.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » ادب » حوّا کی بیٹی: ایسی قیامت ٹوٹی کہ جنت نظیر گھر دوزخ بن گیا

حوّا کی بیٹی: ایسی قیامت ٹوٹی کہ جنت نظیر گھر دوزخ بن گیا

پڑھنے کا وقت: 13 منٹ

ہمایوں شاہین …..
آج پھر وہی شور شرابا، وہی ہنگامہ اور لرزہ خیز چیخیں اور دل آزاد گالیاں لیکن یہ اب روز کا معمول بن چکا تھا …. جو کوئی بھی یہ چیخیں سنتا تھا تو حیران وپریشان انگشت بدنداں کھڑا ہوتا اور دل ہی دل میں کہتا کہ اس نگر پر کون سی ایسی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ یہ جنت نظیر گھر دوزخ کا رُوپ دھارنے لگا ہے۔
یہ گھر تین نفوس پر مشتمل تھا۔ سلیم، سلیم کی ماں اور سلیم کی بیوی نازو۔
نازو اور سلیم دونوں خالہ داد بہن بھائی تھے۔ بچپن میں دونوں اکٹھے کھیلا کرتے تھے اور اکٹھے ہی سکول جایا کرتے تھے اور جب سکول سے چھٹی ہوتی تو شام اندھیرے تک ریت کے گھروندے بناتے بگاڑتے تھے، گڈی گڈا کی شادی رچاتے، اس طرح کھیلتے کھیلتے دونوں عمر کی دہلیز چڑھتے گئے بالآخر دونوں میں شعور کی سمندر نے موجیں مارنا شروع کی۔ نازو نے جب پانچویں جماعت پاس کی تو ماں نے نازو کو سکول جانے سے روک لیا کہ لڑکیوں کے لیے اتنا ہی پڑھنا کافی ہے اور اپنے ساتھ گھر کے کام کاج پر لگا دیا۔ اس طرح سلیم اور نازو باہر کی دُنیا سے علیحدہ ہو گئے لیکن ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بچپن کی چاہت اور پیار موجود تھا۔ سلیم اکثر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر خالہ کے گھر جایا کرتا تھا اس طرح سے دونوں کی ملاقات ہو جاتی۔ سلیم اور نازو ایک دوسرے کے ساتھ آنکھوں آنکھوں میں بچپن میں پیار کے کیے ہوئے وعدوں کی قسمیں یاد دلایا کرتے تھے۔
نازو بھی دوسری لڑکیوں کی طرح ایسے ہی خواب دیکھا کرتی تھی کہ اس کے ہاتھ میں شادی کی مہندی لگے، کم خواب کا جوڑا پہنے، ہاتھوں میں گجرے اور کنگن ہوں، کانوں میں سونے کی بالیاں اور جھومر ہوں، گلے میں سونے کا ایک خوبصورت ہار ہو جس میں موتی پروئے ہوئے ہوں اور سب سے بڑی بات یہ کہ ان کا ایک چھوٹا سا خوبصورت گھر ہو جس میں ہر سکھ میسر ہوں …. دن اس طرح گزرتے گئے …. ایک دن سلیم کی ماں نے باتوں باتوں میں سلیم سے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
سلیم بیٹا! اب تم جوان ہو چکے ہو، جب بیٹا بیٹی جوان ہو جائے تو ہر ماں باپ ان کے بارے سوچتا رہتا ہے کہ ان کا گھر آباد کریں، میرا بھی یہ خیال ہے کہ تمہارا گھر آباد ہو جائے کیونکہ اب میں بھی بوڑھی ہوتی جارہی ہوں۔ زندگی کا کیا بھروسہ کہ روح کب اس قفس عنصری سے کُوچ کر جائے …. میں کہتی ہوں کہ تمہارے سر پر شادی کا سہرا میں خود اپنے ہاتھوں سے سجا دوں …. بیٹا! اس بارے تمہارا کیا خیال ہے؟ سلیم نے ہنستے سے ماں سے کہا: ”ماں اچھی بات میں دیر کہاں …. لیکن ماں کہیں لڑکی؟“
ماں سلیم کی بات کاٹتے ہوئے بولی: ”بیٹا! سرحیات ہوں تو ٹوپیاں بہت، تم صرف ہاں کر دو تو ڈھیر ساری لڑکیاں تمہارے پیروں تلے ڈھیر کردوں …. دیکھو بیٹا! تمہارے پھوپھی کی تین بیٹیاں ہیں ریشما، راحت، گُل رُخ اور چچازاد چار نازلی، ریما، کلثوم اور منیزہ ۔ اور ہاں ایک تو تمہاری خالہ کی لڑکی میری بھانجی بھی تو ہے۔ بہت پیاری، سانولی رنگت والی، سدھر،نیک پاک اور خاموش طبع، بولو ان میں سے جو بھی تمہیں پسند ہو بتا دو کہ میں ابھی بُرقہ اوڑھ لوں تمہارا رشتہ ان سے طے کردوں …. مجھے پتہ ہے مجھ سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا“۔
سلیم مسکرایا، ماں سے کہنے لگا ”اس طرح نہیں ماں! ان کے ناموں کی پرچیاں ڈالتے ہیں، جس کسی کے نام کی پرچی نکلی، وہی میری قسمت….“۔
سلیم نے چند پرچیاں بنوائیں، ان تمام پرچیوں پر نازو کا نام لکھ دیا …. ماں تو ان پڑھ تھی اس کو کیا معلوم کہ سلیم نے ساری پرچیاں نازو کے نام سے بھر دی ہیں …. سلیم ماں سے کہنے لگا ”چلو ماں اب ان پرچیوں میں سے ایک پرچی نکال لو …. ماں نے پرچیاں خوب ہلالیں اور ایک پرچی اٹھا کر سلیم کو دے دی …. سلیم نے پرچی کو مسکراتے مسکراتے کھولنا شروع کردیا۔ پرچی کھول لی تو ماں سے کہا …. ”واہ ماں! یہ دیکھ نازو کے نام کی پرچی“ …. ماں نے سلیم سے کہا …. ”تو کیا تمہیں نازو پسند ہے؟“
ہاں ماں! مجھے کیا اعتراض! یہ تو قسمت کا کھیل تھا۔ چل بیٹا میں یوں گئی اور یوں آئی۔ ماں نے اسی وقت برقعہ اوڑھا اور سیدھی اپنی بہن ریشمو کے گھر چلی گئی۔
سلیم گھر کی دالان میں بے قرار اس انتظار میں ٹہلتا رہا کہ خالہ ہاں میں جواب دے گی یا ”ناں“ میں …. بہت دیر بعد ماں کی دروازے پر آہٹ ہوئی تو سلیم کے قدم وہیں رُک گئے۔ دیکھا تو ماں خندہ پیشانی سے گھر میں داخل ہو رہی ہے۔ سلیم جان گیا کہ تیر نشانے پر لگا ہے …. سلیم کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، اس نے دوڑ لگائی، ماں کو بانہوں میں لے لیا۔ سلیم کی دلی مراد پو گئی۔ ادھر نازو بھی خوشی سے نیم پاگل ہورہی تھی کیونکہ ان کو بچپن کا جیون ساتھی مل گیا۔ چند دن بعد منگنی کی رسومات ادا ہو گئیں۔ مولوی سے نکاح پڑھوایا، نازو کو منگنی کی انگوٹھی پہنائی گئی۔
اس طرح دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے …. ایک دن وہ بھی آیا کہ نازو کے ہاتھوں پر شادی کی مہندی لگ گئی۔ کم خواب کا جوڑا پہنایا گیا، ہاتھوں میں گجرے اور کنگن سج گئے، کانوں میں بالیاں اور جھومر پہنائے گئے اور گلے میں سونے کا موتیوں بھرا ہار۔ نازو کو اپنے آپ پر بڑا ناز تھا، ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی …. لیکن اسے کیا خبر تھی کہ ایک دن یہ سہانے خواب چکناچور ہو کر رہ جائیں گے۔ ایک دن ان خوابوں کی تعبیر خود ان کے منہ پر طمانچے پڑیں گے۔ یہ مہندی میں رنگے ہوئے سرخ ہاتھ اس کے لیے انگارے بن جائیں گے اور کم خواب کا یہ سرخ جوڑا آگ کی شعلوں کی طرح ان کے بدن سے لپٹ جائیں گی ….
نازو اپنی خوابوں کی دُنیا میں کھوئی ہوئی دلہن کے روپ میں بیٹھی تھی کہ برات آگئی اور اس کی ڈولی اٹھا کر سلیم کے گھر کے آنگن میں آگئی …. نازو ڈبل بیڈ میں ایک ننھی منی گڑیا کی مانند لگ رہی تھی۔ سلیم کی ماں خوشی سے ناچ رہی تھی اور بار بار نازو کی پیشانی چھومتی رہی اور کہتی رہی …. ”چشم بدور میرے گھر کے آنگن میں چودھویں کا چاند اُتر آیا ہے….“
اس طرح دن خوشی خوشی سے گزرتے رہے …. نازو کی خالہ جو ابھی نازو کی ساس کہلاتی تھی، نازو پر بہت مہربان تھی وہ نازو کو دل وجان سے چاہتی تھی۔ نازو کو اس نے ماں کی کوئی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ اگر نازو خالہ کے ساتھ کسی کام میں ہاتھ بٹانا بھی چاہتی تھی تو اس کو سختی سے منع کرتی نازو سے کہتی …. ”نازو بیٹی! تمہارے ہاتھوں سے تو مہندی کا رنگ بھی ابھی نہیں اُترا ہے …. بیٹی! جب تک میں زندہ ہوں تم کسی کام کو ہاتھ نہ لگانا، مجھے خالہ یا ساس نہ سمجھنا، میں تمہاری ماں ہوں“۔
سلیم کی ماں خود صبح سویرے اٹھ کر چولہے میں آگ جلاتی، اپنے لیے اور ان کے لیے پانی گرم کرتی، جب تک پانی گرم ہوتا تب تک وہ آنگن کی صفائی کر چکی ہوتی، پھر چائے بناتی، گوبر اکٹھا کر کے اس کے اُپلے بناتی، پھر اُپلوں کو کوٹھے پر چڑھاتی اور سلیقے سے بنیرے پر سجاتی …. جب سب کام ختم ہو جاتا تب کہیں جا کر سلیم اور نازو کا دروازہ کھٹکھٹاتی اور نرم لہجے میں دونوں کو پکارتی …. ”ارے سلیم بیٹا، ارے نازو بیٹی! اٹھو نا پانی گرم ہے ہاتھ منہ دھولو، ناشتہ تیارہے، ناشتہ کرلو….“
نازو بچوں جیسی آنکھیں ملتے ہوئے جب بھی باہر نکلتی تو روز اسی وقت ایک منحوس شکل ادھیڑ عمر خاتون ان کے گھر دودھ لینے آتی تھی …. پتہ نہیں وہ نازو کو کیوں حقارت سے دیکھتی تھی …. بہت دفعہ اس نے دل میں کوئی فکر سُوجھی لیکن موقع نہ ملتا تھا …. ایک دن جب وہ مکار عمر رسیدہ خاتون دودھ لینے آئی تو نازو اس وقت سوئی ہوئی تھی تو اس منحوس کو موقع ہاتھ لگ گیا …. نازو کی ساس اس وقت اُپلے بنانے میں مصروف تھی …. باتوں باتوں میں اس عورت نے نازو کی ساس کے کان بھرنے شروع کر دیئے ….
نصیبو بہن! حیران ہوں آپ کے نصیب کو، بہو آرام سے خواب میں گھوڑے بیچ رہی ہے اور ساس کے ہاتھ گوبر میں …. نصیبو! مائیں اپنے بیٹوں کے لیے شادیاں اس لیے کراتی ہیں تاکہ مجھے کچھ آرام وسکون ہو، پر ایک تُو ہے کہ کام سے کمر سیدھی نہیں کر سکتی ہو…. جب بھی دیکھو گوبر میں ہاتھ، جب بھی دیکھو ہاتھوں میں جھاڑو …. ہائے ہائے بہن نصیبو! تمہارا نصیب ہی کوٹا ہے، ایسی بہو پر لعنت بھیجو، ”جو نہ کام کا نہ کاج کا دُشمن اناج کا“ اس لاڈلی بہو کو اٹھاتی کیوں نہیں …. چل میری بہو زرینہ کو دیکھ، ڈنڈے سے کام لیتی ہوں، صبح سویرے اٹھتی ہے تو کام پر ڈالتی ہوں اور شام ہونے تک کام سے کمر سیدھی کرنے نہیں دیتی ہوں …. بس ایک کام ختم تو دوسرا، دوسرا ختم تو تیسرا شروع۔ مجال ہے منہ سے اُف بھی نکالے …. مان یا نہ مان تمہارا یہ حال رہا تو تمہاری یہ لاڈلی بہو ناگن بن کر ایک دن تمہیں ڈسے گی …. میری مان نصیبو بہن! میں تمہارے بھلے کی بات کرتی ہوں …. بہو کو اتنی آزادی مت دو ورنہ ایک دن یہ اس گھر کی مالکن بن جائے گی اور تمہاری حیثیت نوکرانی جیسے ہو گی اور مرگِ دم تک گوبر کے اُپلے اور جھاڑو تمہارے ہاتھوں میں ہو گی۔ میری بات مان، دیر نہ کر ابھی جا اٹھاﺅ اس لاڈلی کو ورنہ …. اس چڑیل نما عورت نے نصیبو کے کان بھر دیئے اور اتنا بھڑکایا کہ ذرا سی دیر بعد وہ آگ کا شعلہ بننے والی تھی …. وہ آستین کی سانپ تو ناخن ملتے ہوئی چلی گئی، پر نصیبو کے کانوں میں یہ جملے بار بار گونجتے رہے ….
مان یا نہ مان تمہارا یہ حال رہا تو تمہاری یہ لاڈلی بہو ناگن بن کر ایک دن تمہیں ڈسے گی …. میری مان نصیبو بہن میں تمہارے بھلے کی بات کررہی ہوں بہو کو اتنی آزادی مت دو ورنہ ایک دن یہ اس گھر کی مالکن بن جائے گی اور تمہاری حیثیت ایک نوکرانی جیسی ہو گی اور مرگ دم تک گوہر کے اُپلے اور جھاڑو تمہارے ہاتھ رہے گی….
نصیبو اس بات پر سوچ کی سمندر کی تہہ میں اُترتی گئی کہ واقعی شمئی نے جو کچھ کہا سچ کہا، میں نے واقعی بہو کو بہت آزادی دے رکھی ہے۔ گھر میرا ہے اور مالکن وہ بنے گی، یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ ایسا میں ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔ میں ابھی اس لاڈلی کو سبق سکھاتی ہوں اور اپنا رعب اس پہ جماتی ہوں کہ زندگی بھر یاد رکھے گی ….
ابھی سورج بھی نہ چڑھا تھا، نازو کی اٹھنے میں ابھی کافی وقت پڑا تھا کہ نصیبو بپھرے ہوئے شیر کی طرح دھاڑتی چنگاڑتی ہوئی ان کے کمرے کے پاس گئی …. پہلے تو نرم لہجے میں نازو کہہ کر پکارتی تھی، آج بغیر کسی آواز دیئے وہ اندر داخل ہو گئی اور نازو پر جھپٹ پڑی، اس کے بدن سے رضائی کھینچی اور غصّے سے کہنے لگی ”ارے کمبخت اٹھو گی کہ ڈنڈے سے اٹھواﺅں …. کب سے آوازیں دے رہی ہوں اٹھتی نہیں ہو“ نازو نے جب اپنی ساس کو اچانک اس بدلتے رُوپ میں دیکھا تو حیران و پریشان رہ گئی کہ آج خالہ کی حالت کیوں اتنی بدلی ہوئی ہے۔ کیا ہوا اس کو، میرے خیال میں اسے جن کا دورہ پڑ گیا ہے…. نازو اس بات پر غور کررہی تھی کہ ساس کی آواز پھر پگھلتی ہوئی سیسے کی طرح کانوں میں آن پڑی …. اٹھ کمبخت! میں تمہاری نوکرانی تو نہیں کہ ہر صبح سویرے آنگن میں جھاڑو دوں، تمہارے لیے پانی گرم کروں، چائے بناﺅ، اُپلے بناﺅں، تم نوابزادی ہو کیا؟ سلیم بھی ماں کی اس شوروغل سے اٹھ بیٹھا، ماں سے کچھ کہنے والا تھا کہ ماں نے اس کو بھی ڈانٹا…. تم اپنی زبان کو تالا لگا دو …. نازو یہ سنتے ہی بے تحاشا پاگلوں کی سی چارپائی سے اُچھل پڑی، بغیر دوپٹہ اوڑھے ننگے سر آنگن میں چل نکلی، تو کبھی چولہے کے پاس جاتی، کبھی جھاڑو ہاتھ میں لے لیتی اور کبھی گوبر میں ہاتھ ڈالتی، آخر کیا کرتی بے چاری ….
آج کے دن سے نازو کے بُرے دن شروع ہو گئے …. رات کی نیند حرام، میکے کا آناجانا بند …. وہ چند دنوں میں اتنی لاغر ہو گئی کہ گویا ٹی بی کی مریضہ ہو …. سلیم پہلے پہل تو طرف داری کرتا رہا لیکن جب ماں نے سلیم کو یہ طعنہ دیا کہ تم بھی بیوی کے غلام بن چکے ہو، اس نے تم پر جادو کررکھا ہے اس لیے تو تم اس کی طرف داری کرتے ہو، ایک دن تم مجھے بھی اس گھر سے کوڑے کی طرح باہر پھینک دو گے اور مار بھی ڈالو گے، اچھا ماں! تمہاری یہ خواہش ہے تو ابھی میں اس کو پورا کر دیتا ہوں اور نازو کو بے قصور مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ سلیم نے جب نازو کو خوب مارا پیٹا تو ماں سے کہنے لگا …. ماں ابھی تو کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا اور غصّے سے باہر چلا گیا۔
نازو کی شادی کا یہ نواں ماہ شروع ہوچکا تھا، وہ اب امید سے تھی، وہ ساس کی ان مظالم سے تنگ آچکی تھی، وہ اکثر سوچا کرتی تھی کہ زہر کیوں نہ پی جاﺅں یا اپنے گلے میں پھندہ کیوں نہ ڈالوں کہ عمر بھر کے لیے اس جہنم سے چھٹکارہ حاصل کرلوں، لیکن یہ نازو کے لیے ناممکن تھا کیونکہ وہ خوف خدا سے ڈرتی تھی کہ خودکشی اسلام میں حرام ہے۔ اگر میں خودکشی کرلوں تو تاقیامت خدا کی عذاب میں تڑپتی رہوں گی۔
دن گزرتے گئے، نازو اب چلنے پھرنے سے معذور ہو گئی تھی۔ اس کے بدن کا بوجھ دن بدن بھاری ہوتا گیا۔ اب وہ صحیح طریقے سے چل پھر نہ سکتی تھی اور کام سے انکار بھی نہ کرتی کیونکہ وہ اس زہریلی ناگن کے ڈسنے سے ڈرتی تھی۔
ایک دن نازو کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا ۔ ساری رات درد کے مارے سو بھی نہ سکی تھی اور اپنی قسمت پہ آنسو بہا رہی تھی۔ ابھی فجر کی اذان میں کافی وقت پڑا ہوا تھا کہ ساس کی آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی سیدھا نازو کے کمرہ میں بڑبڑاتی ہوئی داخل ہوئی۔ سلیم خواب میں خراٹے مار رہا تھا اور نازو درد کی وجہ سے نیم خواب تھی کہ ساس کی آواز آسمانی بجلی کی کڑک جیسی کڑکی …. اے کمبخت! تم ابھی تک خواب میں گھوڑے بیچ رہی ہو، اٹھو …. نازو اپنی مجبوری اور سردرد کے بارے میں ساس کو کچھ کہنے والی تھی لیکن اس بے رحم کو کوئی ترس نہ آیا اور زور سے چلّائی …. اٹھو حرام زادی! کبھی سردرد کا بہانہ، کبھی کوئی اور بہانہ، ان بہانوں سے کام نہیں چلے گا، اس مراحل سے میں بھی گزر چکی ہوں …. سردرد سے مر نہیں رہی ہو…. سلیم بھی ماں کی اس تھپڑ مار آواز سے نیند سے بیدار ہوا اور ماں سے کہنے لگا …. ماں! ذرا خوف خدا کر، ابھی تو موذن نے فجر کی اذان بھی نہیں دی …. ایک تو یہ بیمار ہے، دوسرا سردرد کی وجہ سے ساری رات کراہتی رہی، ذرا بھر نہیں سوئی، اگر اس کو کچھ ہو گیا تو….؟
لیکن اس پتھر دل کے دل پر سلیم کی باتوں کا بھی کوئی اثر نہ ہوا …. اُلٹا سلیم کو ڈانٹنے لگی …. اچھا، اچھا میں ابھی جان گئی کہ اس جادوگرنی نے تمہیں اپنے جادو کی قید میں ایسا باندھ رکھا ہے کہ تم ایک دن میرا گلہ بھی گھونٹ ڈالو گے …. شمئی نے تو ٹھیک ہی کہا تھا کہ بہو کے ساتھ بہو جیسا سلوک کرو ورنہ یہ ناگن بن کر تمہیں ڈسے گی، اس کی بات صحیح نکلی …. سلیم کی ماں کے منہ سے بے اختیار شمئی کا نام نکل گیا …. نازو نے جب اپنی ساس کی زبان سے شمئی کا نام سنا جیسے اس کے دل میں زہرآلود تیر لگا …. نازو نے دل ہی دل میں کہا …. مجھے شبہ تھا کہ یہ سارا کھیل اس خبیث عورت کا ہے جس نے خالہ کو میرے خلاف ورغلایا ہے …. میری خالہ دل کی بُری نہ تھی ایک سیدھی سادھی عورت تھی، نازو اس سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کہ ساس نے اس کو گتھ سے پکڑ کر ایسا گھسیٹا کہ اس کی چیخوں سے ہمسائے جاگ اٹھے، اسے حکم دیا گیا کہ پہلے آنگن میں جھاڑو دینا، پھر مویشیوں سے گوبر ہٹانا، اس کے بعد چائے تیار کرلینا اور میں جا کر سوتی ہوں اور جب اٹھوں گی گھر کی صفائی ہو چکی ہو۔
نازو کی ساس مزے سے جا کر اپنے کمرے میں خراٹے لینے لگی اور نازو بے چاری اپنی قسمت پہ خون کے آنسو بہاتی رہی۔ روتے روتے اس نے آسمان کی جانب منہ اٹھا کر اللہ میاں سے دعا مانگی کہ ”یامیرے خدا! مجھے اس جہنم کدہ زندگی سے نجات دلا دے، اے خدا! مجھے اس ظلم کی سلاخوں سے ہمیشہ کے لیے آزادی نصیب فرما …. خدا تُو سننے والا پروردگار ہے۔ تُو اس بے بس کی التجا اپنی دربارعالیہ میں قبول فرما …. کیونکہ میرا اس گھر میں کوئی مقام اور کوئی حیثیت نہیں ہے …. اس ”حوا کی بیٹی“ کو اپنی جوار ِرحمت میں جگہ عنایت فرما….“
نازو تا دیر آنسوﺅں کی موتی اپنے گریبان میں پروتی رہی …. اب فجر کی اذان ہو چکی تھی، آسمان پر صبح صادق کے آثار آہستہ آہستہ نمودار ہوتے گئے، پرندے اپنی میٹھی بول میں اللہ کے ذکر میں مشغول تھے، نازو آنگن کی صفائی کرچکی تھی، گوبر سے اُپلے تیار پڑے تھے، پانی گرم کر چکی تھی اور چائے کی دیگچی چولہے پر چڑھا کر خود ٹھنڈے پانی سے وضو کیا، مصلّہ کچن میں چولہے کے قریب بچھا کر نماز کے لیے کھڑی ہو گئی …. ابھی وہ فرض کی آخری قاعدہ پر بیٹھی ہوئی درود ابراہیمی کی دعا پڑھ رہی تھی کہ ساس نیند سے بیدار ہو کر باہر آگئی۔ نازو کو مصلّہ پر دیکھا تو اس پر برس پڑی، برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ ہم نے ابھی تک نماز بھی نہیں پڑھی ہے …. گھر کا سارا کام ادھورا پڑا ہے …. نازو نے ڈر کے مارے سلام پھیرا، چولہے کی آگ تیز کر دی …. ساس کو گرم پانی کا لوٹا تھما دیا، جب ساس نے نماز ادا کی تو چائے اور پراٹھے بھی تیار تھے۔ سلیم بھی جاگ چکا تھا۔ سلیم نے بھی ہاتھ منہ دھویا تو نازو نے ساس اور سلیم کو چائے پراٹھے میز پر رکھ دیے، خود چولہے کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اس کے سر میں درد کی وجہ سے ہتھوڑے لگ رہے تھے۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھامے رکھا ہوا تھا کہ ساس نے پیٹ بھر کر ناشتہ کیا تو باہر آکر نازو سے کہنے لگی …. چائے پی چکی ہو تو یہ اُپلے کوٹھے پر چڑھا دینا“ حالانکہ نازو نے ابھی تک سردرد کی وجہ سے چائے کا ایک گھونٹ بھی نہ بھرا تھا، وہ بے چاری کیا کہہ سکتی، ورنہ ساس کو تو پتہ ہی تھا کہ وہ بھی اس مراحل سے گزر چکی ہے کہ اس بیماری میں بوجھ اٹھانا درکنار، چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے پر نازو مجبور تھی، اٹھی ترابی لے کر اس میں دو، دو تین تین اُپلے رکھ کر سیڑھی چڑھتی اُترتی رہی اور ساس اس کا تماشا دیکھتی رہی …. تماشا دیکھتے دیکھتے رہا نہ گیا تو بول پڑی …. ارے نکمّی دو، دو اُپلے اٹھانے سے یہ کام شام تک نہیں ہو گا …. خود ترابی بھرنا شروع کیا …. دو، دو تین تین کے بجائے چار، چار اور پانچ پانچ اُپلے رکھنے لگی …. وہ غریبنی کہاں اتنا بوجھ سہارتی …. وہ بڑی مشکل سے اٹھتی، آہستہ آہستہ قدم اٹھواتی سیڑھی چڑھتی اترتی رہی …. بالآخر وہ آخری ترابی سر پر رکھ کر بڑی مشکل سے سیڑھی کی آخری پایہ پر پہنچی تھی کہ پایہ ایک دم ٹوٹ گیا اور نازو دھڑام کر کے نیچے زمین پر آگری اور بے ہوش ہو گئی …. اس حالت میں بھی اس ظالمہ کے دل میں ذرا بھر ترس نہ آیا، اس نے منہ کے گولے برسانے شروع کر دیئے …. اٹھو مکری ابھی کیا مکر سوجھی، تمہارا کیا خیال ہے کہ گھر کا باقی کام میں سنبھال لوں گی، یہ کبھی نہیں ہو سکتا، آج کا یہ تمام کام تم نے نمٹانا ہے، بعد میں مرنا ہے تو مرو …. نصیبو کی اس شوروغل سے قریبی پڑوسن مائی فضلو نے دیوار پر سے سر اٹھا کر دیکھا کہ نازو زمین پر اونھدے منہ بے ہوش پڑی ہے اور ساس باوجود اس کے بڑبڑا رہی ہے۔ پڑوسن دیوار سے نیچے اُتری، نازو کے پاس آئی اور اس کو بچوں کیطرح گود میں لینا چاہا کہ نازو کی ساس نے اسے منع کردیا کہ تم اس کی چال نہیں سمجھتی ہو، یہ مکارن ہے …. اس مکارنی کو میں خود اٹھاتی ہوں …. ساس نے نازو کو گٹھ کیطرح پکڑا جیسے کوئی درندہ اپنے شکار کو اپنے مضبوط جبڑوں میں دبوچ لیتا ہے۔
نازو کی حالت اب غیر تھی، وہ ابھی چند منٹ کی مہمان تھی۔ جب پڑوسن نے نازو کو غیرحالت میں دیکھا تو نازو کی ساس سے کہنے لگی …. خدا کے عذاب سے ڈرو نصیبو بہن! یہ تمہاری دُشمن نہیں تیرے بیٹے کی سہاگ ہے، تم اپنے بیٹے کی سہاگ اپنے ہاتھوں سے تباہ وبرباد کررہی ہو، جاﺅ کسی ڈاکٹر کو بلاﺅ ورنہ….؟
ورنہ کیا؟ جائے جہنم میں …. ابھی پڑوسن کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ نازو کی نزع کی حالت شروع ہو گئی۔ چند لمحوں میں اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی …. اتنے میں سلیم بھی گھر آپہنچا …. دیکھا تو نازو زمین پر خاموش پڑی ہے۔ سلیم نے اپنی ماں کو ایسی خونخوار نظروں سے دیکھا کہ ابھی ماں کا گلہ دبوچ لے گا، لیکن ماتما کا خیال آیا، بس اتنا ہی اپنی ماں سے کہا ”ماں! تمہیں یہ سب کچھ مبارک ہو، میں ہمیشہ کے لیے یہ گھر چھوڑے جارہا ہوں“۔
سلیم نہ معلوم کہاں گیا لیکن دوسرے دن پتہ چلا کہ سلیم کی نعش ایک مچھیرے کو دریا سے ملی ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*