.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » سیاسیات » پاک ایران مثالی تعلقات خطہ میں امن کیلئے ناگزیر!

پاک ایران مثالی تعلقات خطہ میں امن کیلئے ناگزیر!

پڑھنے کا وقت: 11 منٹ

منصور مہدی …..
اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت داخلہ اور خارجہ سطح پر ایسی تبدیلیاں لا رہی ہے کہ جن کی حقیقت میں مملکت خدا داد کو ضرورت تھی۔ داخلی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا فیصلہ اور خارجہ سطح پر ہمسایہ ممالک سے مثالی تعلقات قائم کرنا، جبکہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی اپنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سی پیک کے بعد روس کے ساتھ ملکی تاریخ کے ایک بڑے فوجی معائدے کی تیاریاں اور اب وزیر اعطم کے دورہ ایران کے دوران دونوں ممالک (پاک ایران ) کی جانب سے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی روک تھام کے لیے ایک مشترکہ سریع الحرکت سکیورٹی فورس بنانے اور ایران کی قیادت کو پاکستان کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی مظہر ہے۔
عمران خان پہلا دورہ ایران
وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان کا ایران کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے جس سے صرف چند دن قبل پاکستان کے صوبے بلوچستان میں اورماڑہ کی ساحلی شاہراہ پر شدت پسندوں نے ایک مسافر بس میں سوار چودہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے میں چن چن کر ہلاک کیے جانے والوں میں دس پاکستانی بحریہ کے اہلکار تھے۔ اس واقع کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس واردات میں ملوث ’دہشت گردوں کی کمیں گاہیں ایران میں ہیں۔‘
چنانچہ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ کے دوران ایران اور پاکستان نے سرحدی علاقوں میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیے ایک مشترکہ سریع الحرکت ردعمل سکیورٹی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا اعلان پیر کو تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ صدر حسن روحانی نے کہا وزیر اعظم عمران خان اور انھوں نے سریع الحرکت مشترکہ سرحدی ردعمل فورس بنانے پر اتفاق کرلیا ہے۔
یاد رہے کہ سرحدوں کے دونوں طرف سے کئی ماہ سے ہونے والے شدت پسندی کے واقعات سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

توانائی کے اہم شعبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے پاکستان کی تیل اور گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران بھر پور تعاون کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ایران کی سرحد تک تیار ہے۔ ایران پاکستان کو بجلی درآمد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
اس موقع پر پاکستانی وزیر اعظم نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ایران کے اندر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ایسے عناصر ملوث رہے ہیں جو پاکستان کی سرزمین استعمال کر کے اپنی کارروائی منظم کرتے ہیں۔ عمران خان نے ایرانی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سکیورٹی کے سربراہ اپنے ایرانی ہم منصب سے ملیں گے اور اس سلسلے میں تفصیلات طے کریں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ‘ہمیں یقین ہے کہ دونوں ملکوں کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ ہم اپنی سرزمین سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔’
واضع رہے کہ گزشتہ ماہ مارچ میں ایرانی صدر نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے صوبے سیستان میں پاسداران انقلاب پر فروری کی تیرہ تاریخ کو ہونے والے حملے کے ذمہ داران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ پاسداران انقلاب کی پریڈ پر ہونے والے اس حملے میں 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں ملوث خود کش حملہ آور کا تعلق پاکستان سے تھا اور اس حملے کی ذمہ داری ایک تنظیم جیش و عدل نے قبول کی تھی جو مبینہ طور پر پاکستان کے صوبے بلوچستان سے اپنی سرگرمیاں منظم کرتی ہے۔
پاکستان نے اورماڑہ کے حملے کے بعد کہا تھا کہ وہ دہشت گرد تنظیمیں جو بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کر رہی ہیں ان کے تربیتی مراکز اور رسد گاہیں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے متصل ایران کے سرحدی علاقے میں قائم ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے ایران کے دو روزہ سرکاری دورے کا بنیادی مقصد سرحد کے آر پار ہونے والی دہشت گردی کی مسلسل وارداتوں کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ‘سب سے زیادہ اہم وجہ میری یہاں موجودگی کی صدر صاحب یہ ہے کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ دہشت گردی کا مسئلہ مشکلات کا باعث بن رہا تھا۔ میرے لیے یہ بہت ضروری تھا کہ میں اپنے سکیورٹی سربراہ کے ساتھ یہاں آو¿ں تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔’ حسن روحانی نے عمران خان کے ساتھ اپنی ملاقات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھنے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ تہران اور اسلام آباد باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کے خواہشمند ہیں تاکہ کوئی تیسرا ملک ان تعلقات پر اثرا انداز نہ ہو سکے۔ روحانی نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے بھی دونوں ملکوں نے سیکیورٹی تعاون بڑھنے پر بات چیت کی۔
ایران کے صدر نے کہا کہ انھوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے ‘غلط اقدامات’ پر بھی بات چیت کی۔ حال ہی میں امریکہ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ ایران کے صدر نے امریکہ کے اس اقدام کو تضحیک آمیز ٹھہرایا۔ صدر روحانی نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یقین دلایا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے۔
توانائی کے اہم شعبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے پاکستان کی تیل اور گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران بھر پور تعاون کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ایران کی سرحد تک تیار ہے۔ ایران پاکستان کو بجلی درآمد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
ایران کے صدر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترکہ تجارتی کمیٹی بھی تشکیل دی جانی چاہیے تاکہ دوطرف تجارت کو بڑھایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان کی بندر گاہ گوادر کو ایران کی بندرگاہ چاہبہار سے براستہ ریل جوڑنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس رابطے سے اس علاقے میں رہنے والے مقامی افراد کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ صدر روحانی نے کہا کہ ایران پاکستان اور ترکی استنبول سے اسلام آباد براستہ ایران ریل سروس شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یورپ کو پاکستان اور چین سے ریل کے راستے جوڑا جا سکے۔
پاک ایران تعلقات تاریخ کے آئینے میں
پاک ایران تعلقات کو تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی ملک ہیں بلکہ نظریاتی، مذہبی تاریخی اور ثقافتی رشتوں اور دوستی کی گہری بنیاد یں رکھتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کو ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے والا پہلا ملک ایران تھا اور اسی طرح 1979ءکے ایرانی اسلامی انقلاب کو سب سے پہلے پاکستان کی حکومت کی جانب سے تسلیم کیا گیا۔ معمولی اتار چڑھاو سے قطعِ نظر پاکستان کی مختلف حکومتوں کے ادوار میں مجموعی طور پر پاک ایران تعلقات ہمیشہ ہی بہت اچھے رہے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پوری اسلامی دنیا کے ساتھ بالعموم اور ایران کے ساتھ بالخصوص برادرانہ اور اچھے تعلقات کی تاکید کی تھی۔ قائداعظم ہی نے راجہ غضنفر علی خان کو کو ایران میں پہلے پاکستانی سفیر کے طور پر تعینات کیا تھا۔ اس کے بعد مئی 1949ءمیں پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خاں نے ایران کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ مارچ 1950ءمیں ایران کے شاہ، رضا شاہ پہلوی نے پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ اور مئی1950ءپاکستان اور ایران کے درمیان رضا شاہ پہلوی اور لیاقت علی خاں نے دوستی کے معاہدے پر ستخط کئے۔
رضا شاہ پہلوی کے دور اقتدار میں پاکستان اور ایران کے تعلقات میں انتہائی زیادہ گہرائی اور گیرائی پیدا ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدوں پراتفاق ہوا۔ ایران نے پاکستان بہترین اور آسان شرائط پر تیل اور گیس کی پیشکش کی۔ پاکستانی اور ایرانی افواج بلوچستان میں شورش پسندوں سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کیا۔ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے بارے میں فارن پالیسی کا ماہر ہارش۔وی۔پنٹ لکھتا ہے کہ ایران پاکستان کا فطری اتحادی اور کئی معاملات میں رول ماڈل بھی تھا۔
ایران، پاکستان اور ترکی نے سیٹو میں بھی شمولیت اختیارکی۔1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ ایران کی طرف سے طبی عملہ اور دیگر سامان کے علاوہ 5 ہزار ٹن پیٹرول بطور تحفہ دیا گیا۔ ایران نے جنگ کے دوران بھارت کو تیل کی سپلائی پر پابندی کا اشارہ بھی دیا۔1955ءمیں پاکستان نے سینٹو میں شمولیت اختیار کی۔
1979ءمیں دونوں ممالک میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ایران میں انقلاب برپا ہوا او رضا شاہ پہلوی کی جگہ آیت اللہ خمینی کی حکومت قائم ہوئی جبکہ پاکستان میں جنرل ضیا نے اقتدار سنھبالا اور ذوالفقار علی بھٹو کا پھانسی دے دی گئی۔اپریل1979ءمیںآیت اللہ خمینی نے ضیا الحق کے نام اپنے ایک خط میں مسلم امہ کے اتحاد پر زوردیا اورکہا ” اسلام پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہے“ ضیا دور میں ایران اور پاکستان کے تعلقات اسی نہج پر چلتے رہے تا ہم ایران عراق جنگ میں پاکستان کے غیر جانب دار رہنے اورافغانستان پر روسی جارحیت کے دوران مذہبی فرقہ بازی کے باعث تعلقات میں کچھ اونچ نیچ بھی آتی رہی۔
1995ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے ایران کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان انرجی سکیورٹی کے معاہدے پر کام شروع ہوا۔ اس کے بعد نواز شریف کے دور حکومت میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ نواز شریف نے دسمبر 1997ءمیں 8 ویں او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لئے ایران کا دورہ کیا۔ نواز شریف نے ایرانی صدر خاتمی سے ملاقات کی اور دونوں رہنماو¿ں نے دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور مسئلہ افغانستان کے حل کے بارے میں مذاکرات کئے۔1999ءمیں جنرل پرویز مشرف نے ایران کا دو روزہ سرکاری دورہ کر کے ایرانی صدر محمد خاتمی اور سپریم لیڈر علی خامنائی سے ملاقات کی۔
2000ءمیں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سیاسی اوراقتصادی تعلقات میں بہتری آئی لیکن 11ستمبر میں امریکہ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد، پاکستان اور ایران، دونوں ممالک کو اپنی خارجہ پولیسی میں تبدیلی کرنا پڑی کیونکہ اس وقت ایران اورامریکہ کے تعلقات میں پہلے سے بھی زیادہ کشیدگی پیدا ہوگئی اورامریکہ نے ایران کو ” برائی کا محور“ قرار دے دیا۔ ایران اور امریکہ کی اس کشیدگی کے باعث پاک ایران تعلقات بھی متاثر ہوئے۔ دسمبر 2002ءمیں ایرانی صدر محمد خاتمی نے پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ 1992ءکے بعد کسی ایرانی صدر کا یہ پہلا دورہ پاکستان تھا۔اس اعلیٰ سطحی دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی شروعات دینا اور ایران، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن کے منصوبے پر بات چیت کرنا تھا۔
29 مارچ 2016ءکو ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا ” دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ہمیشہ تعمیری تعلقات قائم رہے ہیں۔ سرحدوں پر امن و امان کا قیام ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ دونوں ممالک کے مابین تعمیری تعلقات کی بنیاد ہیں۔
گیس پائپ لائن منصوبہ
پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے ابتدائی بات چیت کا آغاز 1994ءمیں ہو اتھا۔ اس منصوبے میں تیسرا فریق بھارت ہے۔ 1995ءمیںاس منصوبے کے ابتدائی معاہدے پر محترمہ بے نظیر شہید اور ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے دستخط کئے۔گیس پائپ لائن منصوبے کے بارے میں سید موسیٰ حسینی لکھتے ہیں”ایران، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن کا اہم اسٹریٹیجک منصوبہ یقیناً ایران و پاکستان کی معیشت پر مثبت نتائج کا حامل ہوگا یہی وجہ ہے کہ ایران و پاکستان کے حکام کے مسلسل اجلاس اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جاری ہیں۔“
پاکستان کو اس معاہدے کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم 2009ءمیں ایران اور پاکستان نے اس معاہدے کے ابتدائی مرحلے کے لئے حتمی دستخط کر دیئے تھے۔ یہ دستخط پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ایرنی صدر محمود احمدی نژاد نے کئے تھے۔ 2009ءمیں بھارت قیمت کو جواز بنا کر اس معاہدے سے الگ ہو گیا تاہم مارچ2010ءمیں بھارت نے ایک پھر پاکستان اور ایران کو اس معاملے پر سہ فریقی مذاکرات کے انعقاد کا عندیہ دے دیا۔
ابتدائی ڈیزائن کے مطابق یہ پائپ لائن2700کلو میٹر لمبی ہے۔ اس کا1100 سو کلو میڑ علاقہ ایران، 1000کلو میٹرپاکستان اور 600کلومیٹر بھارت میں ہوگا۔ اس پائپ لائن کی چوڑائی 56 انچ تھی جسے بھارت کے الگ ہوجانے سے کم کر کے42 انچ کر دیا گیا۔ ایران اپنی حدود میں پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کر چکا ہے جبکہ پاکستان میں امریکی مخالفت کی وجہ سے یہ کام التوا کا شکار ہے۔ دوسری جانب ایران اب بھی اس کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہے۔
ایران کیساتھ مزید بہتر تعلقات میں حائل رکاوٹیں
پاکستان اورایران کے تعلقات جتنے اچھے قیام پاکستان کے فوری بعد رضا شاہ پہلوی کے دور میں تھے، اب ہم ان کو اتنا اچھا نہیں کہہ سکتے، ان میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ کئی ایسے عوامل ہیں جو ایران کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں حائل کئے ہوئے ہیں۔
ان عوامل میں سر فہرست مذہبی فرقہ واریت ہے۔ ایران میں90 فیصد آبادی شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ شیعہ فیکٹر کی وجہ سے پاکستانی عوام کے دلوں میں ایران کے لئے وہ وابستگی پیدا نہیں ہوتی جو سعودی عرب یا دیگر ایسے مسلمان ممالک کے ساتھ ہوتی ہے جہاں اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے۔
ایران کے روس کے ساتھ اچھے اور اسرائیل سے مخاصمانہ تعلقات اور ایران کا جوہری پروگرام امریکہ کی اس کے ساتھ مخاصمت کا سبب ہیں۔ اس مخاصمت کی وجہ سے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران اور امریکہ کے تعلقات بدستورکشیدہ چلتے آرہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان اپنے قیام سے لے کر اب تک امریکہ کا اتحادی ہے۔ اس طرح امریکہ کی ایران کے ساتھ کشیدگی بھی پاک ایران تعلقات میں رکاوٹ ہے جس کا واضح ثبوت ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ کسی صورت بھی نہیں چاہتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ایسے تعلقات اوراقتصادی منصوبے پروان چڑھیں جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہوں۔
بھارت جس طرح افغانستان کے ساتھ پاکستان کے مثبت اوراچھے تعلقات نہیں دیکھ سکتا بالکل اسی طرح وہ ایران اور پاکستان کے تعلقات سے خائف رہتا ہے۔ گیس پائپ لائن کا منصوبے میں اس قدر تاخیر کا سبب جہاں ہماری اپنی کوتاہی ہے وہاں بھارت بھی اس کا ذمہ دار ہے، جو معاہدے میں شامل ہونے کے تقریباً15سال بعد اس سے الگ ہو گیا اوردوبارہ پھر سہ فریقی مذاکرات کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ اس کے علاوہ سی پیک او گوادرکے منصوبے بھارت کی شیروانی میں کانٹا ثابت ہو رہے ہیںجو اسے ایک پل سکون سے ٹکنے نہیں دیتے، اورایران کو چاہ بہار بندر گاہ کا سہنانا خواب دکھانے میں مصروف ہے۔
پاکستان کو کیا کرنا چاہیئے؟
ایک ملک کے تعلقات کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ اس قدر مثالی نہیں ہوتے جتنا خیال کیا جاتا ہے،کیونکہ سفارتی تعلقات کی نوعیت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، ان میں ضروریات اور مفادات کے تحت تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ عقلمند اقوام حالات کا پیشگی جائزہ لے کراس کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرتی ہیں۔ جہاں مفاد نظر آئے وہاں اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی سر توڑکوشش کرتی ہیںاور اپنے مفادات کو یقینی بناتی ہیں۔
بین الاقوا می تعلقات کی یہ اولین شرط ہے کہ ان کی بنیاد ہی مفادات پر ہوتی ہے۔ کسی ملک کے ساتھ مخالفت مول لی جائے تو مفادات کی بنیاد پر اوراگر اتحاد کیا تو اس کی بنیاد بھی مفادات ہی ہوتے ہیں۔ ہمیں ایران کے ساتھ بہتر اور مفید تعلقات استوار کرنے کے لئے اسی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔ ہر ملک کے ساتھ تعلقات کا دائرہ کار مخصوص ہوتا ہے لیکن ہم امریکہ اورسعودی عرب کی وجہ سے اکثر ایران کے ساتھ اپنے وابستہ مفادات کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ حالانکہ ایران کے ساتھ مثبت اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے ذریعے ہم اپنی تیل،گیس اور بجلی کی ضروریات احسن طریقے سے پورا کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں صرف ایسی متحرک اور مو¿ثر خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جس کے تحت ہم امریکہ کو یہ باور کروا سکیں کہ ایران کے ساتھ ہمارے بہتر تعلقات سے اس کے مفادات متاثر نہیں ہو گے۔دوسرا یہ کہ سعودی عرب کے ساتھ ہماری عقیدت اور وابستگی ایک ایسا امر ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن امت کے اتحاد اور اپنے معاشی مفادات کی خاطر ہمیں چاہیئے کہ ہم ایران سے ہیچھے ہٹنے کی بجائے اس کے سعودی عرب کے ساتھ موجود اختلافات ختم کرانے کی کوشش کریں اور کسی بھی دوسرے اسلامی ملک کو ناراض کئے بغیر ایران کے ساتھ مثبت تعلقات بنائیں۔
اسرائیل کے ساتھ ہمارے اور ایران کے تعلقات کم وبیش ایک جیسے ہیں۔ اس ہم آہنگی کو بھی دنوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا ہے۔
ایران افغان خانہ جنگی سے متاثر ہورہا ہے اور پاکستان بھی۔ ایران وہاں استحکام کے فروغ کا خواہاں نظر آتا ہے جبکہ پاکستان اس کے لئے عملی کوششیں کررہا ہے۔ ایران میں لاکھوں افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں جن کی وطن واپسی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور پاکستان بھی بالکل ایسی صورت کا سامنا کر رہا ہے۔ افغانستان کے حالات اور ان کا پاکستان اورایران پراثر ایک ایسا فیکٹر ہے جسے پاک ایران تعلقات میں بہتری کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
روس کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور حال ہی میں سی پیک کی وجہ سے پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہوئے ہیں۔ روس کے ذریعے نہ صرف ایران سے اچھے تعلقات قائم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے بلکہ گوادراور سی پیک پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان عوامل کے علاوہ پاکستان میں فرقہ واریت پر قابو پاکر بھی ایران کے ساتھ معاشی تعلقات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ فرقہ واریت پر قابو جہاں عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے وہاں اندرونی حالات کا بھی تقاضا ہے کہ افرتفری پیدا کرنے والے اس جن کو ہمیشہ کے لئے بوتل میں بند کردیا جائے۔
ثقافتی، تاریخی، سیاسی، معاشی اور دفاعی معاملات، علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں کے محرکات، اقوام اور حکومتوں کی قربت کا سبب بنتے ہیں۔ دونوں عظیم ممالک ایران ا ور پاکستان کے باہمی تعاون کے فروغ اور قربت کے لیے یہ سب ہی اسباب مہیا ہیں۔ ضرورت ہے تو ان پر عمل کرنے اور انہیں بروئے کار لانے کی۔ دونوں ممالک اور خطے کے روشن مستقبل کے لئے ریلوے اور سڑکوں سے رابطہ موثر بنایا جائے۔ میڈیا کے محاذ پر تعلقات میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ ثقافت کے شعبہ میں دونوں ممالک کی مصنوعات اور کتب کی نمائشیں، علمی سیمینار اور فلموں کا تبادلہ بڑے پیمانے پر کیا جائے۔ جدید دور میں جبکہ اغیارمسلمان معاشروں میں گہری تبدیلیاں لانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، وہ ان معاشروں کی اسلامی شناخت ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم ایران کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھائیں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو، خوشحالی کا بول بالا ہو اور دونوں ممالک تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مضبوط کر کے ترقی کی منازل طے کر سکیں۔

مصنف کے بارے میں

منصور مہدی سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*