HTV Pakistan

خیبر پختونخوا : لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

فدا خٹک …..
خیبرپختونخواحکومت نے مقامی حکومتوں کے لئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی ہے جس میں ضلع ناظم اور ضلع کونسل کو مکمل طور پر ختم کیاگیاہے جبکہ سٹی کونسل و تحصیل کونسل کے لئے میئر اور تحصیل چیئرمین کا انتخاب براہ راست ہوگا ۔ضلع کونسل اور ضلع ناظم کے خاتمے کے بعد ضلعی سطح پر اب تمام اختیارات ڈپٹی کمشنرکے پاس ہوں گے ۔ادھراپوزیشن جماعتوں نے خیبرپختونخواکے بلدیاتی نظام میں مجوزہ ترامیم کو ردکرتے ہوئے عدالت جانے کااعلان کیا ہے اوررواضح کیاہے کہ ضلع کونسل کے خاتمے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیاجائے گا۔
صوبائی کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2019کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت مقامی حکومتوں کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں ،ضلع کونسل اور ضلع ناظم کے عہدے کو ختم کردیاگیا ہے جبکہ تحصیل ’ٹاﺅن اور نیبرہوڈ کونسل کو برقراررکھاگیا ہے، سٹی کونسل کا سربراہ میئر جبکہ تحصیل کونسل کا سربراہ چیئرمین کہلائے گا۔صوبائی وزیر بلدیات شہرام ترکئی کے مطابق اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں یہ ترمیمی بل پیش کیا جائے گا، نئے لوکل گورنمنٹ بل کے تحت بلدیاتی نظام کو دو درجے ہیں،جس کے تحت ناظمین اب چیئرمین کہلائینگے جبکہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرزمیں سٹی کونسل قائم ہوں گے جس کا سربراہ میئر اور نائب میئر کہلائیں گے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلم، یوتھ افیئرز، سپورٹس’ محکمہ زراعت و لائیوسٹاک، توسیع زراعت اور محکمہ آبپاشی مقامی حکومتوں کے ماتحت ادارے ہونگے اسکے علاوہ ہیومن ریسورس کوارڈینیشن، بنیادی صحت مراکز، رورل اور تحصیل ہسپتال بھی ان کے ماتحت ہونگے۔
مئیر’ تحصیل چیئرمین اور ٹاﺅن کونسل کے چیئرمین کے انتخابات براہ راست ہوں گے ۔ نئے نظام میں 33 فیصد خواتین اور پانچ پانچ فیصد کوٹہ نوجوانوں اور اقلیت کا ہوگا، ویلیج اور نیبرہوڈ کونسل میں ممبران کی تعداد چھ سے سات ہوگی، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلم، یوتھ افیئرز اور سپورٹس’محکمہ زراعت و لائیوسٹاک، توسیع زراعت اور محکمہ آبنوشی بھی ماتحت ادارے ہونگے اسکے علاوہ ہیومن ریسورس کوارڈینیشن، بنیادی صحت مراکز، رورل اور تحصیل ہسپتال بھی مقامی حکومت کے ماتحت ہونگے۔ نئے بلدیاتی نظام میں زیادہ اختیارات ضلعی انتظامیہ یعنی ڈی سی کے پاس ہوں گے اگرچہ تحصیل چیئرمین اور میئر سٹی کونسل کو بھی محدود اختیارات دئے گئے ہیں تاہم اسی طرح صوبائی حکومت براہ راست لوکل باڈی کمیشن کے ذریعے کسی بھی تحصیل کونسل میں مداخلت کا اختیاررکھتی ہے اگرکوئی تحصیل کونسل اپنا بجٹ پاس کرنے میں ناکام رہتی ہے تو لوکل باڈی کمیشن کے ذریعے خیبرپختونخوا حکومت اس تحصیل کے بجٹ کو پاس کرسکتی ہے ۔
تحصیل کونسل کوبھی چوں چوں کا مربہ بناتے ہوئے براہ راست سیاسی جماعت کے منتخب تحصیل ناظم اور غیرسیاسی طورپرمنتخب مقامی ویلج کونسل کے ناظم کاآمیزہ بنایاگیا ہے ۔ سابقہ نظام میں ضلع ناظم اور ضلع کونسل ہی اختیارات کا مرکزہوتے تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او تک ضلع ناظم کوجوابدہ ہوتے تھے جبکہ ترمیم کے ذریعے اب ضلع کونسل کو ہی ختم کردیا گیا ہے ۔ کئی محکموں کے تحصیل لیول پر افسر ہی نہیں ہوتے اب اس ضلعی افسر کو تحصیل کونسل کس طرح طلب کر سکتی ہے اسی طرح 2013کے ایکٹ میں ضلع کونسل ضلع پولیس افسر کو طلب کرنے کااختیار رکھتی تھی تاہم نئی ترامیم میں یہ اختیارات بھی ختم کردیا گیا ہے، اسی طرح محکمہ صحت کو بھی مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیارسے نکال دیاگیاہے۔
نئی ترامیم کے مطابق تحصیل ناظم کا انتخاب براہ راست جماعتی طرز پر ہوگا تاہم کونسل کے اراکین غیرجماعتی طو رپرمنتخب ہونگے غیرجماعتی طرزانتخاب کے ذریعے منتخب ویلج کونسل یا نیبرہوڈکونسل کاچیئرمین براہ راست تحصیل کونسل کاممبرہوگا اسکے علاوہ متعلقہ تحصیل کے زیادہ ووٹ لینے والی33فیصد خواتین بھی تحصیل کونسل کی رکن ہونگی جس کے باعث تحصیل کونسل کوبجٹ پیش کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ایک اعلیٰ افسرکے مطابق جماعتی طرزانتخاب کے ذریعے منتخب کونسل میں فیصلے سیاسی بنیادوں پر کئے جاتے ہیں اور تمام کونسلرزان فیصلوں پرعمل درآمدکرنے کے پابند ہونگے لیکن غیرسیاسی طور پر منتخب تحصیل کونسل آنے والے دور میں صوبائی حکومت کے لئے درد سر ہوگی۔ اپوزیشن جماعتوں نے بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم کو مقامی حکومتوں کے نظام پر وار قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے ۔
سابق صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ کے مطابق ضلع کونسل اور ضلع ناظم کا خاتمہ براہ راست اس نظام پروار ہے جس کے کےلئے مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لایاگیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ 2013ءکا ایکٹ آئیڈیل نہیں تھا لیکن اس میں ایسی تبدیلیاں ہونی چاہئے کہ جس سے مقامی حکومتوں کو اختیارات ملے لیکن مجوزہ نئی ترامیم نے ان کے تمام اختیارات سلب کردئیے ہیں۔ عنایت اللہ کا کہنا تھاکہ آئین نے واضح کیاہے کہ اقتدارکی نچلی سطح پرمنتقلی ہونی چاہئے لیکن مجوزہ ترامیم میں آئین کے بنیادی روح سے انحراف کرتے ہوئے ضلع ناظم اور ضلع کونسل کوختم کردیاگیابیشترمحکمے افسرشاہی کودینے سے اس نظام کے پراوربال کاٹ دئیے گئے ہیں تحصیل کونسل غیر سیاسی لوگوں کا جب کہ تحصیل ناظم سیاسی طورپرمنتخب کونسلرہوگا اسکے علاوہ ایسے بیشترمحکمے جو عوامی نمائندوں کودینے چاہیے تھے وہ نہیں دئیے جا رہے اس لئے مجوزہ ترامیم کےخلاف صوبائی اسمبلی میں بھرپورآواز اٹھائینگے اور جماعت اسلامی اس کے خلاف عدالت جائیگی ۔
قومی وطن پارٹی کے صوبائی صدرسکندر شیرپاﺅ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف جس بلدیاتی نظام کاکریڈٹ لے رہی تھی آج ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے اسی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ضلع کونسل کاخاتمہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اسکے خلاف ہرعوامی فورم پر آواز اٹھائینگے،جے یوآئی کے غلام علی نے بتایاکہ پاکستان تحریک انصاف نے ملک اورصوبے کو تجربہ گاہ بنا رکھا ہے، قوانین پاس کئے جاتے ہیں اور ادارے بنائے جاتے ہیں اور پھرخود ہی اس کو ختم کر دیتے ہیں، بلدیاتی نظام ان مجوزہ ترامیم کو یکسرردکرتے ہیں ضلع کونسل اور ضلع ناظم ہی اس نظام کی اصل روح ہے، جے یوآئی اس کے خلاف عدالت جانے کے علاوہ تمام فورم پر آواز اٹھائے گی۔ ن لیگ کے اختیار ولی اورانتخاب چمکنی نے بتایاکہ بلدیاتی نظام کے مجوزہ ترامیم میں کئی سقم ہیں تحصیل کونسل کو آدھاتیترآدھابٹیربنادیاگیاہے صوبائی اسمبلی سمیت ہرفورم پراس مجوزہ ترامیم کےخلاف آوازاٹھائینگے اور مسلم لیگ ان ترامیم کے خلاف تحریک میں بھر پورحصہ لے گی۔
کسی بھی جمہوری نظام میں مقامی حکومتوں یا بلدیاتی اداروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ’دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں دفاع ’خارجہ اور چند ایک محکموں کے علاوہ تمام محکمے مقامی حکومتوں کے زیر نگرانی کام کرتے ہیں جس کا مقصد عوام کو انکی دہلیزپر خدمات کی فراہمی ہے تاہم بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہمیشہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط ہونے سے روکا گیا اور ہر حکومت کی کوشش رہی ہے کہ مقامی حکومتوں کو پنپنے کا موقع نہ دیا جائے ۔ جنرل ایوب خان کے بی ڈی سسٹم سے لیکر جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام تک متعدد تجربے کئے گئے ۔
ماہرین نے جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کو اب تک کے تمام بلدیاتی نظاموں میں بہترین اور عوام کے مفاد میں قراردیا ہے ۔2013میں جب خیبر پختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو یہاں پر نیا بلدیاتی نظام لایاگیا لیکن اب پانچ سال بعد تحریک انصاف نے اپنے ہی نظام میں نقب لگاکر اسے تبدیل کردیا اور ضلع کونسل کا خاتمہ کردیا۔
نیا بلدیاتی ترمیمی ایکٹ اب اسمبلی سے قانون کی شکل میں منظور ہوگا اور اسی سال منعقد ہونے والے انتخابات نئے قانون کے تحت ہوں گے تاہم ابھی سے اس نظام پر تحفظات سامنے آگئے ہیں ضلع کونسل کے خاتمے کی صورت میں تمام اختیارات ضلعی انتظامیہ یعنی ڈی سی کے حوالے کئے گئے ہیں جس کے خلاف خود تحریک انصاف کے حلقوں نے بھی احتجاج کیا ہے ۔نیا نظام کیسا ہوگا اور اس سے عوام کو کیا فوائد حاصل ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا تاہم ماضی میں دیکھاگیا ہے کہ بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ ممبران صوبائی اسمبلی بھی اسکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

فدا خٹک سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*