسافر امریکی خلانورد ’نیل آر مسٹرانگ‘ (Neil Armstrong) اور ’ایڈون بُز‘ (Edwin Buzz) تاریخِ اِنسانی کے وہ پہلے اَفراد تھے جو چاند کی سطح پر اُترے جبکہ اُن کا تیسرا ساتھی ’کولنز‘ (Collins) اُس دوران مصنوعی سیارے کی مانند چاند کے گرد محوِ گردش رہا۔اِس دوران امریکی ریاست فلوریڈا میں قائم زمینی مرکز Kennedy Space Center (KSC) میں موجود سائنسدان اُنہیں براہِ راست ہدایات دے رہے تھے۔ ضروری تجربات کے علاوہ مختلف ساخت کے چند پتھروں کے نمونے وغیرہ لے کر، روانگی سے محض دو دن بعد خلا نوردوں کا یہ مہم جو قافلہ واپس زمین پر آ گیا۔
اِس مہم کے دوران پل پل کی خبر ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعہ زمین کے مختلف خطوں میں بسنے والے اِنسانوں تک پہنچائی جاتی رہی۔ عالم اِنسانیت کی اِن خلائی فتوحات اور تسخیرِماہتاب کا ذِکر چودہ صدیاںقبل صحیفہ¿ کمال یعنی قرآنِ مجید میں پوری وضاحت کے ساتھ کر دیا گیا تھا۔ اِرشادِ خداوندی ہے ”قسم ہے چاند کی جب وہ پورا دکھائی دیتا ہےo تم یقینا طبق در طبق ضرور سواری کرتے ہوئے جائو گے. تو اُنہیں کیا ہو گیا ہے کہ (قرآنی پیشینگوئی کی صداقت دیکھ کر بھی) اِیمان نہیں لاتے“(الانشقاق، ۴۸: ۸۱-۰۲)
قرآنِ حکیم کے علاوہ بائبل سمیت دیگر صحائفِ آسمانی اور مذہبی کتب میں اِس قدر درُست سائنسی حوالے بالکل نہیں ملتے۔ درج بالا آیتِ مبارکہ میں تسخیرِ ماہتاب کا جو واضح اِشارہ ہے، بیسویں صدی کے اِنسان نے اُس اِشارے کی عملی تفسیر اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ آج کے اِنسان نے کامیابی و کامرانی کی اَن گنت منازِل طے کر لی ہیں۔ علومِ جدیدہ اِنسان کے ذِہن کو کشادگی بخش رہے ہیں۔ اُلجھی ہوئی گرہیں کھل رہی ہیں اور کائنات اپنی ازلی صداقتوں کے ساتھ نکھر کر اُس کے سامنے بے نقاب ہوتی چلی آ رہی ہے۔ لیکن اپنی تمام تر مادّی ترقی کے باوجود ابھی تک اِنسان روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیّت حاصل نہیں کر سکا۔ روشنی1,86,000 میل (تین لاکھ کلومیٹر) فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور سائنس کی زبان میں اِس قدر رفتار کا حصول کسی بھی مادّی شئے کے لئے محال ہے۔
روشنی کی رفتار کے حصول میں حائل رکاوٹیں
ممتاز سائنسدان ’البرٹ آئن سٹائن‘ نے 1905ءمیں ’نظریہ¿ اضافیتِ مخصوصہ‘ (Special Theory of Relativity) پیش کیا۔ اُس تھیوری میں آئن سٹائن نے وقت اور فاصلہ دونوں کو تغیر پذیر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ زمان و مکاں (Time & Space) کی گتھیاں اِس تھیوری کے کماحقہ اِدراک کے بغیر نہیں سلجھ سکتیں۔
آئن سٹائن نے ثابت کیا ہے کہ مادّہ (Matter) توانائی (Energy) کشش (Gravity) زمان (Time) اور مکان (Space) میں ایک خاص ربط اور ایک خاص نسبت پائی جاتی ہے۔ اُس نے یہ بھی ثابت کیا کہ اِن سب کی مطلقاً کوئی حیثیت نہیں۔ مثلاً جب ہم کسی وقت یا فاصلے کی پیمائش کرتے ہیں تو وہ اِضافی (Relative) حیثیت سے کرتے ہیں۔ گویا کائنات کے مختلف مقامات پر وقت اور فاصلہ دونوں کی پیمائش میں کمی و بیشی ممکن ہے۔ نظریہ اِضافیت میں آئن سٹائن نے یہ بھی ثابت کیا کہ کسی بھی مادّی جسم کے لئے روشنی کی رفتار کا حصول ناممکن ہے اور ایک جسم جب دو مختلف رفتاروں سے حرکت کرتا ہے تو اُس کا حجم بھی اُسی تناسب سے گھٹتا اور بڑھتا ہے۔
آئن سٹائن برسوں کے غوروفکر کے بعد اِس نتیجے پر پہنچا کہ اِنتہائی تیز رفتار متحرّک جسم کی لمبائی اُس کی حرکت کی سمت میں کم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ روشنی کی 90% رفتار سے سفر کرنے والے جسم کی کمیّت دوگنا ہو جاتی ہے، جبکہ اُس کا حجم نصف رہ جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ وقت کی رفتار بھی اُس پر نصف رہ جاتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی راکٹ 1,67,000 میل فی سیکنڈ (روشنی کی رفتار کا 90%) کی رفتار سے 10 سال سفر کرے تو اُس میں موجود خلانورد کی عمر میں صرف 5 سال کا اِضافہ ہو گا جبکہ زمین پر موجود اُس کے جڑواں بھائی پر 10 سال گزرنے کی وجہ سے خلانورد اُس سے 5 سال چھوٹا رہ جائے گا۔ آئن سٹائن نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اِنسانی جسم کی اِس محیّرالعقول رفتار پر نہ صرف دِل کی دھڑکن اور دورانِ خون بلکہ اِنسان کا نظامِ اِنہضام اور تنفس بھی سست پڑ جائے گا۔ جس کا لازمی نتیجہ اُس خلانورد کی عمر میں کمی کی صورت میں نکلے گا۔
آئن سٹائن کے اِس نظریہ کے مطابق روشنی کی رفتار کا 90% حاصل کرنے سے جہاں وقت کی رفتار نصف رہ جاتی ہے، وہاں جسم کا حجم بھی سکڑ کر نصف رہ جاتا ہے اور اگر مادّی جسم اِس سے بھی زیادہ رفتار حاصل کرلے تو اُس کے حجم اور اُس پر گزرنے والے وقت کی رفتار میں بھی اُسی تناسب سے کمی ہوتی چلی جائے گی۔ اِس نظریئے میں سب سے دِلچسپ اور قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ اگر بفرضِ محال کوئی مادّی جسم روشنی کی رفتار حاصل کرلے تو اُس پر وقت کی رفتار بالکل تھم جائے گی اور اُس کی کمیّت بڑھتے بڑھتے لامحدود ہو جائے گی اور اُس کا حجم سکڑ کر بالکل ختم ہو جائے گا، گویا جسم فنا ہو جائے گا۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر آئن سٹائن اِس نتیجے پر پہنچا کہ کسی بھی مادّی جسم کے لئے روشنی کی رفتار کا حصول ناممکن ہے۔
معجزہ معراج میں برّاق کا سفر
آئن سٹائن کے نظریہ اِضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق روشنی کی رفتار کا حصول اور اُس کے نتیجے میں حرکت پذیر مادّی جسم پر وقت کا تھم جانا اور اثر پذیری کھو دینا ناممکن ہے (کیونکہ اِس صورت میں مادّی جسم کی کمیّت لامحدود ہو جانے کے ساتھ ساتھ اُس کا حجم بالکل ختم ہو جائے گا)۔ آئن سٹائن کے نظریہ کی رُو سے یہی قانونِ فطرت پورے نظامِ کائنات میں لاگو ہے۔ اب اِس قانون کی روشنی میں سفرِ معراج کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ”اللہ کی عادت“ کا یہ نظامِ فطرت اُس کی ”قدرت“ کے مظہر کے طور پر بدل گیا۔ وقت بھی تھم گیا….جسم کی کمیّت بھی لامحدود نہ ہوئی، اور وہ فنا ہونے سے بچا رہا…. اُس کا حجم بھی جوں کا توں برقرار رہا….اور خلائی سفر کی لابدّی مقتضیات پورے کئے بغیر سیاحِ لامکاںﷺ نے برّاق کی رفتار (Multiple Speed of Light) سے سفر کیا، بیت المقدس میں تعدیلِ ارکان کے ساتھ نمازیں بھی ادا کیں، دورانِ سفر کھایا اور پیا بھی، لامکاں کی سیر بھی کی، اللہ کے برگزیدہ اَنبیاءکے علاوہ خود اللہ ربّ العزّت کا ”قَابَ قَوسَین“ اور ”او ادنٰی“ کے مقاماتِ رِفعت پر جلوہ بھی کیا اور بالآخر سفر ِ معراج کے اختتام پر واپس زمین کی طرف پلٹے تو تھما ہوا وقت آپﷺ کی واپسی کا منتظر تھا۔
وضو کا پانی بہہ رہا تھا، بستر ہنوز گرم تھا اور دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی۔ اگرچہ معجزہ کسی مادّی توجیہہ کا محتاج نہیں لیکن اِس حقیقت کا اِدراک ہمیں ضرور ہونا چاہئے کہ سائنس سفرِ اِرتقاءکے ہر قدم پر معجزاتِ حضورﷺ کی اتباع میں تسخیر ِکائنات کرتے ہوئے اِسلام کے اِلہامی مذہب ہونے کے بالواسطہ اِعتراف کا اِعزاز حاصل کر رہی ہے۔ نظریہ اِضافیت میں روشنی کی عام رفتار کا حصول بھی ناممکن بنا کر پیش کیا گیا ہے، جبکہ حضور سرورِ کائناتﷺ برّاق پر سوار ہو کر ہزارہا روشنیوں کی رفتار سے سفرِ معراج پر تشریف لے گئے۔ بُرّاق برق کی جمع ہے، جس کے معنی روشنی کے ہیں۔ آج کا اِنسان اپنی تمام تر مادّی ترقی کے باوجود روشنی کی رفتار کا حصول اپنے لئے ناممکن تصوّر کرتا ہے۔ یہ اِحساسِ محرومی اُسے اِحساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے، جبکہ تاجدارِ کائناتﷺ روشنی سے بھی کئی گنا تیز رفتار برّاق پر سوار ہو کر سفرِ معراج پر روانہ ہوئے۔ معراج کا واقعہ علمِ اِنسانی کے لئے اِشارہ ہے کہ اِس کائناتِ رنگ و بو میں موجود عناصر ہی کی باہم کسی انوکھی ترکیب سے اِس بات کا قوِی اِمکان ہے کہ اِنسان روشنی کی رفتار کو پالے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو لاکھوں کروڑوں نوری سال کی مسافتوں میں بکھری ہوئی اِس کائنات کی تسخیر کا خواب اُدھورا رہ جائے گا۔ اِقبالؒ نے کہا تھا:
خبر ملی ہے یہ معراجِ مصطفی سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
معجزہ معراج طی زمانی اور طی مکانی کی جامعیت کا مظہر:
اب جدید سائنس بھی اپنی تحقیقات کو بنیاد بنا کر اِس کائناتی سچائی تک رسائی حاصل کر چکی ہے کہ رفتار میں کمی و بیشی کے مطابق کسی جسم پر وقت کا پھیلنا اور سکڑ جانا اور جسم کے حجم اور فاصلوں کا سکڑنا اور پھیلنا قوانینِ فطرت اور منشائے خداوندی کے عین موافق ہے۔ ربّ ِکائنات نے اپنی آخری آسمانی کتاب قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں طیزمانی اورطی مکانی کی بعض صورتوں کا ذِکر فرما کر بنی نوع اِنسان پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اِنسان تو بیسویں صدی میں اپنی عقل کے بل بوتے پر وقت اور جگہ (Time & Space) کے اِضافی (Relative) تصوّرات کو اپنے حیطہ اِدراک میں لانے میں کامیاب ہو گا لیکن ہم ساتویں صدی عیسوی کے اوائل ہی میں اپنی وحی کے ذریعہ اپنے محبوب رسولﷺ پر اِن کائناتی سچائیوں کو منکشف کر رہے ہیں۔ طی مکانی: لاکھوں کروڑوں کلومیٹرز کی وُسعتوں میں بکھری مسافتوں کے ایک جنبشِ قدم میں سِمٹ آنے کو اِصطلاحاً ’طی مکانی‘ کہتے ہیں۔طی زمانی:صدیوں پر محیط وقت کے چند لمحوں میں سمٹ آنے کو اِصطلاحاًً ’طی زمانی‘ کہتے ہیں۔
خدائے قدیر و خبیر اپنے برگزیدہ انبیائے کرام اور اولیائے عظاممیں سے کسی کو معجزہ اور کرامت کے طور پر طی زمانی اور کسی کو طی مکانی کے کمالات عطا کرتا ہے لیکن حضور رحمتِ عالمﷺ کا سفرِ معراج معجزاتِ طی زمانی اور طی مکانی دونوں کی جامعیت کا مظہر ہے۔ سفر کا ایک رخ اگرطی زمانی کا آئینہ دار ہے تو اُس کا دوسرا رخ طی مکانی پر محیط نظر آتا ہے۔ معراج النبی ﷺ کے دوران میں اِن معجزات کا صدور نصِ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، جن کی صحت میں کسی صاحبِ اِیمان کے لئے اِنحراف کی گنجائش نہیں۔
اِس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ شبِ معراج صاحبِ لولاک فخرِموجودات حضور رحمتِ عالم ﷺ کو زمان و مکاں (Time & Space) کی مسافتیں طے کروانے کے بعد خدائے لم یزل نے اپنے قرب و وصال کی بے پایاں نعمتیں عطا فرما دیں۔ مقامِ قَابَ قَوسَین پر اپنی ہمکلامی اور بے حجاب دِیدار کا شرف اِس طرح اَرزانی فرمایا کہ ایک طرف خدا اپنے حبیب ﷺ کا سمیع و بصیر تھا تو دوسری طرف حبیب ﷺ اپنے خدا کا سمیع و بصیر تھا، اور دونوں کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ تھا۔بَلَغَ العُلٰی بِکَمَالِہ کَشَفَ الدُّجٰی بِجَمَالِہ حَسُنَت جَمِیعُ خِصَالِہ صَلُّوا عَلَیہِ وَ آلِہ شبِ معراج تاجدارِ کائنات رسولِ کون و مکاں حضرت محمد ﷺ کو کیا کیا مقامات عطا ہوئے! اُنہیں عظمت و رِفعت کی کن بلندیوں سے ہمکنار کیا گیا! اِرتقائے نسلِ اِنسانی کو تسخیر ِکائنات کے مقفّل دروازوں پر دستک دینے کی کس طرح ترغیب دی گئی! اُس شب کتنی مسافتیں طے ہوئیں اور کتنے زمانے بیت گئے! اِس کا حال اللہ ربّ العزّت اور اُس کے حبیب ﷺ کے سِوا کوئی نہیں جانتا اور نہ جان ہی سکتا ہے۔
ہم غلامانِ پیغمبرﷺ تو بس اِتنا جانتے ہیں کہ ہمارے حضورﷺ کی خاطر پوری خدائی کی طنابیں کھینچ لی گئیں۔ چرخِ نیلوفری دَم بخود تھا کہ یہ کون مہمانِ مکرم لامکاں کی سیر کو نکلا ہے۔ ستارے حیرت کی تصویر بنے رہگزرِ مصطفیﷺکی گرد کو اپنے ماتھے کا جھومر بنا رہے تھے۔ وقت کی نبضیں ایک جگہ تھمی کی تھمی رہ گئیں اور کائنات بے حس و حرکت اور ساکت اپنے رُوحِ رواں کے اِنتظار میں ایک نقطے پر ٹھہری رہی۔ حضورﷺ کے زمانہ نبوت میںعقلِ اِنسانی نے کرہ ارضی پر محیط فضا کے غلاف کو عبور کرتے ہوئے چاند پر پہنچ کر معجزہ معراجِ مصطفویﷺ کے اِمکان کی نشاندہی تو کر دی لیکن اُس منزل تک پہنچنا معجزہ ہے اور سیارگانِ فلکی تک پہنچنا اُس منزل کی تائید اور سفر ِمعراج کی توثیق ہے، فرمانِ مصطفیﷺ کی تصدیق ہے اور یہ تائید و توثیق فقط نشاندہی کی حد تک ہے کیونکہ اگر عقلِ اِنسانی بھی منزلِ مصطفویﷺ تک پہنچ جائے تو پھر نبوت کا معجزہ ہی باقی نہ رہے۔ اِس لئے اِنسان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جتنی بھی ترقی کر لے آسمان کی حدود کو پھلانگ کر اور مکاں کی حدوں کو چھوڑ کر کبھی وہ لامکاں کی بلندیوں میں داخل نہیں ہوسکتا۔ سفر ِمعراج کے نقوشِ پا کو چومنا تو اُس کا مقدّر بن سکتا ہے لیکن منزلِ مصطفیﷺ تک رسائی روزِقیامت تک اُس کے لئے ممکن نہ ہو سکے گی۔ علامہ محمد اِقبالؒ نے فرمایا:
تو معنی ”وَالنَّج´م“ نہ سمجھا تو عجب کیا
ہے تیرا مدّ و جزر ابھی چاند کا محتاج

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*