.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » دنیا سے » اسرائیلی انتخابات، نیتن یاہو پانچویں مرتبہ کامیاب

اسرائیلی انتخابات، نیتن یاہو پانچویں مرتبہ کامیاب

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

اسرائیل کے 3 بڑے نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو قبل از وقت انتخابات میں کامیاب ہوگئے اور وہ اب پانچویں مرتبہ مسند اقتدار سنبھالیں گے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 97 فیصد ووٹوں کے نتائج کے بعد نیتن یاہو دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشترکہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔

اسرائیل میں قبل از وقت اسرائیلی انتخابات کو نیتن یاہو کے کردار اور کرپشن الزامات میں ان کے ریکارڈ سے متعلق ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جارہا ہے

کنیست ویب سائٹ اور اسرائیلی نشریاتی اداروں کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکود اور بینی گینٹز کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی نے 35، 35 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

لیکود ہیڈکوارٹرز میں رات گئے حامیوں سے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’ یہ شاندار فتح کی رات ہے‘۔

تاہم انہوں نے کہا کہ سرکاری نتائج کے لیے ’ طویل رات اور ایک دن ‘ کا انتظار کرنا پڑے گا۔

اس دوران ہجوم کی جانب سے ’ وہ ایک جادوگر ہیں ‘ کے نعرے لگائے گئے۔

اسرائیل کے قبل ازوقت انتخابات کے نتائج کا اعلان 12 اپریل کو کیے جانے کا امکان ہے، 97 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) کی 120 میں سے 65 نشستیں بنجمن نیتن یاہو کی زیر قیادت دائیں بازو کی جماعتوں جبکہ 55 نشستیں دیگر بلیو اینڈ وائٹ اتحاد کے حاصل کرنے کے امکانات ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں سے بات چیت کا آغاز کرچکے ہیں۔

اگر بنجمن نیتن یاہو جیت جاتے ہیں تو وہ اسرائیل کی 71 سالہ تاریخ میں طویل المدتی وزیراعظم ہوں گے۔

اسرائیل کے بانی رہنما ڈیوڈ بین گیورین کی جانب سے قائم کی گئی 69سال پرانی لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اگر اس مرتبہ بھی عہدہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ ناصرف پانچویں مرتبہ اس منصب کو سنبھالیں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جولائی میں سب سے زیادہ عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے شخص بھی بن جائیں گے۔

نیتن یاہو 2009 سے اقتدار میں ہیں اور 1990 میں پہلی مدت سمیت مجموعی طور پر 13 سالوں سے اسرائیل پر حکومت کررہے ہیں۔

تاہم ان پر لگنے والے کرپشن کے مختلف الزامات ان کے دوبارہ منتخب ہونے کی راہ میں حائل ہونے کے امکانات ظاہر کیے جارہے تھے حالانکہ نیتن یاہو ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

نیتن یاہو پر الزامات ہیں کہ انہوں نے ٹیلی کام کے معاہدے میں کرپشن کر کے ایک فریق کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ پہنچایا، ان پر غیرملکیوں سے 3لاکھ ڈالر سے زائد کے مہنگے تحفے لینے، میڈیا پر اثر انداز ہونے اور اسے اپنے لحاظ سے استعمال کرنے اور جرمنی سے 2ارب ڈالر کی بحری آبدوز کی خریداری میں مفادات کے ٹکراؤ کا الزام ہے۔

سابق فوجی بینی گینٹز نے گزشتہ روز ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ابتدائی نتائج کے مطابق جیت کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق ان کی جماعت لیکود پارٹی سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔

اپنا پہلا انتخاب لڑنے کے بعد بینی گینٹز نے کہا تھا کہ ’ ہم فاتحین ہیں، ہم قوم کی خدمت کے لیے بنجمن نیتن یاہو کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں‘۔

گزشتہ شب دونوں جماعتوں کی جانب سے جیت کے دعووں کے بعد آج صبح نتائج آنے کے بعد بنجمن نیتن یاہو کی جیت کے امکانات ظاہر ہورہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں عام انتخابات 5 نومبر 2019 کو منعقد ہونا تھے تاہم اسرائیلی وزیراعظم پر بدعنوانی کے الزامات اور راسخ العقیدہ یہودیوں سے متعلق قومی خدمات کے بل پر حکومتی اراکین میں اختلافات کے باعث الیکشن قبل از وقت کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*