HTV Pakistan

کیا ملک میں صدارتی نظام حکومت لایا جا رہا ہے ؟

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

سردار شیراز خان ……
موجودہ حکومت کے آنے کے بعد ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے حوالے جو چہ میگوہیاں شروع ہوئی تھیں ،اب وہ باثر حلقوں کی ایما پر باقاعدہ بحث میں تبدیل ہو رہی ہیں اور ایک مخصوص حلقہ ان مباعث کو تقویت فراہم کر رہا ہے ۔ 1973کے متفقہ آئین کی منظوری کے بعد ملک میں دس عام انتخابات ہو چکے ہیں کسی ایک انتخاب میں بھی یہ ایشو کبھی بھی بطور” ایک عوامی مسئلہ“ کے زیر بحث نہیں رہا ہے ۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور اور قانون ساز ایوانوںمیں منظور ہونے والی قرار دادوں میں بھی پارلیمانی جمہوری نظام کے ساتھ ہی وابستگی اور اسے ملکی سیاسی نظام کی بنیاد بنانے کا عہد شامل ہے۔حکومتی وزرا سے جب بھی اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انھوں نے ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے حوالے سے خبروں کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

سیاسی حلقوں کا یہ بھی موقف ہے کہ ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے لیے یہ کوئی پہلی کوشش نہیں ہے ۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایسی کوششوں کا آغاز ہو چکا تھا تاہم قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کے باعث کسی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ ان کی رائے سے پہلو تہی کرتا تاہم قائد اعظم کی وفات کے بعد یکے بعد دیگر پارلیمانی جمہوری نظام پر شب خون مارے گئے جس کے باعث ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ۔
اس کے باوجود سنجیدہ حلقے وزرا کے موقف پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ان حلقوں کا موقف ہے کہ وزرا کی بات اپنی جگہ تاہم بااثر حلقے اور خود حکومت ملک میںصدارتی ںنظام رائج کرنے کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ترجمان وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کئی بار اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بارے میں تحفظات ظاہر کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے باعث حکومت مشکلات کا شکار ہے جبکہ با اثر حلقوں میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔
سیاسی حلقوں کا یہ بھی موقف ہے کہ ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے لیے یہ کوئی پہلی کوشش نہیں ہے ۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایسی کوششوں کا آغاز ہو چکا تھا تاہم قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کے باعث کسی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ ان کی رائے سے پہلو تہی کرتا تاہم قائد اعظم کی وفات کے بعد یکے بعد دیگر پارلیمانی جمہوری نظام پر شب خون مارے گئے جس کے باعث ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صدارتی نظام کی بحث کی آڑ میں کود قائد اعظم کی شخصیت اور ان کے افکار و نظریات کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔
حالانکہ قائد اعظم کا ملکی سیاسی نظام کے بارے میں موقف بڑا واضح اور دو ٹوک تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ” پاکستان کی مرکزی حکومت اور وفاقی اکائیوں میں اختیارات کی تقسیم کا فیصلہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا اختیار ہے، تاہم انھوں نے اس کے خدو خال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت عوام کی نمائندگی پر مبنی جمہوری نظام ہو گا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کو جواب دہ کابینہ حتمی طور پر رائے دہندگان کو جواب دہ ہو گی“۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”پاکستان ایک مذہبی ریاست نہیں ہو گا جسے مذہبی پیشوا کسی الوہی نصب العین کی روشنی میں چلائیں۔
ہمیں اچھا لگے یا بُرا یہ ہماری تاریخ ہے جو تلخ بھی ہے اور اس میں مستقبل کے لیے سبق بھی ہے ۔ہمیں یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ صوبوں نے بطور ایک وفاقی اکائی کے قیام پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے ان کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں اقتدار منتقل کیا ، بعد ازاں ان سے اختیار اور اقتدار دونوں چھین لیے گئے ۔
ہمارے ملک میں ہندو، مسیحی اور پارسی موجود ہیں لیکن وہ سب پاکستانی ہیں“۔قائد اعظم کے ان فرمودات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قائد اعظم نے پارلیمنٹ کو جواب دہ کابینہ اور وفاقی اکائیوں کا ذکر کر کے صدارتی نظام کی نفی کر دی تھی ۔ قائد اعظم نے اپنی قیات میں بننے والی پہلی حکومت میں وزیر اعظم اور کابینہ کو اختیارات دے کر پارلیمانی جمہوری نظام کی راہ ہموار کی۔قائد اعظم کی قیادت میں جو پہلی69رکنی دستور ساز اسمبلی قائم ہوئی وہ ان لوگوں پر مشتمل تھی جو دسمبر 1945 میں جداگانہ بنیادوں پرمتحدہ ہندوستان کی مرکزی آئین ساز اسمبلی کے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے، ان میں سے 44 مشرقی بنگال سے، 17 مغربی پنجاب سے ، 4 سندھ سے، 3 صوبہ سرحد سے اور ایک کا کوئٹہ میونسپلٹی سے تعلق تھا۔اس اسمبلی اور اس کے منتخب نمائندوں پر مشتمل حکومت جمہوری پارلیمانی تھی تاہم قائد اعظم کی وفات کے بعد 1954میں پاکستان کی دوسری قانون ساز اسمبلی تشکیل دی گئی جس نے قائد اعظم کے دیے ہوئے نظام کو پس پشت ڈالتے ہوئے صوبائی اکائیوں پر مشتمل وفاق کی جگہ ون یونٹ نظام تشکیل دیا گیا اور ملک کے پہلے آئین (1956 کے آئین) کی منظوری دی جس کے تحت پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے عام انتخابات کروانے کا اعلان کیا گیا مگر عام انتخابات سے قبل ہی ملک میں مارشل لا لگاتے ہوئے آئین کو معطل کر دیا گیا ، بیشتر سیاست دانوں کو نا اہل قرار دے دیا گیا اور ایک آئینی کمیشن کے زریعے 1962کا صدارتی آئین بنا جس کے ذریعے ملک سے پارلیمانی جمہوری نظامکی بساط کو لپیٹتے ہوئے ملک میں صدارتی نظام رائج کر دیا گیا۔
اسی عہد (صدرتی نظام حکومت) میں ملک کے تین دریا بھارت کو دے دیے گئے ، رن آف کچھ سمیت سندھ کے مزید کچھ علاقے بھارت کے قبضے میں چلے گئے جو بعد میں ذوالفقار علی بھٹو نے معائدہ شملہ میں مذاکرات کے تحت واپس لیے جن میں تھر کے وہ علاقے بھی شامل ہیں جو پاکستان کو ایک لاکھ میگاواٹ بجلی کئی سو سال تک فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 1958 کو وجود میں آنے والے اسی صدارتی نظام نے پاکستان کو دو لخت کرنے کی بنیادیں فراہم کیں۔
ہمیں اچھا لگے یا بُرا یہ ہماری تاریخ ہے جو تلخ بھی ہے اور اس میں مستقبل کے لیے سبق بھی ہے ۔ہمیں یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ صوبوں نے بطور ایک وفاقی اکائی کے قیام پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے ان کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں اقتدار منتقل کیا ، بعد ازاں ان سے اختیار اور اقتدار دونوں چھین لیے گئے ۔ ان صوبوں نے طویل جدوجہد کے بعد اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری دو بارہ حاصل کی ، اب اسے ایک دفعہ پھر صدارتی نظام کی آر میں واپس لینے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو کہ بہت ہی خطر ناک کھیل ہے ، صدارتی نظام دراصل ون یونٹ کی بحالی کا ایک ٹول ہے ، پہلا ون یونٹ آدھا پاکستان کھا گیا ،دوسرا ون یونٹ کیا کرےگا اس کا تصور ہی بہت بھیانک ہے ۔ارباب اقتدار اور مقتدر قوتوں کو چاہیے کہ وہ نان ایشو ز پر مبنی بحثوں کی حوصلہ شکنی کریں، یہ سب کچھ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

سردار شیراز خان سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*