.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » ہزارہ برادری کا تحفظ کیلئے دھرنا جاری

ہزارہ برادری کا تحفظ کیلئے دھرنا جاری

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

محمد کاظم …..
گزشتہ ہفتے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں خود کش حملے کے بعد ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ یہ خود کش حملہ جمعہ کے روز ہزار گنجی سبزی منڈی میں اس وقت کیا گیا تھا جب ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پھل اور سبزی کی خریداری کے لیے منڈی میں تھے۔ماضی میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پھل اور سبزی فروشوں پر ہونے والے حملوں کے بعد انہیں سیکورٹی میں ان کے علاقوں سے سبزی منڈی تک لانے اور وہاں سے واپس لے جانے کا انتظام کیاجارہا ہے ۔ جمعہ کے روز بھی ہزارہ ٹاﺅن سے 55 سبزی اور پھل فروشوں کو ہزارہ ٹاﺅن سے سبزی منڈی لے لے جایا گیا تھا۔منڈی میں لے جانے کے بعد سیکورٹی اہلکار منڈی کے آمد و رفت کے بڑے راستوں پر سیکورٹی کی ڈیوٹی دینے کے علاوہ اندر گشت بھی کرتے ہیں ۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ کے مطابق ان پھل اور سبزی فروشوں میں سے بعض لوگ منڈی کے اندر اس وقت بم حملے کا نشانہ بنے جب وہ ایک گودام سے آلو خرید رہے تھے ۔اس دھماکے میں ایک سیکورٹی اہلکار بھی جاں بحق اور چار زخمی ہوگئے ۔

ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کوئٹہ کے دو مختلف علاقوں مری آباد اور بروری کے علاقے میں ہزارہ ٹاﺅن میں آباد ہیں ۔اس قبیلے کے لوگوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ 2002ءسے شروع ہوا ۔ان پر حملوں کے باعث اب تک قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد جاں بحق اور زخمی ہوئی ہے۔
اگرچہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات کے بعد یہ بتائیں گے کہ اس خود کش حملے کا ہدف کون لوگ تھے کیونکہ جاں بحق ہونے والوں میںدس دیگر افراد اور زخمیوں میں سے ایک بڑی تعدا د کا تعلق دیگر قبائل اور برادریوں سے بھی ہے لیکن ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس خود کش حملے کا ہدف ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ۔
اس واقعے کے بعد قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہزارہ ٹاﺅن کے قریب مغربی بائی پاس کو بند کرکے وہاں دھرنا دیا۔ان دھرنے کے شرکاءسے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی لیکن انہوں نے ان سے مذاکرات نہیں کیئے ۔ دھرنے کے شرکاءنے کہا کہ وہ بلوچستان حکومت کے لوگوں سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کا یہ موقف تھا کہ بلوچستان حکومت کے پاس اختیار نہیں اور ان سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
احتجاجی دھرنے کی قیادت کرنے والوں میں جلیلہ حیدر اور ہزارہ سیاسی کارکن کے نام سے قائم فورم کے رہنما طاہر ہزارہ شامل تھے ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے لوگوں کے پاس اختیارات نہیں اس لیے ان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کوئٹہ کے دو مختلف علاقوں مری آباد اور بروری کے علاقے میں ہزارہ ٹاﺅن میں آباد ہیں ۔اس قبیلے کے لوگوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ 2002ءسے شروع ہوا ۔ان پر حملوں کے باعث اب تک قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد جاں بحق اور زخمی ہوئی ہے۔گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں کوئٹہ شہر کے اندر دکانوں میں قبیلے سے تعلق رکھنے والے تاجروں پر حملوں کے بعد نہ صرف شہر کے مختلف علاقوں میں دھرنے دیئے گئے تھے بلکہ حقوق انسانی کی معروف کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ان دھرنوں کے باعث فوج کے سربراہ جنر ل قمر باجوہ نے کوئٹہ کا دورہ کیا تھا اور ان سے ملاقات کے بعد دھرنے ختم کیے گئے تھے ۔جلیلہ حیدر کہتی ہیں کہ فوج کے سربراہ کے آنے کے بعد ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کسی حد تک سکون کی زندگی گزاری تھی لیکن اس کے بعد ایک سال کا عرصہ مکمل نہیں ہوا کہ ان پر دوبارہ حملے شروع کیے گئے ۔
اس احتجاجی دھرنے کی قیادت کرنے والوں میں جلیلہ حیدر اور ہزارہ سیاسی کارکن کے نام سے قائم فورم کے رہنما طاہر ہزارہ شامل تھے ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے لوگوں کے پاس اختیارات نہیں اس لیے ان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے ان کو ایسی گارنٹی دی جائے تاکہ آئندہ ان پر ایسے حملے نہ ہوں اور شدت پسندی کا جڑ سے خاتمہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ دھرنے کے خاتمے کے لیے وہ ان لوگوں سے بات کرنا چاہتے ہیں جن کے ہاتھوں میں اصل اختیار ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال دو وفاقی وزراءنے دورہ کیا ان میں علی زیدی اور وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی شامل تھے۔
انہوں نے اس واقعے کی مذمت کی ان کا کہنا تھا کہ وہ ہزارہ قبیلے کے ساتھ ہیں وہ ان کوہر طرح کا تحفظ دیں گے۔ یہ شکایت عام ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو ایکش پلان ہے اس پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا جس کے باعث یہ واقعات تسلسل کے ساتھ پیش آرہے ہیں ۔ تاہم علی زیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے یہ عزم کیا ہے کہ ایکش پلان پر مکمل درآمد کیا جائے گا اور کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی ۔وفاقی وزراءنے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا جائے گا اور اس سلسلے میں تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا ۔

مصنف کے بارے میں

محمد کاظم سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*