HTV Pakistan

صوبائی حکومت نے امتحانات میں نقل مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

ریاض احمد ساگر …..
ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف احتساب کا شکنجہ کستا جا رہا ہے تو دوسری جانب پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت بیڈگورننس کے بھنور میں پھنستی دکھائی دے رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ صوبے کی پولیس اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس سندھ اگرچہ صوبائی حکومت کے ماتحت ادارہ ہے مگر قانون میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے باعث مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ آئی جی پولیس کے اختیارات کا بھی ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کا محکمہ صوبائی حکومت کے ماتحت ہے اور اس حوالے سے مزید قانون سازی بھی صوبائی حکومت کا استحقاق ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو اپنے ماتحت ادارے سندھ پولیس کے اختیارات کے حوالے سے شکایت کرتا نظر آ رہا ہے۔ شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پولیس کا محکمہ صوبائی حکومت کی رٹ چیلنج کر رہا ہے تو اسے صوبائی حکومت کی کمزوری اور بیڈ گورننس ہی گردانا جائے گا۔ محکمہ پولیس پر گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور پولیس پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے صوبائی حکومت نے قانون سازی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے نیا پولیس ایکٹ لانے اور کمیونٹی پولیس کے تصور کو قانونی شکل دینے کی بھی تیاری کی جا رہی ہیں۔

صوبے میں میٹرک و انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کے دوران موبائل فون کے ذریعے پرچے آﺅٹ کرائے جانے اور نقل کرائے جانے کے معاملے کو روکنے پر صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ صوبے میں میٹرک و انٹرمیڈیٹ کے امتحانات مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس میں تقرریاں اور تبدیلیوں کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہونے کے باوجود پولیس پر صوبائی حکومت کا اختیار نہ ہونا حکومتی کمزوری کے مترادف ہے۔ صوبے کے امن و امان میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ادارے پولیس پر اختیار نہ ہونے کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا محکمہ تعلیم پر بھی اختیار کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ صوبے بھر میں میٹرک و انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں نقل مافیا کے آگے صوبائی حکومت گھٹنے ٹیکتی دکھائی دے رہی ہے۔ صوبائی حکومت کی وزارت تعلیم ، تعلیمی بورڈز اور ضلعی انتظامیہ نقل مافیا کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔ امتحانات سے قبل پرچوں کا آﺅٹ ہونا، امتحانی مراکز میںمنظم انداز میں نقل کرائی جا رہی ہے ۔
صوبے میں میٹرک و انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کے دوران موبائل فون کے ذریعے پرچے آﺅٹ کرائے جانے اور نقل کرائے جانے کے معاملے کو روکنے پر صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ صوبے میں میٹرک و انٹرمیڈیٹ کے امتحانات مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز اپنے ماتحت کر لئے ہیں تاہم ان تعلیمی بورڈز میں سے بیشتر میں سفارشی افسران کو چیئرمین کے عہدوں سے نوازنے اور بیشتر تعلیمی بورڈز میں ناظمین امتحانات کی اسامیوں پر عارضی افسران کی تقرریوں سے امتحانی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ صوبے کے ساتوں تعلیمی بورڈز کے چیئرمین نہیں صوبائی حکومت اعلیٰ مشاہرے اور مراعات دے رہی ہے شفاف امتحان کرانے میں ناکام ہیں۔
سیاسی حلقے الزام لگا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت صوبے میں نقل کی سرپرستی کر رہی ہے تاکہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں میٹرک و انٹرمیڈیٹ کے نتائج بہتر آ سکیں۔ ماہرین کے مطابق سندھ کا تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں طلباءوطالبات اور والدین کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ سندھ میں سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی نہ ہونے کی وجہ سے طلباءو طالبات کو مجبوراََ کوچنگ سینٹرز میں داخلہ لینا پڑتا ہے ۔ طلبا و طالبات کوچنگ مافیا کے ہتھے چڑھنے کے بعد نقل مافیا کے نرغے میں آ جاتے ہیں ۔ صوبائی حکومت نہ تو سرکاری کالجوں اور اسکولوں میں اساتذہ اور طلباءکی حاضریوں کو یقینی بنا سکی ہے اور نہ ہی صوبے میں کوچنگ سینٹرز کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کر سکی ہے ۔
سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے اکثر اساتذہ کوچنگ سینٹرز پر باقاعدگی سے جا کر پڑھا رہے ہیں مگر سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں نہیں پڑھاتے ۔ صوبائی حکومت صوبے ایسے سرکاری تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کرتی جو شفاف امتحانات کرانے میں ناکام ہیں ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے وزراءاور رہنما وفاقی حکومت کی ناکامیوں اور کمزوریوں پر شور مچانے پر اپنی تمام تر قوت صرف کرتے نہیں تھکتے مگر اپنی صوبائی حکومت کی ناکامیوں پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں ۔ صوبائی حکومت اٹھارہویں ترمیم کے خلاف ہر کوشش کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کرتی ہے مگر اٹھارہویں ترمیم کے بعد ملنے والے اختیارات کو استعمال بھی نہیں کرتی ۔
صوبائی حکومت اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب تک صوبے میں پہلی چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت کے نصاب کو تبدیل نہیں کر سکی جس کی وجہ سے صوبے بھر کے لاکھوں طلبا و طالبات بیس سالہ پرانا نصاب اور درسی کتب پڑھنے پر مجبور ہیں ۔ سندھ کی جامعات گرانٹ سے محروم ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ادویات غائب ہیں ۔ اٹھارہویں ترمیم پر کوئی سمجھوتا نہ کرنے کا بار بار اعلان کرنے والی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے ہاتھ سے قومی ادارہ برائے امراض قلب اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال کراچی نکل کر دوبارہ وفاق کے پاس چلے گئے ہیں اسی طرح کراچی میوزیم بھی صوبائی حکومت کے ہاتھ سے نکل کر وفاقی حکومت کے پاس جا چکا ہے ۔

مصنف کے بارے میں

ریاض احمد ساگر سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*