HTV Pakistan

عمران خان کا محمودخان پر اعتماد کا اظہار

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

فدا خٹک ……
ان حالات میں جبکہ وزیراعظم عمران خان کو درپیش ملکی معاشی چینلجزاور اپوزیشن کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباﺅ کا سامنا ہے خیبر پختونخوا میں پارٹی کے اندر موجود اختلافات کی چنگاریاں ایک بار پھر سلگنا شروع ہوگئی ہےں ۔وزیراعظم عمران خان سے دو سینئر صوبائی وزراءعاطف خان اور شہرام خان ترکئی کی گزشتہ روزکی ملاقات اور اسکے اگلے روزوزیراعلی محمود خان کی اسلام آباد طلبی سے معلوم ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سب اچھا نہیں ہے ۔
تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں پارٹی کے اندرگروپ بندی اور اختلافات نئے نہیں بلکہ یہ پرویزخٹک کی وزارت اعلی کے دور سے موجود ہیں ۔عاطف خان اور پرویزخٹک کے مابین اختلافات اس وقت منظر عام پر آئے جب مردان میں فنڈزکی تقسیم کے معاملے پر عاطف خان نے اعتراضات اٹھائے ۔2018کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایک بار پھر پرویزخٹک وزارت اعلی کے مضبوط امیدوار کے طورپر سامنے آئے اس وقت انکے سب سے قریبی حریف عاطف خان ہی تھے جنہیں عمران خان کے قریبی حلقوں نے پکی یقین دہانی کرائی تھی کہ اس بار انکی باری ہے تاہم پرویزخٹک نے اس اہم موقع پر پشاور کے سپیکر ہاﺅس میں دو درجن سے زائد اراکین اسمبلی کا اجتماع منعقد کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور بظاہر پارٹی قیادت کو پیغام دیا کہ انکی حیثیت کو ہلکا نہ لیا جائے۔ پرویزخٹک اس شرط پر وزارت اعلی کے مطالبے سے دستبردار ہوئے کہ وزارت اعلی اگر انہیں نہیں ملتی تو عاطف خان کو بھی نہ ملے اور یوں محمود خان کے نام قرعہ نکلا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کے اندر جاری رسہ کشی اور گروپ بندیوں کے باوجود محمودخان حکومت کی کارکردگی دیگر صوبائی حکومتوں کی نسبت کافی اچھی رہی ہے اگرچہ موجودہ صورتحال میں محمودخان کو کسی اطراف سے مداخلت کا سامنا ہے تاہم اسکے باوجود وہ بڑے سکون سے بنی گالہ کی آنکھوں کا تارہ بنے ہوئے ہیں ۔
محمودخان کا شمار پرویزخٹک کے ساتھیوں میں کیا جاتا ہے اگرچہ محمودخان نے اس بات کا برملا ذکر کیا ہے کہ وہ کسی کا بندہ نہیں بلکہ پارٹی کا وفادار ہے تاہم یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ انکا انتخاب اس وقت کے حالات کو سنبھالا دینے کا نتیجہ ہے ۔
پارٹی ذرائع کے مطابق عاطف خان اور شہرام خان کی عمران خان سے ملاقات میںواضح گلے شکوﺅں کے باوجود عمران خان کی جانب سے انہیں یہ واضح کیاگیا کہ پارٹی فی الحال خیبر پختونخوا میں ایک نیا محاذ کھولنے کی متحمل نہیں ہوسکتی اس لئے وہ وزیراعلی محمودخان کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی بجائے انکا ساتھ دیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی بیان بازی سے مکمل اجتناب کریں ۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ دونوں صوبائی وزراءنے وزیراعلی پر یہ الزامات بھی عائد کئے کہ وہ انکی وزارتوں میں بے جا مداخلت کرتے ہیں اور بی آرٹی منصوبے اور مالم جبہ سکینڈل میں تحقیقات کے نام پر انہیں بدنام کیا جارہا ہے’وزیراعلی نے ڈی جی پی ڈی اے کو انکے مشورے کے بغیر تبادلہ کیا جس سے یہ پیغام گیا کہ وہ اپنے محکمے میں بھی بے بس ہیں تاہم اسکے باوجود وزیراعظم عمران خان نے انہیں وزیراعلی کے ساتھ چلنے پر زوردیا۔
دونوں صوبائی وزراءکی ملاقات کے اگلے روز وزیراعلی محمودخان کی طلبی ہوئی تاہم ذرائع بتارہے ہیں کہ انہیں وزیراعظم ہاﺅس کی جانب سے پریشان نہ ہونے کا پیغام دیاگیا ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے نہ صرف محمودخان کے تمام اقدامات کی حمایت کا اظہارکیا بلکہ صوبائی حکومت کوتمام معاملات چلانے کا فری ہینڈ بھی دیا اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی گئی کہ کسی کو بھی صوبائی حکومت کے کسی کام میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلی محمودخان نے مستقبل میں مختلف منصوبوں کے حوالے سے انہیں بعض سخت اقدامات کے حوالے سے اعتماد میں لیاجس پر انہیں یقین دلایاگیا کہ وہ چونکہ انکے نامزدکردہ وزیراعلی ’صوبائی حکومت کے کپتان ہیں لہذا انکے اقدامات کی راہ میں کسی کو بھی رکاوٹ نہیں بننے دیا جائیگا ۔تجزیہ کاروں کے مطابق وفاق اورپنجاب حکومت کے برعکس موجودہ صوبائی حکومت کی کاکردگی کافی بہتر ہے سوائے بی آرٹی منصوبے کے جو کہ سابقہ حکومت کا شروع کردہ منصوبہ ہے کسی بھی سطح پر موجودہ حکومت کی ناکامی نظر نہیں آئی جس کی وجہ سے بھی وزیراعظم کافی مطمئن ہیں تاہم اسکے باوجود پارٹی کے اندر موجود بعض حلقے واضح طورپر محمودخان کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔
محمودخان کا شمار پرویزخٹک کے ساتھیوں میں کیا جاتا ہے اگرچہ محمودخان نے اس بات کا برملا ذکر کیا ہے کہ وہ کسی کا بندہ نہیں بلکہ پارٹی کا وفادار ہے تاہم یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ انکا انتخاب اس وقت کے حالات کو سنبھالا دینے کا نتیجہ ہے ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کے اندر جاری رسہ کشی اور گروپ بندیوں کے باوجود محمودخان حکومت کی کارکردگی دیگر صوبائی حکومتوں کی نسبت کافی اچھی رہی ہے اگرچہ موجودہ صورتحال میں محمودخان کو کسی اطراف سے مداخلت کا سامنا ہے تاہم اسکے باوجود وہ بڑے سکون سے بنی گالہ کی آنکھوں کا تارہ بنے ہوئے ہیں ۔عاطف خان اور شہرام خان کی واضح مخالفت ہو یا پھر قبائلی اضلاع میں اختیارات کے حصول کے لئے گورنر شاہ فرمان کی مداخلت’وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور سابق چیف سیکرٹری ارباب شہزاد کی جانب سے بیوروکریسی میں مداخلت ہویا پھر افتخار درانی اور اجمل وزیر کی صورت میں پیراشوٹ مشیروں کی آمد ان سب کے باوجود محمود خان اپنے پتے بڑے سکون اور ترتیب سے کھیلتے نظر آرہے ہیں ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اپنی معصوم اور بھولی بھالی صورت کے باوجود وہ دکھائی دے رہے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہوشیار ثابت ہورہے ہیں اور موجودہ سخت کھٹن حالات میں اپنی وزارت کو سنبھالنا یقینا انکی ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔

مصنف کے بارے میں

فدا خٹک سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*