.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » سیاسیات » تیل سمندر سے نکالیں، غریبوں سے نہیں

تیل سمندر سے نکالیں، غریبوں سے نہیں

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

منصور مہدی
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام نے ردعمل میں شکوہ کیا کہ تبدیلی کی دعوے دار حکومت بھی ملک میں تبدیلی نہ لاسکی۔ عوام وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے برسر اقتدار آنے سے جہاں خوش تھے وہاں اب مہنگائی کا ستایا شخص متنفر ہوتا جا رہا ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ آئے دن پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے جہاں متوسط طبقے کیلئے موٹرسائیکل سواری بھی استعمال کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے وہاں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا جواز بنا کر روزمرہ استعمال کی اشیاءبھی مہنگی کر دی جاتی ہیں، جس وجہ سے عام لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا حکومت سے کہنا ہے کہ عوام تو وزیر اعظم کی خوشخبری کا انتظار کر رہے تھے کہ چلو خدا کا شکر ہے کہ ہمارے سمندروں سے بھی تیل نکلنا شروع ہو گیا، اب پاکستان کے معاشی حالات درست ہو جائیں گے مگر حکومت نے خوشخبری کے بجائے پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کر کے سمندر کی بجائے غریب عوام کا تیل نکالنا شروع کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے یکم اپریل کو ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کو مہنگا کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے کا اضافہ کردیا۔ حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کو فی لیٹر6 روپے، لائٹ ڈیزل اور مٹی کا تیل 3,3 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 98 روپے 89 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت117روپے 43 پیسے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 89 روپے 31پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 80 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

روز مرہ کی استعمال کی عام اشیاءہو یا پھل فروٹ یا برف جیسی شے ان سب کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوتی ہیں۔ حکومتی ادارے و محکمے جن کو ان پر نظر رکھنی ہوتی ہے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور عوام کو لوٹنے و نوچنے سے بچانا ان کے فرائض میں شامل ہے وہ کسی طور پر اپنی ذمہ داریوں یا فرائض کی درست ادائیگی سے یکسر محروم دکھائی دیتے ہیں۔
واضع رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ بھی پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کیا تھا اور اب تک 7 ماہ میں تیسری مرتبہ پیٹرول کی قیمت اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 28 فروری کو جاری نوٹی فکیشن میں پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 75 پیسے اضافہ کیا تھا۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 92 روپے 88 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 111روپے 43 پیسے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 77 روپے 53 پیسے اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 86 روپے 31 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ قبل ازیں 31 اکتوبر2018 کو بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے 6 روپے تک اضافے کا اعلان کیا تھا۔ سال نو کے آغاز میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 86 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 26 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 52 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 2 روپے 16 پیسے فی لیٹر کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری طرف مہنگائی اور حکومتی کنٹرول کی بات کریں تو اتوار بازار وں میں سبزیاں ریٹ لسٹ کے برعکس زائد قیمتوں پر فروخت ہوتی رہیں، شادمان اور دیگر اتوار بازاروں میں انتظامیہ ریٹ لسٹ پر عملدرآمدکر انے میں مکمل طور پر ناکام رہی، شادمان اتوار بازار میں سبز مرچ کی قیمت 128 روپے کی بجائے 240روپے کلو ، ادرک 160 روپے کی بجائے 180 روپے فی کلو، ٹماٹر،کدو، ٹینڈے ، مولی اور کھیرے بھی من مانے ریٹس پرفروخت کئے گئے۔ ماڈل بازار وحدت کالونی میں بھی سبزیوں کے نرخ سرکاری لسٹ سے زائد رہے۔
جبکہ اتوار بازار انتظامیہ کی بے حسی دیکھیں کہ گرمی کا سخت لہر کے باوجود بازروں میں خریداروں کیلئے سہولیات کا فقدان رہا، گرمی کے باوجود کئی بازاروں میں ٹینٹ نہ ہونے کے برابر تھے جبکہ خریداروں کیلئے ٹھنڈے پانی تک کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
شادمان اتوار بازار میں آئے خریدار ٹماٹر کے غیر معیاری ہونے اور اس کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان دکھائی دئیے، غیر معیاری ٹماٹر اور آسمان کو چھوتی قیمتوں پر شہریوں کا شدید رد عمل سامنے آیا۔ تقریباً تمام بازاروں میں مہنگائی، غیر معیاری اشیاءاور سہولیات کے فقدان پر شہری نالاں نظر آئے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر اتوار بازار قائم کیے گئے ہیں، تو مارکیٹ کمیٹی قیمتوں پر قابو پائے اور معیار کو بہتر کرے۔
کہا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر وزیرا علیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک ٹاسک فورس آ ن پرائس کنٹرول کمیٹی قائم کی ہے جس کا چیئرمین محمد اکرم چوہدری کو مقرر کیا ہے، دیگر ممبران میں وزرا ، سیکرٹریز ، پولیس ، اسپشل برانچ کے اعلی حکام شامل ہوں گے، جبکہ وزیر زراعت، وزیر خوراک بھی ٹاسک فورس میں شامل ہیں، ان کے علاوہ وزیر خزانہ ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ، سیکرٹری فوڈ ، سیکرٹری ٹرانسپورٹ ، سیکرٹری انڈسٹریز ، سیکرٹری زراعت ،تمام ڈویژنل کمشنرز ،ایڈیشنل آئی جی پی آپریشن ، ایڈیشنل آئی جی پی اسپشل برانچ بھی ٹاسک فورس کے ممبر نامزدہیں۔ ٹاسک فورس مہنگائی کی روک تھام کے لئے اپنی اپنی سفارشات بھی پیش کرے گی اور کوشش کرے گی کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق کام کیا جائے، تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
واضع رہے کہ ایک ماہ بعد رمضان المبارک شروع ہو جائیگا، جو رحمتوں کا مہینہ ہے مگر ناجائز منافع خوروں کے سامنے حکومتی بے بسی کی وجہ سے یہ مہینہ متوسط طبقے کیلئے عذاب کا مہنیہ بن جاتا ہے، پہلے ہی وہ خاندان کے جو کرایہ کے گھروں میں مقیم ہیں اور آمدن20/25ہزار ہے کا کچن بمشکل چلتا ہے، پتا نہیں وہ کیسے اپنی کن کن خواہشات کا گلہ گھونٹ کر گزارا کرتے ہیں، وہ رمضان المبارک میں کیسے گزارا کریں گے۔
یورپ و امریکہ اور دیگر ممالک میں جب بھی عیسائیوں کے تہوار آتے ہیں وہاں پر خصوصی طور پر مارکیٹوں ، دکانوں غرض کہ ہر جگہ قیمتوں میں خصوصی کمی کردی جاتی ہے اور رعایتی سیل کا مقابلہ شروع ہوجاتا ہے رعایت بھی اور کوالٹی بھی دونوں ملتی ہیں۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ماہ رمضان المبارک ، عید الفطر اور عید الاضحی کے خاص تہواروں کا ذکر کریں تو ان کی خیروبرکتیں اور انعام و اکرام ، فضیلت میں نہ تو دو آراء ہیں نہ ہی کسی بھی قسم کا شک و شبہ، یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ باوجود اس سب حقیقت کے ان دنوں میں ہمارے تاجر و دکانداروں اور کاروباری حضرات جن خصوصیت کے ساتھ اپنی اپنی چھریاں تیز کرکے عوام (لوگوں) کو اپنی خاص مہنگائی والی چھری سے کاٹتے بلکہ کھرچ دیتے ہیں۔ اور حکومت کی بے حسی دیکھیں کہ قانون اور اختیار ہوتے ہوئے بھی بے بس بنی بیٹھی رہتی ہے۔
روز مرہ کی استعمال کی عام اشیاءہو یا پھل فروٹ یا برف جیسی شے ان سب کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوتی ہیں۔ حکومتی ادارے و محکمے جن کو ان پر نظر رکھنی ہوتی ہے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور عوام کو لوٹنے و نوچنے سے بچانا ان کے فرائض میں شامل ہے وہ کسی طور پر اپنی ذمہ داریوں یا فرائض کی درست ادائیگی سے یکسر محروم دکھائی دیتے ہیں۔ مرکزی حکومت ہویا صوبائی حکومت یا اس سے متعلقہ محکمے ان سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف ان مواقعوں پر ہی نہیں بلکہ سارا سال معصوم عوام کو اس مہنگائی کے جن اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزی کے ظلم سے بچائیں ان کی حفاظت کریں۔ جبکہ عمران خان حکومت کی تو اور زیادہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

منصور مہدی سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*