.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » سیاسیات » کیا واقعی ہمارے ملک میں یہ نظام ناکام ہوگیا؟

کیا واقعی ہمارے ملک میں یہ نظام ناکام ہوگیا؟

پڑھنے کا وقت: 11 منٹ

پارلیمانی نظام بہتر یا صدارتی؟
حافظ طارق عزیز……….
پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں سیاسی جمہوری نظام کا جائزہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ملک کو جمود سے نکال کر اسے متحرک بنایا جاسکے۔ قیام پاکستان کے بعد انڈین ایکٹ 1935ء میں ترمیم کر کے اسے عبوری آئین کے طور پر تسلیم کر لیا گیا جو پارلیمانی تھا۔ وزیراعظم اور کابینہ بااختیار تھے۔ قائداعظم چونکہ پاکستان کے بانی اور پہلے گورنرجنرل پاکستان تھے لہٰذا کابینہ نے اپنے اختیارات ان کو تفویض کر دئیے۔ گویا عملی طور پر ریاست کے نظم و نسق کو وزیر اعظم کے بجائے گورنر جنرل نے چلایا۔ قائداعظم نے 10 جولائی 1947ء کو اپنے ہاتھ سے نوٹ تحریر کیا جس میں صدارتی نظام کو پاکستان کیلئے موزوں قرار دیا وہ چونکہ ڈیموکریٹ تھے لہٰذا ان کی خواہش تھی کہ پاکستان کا آئین دستور ساز اسمبلی تیار کرے۔
آج جب پارلیمانی نظام بادی النظر میں ناکام ہوتا نظر آرہا ہے تو بااثر حلقوں کی جانب سے پاکستان کے اندر پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام حکومت کو رائج دینے کی بحث ایک مرتبہ پھر اٹھائی جا رہی ہے۔تو کیا ہمارے ملک کے اندر پارلیمانی نظام حکومت واقعی ناکام ہو گیا ہے۔ اس کا جواب تو عوام ہی دے سکتے ہیں۔ مگر ماہرین سیاسیات نے صدارتی اور پارلیمانی نظام ہائے حکومت کی خوبیوں اور خامیوں پر طویل بحثیں کر رکھی ہیں۔ اعداد و شمار کی رو سے دنیا کے ”75 فیصد“ جمہوری ممالک میں صدارتی طرز حکومت رائج ہے۔
یہ امر واضح کرتا ہے کہ بیشتر ملکوں میں صدارتی نظام کو فوقیت حاصل ہے۔ اس نظام میں صدر حکومت اور مملکت، دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام نے برطانیہ میں نشوونما پائی۔ یہی وجہ ہے، برطانیہ کی اکثر نو آبادیاں جب آزاد ہوئیں، تو انہوںنے اپنے سابق انگریز آقاﺅں کے پارلیمانی نظام حکومت کو اپنانا آسان سمجھا اور اس کی خامیوں پر زیادہ غور و فکر نہیں کیا۔ اس نظام حکومت کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ خاص طور پر پاکستان میں آزادی کے فورا بعد انگریز آقاﺅں کے طفیلی بہت سے جاگیردار ، امرا اور بااثر لوگ حکومت کے ایوانوں میں پہنچ گئے۔ وجہ یہ کہ اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں انھیں ہی قوت و اختیار حاصل تھا۔چنانچہ وہ افسر شاہی کے ساتھ مل کر سیاہ وسفید کے مالک بن بیٹھے۔جب فوج نے سیاست سے گند صاف کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی حکومتی ایوانوں میں آ پہنچی گند صاف کرتے کرتے اُسی کا حصہ بھی بن گئی۔
پارلیمانی نظام حکومت اسمبلیوں اور سینٹ کے ارکان کے ذریعے کام کرتا ہے۔ وزیراعظم، وزرا اور مشیر انہی ارکان اسمبلی میں سے چنے جاتے اور پھر حکومت چلاتے ہیں۔پاکستان اور جن ترقی پذیر ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے،آج بھی وہاں یہ حال ہے کہ ایک انتخابی حلقے میں جو شخص زیادہ پیسے والا اور اثر و رسوخ کا مالک ہو‘ عموماً وہی ہر قسم کاالیکشن جیتا ہے۔ اس جیت کی خاطر وہ اپنا مال پانی کی طرح بہانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ بعض امیدوار برادری کے ووٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے امیدوار جب اسمبلیوں میں پہنچیں،تو وہ ذاتی مفادات مقدم رکھتے ہیں، انہیں قانون سازی کرنے اور حکومت چلانے سے زیادہ غرض نہیں ہوتی۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں ارکان اسمبلی کو ترقیاتی منصوبے انجام دینے کے لیے فنڈز ملنے لگے۔ یوں مال کمانے کا نیا در کھل گیا۔

یہ سوال ہم سب کے ذہنوں میں اُبھرتا رہے گا کہ کیا پارلیمانی نظام ناکام ہوگیا اور آج تک جتنی بار بھی اس نظام میں دخل اندازی کی گئی ہے کیا وہ ہمارے پارلیمانی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے کی گئی ہے۔ کیا پاکستان میں اس پر بحث نہیں ہونی چاہیے، اور کیا یہ بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے؟ عوام میں ہونی چاہیے یا ریفرنڈم ہونا چاہیے ؟
اب تو ایک ناخواندہ پاکستانی بھی جان چکا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت کی بنیاد کمزور ہے۔ اس نظام میں عام طور پر طاقتور اور دولت مند لوگ ہی اسمبلیوں سے لے کر کونسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ چنانچہ جمہوریت کے مشہور مقولے عوام کی حکومت، عوام کی طرف سے، عوام کے لیے کا تو جنازہ نکل چکا۔ حقیقت یہ ہے کہ روز اول سے مخصوص طاقتور ٹولہ پاکستانی عوام پر حکومت کر رہا ہے۔ وہ پچھلے ستر برس میں محیر العقول طور پر بارسوخ اور امیر ہو چکا۔ جبکہ عوام کی اکثریت غربت و جہالت کے گدھوں کے پنجوں میں پھنسی بلبلا رہی ہے۔برطانیہ، آسٹریلیا ، کینیڈا ‘ ملائیشیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت اس لیے کامیاب ہوا کہ وہاں تقریباً 100فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور ووٹر جانتا ہے کہ اس کی ذات ،محلے اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے کون سا امیدوار موزوں رہے گا۔ وہ عموماً کسی لالچ، ترغیب اور خوف کے بغیر آزادی سے اپنا ووٹ استعمال کرتا ہے۔ مگر جن ممالک میں خواندگی کم ہے، وہاں پارلیمانی نظام حکومت کا ناگفتہ حال دیکھ لیجیے اس نظام کے باعث مجرم تک حکمران بن بیٹھتے ہیں۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ جہاں ہم اپنے ہمسایوں میں بہت سے چیزوں میں پیچھے ہیں وہیں ہم پارلیمانی نظام کی بہتری میں بھی پیچھے ہیں اپنے پڑوسی، بھارت کی مثال ہی لیں۔جو پارلیمانی نظام میں ہم سے بہت آگے ہے مگر وہاں بھی کئی سماجی تنظیموں کے مرتب کردہ اعداد و شمار انکشاف کرتے ہیں کہ بھارتی اسمبلیوں میں ایک سے ایک چھٹا ہوا مجرم بیٹھا ہے۔ کئی ارکان اسمبلی پر قتل، فراڈ، زنا اور چوری ڈاکے جیسے سنگین جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔ جو بظاہر تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں،قوم پسندی کے جراثیم نے انہیں بھی اقلیتوں کا مخالف بنا رکھا ہے۔ حکومت مٹھی بھر بااثر و امیر خاندانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ جبکہ کروڑوں بھارتی غربت کے بوجھ تلے سسک سسک کر زندگی گزار دیتے ہیں۔بھارت اور پاکستان، دونوں ممالک میں خصوصاً دیہی بااثر طبقہ تعلیم کا سخت مخالف ہے۔ وہ اپنے علاقوں میں اسکول کھلنے نہیں دیتا۔ اگر خوش قسمتی سے اسکول کھل بھی جائے تو جلد یا بدیر باڑے، گودام،اصطبل یا نشیوﺅں کی آماج گاہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ علاقے کے بااثر لوگ اسکول کو چلنے ہی نہیں دیتے۔ دراصل انہیں علم ہے کہ پڑھ لکھ کر کمی کمین بھی اپنے حقوق سے واقف ہو جائیں گے۔ وہ پھر ان کی برابری کرنے لگیں گے اور دیہی معاشرے کے حاکم ایسا ہرگز نہیں چاہتے۔
بہر حال اب پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے پھیلاﺅ سے حالات رفتہ رفتہ بدل رہے ہیں اور ایک ان پڑھ دیہاتی اور شہری مزدور بھی اپنے حقوق و فرائض کی بابت جان رہا ہے۔مغرب کی تہذیب و تمدن کا پرچارک بھارتی و پاکستانی حکمران طبقہ بھی عوام کو تعلیم دینے سے دلچسپی نہیں رکھتا۔ اقوام متحدہ کے ادارے‘ یونیسکونے یہ قرار دار منظور کر رکھی ہے کہ ہر ملک اپنے جی ڈی پی کا کم از کم 4فیصد حصہ شعبہ تعلیم پر خرچ کرے۔ لیکن بھارتی حکومت بمشکل 3.5فیصد اور پاکستانی حکومت 2.3 فیصد رقم شعبہ تعلیم پر خرچ کرتی ہے۔ اس بجٹ کا بیشتر حصہ بھی تنخواہوں اور غیر تدریسی اخراجات پر لگ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے آج بھی بھارت اور پاکستان میں کروڑوں ان پڑھ جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔
صدارتی نظام حکومت پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس میں بیشتر طاقتیں صدر کی ذات میں مرتکز ہوجاتی ہیں۔ چناں چہ بعض اوقات وہ آمر بن بیٹھتا ہے۔ مگر پارلیمانی نظام حکومت میں بھی تو وزیراعظم آمر بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صدارتی نظام حکومت میں صدر پر چیک اینڈ بیلنس ہوتے ہیں اور وہ تمام معاملات میں خود مختار نہیں ہوتا۔
اور یہ بات بھی ہمیں مدنظر رکھنی چاہیے کہ ہم نے مارشل لاﺅں کو دعوت بھی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے دی ہے۔ یہ بات سب سے پہلے اس وقت کی گئی تھی۔ جب اکتوبر 1958ءمیں ہماری مسلح افواج کے کمانڈر اینڈ چیف جنرل محمد ایوب خان نے اس وقت کے نیم سویلین نیم فوجی صدر مملکت میجر جنرل (ر) سکندر مرزا کی ملی بھگت کے ساتھ پہلا مارشل لاءنافذ کیا اور پارلیمانی نظام پر مشتمل 1956ءکے آئین کو اٹھا پھینک کر اعلان کیا یہ آئین، یہ نظام اور اسے چلانے والے سیاستدان جن کی معتدبہ اکثریت قائداعظمؒ کے ساتھیوں پر مشتمل تھی ناکام ہو چکے ہیں۔
لہٰذا ملک کو ایک نئے نظام کی ضرورت ہے، جسے بعد میں ایوب خان نے فیلڈ مارشل لاءکا روپ اختیار کر کے 1962ءکے خود ساختہ آئین کو صدارتی نظام کی شکل میں نافذ کر دیا۔ یہ صدارتی نظام اگلے تین چار سال کے اندر ختم ہوگیا۔اورپھر 1969ءکی گول میز کانفرنس میں ملک بھر متعدد قوتوں کی جانب سے پکار اٹھی کہ پارلیمانی نظام کو دوبارہ واپس لایا جائے۔ پھر 1970ءکے انتخابات اور مشرقی پاکستان کا سانحہ ہوا۔ اس تلخ ترین تجربے اور المیے کو سامنے رکھتے ہوئے قوم کے منتخب نمائندوں نے ایک مرتبہ پھر اتفاق رائے کے ساتھ 1973ءکا آئین نافذ کیا۔ اس کے بعد بھی جنرل ضیاءالحق نے 1977ءمیں مارشل لاءلگا دیا۔ پھر شریف الدین پیرزادہ کی جانب سے کہا گیا کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒنے اپنی ذاتی ڈائری میں اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ صدارتی نظام پارلیمانی کے مقابلے میں بہتر ہے۔بعد ازاں جنرل ضیاءالحق نے 58(2)B اور 62 ،63 جیسی ترمیمات کرکے صدارتی نظام لانے کی حقیر سی کوشش بھی کی جسے سیاستدانوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ضیاءالحق مرحوم 1988ءمیں ہوائی حادثے کی نذر ہو گئے۔ ان کی جگہ لینے والے دونوں منتخب اور پارلیمانی لیڈروں مرحومہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے 12ویں اور 13 ویں ترامیم کے ذریعے آئین کے اندر پارلیمانی روح کو نئی زندگی دینے کی کوشش کی مگر 12 اکتوبر 1999ءکو ان کے کمزور طرز حکمرانی کی وجہ سے ایک بار پھر مارشل لاءلگ گیا۔ 12 اکتوبر 1999ءکو ان کے کمزور طرز حکمرانی کی وجہ سے ایک بار پھر مارشل لاءلگ گیا۔58(2)B دوبارہ نافذ کر دی جبکہ 62، 63 پہلے سے چلی آ رہی تھی، یوں ملک ایک مرتبہ پھر نیم صدارتی اور نیم پارلیمانی نظام کے دھانے پر جا کھڑا ہوا۔
2008ءمیں دوبارہ خالص پارلیمانی نظام آیا جس کی ”قیادت“ پیپلز پارٹی نے کی۔ اور پھر دوسرا خالص پارلیمانی نظام 2013ءمیں آیاجس کی ”قیادت“ ن لیگ نے کی ۔ دونوں ادوار میں جمہوری مدت پوری ہوئی کسی نے مداخلت نہیں کی مگر افسوس کہ ملک میں قرضوں کا حجم 2سوارب ڈالر تک چلا گیا۔ بادی النظر میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ بدعنوانیوں ،بد انتظامیوں حتیٰ کہ تمام سطحوں پر انتظامی نااہلیوں سے لتھڑا ہوا نظام بن گیا۔ پارلیمانی نظام کو وراثتی استحکام بخشنے کے لیے اعلیٰ مراتب پر فائز صاحبان اقتدار نے پوری قوت کے ساتھ نے خوب ”محنت “کی۔ لہٰذاپارلیمانی نظام کے تحت ہر سیاسی جماعت کم وبیش ہر حلقہ انتخاب میں سیکڑوں امیدوار میدان میں اتارتی ہے لیکن نسل درنسل آنے والے سیاست دان کوئی زیادہ اہل اور ذہین وفطین نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان میں زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جن کے ارباب اقتدار کے ساتھ خاندانی تعلق اور گہرے مراسم استوار ہوتے ہیں۔اس کی عکاسی ملک میں اقربا پروری کے گہرے مسئلے سے ہوتی ہے۔
ان حالات میں یہ مضبوط دلیل موجود ہے کہ معاملات کو ازسرنو استوار کیا جائے۔اعلیٰ قیادت کی کارکردگی اسی وقت بہتر ہوگی جب عوام ان کا احتساب کرسکیں گے۔یعنی جب ان کی سیاسی قیادت خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرے یا یہ ثابت ہوجائے کہ وہ بدعنوان ہوں تو پھر وہ انھیں ہٹا سکیں۔بہ الفاظ دیگر یہ بھی دلیل دی جارہی ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کی جگہ براہ راست احتساب کے حامل جمہوریت کے صدارتی نظام کو رائج کیا جائے کیونکہ اس میں ریاست کی انتظامی شاخ مقررہ وقفے مثلاً چار یا پانچ سال کے بعد براہ راست جمہوری عوام کو جواب دہ ہوتی ہے۔یقیناً زیادہ اختیار زیادہ ذمے داری بھی ڈالتا ہے۔یہاں جمہوری عوام کے معیار کا بھی سوال پیدا ہوتا ہے جو احتساب کرتے ہیں۔صدارتی نظام کے تحت ہی ڈونلڈ ٹرمپ ایسے لوگ امریکا میں میدان میں آئے ہیں اور فرانس میں میرین لی پین کو اپنے ملک کا اقتدار سنبھالنے کا موقع ملا تھا۔
اپنے لیڈر کو براہ راست منتخب کرنے کا اختیار کا حامل ہونے کی صورت میں یہ ضروری نہیں کہ عوام سب سے قابل شخص ہی کو منتخب کریں یا وہ ملک کے لیے سب سے زیادہ بہترلیڈر ہی کو منتخب کریں۔وہ ایسے سیاست دان منتخب کرسکتے ہیں جس کو وہ زیادہ پسند کریں یا وہ ٹیلی ویژن پر بھلا نظر آئے یا جو قوم کو درپیش حقیقی یا خیالی خطرات پر زیادہ کامیابی سے غصے اور خطرے کی گھنٹی بجاسکے۔ملک میں نظام کے حوالے سے حقیقی خدشات موجود ہیں اور انھیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ہر گزرتے سال کے ساتھ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کی جانب سے بد انتظامی نے خطرات کے باوجود متبادل نظام کی تجویز کو زیادہ قابل قدر اور قابل توجہ بنا دیا ہے اور اس پر غور کیا جانا چاہیے۔تعلیم یقینا ایک انسان کو باشعور اور ذمے دار شہری بناتی ہے۔گو زندگی کے تجربات بھی ایک انسان کو باشعور بنا سکتے ہیں،مگر سیاست کے دائرہ کار میں تعلیم کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک عام شخص کو حقوق و فرائض سے آشنا کراتی ہے۔ پڑھ لکھ کر عام آدمی جانتا ہے کہ اس کے ووٹ کا اصل حق دار ایسا دیانتدار، باصلاحیت اور اہل امیدوار ہے جو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہو۔ ایسا امیدوار ووٹ کا اہل نہیں جو جائز و ناجائز طریقوں سے دولت کمانے اور طاقتور بننے کی خاطر اسمبلیوں میں پہنچنا چاہیے۔ انہی امیدواروں نے سیاست کو منفعت بخش کاروبار بنا لیا ہے۔
اگر پاکستانی معاشرے میں تعلیم و شعور عام ہو جائے‘ تو پارلیمانی نظام حکومت کی خوبیاں ظاہر ہو سکتی ہیں۔تبھی غریب عوام غربت سے نجات پاکر ترقی کرسکتے ہیں۔ آسائشیں پا کر ان کی زندگی سہل ہو جائے گی۔ مگر فی الوقت مٹھی بھر طبقے نے پارلیمانی نظام حکومت پر قبضہ کر رکھا ہے اور صرف وہی اس کی برکات سے مستفید ہو رہاہے۔
عمران خان ”تبدیلی“ کا نعرہ لگا کر میدان سیاست میں داخل ہوئے۔ اس تبدیلی سے ان کی مراد نظام حکومت کو تبدیل کرنا ہے اور ان کے نزدیک صدارتی نظام حکومت موجودہ پارلیمانی طرز حکومت سے بہتر ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر بن کر انھیں اتنی طاقت مل جائے گی کہ وہ فرسودہ نظام تبدیل کرنے والی پالیسیوں کو نافذ کر سکیں۔پاکستان کے مخصوص حالات مدنظر رکھے جائیں، تو حقیقتاً صدارتی نظام حکومت زیادہ سود مند دکھائی دیتا ہے۔ اس نظام میں ارکان اسمبلی صرف قانون سازی کرنے تک محدود ہوجاتے ہیں۔ حکومت کرنے میں عموماً ان کا زیادہ حصہ نہیں ہوتا۔ وجہ یہ کہ صدر پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے کسی بھی دانشور، عالم فاضل یا تجربے کار و اہل شخص کو وزیر بناسکتا ہے۔ گویا پاکستان میں صدارتی نظام رائج ہوا، تو ارکان اسمبلی کی قوت کم ہوجائے گی جبکہ عوام کے منتخب کردہ صدر کی طاقت بڑھے گی۔صدارتی نظام کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں عوام کو دو بار ووٹ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔ یوں حکومت سازی میں ان کا کردار بڑھ جاتا ہے۔ عوام الناس پہلے اپنے ووٹوں سے ارکان اسمبلی منتخب کرتے ہیں۔
2008ءمیں دوبارہ خالص پارلیمانی نظام آیا جس کی ”قیادت“ پیپلز پارٹی نے کی، پھر 2013ءمیں ن لیگ آ گئی ۔ دونوں ادوار میں جمہوری مدت پوری ہوئی کسی نے مداخلت نہیں کی مگر افسوس کہ ملک میں قرضوں کا حجم 2سوارب ڈالر تک چلا گیا۔ بادی النظر میںیہ بدعنوانیوں ،بد انتظامیوں حتیٰ کہ تمام سطحوں پر انتظامی نااہلیوں سے لتھڑا ہوا نظام بن گیا۔
پھر دوسری بار وہ صدر کا براہ راست انتخاب کرتے ہیں۔جو امیدوار صدر بن جائے، وہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے من پسند شخصیات چن کر وزیر مشیر بناسکتا ہے۔ یوں باصلاحیت اور اہل افراد پر مشتمل کابینہ وجود میں آتی ہے جو بہتر طور پر ملک چلانے کی صلاحیتیں رکھتی ہے۔ وطن عزیز میں تو یہ تماشا بھی ہوچکا کہ میٹرک فیل ارکان اسمبلی اہم عہدوں پر تعینات کردیئے گئے۔ یہ کرشمہ صرف پارلیمانی نظام میں جنم لینا ہی ممکن تھا۔ صدارتی نظام میں صدر بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ پارلیمنٹ کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہتی لہٰذا سیاست کاروبار نہیں بن پاتی۔ جبکہ پارلیمانی نظام میں سیاست نسل در نسل چلتی اور اور گنے چنے خاندانوں کا انتہائی منافع بخش بزنس بن جاتی ہے۔ پاکستان ہی کو دیکھ لیجیے جہاں اب مخصوص کوٹے پر کئی گھرانوں کی خواتین بھی اسمبلیوں میں پہنچ رہی ہیں۔محسوس ہوتا ہے، انہیں قانون سازی نہیں حکومت کرنے اور فیشن سے زیادہ دلچسپی ہے۔غنڈہ گردی اور مافیاﺅں کی تشکیل بھی صدارتی نظام میں کم ہوجاتی ہے۔ جبکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں تو خصوصاً دیہی معاشرے میں سیاست اور غنڈہ گردی لازم و ملزوم بن چکی۔ جو علاقے کا سب سے بڑا غنڈہ ہو، وہ یا اس کے ساتھی سیاسی عہدوں پر بیٹھے نظر آئیں گے۔ وہ اپنے علاقے میں راجے مہاراجے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
صدارتی نظام حکومت پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس میں بیشتر طاقتیں صدر کی ذات میں مرتکز ہوجاتی ہیں۔ چناں چہ بعض اوقات وہ آمر بن بیٹھتا ہے۔ مگر پارلیمانی نظام حکومت میں بھی تو وزیراعظم آمر بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صدارتی نظام حکومت میں صدر پر چیک اینڈ بیلنس ہوتے ہیں اور وہ تمام معاملات میں خود مختار نہیں ہوتا۔ برادر اسلامی ملک ترکی میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام حکومت اپنالیا گیا ہے۔جو کامیابی سے چل رہا ہے۔ جبکہ پاکستان میں ایک مخصوص ٹولہ طویل عرصے سے قومی وسائل کے بڑے حصہ سے فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ عوام کے حصے میں بیش بہا وسائل کا چھوٹا سا حصہ ہی آپاتا ہے۔ جس نے بھی پاکستانی عوام کو اس کا جائز حق دیا، چاہے وہ عمران خان ہو یا نواز شریف، بلاول زرداری ہو یا مریم صفدر، وہی عوام کا اصل ہیرو بن جائے گا۔
بہرکیف یہ سوال ہم سب کے ذہنوں میں اُبھرتا رہے گا کہ کیا پارلیمانی نظام ناکام ہوگیا اور آج تک جتنی بار بھی اس نظام میں دخل اندازی کی گئی ہے کیا وہ ہمارے پارلیمانی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے کی گئی ہے۔ کیا پاکستان میں اس پر بحث نہیں ہونی چاہیے، اور کیا یہ بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے؟ عوام میں ہونی چاہیے یا ریفرنڈم ہونا چاہیے ؟ میرا خیال ہے کہ اس پر پارلیمنٹیرین کو سوچنا چاہیے کہ اس پارلیمنٹ کو اب عوام کے حقوق کے لیے کہاں تک جانا ہے۔ اس لیے اس بحث کو ایک دفعہ دوبارہ اسمبلی کے فورم پر بحث کے لیے کھولا جائے تاکہ ایک درست نظام لایا جائے جس کی اس ملک اور قوم کو اشد ضرورت ہے ۔

مصنف کے بارے میں

حافظ طارق عزیز ایک سینئر صحافی ہیں ، آجکل روزنامہ نئی بات کے سنڈے میگزین کے ایڈیٹر ہیں۔
 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*