HTV Pakistan

پنجاب بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ یقینی تھی!

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

منصور مہدی…..
پنجاب حکومت نے بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر دی ہے ، 14 سیکرٹریوں کے تقرر و تبادلے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) فضیل اصغر کو تبدیل کر کے خدمات وفاق کے سپرد کر دی گئیں، وزیرا علیٰ کے پرنسپل سیکرٹری راحیل احمد صدیقی کو تبدیل کر کے سیکرٹری خزانہ جبکہ سیکرٹری کوارڈی نیشن محمد شعیب کو وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کا اضافی چارج بھی سونپ دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے فرائض سر انجام دینے والے کیپٹن (ر) فضیل اصغر کو پنجاب سے تبدیل کر کے ان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے سپرد،سیکرٹری خوراک شوکت علی کو تبدیل کر کے سیکرٹری زراعت جبکہ سیکرٹری خوراک کا عہدہ بدستور گریڈ 21کا رہے گا۔ جبکہ تقرری کے منتظر نسیم صادق کو سیکرٹری خوراک تعینات کر دیا گیا ، سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ کو تبدیل کر کے ان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن ، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن شیر عالم محسود کو تبدیل کر کے ان کی خدمات وفاق کے سپرد، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری راحیل احمد صدیقی کو تبدیل کر کے سیکرٹری خزانہ ، سیکرٹری کوارڈی نیشن محمد شعیب اکبر کو پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلیٰ کا اضافی چارج ، سیکرٹری ٹرانسپورٹ بابر شفیع کو تبدیل کر کے ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے ، سیکرٹری آبپاشی سید علی مرتضیٰ کو تبدیل کر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ، تقرری کے منتظر عبد اللہ خان سنبل کو سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی ، تقرری کے منتظر نبیل احمد اعوان کو سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی احمد رضا سرور کو تبدیل کرکے ان کی خدمات وفاق کے سپرد، سیکرٹری زراعت واصف خورشید کو تبدیل کر کے سیکرٹری ٹرانسپورٹ جبکہ تقرری کے منتظر ڈاکٹر جاوید قاضی کو سیکرٹری آبپاشی تعینات کر دیا گیا۔

تھانہ کی ماں یعنی محرر بادشاہ کے کندھوں پر تھانے کے ”خرچے“ پورے کرنے کا دباو آج بھی موجود ہے جسے تھانے آنے والے غریب لوگوں سے پیسے نکلوا کر پورا کیا جاتا ہے۔ جھوٹے مقدمات درج کروانے ہوں یا سچے مقدمات خارج کروانا ہوں، ہر کام کے نرخ مقرر ہیں، سڑکوں پر پولیس کے شیر جوان ناکے لگا کر ”ریونیو“ وصولی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تو ماضی قریب میں پنجاب حکومت کے اہم وزیر میاں محمود الرشید کے بیٹے کو بھی پولیس گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اعلی بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کے بعد آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی اورچیف سیکرٹری کی بھی تبدیلی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان پولیس اصلاحات میں سست روی پر آئی جی پنجاب سے خوش نہیں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس فنڈز کے بارے حکومت مخالف بیان بھی آئی جی امجد جاوید سلیمی کی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ آئی جی پنجاب کے لئے سابق آئی جی عارف نواز خان اور اے ڈی خواجہ فیورٹ امیدوار قرار دیے جارہے ہیں۔ ڈی جی اینٹی کرپشن اعجاز حسین شاہ کو بھی آئی جی پنجاب لگایا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل تحریک انصاف حکومت محمد طاہرخان کو بھی بطور آئی جی آزما چکی ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے سربراہ ناصر خان ورانی سیاسی مداخلت پر پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کے لیے بھی تین افسران کے نام زیر غورہیں۔ میجرریٹائرڈ اعظم سلمان، احمد نواز سکھیرا اور کیپٹن اعجاز کے نام زیر غورہیں۔ اعظم سلیمان فیورٹ قرار دیے جارہے ہیں۔ اعظم سلیمان اس وقت بطور وفاقی سیکرٹری داخلہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطا بق بڑے پیمانے پر تبادلوں سے بیوروکریسی کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے تعاون نہ کرنے والے سیکرٹریز پنجاب میں نہیں رہیں گے۔
بیوروکریسی کی طرف سے سی ایم پنجاب کے احکامات ماننے کے بجائے حیلے بہانے کرنا ناراضگی کا سبب بنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل اجلاس میں ایک سیکرٹری نے سی ایم کے احکامات کو ماننے کے بجائے لاجک پیش کی تھی۔ سی ایم نے بیوروکریسی کے چیف سیکرٹری کے کنٹرول میں نہ ہونےکی وزیر اعظم عمران خان کو شکایت کی تھی۔
واضع رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے لاہور کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے پنجاب بیوروکریسی کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیورکریسی ن لیگ کو سپورٹ کرتی ہے، پنجاب میں پولیس کام نہیں کر رہی۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پہلے ہی وزیراعظم کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکے تھے جس کے بعد پنجاب بیوروکریسی میں بڑی پیمانے اکھاڑ پچھاڑ کایقینی امکان تھا۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں پولیس کام نہیں کر رہی تھے اور جب بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کی بات آتی ہے تو پولیس پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار بہت پہلے ان معاملات کی جانب اشارہ کر چکے تھے۔
پاکستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہر جمہوری اور غیر جمہوری حکومت نے اپنے اقتدار کو محفوظ کرنے اور سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے پولیس کا استعمال کیا ہے اور دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ جو سیاستدان اپوزیشن میں رہتے ہوئے سڑکوں پر پولیس کی لاٹھیاں اور ٹھڈے کھاتے ہیں،گرفتاریاں برداشت کرتے ہیں ، جب وہ خود اقتدار میں آتے ہیں تو وہی سب کچھ اس وقت کی اپوزیشن کے ساتھ کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ پنجاب میں پولیس کلچر تبدیل کرنے کیلئے ناصر درانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی تو اس دن ٹوٹ گئی تھی جب حکومت نے محمد طاہر کو آئی جی کے عہدے سے ہٹا کر امجد سلیمی کو آئی جی تعینات کیا تھا،کچھ دن قبل حکومت نے پولیس اصلاحات کیلئے سابق آئی جیز پر مشتمل ایک نئی”کمیٹی “ڈالی ہے جو نجانے کب نکلے گی۔
امجدسلیمی کی تعیناتی سے سنجیدہ حلقوں کو بہت توقعات تھیں لیکن ابتک کی صورتحال بہت مایوس کن ہے، امجد سلیمی پر موجود سیاسی دباو ایک حقیقت ہے لیکن ملک کی سب سے بڑی پولیس فورس کے سربراہ کی حیثیت سے سیاسی دباو کا سامنا کرتے ہوئے پولیس کلچر تبدیل کرنے اور عوام کو سہولت و آسانی فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنا تو امجد سلیمی کے اختیار میں ہے لیکن یہ کوشش ان کی جانب سے دکھائی نہیں دے رہی ہے بلکہ پولیس کے سینئر افسروں میں آئی جی پنجاب کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حکومت کے اہم حلقوں میں بھی منفی تاثر پھیل رہا ہے۔ نئے پاکستان کی پرانی پولیس کے ہاتھوں آج بھی تھانوں میں قانون نیلام ہو رہا ہے۔
تھانہ کی ماں یعنی محرر بادشاہ کے کندھوں پر تھانے کے ”خرچے“ پورے کرنے کا دباو آج بھی موجود ہے جسے تھانے آنے والے غریب لوگوں سے پیسے نکلوا کر پورا کیا جاتا ہے۔ جھوٹے مقدمات درج کروانے ہوں یا سچے مقدمات خارج کروانا ہوں، ہر کام کے نرخ مقرر ہیں، سڑکوں پر پولیس کے شیر جوان ناکے لگا کر ”ریونیو“ وصولی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تو ماضی قریب میں پنجاب حکومت کے اہم وزیر میاں محمود الرشید کے بیٹے کو بھی پولیس گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مصنف کے بارے میں

منصور مہدی سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*