.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » سیاسیات » حکومت کا غربت مکاو پروگرام ، توقعات اور خدشات

حکومت کا غربت مکاو پروگرام ، توقعات اور خدشات

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

سردار شیراز خان
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے غربت مٹاو پروگرام ’احساس‘ کا آغاز کردیا ہے۔اس پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غربت کا خاتمہ ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، یہ ایک مشکل چیلنج ہے مگر ہم نے اسے قبول کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کے پروگرام کے لیے مختص رقم میں 80 ارب روپے کا اضافہ کر رہے ہیں اور اس پروگرام پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے ایک نئی وزارت قائم کی جا رہی ہے جو اس پروگرام کے لیے ملک بھر میں کام کرے گی۔
حکومت کی جانب سے غربت مٹاو پروگرام کے آغاز پر ہر کوئی یہی سوال کر رہا ہے کہ اس میں نیا کیا ہے جو ماضی میں شروع کیے گئے ایسے ہی پروگراموں میں نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کے پروگرام میں اس کے علاوہ کوئی خاص بات نہیں ہے کہ پروگرام احساس کے تحت حکومت آئین کی دفعہ 38 ڈی میں ترمیم کرتے ہوئے خوارک اور رہائش کو بنیادی حق قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کے خدو خال ابھی واضح نہیں ہیں جن کی بنیاد پر اس کا تجزیہ کیا جا سکے۔
ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے ماضی میں لا تعداد پروگرام شروع کیے گئے جن میں سے بیشتر ناکام ہوئے، بقول شخصے غربت کو مٹانے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام مٹ گئے مگر غربت نہیں مٹ سکی۔ پاکستان میں غربت کے خاتمے کا پہلا پروگرام وی ایڈ (ولیج ایڈ) کے نام سے 1952 میں شروع کیا گیا،1959 بنیادی جمہوریت، 1963 رورل ورکس پروگرام ،1967 میں سوشل سیکورٹی سکیم ، 1972 میں پیپلز ورکس پروگرام، رورل ڈویلپمنٹ پروگرام اور زرعی اصلاحات کے تحت بے زمین کسانوں کو زمین دینے کا پروگرام ، 1982میں زکوة و عشر پروگرام کے تحت بیت المال اور فوڈ سپوٹ پروگرام ، 1985 میں سپیشل ڈویلپمنٹ پروگرام ،1989 میں پیپلز پروگرام ،1991 میں تعمیر وطن پروگرام،1992میں پاکستان بیت المال پروگرام کے تحت فوڈ سبسڈی سکیم (ایف ایس ایس) انفرادی مالی معاونت کی سکیم(آئی ایف اے) اور فوڈ سیکورٹی پروگرام (ایف ایس پی) ،1993 میں پیپلز پروگرام ،1993-96 میں 106.4 ارب روپے کا سوشل ایکشن پروگرام فیز I 1997-2002 میں 498.8 ارب روپے کا سوشل ایکشن پروگرام فیز II، 1997 پاورٹی ایلویشن فنڈ (پی اے ایف)، رورل سپورٹ گروام ،یوتھ لون سکیم، پرائمنسٹر ہلتھ انشورنس کارڈ سیمت کئی پروگرام شروع کیے گئے۔جن میں سے سوشل ایکشن پروگرام فیز ون اور ٹو ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ، پاکستان بیت المال، زرعی اصلاحات کا پروگرام اور پرائمنسٹر ہلتھ انشورنس کارڈکے علاوہ کوئی بھی پروگرام تسلی بخش نتائج نہیں دے سکا۔
عالمی بنک کی نومبر 2018کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 29.5 فی صد لوگ غربت کے اوسط معیار سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ گزشتہ پندرہ سال کے دوران غربت کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے پروگراموںکے تسلی بخش نتائج سامنے آئے ہیں جن کے باعث غربت کی شرح میں تقربناً 35 فی صد کمی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2001 میں پاکستان میں غربت کی شرح 64.3 فی صد تھی جو اب کم ہو کر 29.5 فی صد رہ گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بلوچستان ملک کا سب سے زیادہ غریب صوبہ ہے جہاںغربت کی شرح 42.2 فیصد ہے جبکہ سندھ میں 34.2 فیصد،خیبر پختونخواہ میں 27 فیصد اور پنجاب میں 25 فیصد لوگ غربت کے اوسط معیار سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شہری علاقوں میں غربت کی شرح 18 فیصد ہے اور دیہات میں 36 فیصد ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں 10 فیصد سے کم افراد غربت کا شکار ہیں جبکہ بلوچستان کے قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور بارکھان میں 90 فیصد آبادی غربت کی شکارہے ہے۔ غربت کے اس دائمی مرض کے خاتمے کے لیے 2008کے بعد آنے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں نے تمام روایتی پروگرام ترک کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں ، انفراسٹریکچر ڈویلیپمنٹ اور سماجی تحفظ کے منصوبوں پرجنگی بنیادوں پر کام شروع ہوا ، اس مقصد کے تحت 17 ایسے شعبوں کا انتخاب کیا گیا جن کی ترقی سے غربت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

زرعی اصلاحات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس وقت چند ایک گھرانے ایسے ہیں جن کے پاس لاکھوں ایکڑ زمین ہے جبکہ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس ایک گز زمین بھی نہیں ہے، 1972 میں شروع کیے گئے زرعی اصلاحات کے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے بے زمین کسانوں میں زمین کی تقسیم اور سرکاری زمینیں قبضہ مافیا سے واگزار کرا کر بے گھر افراد کو چھت مہیا کرنے سے غربت کی شرح میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے
وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ان منتخب کردہ17 شعبوں میں گزشتہ سات سال کے دوران 21ہزار 866ارب روپے کے منصوبے شروع کیے گئے جن میں سے 2012 میں 1980 ارب روپے ،2013 میں2265 ارب روپے، 2014 میں 2578 ارب روپے ، 2015 میں2928 ارب روپے ، 2016 میں3407 ارب روپے ، 2017 میں3994 ارب روپے اور 2018 میں4714 ارب روپے منصوبے شروع کیے گئے۔
اس سارے تناظر میں حکومت کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ کسی ایک شعبے میں کام کرنے یا محض پیسے بانٹنے سے غربت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ غربت کے خاتمے کے مقصد کے تحت ایک طرف روز گار کے نئے مواقعے پیدا کرنا ہوں گے جس کے لیے زرعی و صنعتی معیشت کو ترقی دینا ہو گی۔ انفراسٹریکچر کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے دیہات اور شہروں کو مواصلات کے جدید نظام سے منسلک کرنا ہو گا جبکہ سماجی تحفظ کے لیے تعلیم یافتہ ،صحت مند اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور خوراک، رہائش،تعلیم،صحت اور روز گا کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانت فراہم کرنا ہو گی۔
اس مقصد کے حصول کے لیے گزشتہ دو حکومتوں کے منتخب کردہ17 شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے علاوہ زرعی اصلاحات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے،اس وقت چند ایک گھرانے ایسے ہیں جن کے پاس لاکھوں ایکڑ زمین ہے جبکہ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس ایک گز زمین بھی نہیں ہے، 1972 میں شروع کیے گئے زرعی اصلاحات کے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے بے زمین کسانوں میں زمین کی تقسیم اور سرکاری زمینیں قبضہ مافیا سے واگزار کرا کر بے گھر افراد کو چھت مہیا کرنے سے غربت کی شرح میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے تاہم حکومت سے ایسے کسی منظم اور نتیجہ خیز کام کی توقع نہیں ہے، کم از کم اس وقت تک حکومت نے جس قدر خراب کار کردگی ، قومی امور پرغیر سنجیدگی، منصوبہ بندی کے فقدان اور ویژن کی کمی کا جو مظاہرہ کیا ہے اس کے تناظر میں اس حکومت سے کسی بڑے کام کی توقع کرنا خود فریبی سے زیادہ کچھ نہیں ہے ، اب دیکھتے ہیں کہ حکومت اس قدر سنجیدہ قومی مسئلہ کے حل کے لیے کیا کرتی ہے ۔

مصنف کے بارے میں

سردار شیراز خان سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*