HTV Pakistan

ایم کیو ایم کا وفاق سے سندھ میں مداخلت کا مطالبہ

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

ریاض احمد ساگر ……
پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کھیلے جانے والے ” سندھ کارڈ کے جواب میں ” مہاجر “ کارڈ کو کامیابی سے استعمال کیا ہے ۔ اب سندھ میں پی ٹی آئی کے ساتھ ایم کیو ایم نے بھی پیپلز پارٹی کے خلاف انتہائی سخت بیانات کا آغاز کر دیا ہے ۔ ہفتہ کو ایم کیو ایم کے کنوینر اور وفاقی وزیر برائے ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہاجروں کو حقوق دلانے کے لئے سندھ میں مداخلت کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ 1971 میں ملک کو تقسیم کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی نے سندھ کو بھی تقسیم کر دیا ہے ۔
انہوں نے وزیر اعظم سے یہ بھی مطالبہ کیا وہ شق149 کے تحت سندھ میں ہونے والی مالی بے قاعدگیوں کا بھی نوٹس لیں ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ 18 ترمیم کے نام پر قوم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ، اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے صوبوں میں مرتکز کر دئیے گئے۔ انہوںنے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی صوبائی حکومت میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے 9 ممبران میں سے 8 کا تعلق اندرون سندھ سے ہے جبکہ صوبے کے 45 سیکریٹریوں میں سے 41 کا تعلق اندرون سندھ سے ہے جبکہ صرف چار کا تعلق شہری علاقوں میں سے ہے۔ صوبے کا چیف سیکریٹری بھی سندھی بولنے والا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں کے افراد کو شہری ڈومیسائل جاری کئے جا رہے ہیں ۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی قیادت کو بچانے کے لئے سرکاری وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس حوالے سے کرپشن سے حاصل کی گئی دولت کو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے ”سندھ کارڈ “ کے مقابلے میں ” مہاجر “ کارڈ کھیل کر پی ٹی آئی نے سیاسی کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی صوبے میں مہاجروں کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے جس سے شہری آبادی میں مایوسی اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان جو طویل عرصے سے صوبے میں پیپلز پارٹی کی اتحادی رہی ہے ۔ اب پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی بننے کے بعد سندھ میں ان محرومیوں کا ذکر کیا ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے صوبے میں موجود ہیں بلکہ بیشتر تو وہ محرومیاں ہیں جو ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی کے اتحادی ہونے کے دور سے چلی آ رہی ہیں ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مضبوط کرنے کے لئے نہ صرف اسے صوبے میں سیاسی آزادیاں دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے بلکہ سندھ کے دو بڑی آبادی والے شہر کراچی اور حیدر آباد جن پر ایم کیو ایم اپنی اکثریت کا دعویٰ کرتی ہے کے لئے 162 ارب روپے کی خطیر رقم کا ترقیاتی پیکج دینے کا اعلان کیا ہے ۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی پیکج دیئے جانےاور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ایم کیو ایم کے اراکین پارلیمنٹ کی تعریف کئے جانے کے بعد ایم کیو ایم کے کنوینر اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے جانب سے سندھ میں وفاق کی مداخلت کی اپیل نے سندھ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے ۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے ایک وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم نے بھی وفاقی حکومت کو سندھ میں مداخلت کا آئینی طریقہ کار بتایا تھا جس کے بعد اب ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں ایسا کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ اپنی پریس کانفرنس میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 27 اپریل کو باغ جناح کراچی میں بڑے عوامی جلسے کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اس قبل بھی سندھ حکومت گرانے اور پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز کی جانب سے فارورڈ بلاک بنانے کا شوشہ چھوڑ چکی ہے تاہم اب ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے صوبے میں مداخلت کا مطالبہ کرنے کے معاملے سنجیدہ لیا جا رہا ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور گرفتار کر لئے جاتے ہیں تو پارٹی پر بلاول کی گرفت ڈھیلی پڑ سکتی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے کئی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پر احتساب اور کرپشن میں سہولت کاری کے الزامات کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کے ایسے اراکین پارلیمنٹ کو فارورڈ بلاک بنانے کی صورت میں ریلیف دینے کا لالچ دیا جا سکتا ہے۔ اگر ایک دفعہ پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بن جاتا ہے تو پھر سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا قائم رہنا مشکل ہو جائے گا۔ فارورڈ بلاک کے ذریعے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا خاتمہ آسان ہو گا ۔ یہی پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے لئے پلان ” اے “ہو سکتا ہے بصورت دیگر شق 149 کا استعمال کر سکتی ہے ۔
پیپلز پارٹی کے خلاف وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کی حالیہ مہم جوئی کے جواب میں پیپلز پارٹی نے سنجیدگی سے ” سندھ کارڈ “ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں عوامی رابطہ مہم شروع کر دی ہے ۔ اس حوالے سے جمعہ 12 اپریل کو بلاول بھٹو نے گھوٹکی میں منعقدہ جلسہ عام میں وفاقی حکومت کو دھمکی دی کہ اگر 18 ویں ترمیم کو چھیڑا گیا اور ملک میں ون یونٹ کا قیام عمل میں لانے کی کوشش کی گئی تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نا اہل ٹولے سے ملک سنبھل نہیں رہا ہے ۔ وفاقی حکومت ہمیں نیب کے ذریعے خاموش کرانا چاہ رہی ہے ۔ ہفتہ 13 اپریل کو گھوٹکی ہی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے گھوٹکی کے لئے کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور گرفتار کر لئے جاتے ہیں تو پارٹی پر بلاول کی گرفت ڈھیلی پڑ سکتی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے کئی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پر احتساب اور کرپشن میں سہولت کاری کے الزامات کی تلوار لٹک رہی ہے ۔
کراچی پیکج کے نام پر وزیر اعظم سندھ کے عوام کو دھوکہ نہ دیں ۔ پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان کو آفر دی کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر کام کرے تو لوکل باڈیز کے اختیارات بڑھا سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے اپنی پرانی حلیف سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے اور سندھ کی تقسیم کے حوالے سے بات کرنے پر بلاول بھٹو زرداری نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کی بات کر کے ایم کیو ایم پاکستان سے مفاہمت کرنے کی کوشش کی ہے تاہم موجودہ حالات میں یہ مفاہمت پروان چڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ پیپلز پارٹی کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں ۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے ہفتہ 13 اپریل کو انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی قیادت کو بچانے کے لئے سرکاری وسائل استعمال کر رہی ہے ۔ اس حوالے سے کرپشن سے حاصل کی گئی دولت کو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے ۔ سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے خلاف ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے ایک ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جس سے پیپلز پارٹی کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے ”سندھ کارڈ “ کے مقابلے میں ” مہاجر “ کارڈ کھیل کر پی ٹی آئی نے سیاسی کامیابی حاصل کی ہے ۔

مصنف کے بارے میں

ریاض احمد ساگر سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں
 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*