.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » ادب » طلسم ہوش ربا …….. نوشاد عادل

طلسم ہوش ربا …….. نوشاد عادل

پڑھنے کا وقت: 96 منٹ

خوف اس کے جسم کے ریشے ریشے میں سرایت کر گیا۔ اس مرتبہ اس نے بالکل واضح کسی کے گہرے گہرے سانوں کی آوازیں سنی تھیں۔ اس جنگل میں اس کے علاوہ بھلا اور کون تھا۔ آسیبی ہوا درختوں، جھاڑیوں سے اُلجھ کر خوف ناک آوازیں نکال رہی تھیں۔ اندھیرے میں درختوں کے ہیولے بڑے بڑے بھتنوں کی طرح لگ رہے تھے۔ وہ دہشت زدہ ہو کر گھوم گھوم کر چاروں جانب دیکھنے لگا، لیکن وہاں اس کے علاوہ اور کوئی ذی روح نہ تھا۔
یک لخت کوئی پرندہ کسی درخت سے اڑا اور کٹیلی آواز نکالتا ہوا کسی سمت چلا گیا۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آپھنسا۔ پرندے کی یہ اضطراری حرکت خارج از علت نہ تھی۔ ضرور اس کے پیچھے کوئی بات تھی۔ کیا بات تھی۔۔۔ وہ جان نہ سکا۔ وہ آدمی تیزی سے ایک جانب قدم بڑھانے لگا۔ وہ جلد از جلد اس جگہ سے دور نکل جانا چاہتا تھا۔ گرتا پڑتا، جھاڑیوں اور درختوں کی گری ہوئی سوکھی شاخوں سے اُلجھتا ہوا وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ سانسیں تھیں کہ قابو میں نہیں آ رہی تھیں۔ اسے اب بھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ بار بار وہ پلٹ کر اپنے عقب میں دیکھ رہا تھا، لیکن عقب میں صرف اندھیرے ہی متعاقب تھے۔ اچانک اندھیرے میں وہ کسی درخت کے مضبوط تنے سے ٹکرا گیا اس کے منہ سے سسکی سی نکل گئی۔ اب جو وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر درخت کے تنے کو دیکھتا ہے تو اس کا دم ہی نکلنے لگا۔
وہ درخت کا تنا نہیں تھا، کیوں کہ درخت کا تنا حرکت کر سکتا ہے اور نہ وہ گہری گہری سانسیں لے سکتا ہے۔ وہ کچھ اور ہی شے تھی۔ زندہ شے۔ جو سانسیں لے رہی تھی اور اپنی لال شعلے برساتی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔ معاً اس نے اپنے درخت کی موٹی شاخوں جیسے بازو بڑھائے اور خوف سے بے حس و حرکت کھڑے آدمی کو دبوچ لیا۔ اس آدمی کے منہ سے دہشت میں بھیگی ہوئی ایک دل دوز چیخ نکلی۔ اس عفریت نے اس سے کہیں زیادہ بھیانک دھاڑ ماری اور اس آدمی کے دونوں کندھوں کو مخالف سمتوں میں کھینچ ڈالا۔ کیا منظر تھا۔ وہ آدمی اپنی زندگی کی آخری موت گرفتہ چیخوں کے ساتھ کسی کپڑے کی طرح درمیان میں سے پھٹتا چلا گیا۔ خون کے آبشار کے ساتھ اس کا دل، آنتیں اور گردے پھیپھڑے وغیرہ باہر نکل کر جھولنے لگے۔ پیٹا نکل کر بھد سے کچی زمین پر گر گیا تھا۔
اس بلا نے آدمی کے مرتے ہی فاتحانہ انداز میں دھاڑ ماری تھی، جو جنگل کے آخری سرے تک گئی۔ مرنے والے کے دونوں ٹکڑے بلا کے ہاتھوں میں جھول رہے تھے۔
’’زبردست۔۔۔ ویری گڈ۔۔۔‘‘ ناصر اچھل پڑا وہ ویڈیو پر انگریزی خوف ناک فلم دیکھ رہا تھا۔ یہ سین دیکھ کر وہ بے اختیار اچھل ہی گیا تھا۔ اسے ہارر فلمیں دیکھنے کا جنون تھا۔ جو بھی نئی مووی آتی تھی وہ پہلی فرصت میں لا کر دیکھ لیتا تھا۔ گھر والے اس کی اس ہابی سے پریشان تھے۔ اس کی والدہ اسے اکثر ٹوکتی رہتی تھیں، لیکن ناصر مانتا ہی نہیں تھا۔ رات کو جب سب سو جاتے تھے تو وہ خاموشی سے فلم لگا کر دیکھتا تھا۔ کل سارے گھر والے ایک رشتے دار کی شادی میں شرکت کے لیے دوسرے شہر گئے تھے۔ ناصر نے کالج کی مصروفیات کا بہانہ تراشا تھا۔ مقصد صرف نئی انگریزی فلمیں دیکھنا تھا۔ ناصر کے علاوہ وہاں دو ملازم بھی تھے، جو سرونٹ کوارٹرز میں نیند کے مزے لوٹ رہے تھے۔
ناصر نے پوری فلم دیکھ کر ہی ٹی وی اور وی سی ڈی آف کیے۔ فلم کے سنسنی خیز مناظر اب تک ناصر کی آنکھوں میں گھوم رہے تھے۔ وہ ابھی لائٹ آف کرنے کے لیے سوئچ بورڈ کی جانب بڑھا ہی تھا کہ اچانک ہی اس نے رکھوالی کے کتوں کے بھونکنے کی تیز تیز آوازیں سنیں ناصر چونک گیا۔ کتے تب ہی بھونکتے تھے۔ جب کوئی غیر معمولی بات ہو۔ ناصر کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ خوف ناک فلم کے اثرات ابھی تک ذہن سے زائل نہیں ہوئے تھے۔ وہ اپنے جسم میں بے پناہ سنسنی محسوس کر رہا تھا۔ جیسے وہ بھی کسی خوفناک فلم کا کردار ہو۔
اس نے کھڑکی کا ایک پردہ ہٹا کر جھانکا تو اسے اندھیرے میں دونوں کتوں کے مدھم اور مٹے مٹے سے ہیولے نظر آئے جو لان میں اِدھر اُدھر بے چینی کے عالم میں بھاگ رہے تھے۔ ناصر نے پردہ برابر کیا تو ایک دم کتوں کی آوازیں رک گئیں۔ وہ خاموش ہو گئے تھے بالکل خاموش، جیسے کسی نے ہاتھ مار کر ٹیپ ریکارڈ بند کر دیا ہو۔ ناصر کا دل سر میں آ کر دھڑکنے لگا۔ اس کے مسامسوں سے پسینے کی دھاریں پھوٹ پڑیں۔ خوف برف کی طرح آہستہ آہستہ جمنے لگا۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کتے کیوں خاموش ہو گئے۔ ناصر کے دماغ میں بیک وقت کئی سوالات کی یلغار ہو گئی، لیکن وہ کسی بھی طریقے سے خود کو مطمئن نہ کر سکا۔ پھر اس نے سنبھالا لے کر ہمت کا دامن پکڑا اور دروازہ کھول کر کوریڈور میں آ گیا۔ پورا گھر بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ سناٹے کے بھوت خاموش قہقہے لگا رہے تھے۔ ناصر نے زور سے نوکروں کو آوازیں لگائیں۔
’’رشید۔۔۔ افضل۔۔۔‘‘ مگر جواب ندارد۔ وہی جان لیوا سناٹا۔
وہ کئی مرتبہ چلایا، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ڈر کے مارے ناصر کا برا حال ہو گیا تھا۔ کتوں کی آوازیں بھی دوبارہ نہیں آئی تھیں۔ نہ جانے ان کے ساتھ کیا ہو گیا تھا۔ ناصر کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی بھیانک خطرہ اس کے سر پر موت کے پرندے کی طرح چکرا رہا ہے۔ اسے کبھی اتنا خوف محسوس نہیں ہوا تھا جتنا آج محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے پیروں میں واضح کپکپاہٹ شروع ہو گئی تھی۔ وہ دوبارہ کمرے میں گیا اور ٹارچ نکالی۔ اب وہ کوریڈور سے لان کی جانب بڑھ رہا تھا۔ بیرونی گیٹ کے اوپر لگے بلب روشن تھے، جن کی ہلکی زرد روشنی نے اس کی کچھ ڈھارس باندھی تھی۔ وہ ابھی لان تک پہنچا ہی تھا کہ یک بارگی وہ بلب بھی بجھ گئے۔ ناصر کا پورا بدن ہل کر رہ گیا۔ اگر ٹارچ نہیں ہوتی تو یقیناً وہ بھاگ نکلتا۔ لائٹ کو بھی ایسے ہی وقت جانا تھا۔ وہ ٹارچ کی روشنی میں بڑھتا ہوا سرونٹ کوارٹرز آ گیا۔ اس نے دیکھا رشید کے کوارٹر کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ یہ ایک اچنبھے والی بات تھی۔ رشید اور افضل اپنے کوارٹر کے دروازے اندر سے بند کر کے سوتے تھے۔ ہو سکتا ہے رشید سونے سے پہلے دروازہ بند کرنا بھول گیا ہو، لیکن یہ بات ناصر سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ وہ خوف اور تجسس کی ملی جلی کیفیت میں آگے بڑھا اور دروازہ عبور کر کے اندر آ گیا۔ ٹارچ کی روشنی میں اس نے اندر جو کچھ دیکھا تو اس کی حرکت قلب رکتے رکتے بچی۔ اسے چکر آ گئے۔ خود کو گرنے سے بچانے کے لیے اس نے دروازے کی چوکھٹ کا سہارا لیا تھا۔
اندر کا منظر انتہائی ہول ناک تھا۔
ناصر کو ایسا لگا جیسے اس کی کھوپڑی تن سے جدا ہو کر فضا میں معلق ہو گئی ہے یا وہ اب تک کوئی ہارر مووی دیکھ رہا ہے۔ پورے کمرے کی دیواروں پر خون کی چھینٹیں لگی ہوئی تھیں۔ تازہ اور سرخ چمکتا ہوا خون، چھت کا پنکھا لائٹ کے جانے کے بعد بھی اب تک آہستہ آہستہ گھوم رہا تھا۔ اسی رفتار سے ناصر کو اپنا سر بھی گھومتا ہوا لگ رہا تھا۔ وہ چیخنا چاہتا تھا، لیکن اس کی قوت گویائی مصلوب ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ بھاگنا چاہتا تھا، مگر خوف کی زنجیروں نے اس کے قدموں کو جکڑ لیا تھا۔ پھر اس نے اپنے عقب میں گہری سانسوں کی غیر انسانی آوازیں سنیں۔ ناصر خوف سے کانپتے ہوئے پلٹا۔ اس کے ذہن میں انگریزی فلم کا وہ منظر گردش کر رہا تھا، جس میں مرنے والا آدمی جنگل میں ایسے ہی گہرے سانسوں کی آوازیں سنتا ہے۔
اس کے عقب میں کوئی کھڑا تھا۔
ناصر نے اسے دیکھا۔ اس کے حواس ہوا بن کے اڑ گئے۔ اف۔۔۔ نہ جانے کیا شے تھی وہ۔ اس سے زیادہ ناصر میں ہمت نہیں تھی۔ اس کی حرکت قلب رک گئی۔ اچھا ہی ہوا کہ وہ پہلے ہی مر گیا۔ ورنہ پھر اسے اپنا جسم پھٹتے ہوئے دیکھنا پڑتا۔ اس عفریت نے ناصر کو پکڑا اور کاغذ کی طرح دو حصوں میں پھاڑ ڈالا، جس طرح اس نے دونوں کتوں اور رشید کو مارا تھا۔ سرونٹ کوارٹر سے کچھ دور دور بڑے بڑے پودوں کی اوٹ میں دونوں کتوں اور رشید کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ وہاں اب تک وہ خوف ناک غراہٹ گونج رہی تھی۔
باب 2
ڈرائنگ روم سے اُبھرنے والی آوازیں بتدریج تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ یہ آوازیں پروفیسر نجیب اور ڈاکٹر بیدی کی تھیں، جو کسی مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے۔ یہ بحث گزشتہ دو گھنٹوں سے جاری تھی اور نان اسٹاپ ابھی تک نشر ہو رہی تھی۔ اختر آدھا گھنٹہ تو ان کے ساتھ بیٹھا رہا، لیکن پھر بیزار ہو کر اپنے کمرے میں آ گیا۔ وہیں اس کا پالتو کتا ہیرا تھا۔ اختر ہیرا کے ساتھ کھیلنے لگا۔ ادھر ڈرائنگ روم میں معاملہ شائستگی کی حد سے نکل کر گرمی گفتار تک جا پہنچا تھا۔ وہ دونوں کسی بھی موضوع پر بات چیت کرتے تھے تو اپنی اپنی برتری ثابت کرنے پر تلے رہتے تھے۔ دونوں ہی ڈھیٹ ہڈی ثابت ہوتے تھے۔ اکثر نتیجہ لڑائی اور خفگی کی صورت میں ہی نکلتا تھا۔ اختر دونوں کو دل ہی دل میں خوب بے بھاؤ کی سنانے لگا۔
پروفیسر نجیب ایک سائنس دان تھا۔ اس نے چند چیزیں ایجاد کر لی تھیں اور ایک مخصوص طبقے میں کافی مشہور ہو گیا تھا، مگر وہ سنکی پروفیسر کے نام سے زیادہ جانا جاتا تھا۔ پرانے دوستوں کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں پروفیسر نجیب بڑا سنجیدہ اور با رعب قسم کا ہوا کرتا تھا، مگر جب سے اس کی بیوی اور ایک بچہ ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوئے تھے تب سے وہ کچھ بہک گیا تھا۔ اس کا علاج بھی ہوا۔ دماغ تو کچھ بہتر ہو گیا، مگر مزاج میں چڑچڑا پن آ گیا تھا۔ بات بات پر کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ لوگوں سے کٹ کر رہنے لگا۔ کسی بھی محفل یا تقریب میں شرکت نہیں کرتا تھا۔
ڈاکٹر بیدی اس کا گہرا دوست تھا۔ وہی اس کے پاس چلا آتا تھا۔ پروفیسر نجیب کافی عرصہ سے لیزر شعاعوں پر تحقیق کر رہا تھا۔ شروع میں تو ڈاکٹر بیدی نے اس کی معاونت کی، مگر نوک جھونک اور تکرار کی وجہ سے وہ دست بردار ہو گیا۔ پروفیسر نجیب نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اکیلے ہی اپنے کام میں لگا رہا۔ ڈاکٹر بیدی کہتا تھا کہ وہ یہ موضوع چھوڑ کر کسی اور چیز پر طبع آزمائی کرے، مگر پروفیسر بھلا اس کی بات کیوں مانتا۔
اس کی رہائش شہر کے آخری سرے یعنی مضافاتی علاقے میں تھی۔ اس نے اپنی تجربہ گاہ عمارت کے ایک حصے میں بنا رکھی تھی۔ اس جگہ کوٹھیاں اور بنگلے ایک دوسرے سے کچھ کچھ فاصلے پر تھے۔ اختر پروفیسر نجیب کا ماتحت تھا۔ وہ حادثاتی طور پر پروفیسر کی ماتحتی میں آیا تھا۔ ایک رات وہ چوری کی نیت سے پروفیسر کی کوٹھی میں داخل ہو گیا تھا، لیکن پروفیسر نے دروازے میں پوشیدہ کیمرے کی مدد سے اسے اسکرین پر دیکھ لیا تھا۔ ایک کمرے میں پروفیسر نے قید کر دیا اور بے ہوش کر کے باندھ دیا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد اختر نے اسے اپنی دکھوں سے لبریز داستان سنا کر خاصا مغموم کر ڈالا۔ پروفیسر نے آبدیدہ ہو کر اسے نوکری کی پیش کش کی، جس میں کھانا پینا رہائش اور دیگر سہولتیں بھی تھیں۔ اختر نے جھٹ نوکری قبول کر لی۔ ویسے ہی وہ دنیا میں اکیلا تھا۔ صرف اس کے ساتھ ایک کتا تھا، جسے بعد میں وہ اپنے ساتھ ہی رکھنے لگا تھا۔ ہیرا کو اس نے بچپن سے پالا تھا اور ہیرا بھی اس سے بہت مانوس ہو گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر ہیرا اس کی اکثر باتیں بالکل ٹھیک سمجھ لیتا تھا۔ اختر نے ہیرا کو بہت کچھ سکھایا تھا۔ وہ فارغ اوقات میں ہیرا کو ٹریننگ ہی دیتا رہتا تھا۔ پروفیسر نجیب کے پاس ڈھیروں پیسہ تھا، جو اس نے بینکوں میں محفوظ کرا رکھا تھا، اس لیے اسے کسی قسم کے اخراجات کی فکر نہ تھی۔ وہ فکر معاش سے لاتعلق ہو کر اپنی لیبارٹری کے جھمیلوں میں ہی الجھا رہتا تھا۔ بینک سے ہر ماہ خاصی بڑی رقم مل جاتی تھی۔
کچھ دیر بعد اختر نے اپنے کمرے سے نکلا تو اس نے سامنے ڈاکٹر بیدی کو آتے دیکھا۔ اس کے چہرے کے بگڑے ہوئے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ سخت جھنجلایا ہوا اور غصے میں ہے۔ وہ اختر کو دیکھتے ہی بولا۔
’’انتہائی نامعقول۔۔۔ اور پرلے درجے کا بے وقوف ہے وہ شخص۔‘‘ ڈاکٹر نے اپنی بائیں ہتھیلی پر گھونسا مارا۔
’’یہ کس کے لیے عقیدت کے پھول نچھاور کیے جا رہے ہیں؟‘‘ اختر نے جانتے بوجھتے ہوئے بھی اپنے چہرے پر مصنوعی حیرت بکھیر لی۔
’’وہ۔۔۔ پروفیسر۔۔۔ سنکی۔۔۔ تمہارا باس۔۔۔‘‘ بیدی ابھی تک گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہا تھا۔ ’’یعنی۔۔۔ حماقت کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے ۔۔۔ وہ تو ساری حدود پار کر گیا ہے ۔۔۔ ایسا پاگل آدمی زندگی میں میری نظر سے نہیں گزرا۔‘‘
’’اب تو گزر گیا ناں؟‘‘ اختر نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
’’یعنی عجیب دماغ پایا ہے موصوف نے ۔۔۔ اور ہم تو بالکل ہی گدھے ہیں ۔۔۔‘‘
’’اللہ بہتر جاننے والا ہے ۔۔۔؟‘‘ اختر نے ہلکی آواز میں کہا۔
ڈاکٹر بیدی اپنی سنائے جا رہا تھا۔ ’’وہ تمہارا احمق باس کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔‘‘ اتنے عرصے میں لیزر شعاعوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے اور اب تک معمولی سی کامیابی بھی حاصل نہ کر سکا۔ نہ جانے وہ ان شعاعوں کا اچار ڈالے گا۔۔۔ بتاتا بھی نہیں ہے کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے۔ دوسرے ممالک کے سائنس دان کہاں سے کہاں جا پہنچے ہیں اور ہم ابھی تک وہیں کھڑے تالیاں بجا رہے ہیں۔ ارے میں تو کہتا ہوں وہ اپنا دماغ اتنے عرصے کسی ہوا میں اڑنے والی آب دوز پر خرچ کرتا تو کب کی بن اچکا ہوتا۔‘‘
ڈاکٹر بیدی پروفیسر خاصا نالاں لگتا تھا۔ اس سے قبل اختر کچھ کہتا پروفیسر نجیب آتا دکھائی دیا۔ ہیرا دھیمی آواز میں بھونکنے لگا۔
پروفیسر قریب آتا ہوا بولا۔ ’’بیدی یہ تمہاری آواز کو کیا ہو گیا۔۔۔ ابھی تو اچھے خاصے گئے تھے۔‘‘
بیدی تلملا اٹھا۔ ’’ جب سے تم نے کاٹا ہے ۔۔۔ بے وقوف انسان۔۔۔ میں جا رہا ہوں لعنت ہے مجھ پر۔۔۔ اگر میں آئندہ یہاں آیا۔‘‘ وہ پیر پٹخ کر اچھل پڑا۔
پروفیسر نے عقب سے ہانک ماری۔ ’’اچھا ہوا تم نے اپنے اوپر خود ہی لعنت دے دی تم ہو ہی اسی قابل۔۔۔ ہم سے بھی پیشگی لعنت کھاتے جاؤ۔‘‘
ڈاکٹر بیدی تیز تیز آواز میں بولتا ہوا چلا گیا۔ اختر بیرونی گیٹ بند کر کے آیا تو پروفیسر نجیب نے اس سے پوچھا۔ ’’تم سے کیا کہہ رہا تھا یہ۔۔۔؟‘‘
’’بول رہے تھے کہ تمہارا باس دنیا کا سب سے خطرناک پاگل۔۔۔ احمق۔۔۔ گاؤدی، سر پھرے ۔۔۔ چرئیے ۔۔۔‘‘ اختر اپنے دل کا ارمان بھی نکال رہا تھا کہ نجیب نے چیخ کر اسے روک دیا۔
’’بس۔۔۔ بس۔۔۔ زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جتنا پوچھا کروں اتنا ہی جواب دیا کرو۔۔۔‘‘
’’میں بھی اتنا ہی بتا رہا تھا۔۔۔ ابھی تو کئی خوبیاں باقی ہیں ۔۔۔‘‘
’’بکو مت۔۔۔‘‘ پروفیسر نے اسے جھڑک دیا۔ ’’ڈاکٹر بیدی خود بے وقوف انسان ہے ۔۔۔ ایسے لوگ خود تو کچھ نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی ترقی کرتے دیکھ نہیں سکتے تم دیکھ لینا فرزند۔۔۔ ایک روز دنیا میرے کارنامے پر مجھے سرا ہے گی۔ یہ بیدی گھر کا بیدی بھی میرے آگے پیچھے دم ہلاتا پھرے گا۔‘‘
اختر نے سنجیدگی اختیار کر کے پوچھا ’’ویسے سر۔۔۔ میں آپ کا اسسٹنٹ ہوں، لیکن آپ نے مجھے بھی نہیں بتایا کہ آخر آپ لیزر شعاعوں پر کس قسم کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔۔۔ کہیں آپ طب کی فیلڈ میں تو نہیں گھس گئے؟۔۔۔ شعاعوں سے علاج کرنے کا سلسلہ تو کب کا شروع ہو چکا ہے۔‘‘ دونوں کمرے میں آ گئے تھے۔
’’بیٹھ جاؤ۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے پروفیسر صوفے پر بیٹھ گیا۔ اختر بھی اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ آج پروفیسر موڈ میں نظر آ رہا تھا۔ ’’ہر سائنس دان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کوئی منفرد چیز ایجاد کرے، تاکہ اس کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے اور ساتھ ہی اس کے ملک کا نام بھی روشن ہو۔ ہو سکتا ہے میں جلد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے اپنے مقصد کے حصول میں برسوں بیت جائیں۔ یہ پہلا موقع ہے، میں تم سے کچھ چھپا رہا ہوں، ورنہ میرے باقی تمام معاملات تم سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔۔۔ مگر کیا میں اس معاملے میں فی الحال راز داری میں ہی رکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ خیر تم یہ بتاؤ۔۔۔ تم پروفیسر سراج خان کو جانتے ہو۔۔۔؟‘‘
’’پروفیسر سراج خان۔۔۔‘‘ اختر سوچتا ہوا بڑبڑایا پھر چونکا۔ ’’وہ ۔۔۔ وہ تو نہیں کچھ عرصہ پہلے جو پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا؟‘‘
’’ہاں ۔۔۔ وہی وہی۔۔۔‘‘ پروفیسر نجیب نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔ ’’وہ میرا بہت اچھا دوست تھا۔۔۔ ہم نے ساتھ ساتھ کافی وقت گزارا ہے۔ وہ مجھ پر بہت بھروسا اور اعتماد کرتا تھا۔ سنو فرزند۔۔۔ جو بات میں تمہیں بتا رہا ہوں، اسے راز میں ہی رکھنا۔۔۔ میں اب اس بات سے تم کو بے خبر نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔ لا پتا ہونے سے کچھ عرصہ قبل سراج خان مجھ سے ملا تھا۔ وہ بہت پریشان رہنے لگا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ کچھ لوگ اس کے پیچھے لگ گئے ہیں اور وہ اس سے کسی فارمولے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ وہ نامعلوم لوگ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ تھے۔ سراج خان نے اس فارمولے کی فائل میرے حوالے کر دی تھی اور ایک روز وہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا۔ کسی کو کچھ پتا نہیں چل سکا کہ وہ کہاں چلا گیا۔ اس کی تجربہ گاہ میں ابتری پھیلی ہوئی تھی۔ مجرموں نے وہاں کی تلاشی بھی لی، لیکن انہیں کچھ حاصل نہ ہو سکا، کیوں کہ فائل تو میرے پاس تھی۔ سراج خان کی لیبارٹری میں مجرموں کی پولیس سے جھڑپ ہوئی۔ کئی مجرم بھی مارے گئے۔ فرار ہوتے ہوئے زندہ بچنے والے مجرموں نے سراج خان کی پوری لیبارٹری ٹائم بم سے تباہ و برباد کر ڈالی تھی۔ اب محض وہ کسی کھنڈر کے طرح رہ گئی ہے۔ سرج خان کے بارے میں تا حال کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ کہ وہ خود کہیں غائب ہوا ہے یا اسے اغوا کر لیا گیا ہے ۔۔۔ زندہ بھی ہے کہ نہیں۔ یہ معاملہ اسرار کی دھند میں پوشیدہ ہے۔ اگر مجرموں کو اس بات کا علم ہو گیا کہ فارمولے کی فائل میرے پاس ہے تو وہ مجھے بھی نقصان پہچانے کی کوشش کریں گے، کیوں کہ وہ ہر قیمت پر فائل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
پروفیسر کے خاموش ہونے کے بعد اختر نے متفکر انداز میں کہا۔ ’’اوہ۔۔۔ یہ تو بڑا پیچیدہ اور سنگین مسئلہ ہے۔‘‘ پھر کچھ سوچ کر بولا۔ ’’سر۔۔۔ ہم سادہ لباس والے پولیس والوں کی مدد کیوں نہ لیں؟‘‘
’’ایسا سراج خان بھی کر سکتا تھا، مگر وہ اپنے فارمولے کی تشہیر نہیں چاہتا تھا، چنانچہ ہمیں بھی اسے خفیہ رکھنا ہو گا۔۔۔ اگر کل کو سراج خان واپس آ کر اپنی فائل مانگتا ہے تو پھر میں اسے کیا جواب دوں گا۔‘‘
’’ویسے سر۔۔۔ آپ نے سراج خان کے فارمولے والی فائل تو پڑھی ہو گی؟ وہ کس نوعیت کی ہے؟‘‘ اختر نے سوالیہ انداز میں پروفیسر نجیب کو دیکھا۔
’’نہایت عجیب۔۔۔ حیرت انگیز۔۔۔ عقل و فہم سے بالاتر۔۔۔‘‘ پروفیسر نے مضطرب اور متذبذب لہجے میں بتایا۔ ’’یقین کرو فرزند۔۔۔ انتہائی کوشش کے باوجود میں خود بھی کچھ نا سمجھ سکا تھا۔۔۔ پوری فائل میں جیومیٹریکل لائنیں آڑھی ترچھی سیدھی اور عمودی لکیریں بنی ہوئی ہیں۔ جگہ جگہ دائرے اور چوکور خانے ۔۔۔ مستطیل بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ اور بہت سی جگہوں پر دائروں اور خانوں میں چوہوں کی تصویریں بھی بنی ہوئی ہیں۔ بعض صفحوں پر خوف ناک انسانی شکلیں بھی ملتی ہیں۔ ان انسانی اسیکچز میں انسان کو بھیانک انداز میں بنایا گیا ہے انسان کی دُم بھی ہے اور دُم کے آخر میں تیر جیسا پھل بھی ہے۔ دو انسان اور چوہے لڑ رہے ہیں ۔۔۔ ان تمام تصاویر سے میں کوئی بھی ٹھوس نتیجہ اخذ نہیں کر سکا ہوں۔‘‘
پروفیسر نجیب یہاں تک بتا کر خاموش ہو گیا۔
کمرے میں گمبھیرتا چھا گئی تھی۔ اختر کو اپنے بدن میں سنسنی کی بے شمار لہریں دوڑتی بھاگتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ہیرا بھی بے چینی سے دم ہلا رہا تھا۔
باب 3
اس آدمی کو دیکھ کر انسپکٹر عاصم کو عجیب سا احساس ہو رہا تھا، جیسے وہ اسے جانتے ہوں وہ ایک ریستوران میں بیٹھے کافی پی رہے تھے کہ وہ آدمی اندر داخل ہوا۔ درمیانہ قد، گھنی مونچھیں، ہلکا ہلکا شیو بڑھا ہوا تھا، جسے دیکھ کر خواہ مخواہ چبھن کا احساس ہونے لگا تھا۔ بال ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے۔ وہ آدمی ایک کونے والی میز پر بیٹھ کرکسی مشروب سے شغل کرنے لگا۔ انسپکٹر عاصم ذہن پر زور دینے لگے کہ یہ شخص کون ہے، لیکن انہیں یاد نہیں آ رہا تھا۔ وہ بے چین ہو گئے۔ کبھی کبھی دزدیدہ نظروں سے اس آدمی کا جائزہ بھی لیتے جا رہے تھے۔ وہ آدمی سارے ماحول سے قطع تعلق صرف مشروب پر توجہ مرکوز کیے بیٹھا تھا۔ مشروب پیتے پیتے اس آدمی نے گردن کو پہلے دائیں جانب جھکایا اور پھر بائیں جانب جھٹکا دیا، جیسے وہ گردن کی ہڈیاں چٹخا رہا ہو۔ اس کی یہی حرکت انسپکٹر عاصم کو یاد دلا گئی کہ وہ کون ہے۔
انسپکٹر عاصم سنبھل کر بیٹھ گئے۔ وہ اپنے اعصابوں میں تناؤ کی سی کیفیت محسوس کرنے لگے تھے۔ وہ آدمی اسٹینلے تھا۔ دشمن ملک کا ایجنٹ۔۔۔ جو مسٹراسٹیل کے نام سے شہرت رکھتا تھا۔ وہ جس ملک کا رخ کرتا تھا وہ ہنگامے جنم لیتے تھے اور وہ ایسے معاملات میں ہاتھ ڈالتا تھا، جو بین الاقوامی سطح کے ہوتے تھے۔ اسٹینلے کے اس ملک میں آمد کے پیچھے یقیناً کوئی بڑا مقصد ہی ہو گا۔ انسپکٹر عاصم اضطراب کے عالم میں انگلیوں کی مدد سے میز کی سطح کھٹکھٹانے لگے تھے۔ ان کے وجود میں تلاطم پیدا ہو گیا تھا۔ یہ تو محض ایک اتفاق ہی تھا کہ انسپکٹر عاصم نے اسے اس کی ایک عادت کی وجہ سے پہچان لیا تھا ورنہ وہ سوچتے ہی رہ جاتے کہ یہ آدمی کون ہے اور وہ چلا بھی جاتا۔
مسٹراسٹیل وہاں آدھے گھنٹے تک بیٹھا رہا۔ پھر وہ اٹھ گیا وہ موٹر سائیکل پر آیا تھا۔ انسپکٹر عاصم اس کے روانہ ہوتے ہی لپک کر باہر نکلے اور اپنی جیب میں بیٹھ کر اسے اسٹارٹ کیا۔ ان لمحات میں بھی وہ کافی کے پیسے رکھنا نہ بھولے تھے۔ جیپ غرا کر شکاری کتے کی طرح سڑک پر لپکی۔ تعاقب شروع ہو گیا۔ انسپکٹر عاصم نے موٹر سائیکل سے کافی فاصلہ رکھا تھا اور جیپ کی رفتار بھی اتنی ہی تھی، جتنی اسٹینلے کی موٹر سائیکل کی تھی۔ اس طرح نہ فاصلہ بڑھ رہا تھا اور نہ گھٹ رہا تھا۔ اس درمیانی فاصلے کے بیچ اور بھی کئی گاڑیاں درمیانی رفتار سے رواں دواں تھیں۔ یہی وجہ ہے مسٹراسٹیل کو تعاقب کا احساس نہیں ہوا تھا۔ انسپکٹر عاصم نے جیب کے ڈیش بورڈ کو کھولا اور ریوالور دیکھ کر ان کو طمانیت کا احساس ہوا۔ اس کی وجہ وہ سادہ لباس میں تھے اور جپ بھی ان کی ذاتی تھی، اس لیے وہ اطمینان سے تعاقب کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد انسپکٹر عاصم تھوڑے فکر مند ہو گئے، کیوں کہ ایسا لگ رہا تھا کہ مسٹراسٹیل کو تعاقب کا پتا لگ گیا ہے اور وہ اب مختلف سڑکوں پر موٹر سائیکل کو بے مقصد بھگا رہا تھا۔ جب مسٹراسٹیل کو یقین ہو گیا کہ جیپ اسی کے تعاقب میں ہے تو اس نے موٹر سائیکل کی رفتار میں اچانک ہی اضافہ کر دیا۔
انسپکٹر عاصم نے بھی احتیاط اور تعاقب کی مصلحت کو بالائے طاق رکھ ایکسیلٹر پر پیر کا دباؤ بڑھا دیا۔ اب جیپ کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح موٹر سائیکل کے پیچھے جھپٹ رہی تھی۔ اسٹیرنگ وہیل پر ان کے ہاتھوں کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ ہاتھوں کی نبضیں ابھر آئی تھیں۔ موٹر سائیکل کا رخ مضافات کی جانب تھا۔ ادھر ٹریفک بھی نہیں تھا، البتہ شہر کی روشنیاں اور اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے یہاں اندھیرا بہت زیادہ تھا۔ صرف ان دونوں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کی روشنیاں وہاں نظر آ رہی تھیں۔ موٹر سائیکل اور جیپ کا درمیانی فاصلہ کچھ کم ہوا تو انسپکٹر عاصم نے ریوالور پکڑ کر مسٹر اسٹیل کی جانب ایک فائر جھونک دیا۔ ویرانہ فائر کے دھماکے سے گونج اٹھا تھا، مگر گولی کسی اور جانب نکل گئی تھی۔ مسٹراسٹیل صاف بچ گیا تھا۔ انسپکٹر عاصم نے پے در پے تواتر کے ساتھ تین فائر اور دے مارے۔ اس مرتبہ ایک گولی نے اپنا ہدف ڈھونڈ لیا۔ وہ موٹر سائیکل کے پچھلے ٹائر میں جا دھنسی۔ ٹائر بھی دھماکے سے پھٹا۔ موٹر سائیکل لہرائی اور اس کا توازن بگڑ گیا اور وہ سڑک سے نیچے اتر گئی۔
جب انسپکٹر عاصم وہاں تک پہنچے تو انہوں نے جیب کی ہیڈ الائٹس میں ہی دیکھ لیا تھا کہ موٹر سائیکل گری ہوئی ہے اور مسٹر اسٹیل غائب تھا۔ موٹر سائیکل کا پچھلا پھٹا ہوا ٹائر ابھی تک گھوم رہا تھا۔ انسپکٹر عاصم کے حواس پوری طرح بیدار تھے اور وہ کسی بھی ناگہانی اور اچانک مصیبت سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ وہاں درختوں اور جھاڑیوں کی بہتات تھی۔ کچھ دیر تک وہ مسٹر اسٹیل کو اندھیرے میں تلاش کرتے رہے۔ پھر انہوں نے ایک طویل اور گہری سانس لی۔ صاف ظاہر تھا کہ مسٹر اسٹیل اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور اب تک تو وہ نہ جانے کہاں سے کہاں جا پہنچا ہو گا۔ یہ سوچ کر انسپکٹر عاصم کے اعصابوں کی اکڑن ختم ہو گئی اور وہ واپس جیپ کی طرف چل پڑے، لیکن وہ اس بات سے قطعی طور پر بے خبر تھے کہ ان سے کچھ فاصلے پر گھنی جھاڑیوں کی اوٹ سے انہیں دو بڑی بڑی اور انتہائی سرخ آنکھیں گھور رہی ہیں۔ یہ دہکتی ہوئی انگارہ آنکھیں کسی انسان کی ہرگز نہیں تھیں۔ اس جگہ دھیمی دھیمی غراہٹ بھی ابھر رہی تھی، غیر انسانی غراہٹ۔ اس نے ایک ہاتھ بڑھا کر سامنے کی جھاڑیاں ہٹائیں۔ اب انسپکٹر عاصم اسے صاف نظر آ رہے تھے۔ وہ جیپ کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔ اس نے بھی انسپکٹر عاصم کی طرف قدم بڑھا دئیے۔ جیسے ہی جیپ اسٹارٹ ہوئی وہ ویرانہ ایک ہول ناک اور نکیلی دھاڑ سے لرزہ بر اندام ہونے لگا۔ انسپکٹر عاصم کا جسم اس دھاڑ سے سن پڑ گیا تھا۔
یک لخت ایک جانب کی جھاڑیوں میں زبردست ہلچل ہوئی اور ایک قومی الجثہ ہیولہ نکل کر ان کی جانب ہاتھ پھیلائے بڑھا۔ انسپکٹر عاصم نے اس طویل القامت خوفناک ہیولے کو دیکھا تو ان کے ہاتھ پیر یخ بستہ ہو گئے۔ لاشعوری طور پر انہوں نے ریوالور نکالا اور ہیولے کی جانب فائر جھونک دیا۔ دل میں چھید کر دینے والی ایک تیز اور عجیب سی چیخ ابھری اور ہیولہ اچھل کر زمین پر گرا۔ انسپکٹر عاصم نے وقت ضائع کیے بغیر جنونی حالت میں جیپ سڑک کے سینے پر چڑھا دی۔ عین اس لمحے ہیولہ دوبارہ اٹھا اور حیرت انگیز رفتار سے جیپ کے پیچھے دوڑا۔ ساتھ ساتھ وہ نکیلی آواز میں دھاڑ رہا تھا۔ اس کی رفتار دیکھ کر انسپکٹر عاصم کے دماغ بھک سے اڑ گیا۔ یوں لگتا تھا وہ بھاگ نہیں رہا، بلکہ اڑتا ہوا ان کی جانب لپک رہا ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو چند ہی لمحوں بعد وہ جیپ کو پکڑے گا۔ انسپکٹر عاصم نے فل رفتار کر دی تھی۔ انہوں نے ونڈ اسکرین کے اوپر لگے ہوئے چوڑے بیک مرر میں ہیولے کو بھاگتے دیکھا۔ اندھیرے میں اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ کہ وہ کیا چیز ہے اور اس کا حلیہ کیسا ہے۔ یوں بھی انہیں اتنا ہوش کہاں تھا۔ ابھی تک انہیں صرف اپنی جان بچانے کی فکر لگی ہوئی تھی۔
انسپکٹر عاصم نے ایک ہاتھ اٹھایا اور ریوالور اپنے کندھے پر سے پیچھے موڑ کر گولی چلا دی۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے بھی شیشے میں دیکھا تھا۔ نشانہ غضب کا تھا۔ گولی ہیولے کے جسم کے کسی حصے میں جا کر پیوست ہو گئی۔ ہیولے نے پھر زور دار چیخ ماری۔ چیخ میں تکلیف کا عنصر نمایاں تھا۔ وہ لڑکھڑا کر گرا۔ اتنا وقت بہت تھا۔ جیپ آناً فاناً طوفانی جھکڑ کی طرح دور ہوتی چلی گئی۔ انسپکٹر عاصم کو اتنا ہوش نہیں تھا کہ وہ اس ہیولے کا حشر دیکھتے۔ یہی بہت تھا کہ وہ موت کے حلق سے واپس آ گئے تھے۔ وہ بہرحال انسان ہی تھے۔ اس قدر جان لیوا اور بھیانک صورت حال میں نڈر سے نڈر انسان کا پتا پانی ہو جائے۔ جیپ شتر بے مہار کی طرح واپس شہر کی جانب دوڑ رہی تھی۔
انہوں نے دور آ کر بھی اپنے عقب میں ایک طویل چیخ سنی۔ جس نے ایک سرد ترین لہر ان کے بدن میں دوڑا دی۔ انسپکٹر عاصم اپنے شہر کے حالات سے پوری طرح واقف تھے۔ کچھ عرصہ سے شہر میں گاہے بہ گاہے پراسرار اموات ہو رہی تھیں۔ انتہائی شقی القلبی سے انسانوں کو قتل کیا جا رہا تھا۔ اکثر لاشیں دو ٹکڑوں میں ہی ملتی تھیں۔ جیسے دو ہاتھیوں نے اپنی سونڈوں سے ان انسانوں کو جکڑ کر مخالف سمتوں میں کھینچا ہو۔ پہلے پہل یہی خیال کیا گیا کہ یہ کوئی جنونی گروہ ہے۔ جو محض جنون میں مبتلا ہو کر وحشیانہ طریقے سے قتل کرتا پھر رہا ہے، مگر قتل والی جگہوں پر ایسے عجیب و غریب نشانات بھی پائے گئے، جیسے وہ کسی جانور کے پنجوں کے ہوں۔ تب سے یہ وارداتیں پر اسرایت اختیار کر گئی تھیں۔ شہر میں اس وقت سے خوف وہراس کی فضا قائم ہو گئی تھی۔
باوجود کوشش کہ کوئی بھی یہ معمہ حل کر سکا اور نہ قاتل پکڑا جا سکا تھا۔ انسپکٹر عاصم سمجھ گئے تھے کہ یہ وہی خوفناک ہیولہ تھا، جس نے شہر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ پھر ان کا ذہن دھاگے کی طرح الجھتا چلا گیا۔ آخر وہ کون تھا؟ کیا تھا؟ وہ کوئی انسان تھا۔۔۔ یا کوئی درندہ تھا۔۔۔؟ یا پھر دونوں۔۔۔؟
باب 4
کئی روز گزر گئے، لیکن کوئی قابل ذکر بات نہ ہوئی اور نہ ہی ڈاکٹر بیدی واپس آیا تھا۔ راوی اختر کے حق میں چین ہی چین لکھتا ہے۔ پروفیسر کا زیادہ وقت تجربہ گاہ کے اندر ہی گزر رہا تھا۔ کسی ضرورت کے تحت یا کھانے پینے ہی باہر نکلتا اور پھر واپس غڑاپ سے لیبارٹری میں گھس جاتا تھا۔ اختر نے پروفیسر کے پر جوش انداز سے یہ قیاس کر لیا تھا کہ وہ جلد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے والا ہے، البتہ اختر نے اس سے کوئی کرید نہیں کی۔ جو کچھ بھی ہو گا، اسے معلوم ہو جائے گا۔ رات تقریباً ساڑھے نو بجے پروفیسر اپنی تجربہ گاہ سے باہر نکلا۔ اس کا چہرہ کسی اندرونی خوشی اور جذبے سے تمتما رہا تھا۔ وہ آتے ہی بولا۔
’’لے آؤ فرزند۔۔۔ جو کچھ بھی کھانے کو رکھا ہے، لے آؤ۔۔۔‘‘
اختر نے خاموشی سے ٹیبل پر کھانا لگا دیا۔ پروفیسر مر بھکوں کی طرح ٹوٹ پڑا۔
’’دیکھنا۔۔۔ اب تم دیکھنا۔۔۔ دنیا میرا نام اب قیامت تک یاد رکھے گی۔۔۔ میرے کارنامے کو رہتی دنیا تک سراہا جائے گا۔‘‘
’’کیوں ۔۔۔‘‘ کیا آپ نے کرپشن کے خاتمے کی دوا ایجاد کر لی ہے؟‘‘ اختر کا چہرہ سنجیدگی کی مثالی تصویر لگ رہا تھا۔
’’احمق۔۔۔ اگر کرپشن کے خاتمے کی دوا ایجاد بھی ہو گئی تو اسے کوئی کھانے پر رضا مند ہی نہیں ہو گا۔۔۔ اسے بھوکا تھوڑی مرنا ہے ۔۔۔ بہرحال۔۔۔ میں کچھ دیر بعد آؤں گا۔۔۔ خوش خبری کے ساتھ ملاقات ہو گی۔‘‘
پروفیسر ایک پلیٹ اٹھا کر تجربہ گاہ کی جانب چلا گیا۔
اختر نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ اس کی منہ سے گہری سانس خارج ہوئی۔
’’اُف۔۔۔ پتا نہیں ۔۔۔ اس پاگل دے پتر نے کیا کر ڈالا ہے ۔۔۔ اس سے اچھا تو میرا ہیرا ہے ۔۔۔‘‘ وہ ہیرا کے سر میں انگلیاں پھیرنے لگا۔
ہیرا کے منہ سے ہلکی سے ’’بخ‘‘ کی آواز نکلی تھی۔
اختر وقت گزاری کے لیے ایک کتاب پڑھنے لگا۔ ہیرا اس کے قدموں کے قریب گول مول ہو کر پڑا ہوا تھا۔ پھر پڑھتے پڑھتے اختر کو بھی اونگھ آ گئی۔ اچانک اسے کسی نے بری طرح جھنجوڑ ڈالا۔ اختر ہڑ بڑا کر اٹھ گیا۔
’’کک۔۔۔ کون۔۔۔ کون ہے؟‘‘
’’میں ہوں فرزند۔۔۔ اندر آ جاؤ۔۔۔ فوراً چلو میرے ساتھ۔۔۔‘‘
سامنے پروفیسر کھڑا تھا۔ اس کی بانچھیں کانوں تک پھیل گئی تھیں۔ ’’آؤ میں تمہیں سائنس کی جادوگری دکھاتا ہوں۔‘‘
ہیرا بھی اٹھ گیا۔ پروفیسر اسے لے کر تجربہ گاہ میں آیا۔ اختر نے اِدھر اُدھر دیکھا، مگر اسے وہاں کسی قسم کی تبدیلی یا کوئی قابل ذکر بات نظر نہیں آئی۔ وہ پروفیسر کی جانب مڑا۔ پروفیسر ہاتھ میں ایک لائیٹر لیے مسکرا رہا تھا۔
’’یہ میرے تجربے کا نچوڑ ہے۔‘‘ اس نے لائیٹر لہرایا۔
’’نچوڑ۔۔۔؟ مگر یہ تو لائیٹر ہے ۔۔۔ آپ کی زبان میں اسے نچوڑ کہتے ہیں؟‘‘ اختر تمسخر سے باز نہیں آیا تھا۔
’’فرزند ارجمند۔۔۔ اس لائیٹر میں جادو قید ہے۔ میں تمہیں بتا دوں کہ میں اپنے شعاعوں کے تجربے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ اس لائیٹر میں ۔۔۔ میں نے اپنی ایجاد کردہ شعاع قید کر دی ہے۔ دیکھنے میں یہ عام سا لائیٹر بھی ہے ۔۔۔ اس سے سگریٹ بھی سلگا سکتے ہیں ۔۔۔ مگر یہ کسی کے وہم و گمان میں نہ ہو گا کہ یہ نچلی سطح سے بھی دب سکتا ہے، یہ دیکھو۔۔۔ یہ نچلی سطح کے دو اطراف میں دبے گا۔ سیدھی طرف دس مرتبہ دبانے سے اس میں سے سبز شعاع نکلے گی۔ جو چیزوں کو مختصر کر دیتی ہے، جب کہ الٹی جانب بھی دس مرتبہ دبانے کے بعد سرخ شعاع خارج ہو گی، جو چیزوں کو سابقہ حالت میں لے آتی ہے۔ جو چیز بھی چھوٹی ہو گی، اس کی ساخت اور ماہیت پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ گھٹ کر بھی اس کی شکل برقرار رہے گی۔۔۔‘‘ پروفیسر نے تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا۔
’’سر۔۔۔ میں نے بچوں کی بہت سی ایسی کہانیاں پڑھی ہیں، جن میں شہزادی کو کوئی کالا پیلا جن اٹھا کر لے جاتا ہے اور پھر ایک بہادر شہزادہ اسے چھڑانے روانہ ہوتا ہے ۔۔۔ کوئی بزرگ شہزادے کو کراماتی انگوٹھی دیتے ہیں۔ اس انگوٹھی میں سے نیلی پیلی لال شعاعیں خارج ہوتی ہیں ۔۔۔ پھر باقی کام انگوٹھی ہی انجام دیتی ہے۔ شہزادے کا خالی پیلی نام ہو جاتا ہے، یعنی میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے بہت پہلے ایسی چیزیں ایجاد کر لی تھیں اور آپ خواہ مخواہ اسے اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔‘‘ اختر اپنے مخصوص انداز میں کہتا چلا گیا۔
’’ احمق ۔۔۔ وہ صرف کہانیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ اور ایسی کہانیوں کا حقیقت سے دور کا بھی رشتہ نہیں ہوتا ہے۔ وہ صرف مصنف کی سوچ اور ذہنی اختراع ہوتی ہے۔ ان کی ذہنی کاوش کو سائنس دان عملی اور حقیقی شکل دیتا ہے۔‘‘
’’اپنی تعریف کا اچھا طریقہ ہے ۔۔۔‘‘ اختر ہنسا؟ ’’ویسے سر۔۔۔ یہ سائنس دان بھی کمال لوگ ہوتے ہیں، جو ایسی حیرت انگیز چیزیں ایجاد کر لیتے ہیں۔ پہلے زمانے میں لوگ چاند کو دیکھتے ہوں گے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نا ہو گا کہ انسان چاند پر جا سکتا ہے اور آج کے انسان نے چاند پر اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں۔‘‘
’’آج بڑی فلسفیانہ باتیں کر رہے ہو۔۔۔ آؤ ۔۔۔ تمہیں تجربہ کر کے بھی دکھا دوں۔‘‘
’’ایک منٹ سر۔۔۔‘‘ اختر بولا اور تیزی سے ہیرا کو اٹھا کر میز پر کھڑا کر دیا۔ ’’سر اس ہیرا کو چھوٹا کر دیں۔ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کوئی جان دار شے چھوٹی ہو کر کیسی لگے گی۔‘‘ اختر یہ کہہ کر خود ایک طرف ہو گیا۔
’’ٹھیک ہے ۔۔۔‘‘ پروفیسر نے سر ہلا کر لائیٹر کا رخ ہیرا کی طرف جانب کر دیا۔ اختر نے ہیرا سے کہا۔ ’’چل بھئی ہیرا۔۔۔ ایکشن لے لے ۔۔۔ تیری تصویر اُتر رہی ہے بر دکھوے میں بھیجنا ہے ۔۔۔ بولو چیز۔۔۔‘‘
لیکن کچھ نا ہوا۔ لائیٹر میں سے شعاع نہیں نکلی، البتہ اختر کے منہ سے قہقہہ نکل گیا۔
’’بس جناب۔۔۔ ہو گئی چھٹی۔۔۔ آپ کا جگاڑ فیل ہو گیا ہے۔‘‘
پروفیسر پر بوکھلاہٹ طاری تھی۔ وہ بار بار لائیٹر دبا رہا تھا۔ اس کا رخ اب تک ہیرا کی طرف ہی تھا۔ اختر نے منہ بنا کر ہیرا کو ٹیبل پر سے اُتارنا چاہا۔ عین اسی لمحے لائیٹر سے انتہائی چمک اور سبز شعاع نکلی اور بہ یک وقت اختر اور ہیرا پر پڑی۔ اختر کو اس لمحے عجیب سا احساس ہوا تھا، جیسے کوئی انتہائی ٹھنڈی سی لکیر اس کے بدن میں گھس گئی۔ اس نے مڑ کر پروفیسر سے کچھ کہنا چاہا، لیکن پھر وہ ہکا بکا کھڑا رہ گیا۔ اس کے سر کے بال حیرت سے کھڑے ہو گئے تھے۔
جو کچھ وہ دیکھ رہا تھا، اس نے اختر کے ہوش اڑا کر دماغ ماؤ کر ڈالا تھا۔ اس کا سر سائیں سائیں کرنے لگا۔ یہ سب کیا تھا؟ یہ کیا ہو گیا ہے؟۔۔۔ وہ پروفیسر کو دیکھ تو رہا تھا مگر سر اُٹھا کر۔ اب پروفیسر اسے کسی بہت بڑے دیو کی مانند لگ رہا تھا۔ پروفیسر کا جوتا ہی اختر کو کسی ٹرک کی طرح بڑا لگ رہا تھا۔ اس نے حیرت پاش نظروں سے ہیرا کو دیکھا۔ ہیرا اختر کے سائز کا ہو گیا تھا اور وہ بری طرح گھبراہٹ کے عالم میں بھونک رہا تھا۔ اختر سمجھ گیا کہ پروفیسر کی جادوئی شعاع نے ان دونوں کو کسی کیڑے کے برابر کر دیا ہے۔ پروفیسر آگے جھکا ہوا تھا اور آنکھیں چندھیا چندھیا کر اسے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اختر ماچس کی تھیلی سے بھی چھوٹا ہو گیا تھا۔ تجربہ گاہ کی ہر شے اچانک بڑی ہو گئی تھی۔ کرسیاں ٹیبلز بڑے بڑے پہاڑوں کی طرح موجود تھیں۔ مختصر سا ہو کر وہ کیا محسوس کر رہا تھا یہ کوئی اختر سے ہی پوچھے۔ اچانک تجربہ گاہ میں کچھ عجیب سی آوازیں ابھریں اور پھر ایک دھماکا ہوا۔ پروفیسر اور اختر نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔
باب 5
صبح کی آمد آمد تھی۔ سپیدہ سحر نمودار ہو رہا تھا۔ ایسے میں سڑک پر ایک سیاہ بند وین تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ وین کے اندر چار آدمی بیٹھے تھے۔ ایک شخص نقاب پہنے بیٹھا تھا۔ وہ ان کا سرغنہ تھا۔
اچانک سرغنہ بولا۔ ’’ہمدانی۔۔۔ کام نہایت ہوشیار اور تیزی سے کرنا ہے ۔۔۔ جس کے ذمے جو کام ہے اسے اپنے دماغ میں بٹھا لے، جیسے ہم اس گاڑی میں بیٹھے ہیں۔ مسٹر علی۔۔۔ تم نے وقت ضائع کیے بغیر پروفیسر کے احمق اسسٹنٹ کو قابو کرنا ہے۔ جمال۔۔۔ تم اس خونخوار کتے کو بے ہوش کرو گے ۔۔۔ کوئی بھی اپنی مرضی سے کوئی دوسرا قدم نہیں اٹھائے گا۔‘‘ باس کی آواز میں یک لخت بے پناہ کرختگی عود کر آئی تھی۔
علی، جمال اور اسٹیرنگ پر بیٹھے ہوئے ہمدانی کے دل کی دھڑکنیں وین سے زیادہ تیز ہو گئیں۔ خاص طور پر جمال کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں ابھر آئی تھیں۔ وہ دل کا مریض تھا، کیوں کہ وہ پہلے بھی اپنے باس کا ساتھ دیتا آیا تھا، اس لیے اس مرتبہ بھی انکار نہ کر سکا۔ وہ لوگ جانتے تھے کہ ان کا نقاب پوش کوئی غیر ملکی ہے۔
باس کہہ رہا تھا۔ ’’اس بے وقوف سراج خان نے خواہ مخواہ یہ مصیبت ڈال دی اور نا جانے خود کس بل میں جا کر چھپ گیا ہے ۔۔۔ یہ تو اتفاق ہوا کہ مجھے اپنے خفیہ ذرائع سے علم ہو گیا کہ اس کی فائل اب پروفیسر نجیب کے پاس ہے ۔۔۔ ویسے اس سنکی بڈھے سے فائل حاصل کرنا مشکل نہیں ہے۔‘‘
باس کے خاموش ہوتے ہی علی بول پڑا ’’باس۔۔۔ پروفیسر نے اپنی حفاظت کے لیے بھی انتظامات کر رکھے ہوں گے؟‘‘
’’بے فکر رہو۔۔۔‘‘ باس نے اس بیگ پر ہاتھ پھیرا، جو اس کے برابر میں رکھا ہوا تھا۔ ’’اس کے ہر زہر کا تریاق میرے پاس موجود ہے۔‘‘
اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ جوں جوں فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا، جمال کی شریانوں میں خون کے دوڑنے کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔
اچانک ہمدانی بولا ’’باس۔۔۔ پروفیسر کی کوٹھی آ گئی ہے ۔۔۔‘‘
وہ لوگ چوکنے ہو کر بیٹھ گئے۔ ہمدانی نے وین پروفیسر کی کوٹھی سے کچھ فاصلے پر ایک بنگلے کی دیوار کی ساتھ روک دی۔ دونوں بنگلوں میں کچھ فاصلہ تھا۔ درمیان میں ایک چوڑی سڑک بھی حائل تھی۔ چاروں خاموشی سے اترے۔ بیگ باس نے خود پکڑا ہوا تھا۔ باقی تینوں نے ابھی اسلحہ نہیں نکالا تھا۔ قرب و جوار میں کوئی بھی نہ تھا۔ صبح کی روشنی بڑھنا شروع ہو گئی تھی۔ درختوں پر خوش الحان پرندے چہچہا رہے تھے۔ یہاں کے لوگ شاید دیر سے اٹھنے کے عادی تھے۔
باس نے اپنے لباس سے ایک ریموٹ کنٹرول نما لمبی اور چپٹی سی شے نکالی اور اس کا رخ میں گیٹ کی جانب کر کے ایک بٹن دبا دیا۔ اگلے ہی لمحے اس شے کا ننھا منا سا سبز بلب جلنے بجھنے لگا۔ باس کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس جدید ترین ایجاد نے دروازے کے اندر کے تمام میکنزم کو لاک کر دیا تھا۔ دروازے میں ایک خفیہ کیمرا بھی نصب تھا، جو ان کی تصاویر لے چکا تھا، مگر ریموٹ نے ان کی تمام میموری ڈیلیٹ کر ڈالی تھی۔ کیمرے میں اب کچھ باقی نہیں بچا تھا۔
پھر ایک کھٹکے کے ساتھ دروازہ کھل گیا اور وہ چاروں پھرتی سے اسلحہ نکال کر اندر داخل ہو گئے۔ وہ اس عمارت کا نقشہ دیکھ چکے تھے، اس لیے انہیں تجربہ گاہ کے دروازے تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ انہیں کہیں بھی پروفیسر کا اسسٹنٹ اور اس کا کتا نظر نہیں آئے تھے۔ باس نے تجربہ گاہ کے دروازے پر بھی ریموٹ آزمایا، لیکن یہاں ناکامی ہوئی۔ اس نے بیگ میں سے ایک پانچ روپے کا جیسا سکہ نکالا اور دروازے سے چپکا دیا۔ یہ ایک پاور فل میگنٹ بم تھا۔ جتنا طاقت ور دھماکا کرتا تھا، اتنی ہی کم آواز ہوتی تھی۔ باس اور اس کے ساتھی سائیڈ کی دیواروں سے چپک کر کھڑے ہو گئے۔ پانچ سیکنڈ بعد ہی ایک ہلکا سا دھماکا ہوا۔ دروازے میں ایک بڑا سا شگاف پڑ گیا تھا۔ بم نے آہنی دروازے کو پگھلا ڈالا تھا۔ باس نے شگاف سے اندر جھانک کر دیکھا۔
اندر صرف پروفیسر نجیب ہی کھڑا تھا اور نہایت استعجاب اور خوف زدگی کے عالم میں دروازے کی سمت ہی دیکھ رہا تھا۔ باس نے اندر ہاتھ ڈال کر دروازے کا ہینڈل گھمایا۔ دروازہ کھلتے ہی وہ چاروں اندر داخل ہو گئے۔ باس کے ہاتھ میں بریٹا تھا، جس کا رخ پروفیسر نجیب کی کھوپڑی کی جانب تھا۔ باقی تینوں آدمی بھی مختلف اسلحے سے لیس تھے۔
باس سانپ کی مانند پھنکارا۔ ’’مسٹر پروفیسر۔۔۔ تمہارا اسسٹنٹ کدھر ہے؟‘‘
پروفیسر کو تو اپنا وجود ہی دھواں لگ رہا تھا۔ وہ بھلا کیا جواب دیتا۔ باس نے آگے بڑھ کر ایک زور دار تھپڑ پروفیسر کے منہ پر مارا، جو اس کا لاغر بدن برداشت نہ کر سکا اور وہ اُلٹ کر چیختا ہوا صوفے کے پاس گر گیا۔ اس کی بانچھوں کے گوشے سے خون کی پچکاری نکل گئی تھی۔ پروفیسر جہاں گرا تھا، وہاں اختر اور ہیرا موجود تھے، جو صوفے کے پائے کی اوٹ میں چھپے ہوئے تھے۔ پروفیسر مجبور تھا۔ وہ نقاب پوش کو اختر کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا تھا، کیوں کہ اس طرح اس کی ایجاد کا بھی بھانڈا پھوٹ جاتا۔ پھر وہ لوگ اس کی ایجاد سے ناجائز فائدہ اٹھاتے اور اسے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے۔ وہ خون تھوکتا ہوا کھڑا ہوا اور بولا۔
’’وہ۔۔۔ نہیں ہے ۔۔۔ رات ہی اپنے گھر چلا گیا تھا۔‘‘ پروفیسر نے بمشکل کہا، کیوں کہ منہ میں خون بھرا ہوا تھا۔ ’’مگر۔۔۔ تم کون ہو۔۔۔؟ کیا چاہتے ہو؟‘‘
اس وقت باس نے پروفیسر کے کھلے ہوئے منہ میں پستول کی نال ڈال دی۔
’’سوالوں سے مجھے بڑی چڑ ہے۔ میں امتحانی پیپروں پر بھی جوابات نہیں لکھتا تھا۔۔۔ بس ہم وہ فائل چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔‘‘ اس نے پستول کی نال نکال لی۔
’’کون سی فائل۔۔۔؟‘‘ پروفیسر کے ذہن میں ایک جھماکاسا ہوا۔
’’تم اچھی طرح سے جانتے ہو، میں کس فائل کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔‘‘ باس کی آنکھیں نقاب کے پیچھے دہک رہی تھیں۔ ’’جلدی کرو پروفیسر۔۔۔ ہمارے پاس وقت کم ہے ۔۔۔‘‘
ادھر نقاب پوش کے تینوں ساتھی تجربہ گاہ کی تلاشی لے رہے تھے۔ انہوں نے ہر شے تلپٹ کر دی تھی۔
’’مجھے نہیں معلوم تم کس فائل کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟‘‘ پروفیسر میں اب بھی حوصلہ باقی تھا۔
باس نے پستول رکھ کر ایک چاقو نکال لیا اور مزید کوئی وارننگ دئیے بغیر پروفیسر کے بازو میں گھونپ دیا۔ پروفیسر اذیت کے مارے چلانا چاہتا تھا کہ باس نے لپک کر اس کے منہ پر ہاتھ جما دیا۔ پروفیسر کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا۔ باس نے اپنا منہ اس کے کان کے نزدیک کر کے استہزائیہ انداز میں کہا۔
’’تمہارے جسم میں صرف ایک دو بوتل ہی خون ہو گا۔۔۔ کیوں اسے بھی ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہو بے وقوف بڈھے ۔۔۔؟‘‘
اب وہ چاقو کو پروفیسر کو ایک آنکھ پر لہرا رہا تھا۔
باس نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ ہانپتا ہوا بولا۔ ’’ریوالونگ چیئر کو کھول لو۔۔۔ فائل اس میں ہے ۔۔۔‘‘
’’ویری گڈ۔۔۔‘‘ باس مسکرا اٹھا اس نے اپنے ساتھیوں کو بلایا اور ایک ساتھی سے کہا ’’ریوالونگ چیئر کو گھما کر نکال لو۔۔۔‘‘
اس کا ساتھی ریوالونگ چیئر کو گھما گھما کر کھولنے لگا۔ پھر اس نے چیئر اتار کر ایک طرف پھینک دی۔ چوڑیوں والی لوہے کی شافٹ کے اندر فائل رول بنی ہوئی نظر آ گئی۔ باس کے ہاتھ میں فائل آئی تو وہ قہقہے لگانے لگا۔
’’یہ ہے وہ مصیبت۔۔۔ جس کے لیے اتنی پریشانیاں مول لینی پڑی ہیں ۔۔۔‘‘ پھر اس نے ایک لمحے میں پروفیسر کے منہ میں دوبارہ پستول کی نال ڈال کر گولی چلا دی۔
صوفے کے پائے کے نیچے موجود اختر نے دیکھا۔ پروفیسر کی گدی چیتھڑوں میں تبدیل ہو کر اُڑ گئی۔ گوشت اور خون کے لوتھڑے فرش پر بکھر گئے۔ پروفیسر کا بے جان لاشہ وہاں کھڑا رہا۔ باس نے اس کے ماتھے پر ایک انگلی رکھ کر دھکا دیا۔ وہ کسی لکڑی کے تختے کی طرح فرش پر گر گیا۔ اختر نے پروفیسر کے مردہ چہرے پر اذیت و تکلیف کے ایسے خوفناک آثار ثبت دیکھے کہ اس کا جسم جھرجھری لے کر رہ گیا۔
پروفیسر کے گرتے ہی باس نے ساتھیوں کو بقیہ کام جلدی نمٹانے کا کہا اور خود پروفیسر کی تلاشی لینے لگا۔ اختر کا دل اچھا پڑا۔ کیونکہ باس نے دوسری چیزوں کے ساتھ لائیٹر بھی نکال کر اپنے بیگ میں ڈال لیا تھا۔ اختر نے سوچا، اگر وہ لوگ اپنا کام کر کے یہاں سے نکل گئے تو وہ ان کا تعاقب کس طرح کرے گا؟ اور پھر وہ لوگ لائیٹر بھی لیے جا رہے ہیں، جس کی مدد سے وہ اپنی اصل حالت میں آ سکتا تھا، ورنہ وہ ہمیشہ ہی ایسا رہے گا۔۔۔ مختصر سا۔ چناں چہ اختر نے ہیرا پر سواری گانٹھ لی۔ ہیرا ایک طاقت ور گھوڑے کی طرح کام دے سکتا تھا۔ اختر نے اس کے گھنے بال مضبوطی سے پکڑ لیے تھے۔ وہ برق رفتاری سے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ اختر نے پلٹ کر ایک نظر مردہ پروفیسر پر ڈالی تو اس کے رگ و پے میں ایک درد کی لہر دوڑ گئی۔ وہ پروفیسر کی کوئی مدد نہ کر سکا تھا۔ بہرحال اس نے اپنی توجہ آگے مرکوز کر دی۔
اسے ہر شے نئی اور انوکھی لگ رہی تھی۔ پروفیسر کی دریافت کردہ شعاع نے اسے اور اس کے کتے کو نہایت چھوٹا سا کر دیا تھا، جو کسی کے پیروں تلے آ کر بھی مسلا جا سکتا تھا۔ اختر کو یہ سب ایک خواب لگ رہا تھا۔ وہ خود کو کسی فلم کا کردار سمجھ رہا تھا۔ سائنسی فلم۔۔۔ جادو کی فلم۔۔۔ مگر اس کا وجود، ہیرا کا وجود اس کے چھوٹے چھوٹے اعضاء چیخ چیخ کر اس حقیقت کا اعلان کر رہے تھے کہ یہ فلم یا خواب نہیں، بلکہ سچائی ہے۔ اب وہ اپنے مختصر وجود کے ساتھ کس طرح دشمنوں سے نمٹ سکے گا؟ یہ ایک ایسا سوال تھا، جو اس کی چھوٹی سی کھوپڑی پر مسلسل ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔
ہیرا چھپتا چھپاتا پھرتی سے دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا کہ یک لخت وہ رک گیا۔ اس کے اچانک رکنے کی وجہ سے اختر آگے کو قدرے جھک گیا تھا اور گرتے گرتے بچا۔ ایک بڑا سا جوتا ان کے راہ میں حائل ہو گیا تھا۔ اگر ہیرا بروقت خود کو نہ روکتا تو دونوں خاموشی کے ساتھ جوتے تلے کچل جاتے اور اختر کی کہانی ادھر ہی ختم ہو جاتی۔ اختر کے ذہن میں سب سے پہلا یہی سوال ابھرا تھا کہ کیا وہ لوگ دیکھ لیے گئے ہیں؟
لیکن جوتے والا آدمی چند لمحے رک کر آگے بڑھ گیا تو اختر کی جان میں جان آئی۔ ہیرا دوبارہ سے بھاگنے لگا۔ وہ بند دروازے کے نیچے کی معمولی دراڑ سے بھی نکلتا چلا گیا، البتہ اس سلسلے میں اختر کو اس کی پشت سے اترنا پڑا۔ باہر نکلتے ہی اختر اس پر دوبارہ سوار ہو گیا۔ ہیرا پوری قوت سے کوریڈور میں بھاگ رہا تھا اس کی رفتار کسی چوہے کی مانند تھی۔ ہیرا بغیر کسی مشکل کے عمارت سے باہر نکل آیا۔ مکمل طور پر صبح ہو چکی تھی۔ سڑک پر بھی کچھ گاڑیاں چلنا شروع ہو چکی تھیں۔ اختر نے سڑک پار ایک بنگلے کی دیوار کے ساتھ سیاہ وین دیکھ لی۔ وہ فوراً سمجھ گیا کہ یہی مجرموں کی گاڑی ہے۔
اس نے ہیرا کو وین کی طرف چلنے کا اشارہ دیا۔ ایک مشکل یہ تھی کہ سڑک پر گاڑیاں آ جا رہی تھیں۔ ان میں خاص طور پر اسکولوں کی گاڑیاں تھیں۔ ہیرا نہایت احتیاط سے سڑک کراس کرنے لگا۔ اختر کو وہ سڑک ایک بے حد طویل اور چوڑا سیاہ ہموار میدان کی طرح لگ رہی تھی۔ گاڑیوں کے ٹائروں سے بچے ہوئے ہیرا سڑک کی دوسری جانب آ گیا۔
اچانک ایک کار سست روی سے ان کے نزدیک سے گزری۔ اس میں اسکول کے چند بچے بھی تھے۔ ایک چشمہ پہنے ہوئے بچے نے نہایت غور سے ہیرا اور اختر کو دیکھا اور حیرت زدہ رہ گیا اور دوسرے بجوں کو بھی بتانے لگا، مگر اتنی دیر میں کار آگے نکل گئی تھی۔
بہت جلد وہ دونوں وین کے پاس پہنچ گئے اب مسئلہ یہ تھا کہ وین میں کس طرح سے سوار ہوا جائے۔ وین کافی اونچی تھی اور زمین پر صرف اس کے ٹائر ہی لگے ہوئے تھے۔ اختر پریشان ہو گیا۔ منزل پر آ کر بھی ناکام ہو رہا تھا۔ مجرم کسی وقت بھی آ سکتے تھے اور پھر وہ وین میں بیٹھ کر چلے جائیں گے۔ اس سے پہلے ہی اسے کچھ کرنا ہو گا۔ چلتے چلتے وہ وین کے عقبی حصے کی جانب آ گیا۔
یہ دیکھ کر وہ خوش ہو گیا کہ وین کے عقبی حصے کی طرف درختوں کی ٹوٹی ہوئی سوکھی شاخیں پڑی تھیں، جن میں سے کئی سوکھی ڈنڈیاں وین کی بیک لائٹس تک جا رہی تھیں۔ ان کے ذریعے بیک لائٹس پر پہنچا جا سکتا تھا۔ بیک لائٹس پر لوہے کی جالیاں لگی ہوئی تھیں، جو اُن کی سیفٹی کے لیے لگائی جاتی ہیں۔
عین اسی لمحے اختر نے چاروں مجرموں کو واپس آتے دیکھا وہ تیز تیز قدموں سے وین کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اب اختر کے پاس وقت محدود تھا، چناں چہ اس نے ہیرا کو جلدی سے اشارہ کیا۔ ہیرا ایک ٹریننگ یافتہ کتا تھا۔ اختر نے اسے بہت کچھ سکھا رکھا تھا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ اختر کے اشاروں کو بخوبی سمجھ لیتا تھا۔ ہیرا فوراً سوکھی شاخ پر کسی چیتے کی طرح چڑھ گیا۔ وہ بڑی احتیاط سے اوپر جاتی ہوئی ڈنڈی پر چڑھ رہا تھا۔ اختر بڑی بے تابی سے اسے دیکھ رہا تھا اور دعا کر رہا تھا کہ وہ سلامتی کے ساتھ لوہے کی جالی تک پہنچ جائے اور ایسا ہی ہوا۔ ہیرا لوہے کی جالی تک آ گیا۔ اس کی انگلیاں نہیں تھیں، اس لیے وہ ایک تار کو منہ میں دبا کر دوسرے تار پر سکڑ کر بیٹھ گیا۔ مجرم وین تک آ پہنچے تھے۔ اب اختر نے شاخ پر چڑھنا شروع کر دیا۔
ابھی وہ آدھے ہی راستے پر تھا کہ پوری وین ہل گئی۔ وین کے دروازے کھولے گئے تھے۔ اختر گرتے گرتے بچا۔ اس کا ایک ہاتھ چھوٹ گیا تھا۔ بڑی مشکلوں سے اس نے خود کو گرنے سے بچایا۔ دروازے بند ہوئے۔ اختر نے دوبارہ اوپر کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔
واہ کیا سچویشن تھی۔ وین کا انجن اسٹارٹ ہو رہا تھا اور ابھی اختر جالیوں سے کئی انچ نیچے تھا۔ پھر وین کو جھٹکا لگا۔ اب وہ کسی بھی لمحے آگے بڑھ سکتی تھی۔ اختر نے ایک خطرناک فیصلہ کیا۔ وہ شاخ پر کھڑا ہوا اور پوری قوت سے دوڑا۔ عین اسی لمحے وین آگے بڑھی۔ اختر نے چلاتے ہوئے لمبی چھلانگ لگا دی۔ اس کے دونوں ہاتھ آگے کی جانب پھیلے ہوئے تھے۔ بس آخری لمحے میں اس کے ہاتھوں میں لوہے کی جالیوں کا ایک تار آ گیا، جو اس کے لیے کسی موٹے سریے سے کم نہ تھا۔ اب اختر وہ لوہے کا تار پکڑ کر لٹکا ہوا تھا اور وین تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔
ہیرا بڑی بے قراری سے اپنے مالک کو زندگی اور موت کے درمیان لٹکا دیکھ رہا تھا۔ اختر کا پورا جسم پسینوں میں بھیگ گیا تھا۔ اس نے سارے جسم کی طاقت ہاتھوں میں سمیٹ لی تھی۔ اس نے ایک نظر نیچے ڈالی تو چکر آ گئے۔ نیچے تارکول کی سڑک بجلی کی طرح بھاگتی نظر آ رہی تھی۔ اگر وہ گر جائے تو نہ جانے اس کے مختصر سے وجود کا کیا بنتا۔ اس نے جلدی سے چہرہ اوپر کی طرف کر لیا اور پھر پوری قوت سے اپنے بدن کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی۔ اسے خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی اور وہ دھیرے دھیرے اوپر اٹھتا چلا گیا۔ پھر اس نے دونوں ٹانگوں کی قینچی ایک سریے میں ڈال دی۔ اس طرح اس کے ہاتھوں پر سے بوجھ ہٹ گیا۔ اب کیا مشکل تھی کچھ ہی دیر بعد وہ بھی ہیرا کے ساتھ جالیاں تھامے بیٹھا تھا اور عقبی مناظر کو دیکھ رہا تھا۔
وین کے قریب سے دوسری گاڑیاں بھی شور مچاتی ہوئی نکل رہی تھیں۔ اختر کے دماغ میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ یہ کچھ ہی دیر میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔ جیتا جاگتا پروفیسر اس کی نظروں کے سامنے موت کی آغوش میں جا سویا۔ پروفیسر کی لاش تجربہ گاہ میں ہی پڑی تھی۔ جب اس کی لاش دریافت ہو گی اور پولیس والے تفتیش کریں گے تو پروفیسر نجیب کے اسسٹنٹ اختر کو تلاش کیا جائے گا۔ اسے غائب پا کر یہی نتیجہ نکالا جائے گا کہ پروفیسر کو اس کے اسسٹنٹ نے ہی قتل کیا ہے اور وہ اس کی اہم چیزیں لے کر روپوش ہو گیا ہے، کیوں کہ اختر کی گمشدگی ہی اسے قصور وار ٹھہرانے میں اہم کردار ادا کر رہی تھی۔ اب اختر کو کسی نہ کسی طرح خود کو بے گناہ ثابت کرنا تھا اور اپنے مختصر وجود کو بھی اصل حالت پر لانا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ یہ نا ممکن کام کس طرح انجام دے سکے گا۔ اس نے یہ فاسد اور پریشان کن خیالات ذہن سے جھٹک ڈالے اور خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ آگے دیکھا جائے گا کہ اُسے کیا کرنا ہو گا۔
وین کا سفر جاری تھا۔ ہیرا اور اختر پر انتہائی تیز ہوا کے شدید تھپیڑے پڑ رہے تھے، مگر وہ بڑی مستقل مزاجی سے اسی پوزیشنوں میں بیٹھے رہے۔ خفیف سی بھی غفلت سے وہ تنکوں کی طرح ہوا میں اُڑ سکتے تھے۔
کافی دیر بعد وین کا سفر اختتام کو پہنچا۔ وین ایک جگہ رک گئی تھی، مگر یہ تو کوئی سڑک ہی تھی۔ اختر نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی پھر بند ہونے کی۔ شاید کوئی ادھر ہی اُتر گیا تھا۔ وین آگے بڑھ گئی۔ اختر نے دیکھا، تین آدم نیچے اتر کر ایک جانب جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک ان کا باس بھی تھا، جس نے نقاب اُتار کر جیب میں رکھ لی تھی۔
کچھ ہی دیر بعد وین ایک بڑے بنگلے میں داخل ہو گئی۔ کسی ملازم نے میں گیٹ کھولا تھا۔ اندر وین پختہ روش پر چل کر پورچ میں جا رکی۔ ایک جانب کافی بڑا اور سرسبز لان تھا۔ پھر شاید آخری آدمی بھی گاڑی سے اُتر کر اندر چلا گیا۔ اتفاق سے جس سمت اختر اور ہیرا بیٹھے تھے، وہ لان کی جانب تھی۔ اختر کو نیچے ایک پودا کسی بڑے درخت کی مانند لگ رہا تھا۔ اس میں پھول بھی کھلے ہوئے تھے۔ ان کے لیے نیچے اترنا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہ رہا۔ اختر نے ہیرا کو پچکارا اور دونوں نے ایک ساتھ پودے پر چھلانگ لگا دی اور پودے کی ایک نرم شاخ پکڑ کر جھول گئے ہیرا نے اپنے جبڑوں میں شاخ کو دبوچ لیا تھا۔ نازک سی شاخ ان دونوں کے وزن سے آہستہ آہستہ زمین کی طرف جھکتی چلی گئی اور وہ دونوں نہایت اطمینان سے زمین پر اتر گئے۔ وہ مکمل طور پر چھپ گئے تھے۔ اختر گھاس کو دیکھ کر سر کھجا رہا تھا۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ گنے یا کیلے کے کھیت میں کھڑا ہے۔ اس نے ہیرا کو دیکھا۔ وہ بھی تھوتھنی بلند کیے کھیت کا جائزہ لے رہا تھا۔
اختر نے ہیرا سے مخاطب ہو کر کہا ’’پیارے ۔۔۔ جو احساسات تمہارے ہیں، میرے بھی وہی ہیں۔ میرا نصیب بھی کیسا ہے کہ تم سے جا لڑا۔۔۔‘‘ ہیرا زبان نکالے ہانپ رہا تھا۔
’’چل بھئی آگے ۔۔۔ ادھر سے تو باہر نکلیں۔‘‘ اختر نے قدم بڑھائے۔
ابھی وہ کچھ ہی دور گئے تھے کہ اس کے پیر سے کوئی چیز ٹکرائی۔ اختر نے چونک کر دیکھا وہ ایک زنگ آلود سوئی تھی، جو نہ جانے کب سے یہاں پڑی ہوئی تھی۔ اختر نے اسے اٹھا لیا اور تلوار کی طرح لہرایا۔
’’واہ۔۔۔ سوئی سے بھی تلوار کا کام لیا جا سکتا ہے ۔۔۔ مجھے آج معلوم ہوا ہے۔‘‘
اتنے میں ہیرا زور سے بھونکا۔ پھر وہ مسلسل بھونکنے لگا۔
’’ابے کیا ہوا؟ کیوں باجا بجائے جا رہا ہے؟‘‘ اختر نے جھلا کر اسے دیکھا۔ ہیرا ایک طرف دیکھ رہا تھا۔ اختر نے اس سمت میں دیکھا تو اس کے پیروں تلے زمین کسک گئی۔ کئی موٹے موٹے چیونٹے تیزی سے ان دونوں کی جانب دوڑے آ رہے تھے۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اختر نے چیونٹوں کی باریک آوازیں سنی تھیں۔ وہ ’’ چرچر‘‘ جیسی آوازیں خارج کرتے ہوئے بھاگے چلے آ رہے تھے۔ اختر کے سامنے وہ چیونٹے بکروں جیسے قامت وجسامت کے لگ رہے تھے۔ ہیرا نے بھی اپنے تیور بگاڑ لیے اور اس کے جبڑوں سے غراہٹ نکلنے لگی تھی۔
چیونٹوں کی رفتار بہت تیز تھی، اس لیے اختر کو مقابلہ کرنے کے سوا بچاؤ کی اور کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس نے اپنی تلوار سونت لی۔ جونہی آگے والا چیونٹا اختر پر حملہ آور ہوا۔ اس نے تلوار کی نوک چیونٹے کے بڑے اور بھدے سر میں گھونپ دی۔ وہ چیونٹا پاگل ہو کر درد سے گول گول چکر کاٹنے لگا اور اس تکلیف کے عالم میں وہ اپنے ایک ساتھی سے بھڑ گیا۔ اُس نے بھی تلملا کر اپنے ساتھی کو کاٹ لیا۔ دونوں گڈ مڈ ہو کر زمین پر لوٹنے لگے۔ ہیرا بھی ایک چیونٹے سے جنگ کر رہا تھا۔ وہ چیونٹا اپنے اگلے شکنجے نما دانتوں سے اسے قابو کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا تھا، مگر ہیرا نا صرف اچھل اچھل کر خود کو بچا رہا تھا، بلکہ موقع پاتے ہی اسے اپنے پنجوں اور دانتوں سے زخمی بھی کر رہا تھا۔ اختر کی تلوار چاروں جانب حرکت کر رہی تھی۔ ایک چیونٹے نے بڑی پھرتی سے اس پر حملہ کرنا چاہا تو اختر نے اچھل کر اپنے آپ کو بچایا اور تلوار چیونٹے کے کھلے ہوئے منہ میں گھسیڑ ڈالی۔ چیونٹے کے سیاہ خون اُگلتے منہ سے عجیب و غریب تکلیف دہ آواز نکلی۔
اتنے میں موقع پا کر ایک چیونٹے نے اختر کی ٹانگ منہ میں دبانا چاہی، مگر صرف جینز کی پینٹ ہی منہ میں آ سکی۔ اختر نے پوری قوت سے تلوار اس کی گردن پر ماری۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چیونٹے کی گردن بقیہ دھڑ سے علیحدہ ہو گئی۔ دھڑ ایک اور ہی سمت چل پڑا اور سر پینٹ سے چپکا رہ گیا، جو اب تک زندہ تھا۔ اختر نے دانت کچکچا کر چیونٹے کی کھوپڑی پینٹ سے ہٹائی اور فٹ بال کی طرح اچھال کر ایک زبردست کک رسید کی۔ چیونٹے کی کھوپڑی دور ہوا میں اُڑ گئی۔ اتنے میں ہیرا نے اپنے دشمن چیونٹے کی تمام ٹانگیں اکھاڑ ڈالی تھیں۔ اس چیونٹے کا دھڑ زمین پر پڑا کلبلا رہا تھا۔ وہ فتح یاب ہوئے تھے۔ اختر نے جلدی سے ایک مخصوص سیٹی بجائی اور خود ایک طرف دوڑا۔ سیٹی کا اشارہ پا کر ہیرا اس کے پیچھے آنے لگا۔ یکا یک اختر کے سامنے بغیر سر کا چیونٹا آ گیا۔ وہ ابھی تک پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر چکرا رہا تھا۔ اب وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔ وہ اس سے بچتے ہوئے آگے نکلتے چلے گئے۔ وہ ناکارہ زنگ آلود سوئی بہت کار آمد ثابت ہوئی تھی۔ اختر نے اُسے بڑی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے آگے بھی وہ کام آئے۔
جلد ہی وہ دونوں لان سے باہر آ گئے۔ اس جگہ انہوں نے چیونٹیاں دیکھیں، مگر وہ دونوں برق رفتاری سے ایک سمت بڑھتے چلے گئے۔ یہ ان کے حق میں بہتر ہی ہوا کہ عمارت میں داخل ہونے کے لیے سیڑھیاں نہیں تھیں، اس لیے وہ دونوں بغیر کسی دقت کے اندر آ گئے۔ عمارت کا فرش انتہائی شفاف اور صاف تھا۔ اختر اور ہیرا دیوار کی جڑ کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ وہاں ان کو کئی دروازے نظر آ رہے تھے۔ ایک دروازے کی نیچے سے وہ کمرے میں داخل ہو گئے۔ اختر نے کمرے کا جائزہ لیا تو ایک ہی نظر میں وہ سمجھ گیا کہ یہ کسی بچے کا کمرا ہے، کیوں کہ اسے وہاں جگہ جگہ ہر قسم کے جھوٹے بڑے کھلونے دکھائی دے رہے تھے۔ کتابیں بھی بے ترتیبی سے بکھری ہوئی تھیں۔ کھلونے نہایت قیمتی اور جدید تھے۔ اختر اور ہیرا حیرت سے کمرے کا ماحول دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ کمرے میں ایک خوب صورت سنگل بیڈ بھی تھا، جس کے نزدیک ایزی چیئر بھی رکھی ہوئی تھی۔
اختر کمرے کا ماحول دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ اسے کسی چیز کا احساس نہ رہا تھا۔ ناگہاں اس نے بیڈ کے برابر رکھی تپائی پر ایک سفید بلی دیکھی، جو دیکھنے میں بالکل اصلی لگ رہی تھی۔ بلی کا منہ اختر کی جانب ہی تھا، لیکن اچانک ہی اختر کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہونے لگے۔ اس نے بلی کے کان ہلتے دیکھے تھے۔ پھر بلی ’’میاؤں‘‘ کی آواز کے ساتھ تپائی سے ایزی چیئر پر کودی۔ چیئر آگے پیچھے ہلنے لگی۔ اختر کے ہوش دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہونے لگے۔ بلی تو اسے ایک ہی لقمے میں پیٹ میں پہنچا دے گی۔ یک لخت بلی نے ایزی چیئر سے چھلانگ لگا دی۔
اختر کا دماغ ماؤف ہو کر رہ گیا۔
باب 6
رات کے کھلے ہوئے منہ سے تاریکی اور اندھیرے کا کثیف دھواں نکل رہا تھا، جو رات کی ہول ناکی میں اضافے کا باعث بن رہا تھا۔ اس جگہ قرب و جوار میں انسانی آبادی نہیں تھی۔ یہ شہر سے کافی دور کا علاقہ تھا۔ اس سے کچھ آگے جنگل کا علاقہ شروع ہو جاتا تھا، البتہ ادھر ایک عمارت تھی، لیکن وہ کسی وجہ سے کھنڈر میں تبدیل ہو چکی تھی۔ ادھر کوئی نہیں رہتا تھا۔ اس علاقے میں دل دہلا دینے والی خاموشی طاری تھی۔ عمارت کے اردگرد خود رو جھاڑیاں بے تحاشا اُگی ہوئی تھیں۔ اس کے اندر باہر کئی بڑے درخت بے ہنگم انداز میں ہوا کے تیز جھونکوں سے جھوم رہے تھے۔ بے شمار جھینگر وہاں اپنا روایتی راگ الاپ رہے تھے۔ دفعتاً دو آدمی اس علاقے میں داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں دو تھیلے تھے اور ان کے اٹھانے کے انداز سے ہی پتا چلتا تھا کہ تھیلوں میں کسی قسم کی بھاری اشیاء ہیں۔ وہ دونوں ماحول کی ہول ناکی کی پروا کیے بغیر کھنڈر کی جانب بڑھتے چلے جا رہے تھے۔
اچانک ایک تیز آواز ہوا کے دوش پر لہرائی۔ دونوں چونک پڑے۔ دور کوئی کتا بھاگتا ہوا بھونک رہا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی آواز دور ہوتی چلی گئی۔ دونوں ایک ٹارچ کی روشنی میں راستہ دیکھتے ہوئے چل رہے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ کھنڈر نما عمارت کے اندر آ گئے۔ اندر آ کر انہوں نے ایک اجڑے ہوئے ٹوٹے پھوٹے کمرے میں تھیلے فرش پر ڈال دئیے۔ فرش پر مٹی کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔ ٹارچ والے نے روشنی اس جگہ کی چھت پر ڈالی۔ پوری چھت پر انتہائی بڑے اور دبیز جالے بنے ہوئے تھے۔ اُن میں موجود مکڑیاں روشنی پڑتے ہی بے چینی محسوس کرنے لگی تھیں۔
ٹارچ والے نے وہاں کا جائزہ لینے کے بعد اپنے ساتھی سے کہا۔ ’’کافی محفوظ اور بہترین جگہ ہے ۔۔۔ حیرت ہے، ہمیں اس جگہ کے بارے میں پہلے علم ہی نہیں تھا۔‘‘
’’واقعی۔۔۔ اس جگہ کے بارے میں تو کسی کے وہم و گمان میں نہیں آئے گا۔ ہم بڑے آرام سے یہاں اپنا سامان چھپا سکتے ہیں۔‘‘ دوسرے نے اس کی تائید کی۔
ٹارچ والا تھیلوں پر روشنی ڈال رہا تھا۔ وہ ہنستا ہوا بولا۔ ’’لگتا ہے، اس مرتبہ بڑا مال ہاتھ لگا ہے۔ مزے آ گئے۔‘‘
’’بڈھے نے اپنی بیٹی کے جہیز کے لیے بڑا مال جمع کیا تھا۔۔۔ہمسب کچھ لے آئے ۔۔۔ چل یار۔۔۔ حصہ بانٹی کر لیں۔‘‘
ان کی باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ دونوں پیشہ ور چور تھے۔
دوسرے آدمی نے ٹارچ کی روشنی میں تھیلوں میں سے سامان نکالنا شروع کر دیا۔ ان اشیاء میں زیورات اور دوسری چھوٹی، مگر قیمتی چیزیں شامل تھیں۔ دونوں ہنس رہے تھے اور چوری کا تازہ ترین واقعہ مزے لے لے کر بیان کر رہے تھے۔ اچانک زیورات پر کوئی چھوٹی جان دار شے کو دی۔
دوسرے آدمی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ وہ بری طرح بوکھلا کر پیچھے ہٹا اور گرتے گرتے بچا۔ پہلے نے جلدی سے ٹارچ کی روشنی زیورات کی جانب کی تو انہوں نے ایک موٹا تازہ چوہا بھاگتے دیکھا۔ ٹارچ والے کے منہ سے زور دار قہقہہ نکل گیا۔
’’ڈر گئے ۔۔۔؟ اب ایک چوہے سے ڈر گئے ۔۔۔ دھت تیرے کی۔۔۔ بڑے سلطانہ ڈاکو بنے پھرتے ہو۔۔۔ ایک چوہے نے ساری بہادری ہوا کر دی۔۔۔‘‘
پہلے آدمی نے چوہے کی شان میں زبردستی گستاخی کی اور منہ بنا کر بولا۔
’’میں سمجھا ۔۔۔کوئی سانپ وانپ آ گیا ہے، اس لیے تھوڑا گھبرا گیا تھا۔‘‘
اسی لمحے انہوں نے چوہے کی چیں سنی۔ ٹارچ والے نے جلدی سے ٹارچ کی روشنی آواز کی طرف پھینکی۔ وہی چوہا بڑی دلیری سے ایک طرف کھڑا انہیں گھور رہا تھا۔ نہ جانے کیا بات تھی کہ چوہے کے بھیانک انداز نے ان کے جسموں میں خوف و دہشت کی لہریں دوڑا دیں۔ ٹارچ والے نے گالیاں بکتے ہوئے پستول نکالا اور چوہے کی جانب رخ کیا۔ اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ جہاں کا تہاں رہ گیا۔ ایسا لگتا تھاجیسے اس پر کسی نے جادو کر کے پتھر کا بنا دیا ہے۔ اس کا ساتھی بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ منظر دیکھ رہا تھا۔ جس کی خوف ناکی نے ان دونوں کے حواس معطل کر دئیے تھے۔
اب انہیں ایک کے بجائے سیکڑوں چوہے بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے تھے۔ گول مٹول اور بھاری بھر کم چوہے ۔۔۔ جو غیر معمولی بڑے سائز کے تھے۔ پہلے چور کے ہاتھ سے ٹارچ گر گئی، مگر وہ تب بھی چوہوں کو دیکھ رہے تھے۔ ٹارچ گر کے بند ہو گئی تھی، مگر اندھیرے میں ان کو چوہوں کی چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آ رہی تھیں، جو جگنوؤں کی طرح ادھر ادھر لپک رہی تھیں اور ان چمکتی آنکھوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ زمین سے چوہے اُبل رہے ہیں۔ ان دونوں آدمیوں کے زرد چہروں پر موت کی پرچھائیاں لہرا رہی تھیں۔ دونوں کو یقین ہو گیا تھا کہ ان کے کالے کرتوتوں کا نتیجہ آخر کار بھیانک موت کی شکل میں ان کے سامنے آ گیا ہے۔ نامعلوم کس مظلوم کی بددعا نے ان کو ادھر آ گھیرا تھا۔ دہشت کا مہیب اژدھا ان دونوں کو نگل چکا تھا۔ اب تک خوف ناک چوہے ان دونوں کے اطراف میں دوڑ بھاگ رہے تھے، لیکن حملہ آور نہیں ہوئے تھے ۔۔۔ نہ جانے کیا بات تھی۔
معاً ٹوٹے ہوئے دروازے سے کوئی اندر داخل ہوا۔ وہ کوئی انسان ہی لگتا تھا۔ دونوں چور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر آنے والے کو دیکھنے لگے۔ وہ ان دونوں کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس کے عقب میں ٹوٹا ہوا دروازہ بھی دکھائی دے رہا تھا، اس لیے وہ دونوں چور آنے والے کا ہیولہ دیکھ سکتے تھے۔ پہلے تو وہ اسے انسان ہی سمجھے تھے، لیکن کسی انسان کے منہ سے ایسی ہول ناک غیر انسانی غراہٹ نہیں نکلتی اور نا ہی۔۔۔ نہ ہی کسی انسان کی دم ہوتی ہے، جب کہ آنے والے کی لمبی دم کوڑے کی طرح لہرا رہی تھی۔
پھر زلزلہ سا آ گیا۔ ہیولہ ایک تیز چیخ کے ساتھ ان پر کودا۔ دونوں فرط دہشت سے گرد آلود فرش پر گر گئے۔ اگلے ہی لمحے گرد آلود فرش خون آلود بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔ ان چوروں کے خون آلود لوتھڑے اور جسموں کی بوٹیاں چھت تک اُچھل رہی تھیں۔ کمرے میں ایک بھونچال آ گیا تھا۔ چوہے بھی خون اور گوشت کے لوتھڑوں پر ٹوٹ پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں صرف چوروں کے مچرب جسموں کے بجائے ان کے ڈھانچے پڑے رہ گئے۔ سارے چوہے شکم پری کے بعد آہستہ آہستہ وہاں سے کھسک رہے تھے۔ پراسرار طور پر بلا بھی غائب ہو چکی تھی۔
باب 7
اختر کا دل دھک سے رہ گیا۔
اس نے اپنے اردگرد نظر ڈالی۔ قریب ہی ایک کھلونا کھڑا ہوا تھا۔ یہ جو کر کا نمونہ تھا۔ اختر نے لپک کر اس کے پیروں کے پاس دکھائی دینے والا بٹن آنا کر دیا۔ اگلے ہی لمحے جوکر نے ٹھمکنا شروع کر دیا۔ اس کی گول اور بڑی بڑی آنکھوں کے رنگین بلب تیزی سے جل بجھ رہے تھے۔ کمرے میں اچھا خاصا شور ہو گیا۔ بلی جو کر کی حرکتوں سے گھبرا گئی۔ وہ اسی طرح دوبارہ پتائی پر جا چڑھی۔ جو کر مسلسل ٹیڑھا میڑھا ہو کر ناچ رہا تھا۔ اس کے منہ سے ایک تیز سیٹی جیسی آواز بھی خارج ہو رہی تھی۔ بلی نے مدھم سی آواز میں میاؤں کہا اور سلاخوں والی کھڑکی سے باہر نکل گئی۔ اسے جاتا دیکھ کر اختر نے سکون کی ایک گہری سانس لی تھی۔
ہیرا جو کسی کھلونے کے عقب میں جا چھپا تھا، اس کے پاس آ گیا۔ اختر نے مزید ادھر ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا۔ کیا معلوم، بلی دوبارہ کسی وقت آ جائے۔ ہیرا اور وہ کمرے سے باہر نکل گئے۔ دونوں طویل راہداری کے صاف و شفاف فرش پر آگے بڑھ رہے تھے۔ اچانک اختر کی نظر ایک آدمی پر پڑھی، وہ مخالف سمت سے چلا آ رہا تھا۔ اپنے حلیے بشرے سے وہ کوئی ملازم ہی لگتا تھا۔ وہ کچھ سوچتا ہوا نیچے دیکھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ اختر کو اس کے انداز سے خطرہ محسوس ہوا۔ اس نے ہیرا کو تھپکا اور دونوں قریبی دروازے کے نیچے سے دوسرے کمرے میں آ گئے۔ اس کمرے کا منظر پہلے کمرے سے مختلف تھا۔ یہاں نیم تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ پورا کمرہ قیمتی اشیاء سے آراستہ تھا۔ اختر بھر پور نظروں سے کمرے کا جائزہ لیتا رہا۔
اچانک ہیرا نے دھیمی آواز میں اسے متوجہ کیا۔ اختر نے اسے چونک کر دیکھا۔ تو ہیرا منہ سے ایک مخصوص آواز نکالنے لگا، جس کا مطلب تھا کہ اسے بھوک لگ رہی ہے۔ اختر کو بھی یاد آ گیا وہ خود بھی بھوکا ہے۔
اس نے ہیرا سے کہا۔ ’’ٹھیک ہے ۔۔۔ تم ہی اپنی ناک سے کچن کا ایڈریس معلوم کرو۔۔۔‘‘
ہیرا سمجھ گیا۔ وہ اس جگہ سے بھی باہر نکلے۔ ہیرا آگے آگے ہوا میں سونگھتا ہوا چل رہا تھا۔ مختلف جگہوں سے گزر کر آخر وہ ایک بڑے کچن میں آ گئے۔ وہاں ایک باورچی اپنے کاموں میں مصروف ملا۔ اس وقت باورچی پھل کاٹ رہا تھا کہ سیب کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اُچھلا اور نیچے آ گرا۔ اختر اور ہیرا اس کی طرف لپکے۔ دونوں کے لیے یہ کافی تھا۔ وہ سیب کے ٹکڑے پر ٹوٹ پڑے۔ اختر یہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ اپنی اصل جسامت میں ہوتا تو سیب کا یہ معمولی سا ٹکڑا چکھنے کے لیے بھی ناکافی رہتا، لیکن اس وقت صورت حال یہ تھی کہ وہ اور اس کا کتا اسی ٹکڑے سے اپنا پیٹ بھر رہے تھے۔ کچن کے صاف فرش پر کچھ پانی بھی گرا نظر آ رہا تھا۔ وہاں سے دونوں نے پانی پی لیا۔ مجبوری انسان سے کچھ بھی کروا دیتی ہے۔ اختر کو اس بات کا بھر پور اندازہ ہو گیا تھا۔
ایک مرتبہ پھر وہ دونوں اس کمرے میں آ گئے جہاں نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ وہاں انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں لگ رہا تھا۔ کافی محفوظ جگہ تھی۔ ہیرا ایک کرسی کے پائے کے ساتھ لگ کر اونگھنے لگا۔ اختر کا دماغ مختلف باتیں سوچ رہا تھا۔ ان چاروں مجرموں میں سے ایک اسی جگہ آیا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ اس جگہ رہتا ہے، لیکن وہ کہاں چلا گیا تھا۔ اب تک وہ یہاں نظر نہیں آیا تھا۔ اختر اس کا انتظار کرنے پر مجبور تھا۔ اس جگہ کے علاوہ اور بھلا وہ کہاں جاتا۔ شاید یہاں سے اسے کوئی ایسا سراغمل جائے، جس کی مدد سے وہ باقی مجرموں تک پہنچ سکے۔
پھر اختر بھی ہیرا کے ساتھ پڑ کر سو گیا۔ شدید تھکن اور مسلسل دماغ سوزی کے باعث وہ ایسا دھت ہو کر سویا کہ بہت سا وقت گزر گیا۔ اختر کے پاس وہ زنگ آلود سوئی اب تک تھی، جو اس کے لیے کسی تلوار سے کم نہ تھی۔ اچانک وہ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر بیدار ہو گئے۔ اختر نے متوحش نظروں سے دیکھا تو چونک پڑا۔ یہ مجرموں میں سے ایک تھا۔ گویا یہ گھر اور یہ کمرا اسی کا تھا۔ اس نے اندر داخل ہوتے ہی لائٹس آن کر دیں اور ایک جانب بڑھا، جہاں خوب صورت جھالروں والا پردہ لٹک رہا تھا۔ اس نے پردہ ہٹایا۔ اس کے پیچھے ایک مضبوط لکڑی کی منقش الماری رکھی ہوئی تھی۔ اس آدمی نے جیب سے ایک بڑی سی چابی نکالی اور الماری کھول کر کچھ رکھنے لگا۔ پھر اس نے الماری بند کر دی اور دروازہ کھول کر کسی ملازم کو آواز لگائی۔ ملازم کہیں سے بھاگا چلا آیا۔ تب اس نے ملازم کو وہاں کی صفائی کرنے کا کہا اور چلا گیا۔
اختر نے ہیرا سے کہا ’’چل بیٹا ہیرا۔۔۔ اپنے نصیب میں سکون نہیں ہے۔ ادھر سے نکلو، ورنہ وہ ملازم کا بچہ فرش کے ساتھ ہمیں بھی دھو ڈالے گا۔‘‘
دونوں وہاں سے نکل کر بچے والے کمرے میں آ گئے۔ لگتا تھا، ابھی بچہ ادھر ہو کر گیا ہے، کیوں کہ کھلونوں اور دوسری چیزوں کی ترتیب کچھ بگڑی ہوئی تھی۔ ایک جانب ایک ریموٹ کنٹرول پولیس کار کھڑی ہوئی تھی۔ اختر نے اس کا ریموٹ بھی اُدھر ہی پڑا دیکھا۔ دفعتاً ہیرا زور سے بھونکا۔ اختر نے دیکھا، وہی سفید بلی کھڑکی کے راستے اندر آ گئی تھی۔ اس مرتبہ اس کے تیور بڑے خطرناک لگ رہے تھے۔ اختر بڑی پھرتی سے تپائی کے نیچے گھس گیا۔ تپائی کی نچلی سطح اور فرش کے درمیان بہت معمولی فاصلہ تھا۔ بلی وہاں اپنا پنجہ بھی نہیں ڈال سکتی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ ہیرا بھی اس کے پیچھے آ جائے گا۔ ہیرا۔۔۔؟ اختر پریشان ہو گیا۔ وہ یہاں نہیں تھا۔ کہاں چلا گیا؟
پھر اس نے ایک ہوش اُڑا دینے والا منظر دیکھ لیا۔
ہیرا آگے آگے کسی بے بس چوہے کی طرح بھاگتا پھر رہا تھا اور بلی شیر کی طرح اس کے تعاقب میں بھاگ رہی تھی۔ اختر کو ایک دم ہوش سا آیا، جیسے وہ کسی ہپناٹسٹ کے ٹرانس سے آزاد ہو گیا ہو۔ ہیرا سخت مشکل میں تھا۔ اسے مدد کی فوری ضرورت تھی، ورنہ بلی اسے کسی گوشت کی بوٹی کی طرح نگل جائے گی۔
وہ دنیا کا سب سے حیرت ناک منظر تھا۔
ایک بلی ایک خونخوار کتے کو کھانے کے لیے دوڑ رہی تھی۔ اختر کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح ہیرا کی مدد کرے۔ دفعتاً اس کی نظر ریموٹ کنٹرول کار پر پڑی۔ وہ لپک کر اس کے نیچے گرے ہوئے ریموٹ کے پاس پہنچا اور آن کا بٹن دبا دیا۔ کار کی اوپر کی لائٹس فوراً جل پڑیں۔ اس میں سے پولیس کے ہارن کی آواز آنا شروع ہو گئی تھی۔ کار کی چھت پر لال اور نیلی روشنی والا روٹر گھوم رہا تھا۔ اختر جوش سے بھر گیا۔ اس نے ریموٹ کا ہینڈل سنبھال لیا۔ اس کام کے لیے اسے دونوں ہاتھ استعمال کرنا پڑ رہے تھے۔ کار غرا کر آگے بڑھی۔ ہیرا اب تک بلی کو نچا رہا تھا۔ اختر نے کار کا رخ بلی کی طرف کر دیا۔ بلی نے کار کو اپنی جانب آتے دیکھا تو ٹھٹک گئی، لیکن وہ پھر ہیرا کے پیچھے بھاگی۔ بھاگتے بھاگتے ہیرا دو دیواروں کے کونے میں آ گیا۔ وہ بری طرح پھنس گیا تھا۔ بلی نے اسے پھنستے دیکھا تو اس پر ایک لمبی چھلانگ لگا دی۔
اسی لمحے اختر نے جمپ کے بٹن پر پیر رکھ کر اسے دبا دیا۔ بلی کے ساتھ کار بھی اُچھلی اور ہوا میں ہی بلی سے جا ٹکرائی۔ بلی کا توازن بگڑ گیا اور وہ بری طرح چیختی ہوئی فرش پر گر گئی۔ اختر نے کار بلی پر چڑھا دی۔ اب بلی کے حواس اُڑ چکے تھے۔ وہ کار سے بری طرح خوف زدہ نظر آ رہی تھی۔ بلی ڈر کے پیچھے ہٹ گئی۔ اختر نے کار اس کی طرف بڑھائی تو بلی ایک مرتبہ پھر تپائی پر چڑھ کر کھڑکی کے ذریعے کمرے سے باہر نکل گئی۔ اختر نے اپنے چہرے کا پسینہ آستین سے صاف کیا اور ہیرا کی طرف لپکا۔ وہ اپنے مالک کے قدموں میں لوٹنے لگا تھا۔
اختر نے ہیرا کے نزدیک بیٹھے ہوئے کہا۔ ’’پیارے ۔۔۔ ابھی تو نہ جانے ہمیں کیسی کیسی مصیبتوں سے نمٹنا پڑے گا اور نامعلوم کب تک یہ خواریاں برداشت کرنا پڑیں گی۔‘‘
انہیں وہاں کافی وقت رہنا پڑا تھا۔ دونوں تپائی کے نیچے گھس کر سو گئے۔ یہاں ابلی انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔ عمارت میں لوگوں کی چہل پہل اور روز مرہ کے معمولات جاری تھے۔ آخر رات سر پر آ گئی۔ ایک بچہ کمرے میں داخل ہوا اور آتے کے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹ گیا۔ کمرے میں تاریکی چھا گئی تھی۔ اختر ہیرا کے ساتھ وہاں سے بڑی احتیاط کے ساتھ نکلا۔ اچانک کوریڈور میں اس نے مجرموں کے ساتھی کو دیکھا، جو اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا۔
باب 8
شہر بھر میں ایک ہول ناک صورت حال نے جنم لیا تھا۔
وہ تھی خونخوار چوہوں کی وبا۔۔۔بڑھتی ہوئی آلودگی اور گندگی کے ڈھیروں کی وجہ سے پہلے ہی بہت چوہے پیدا ہو گئے تھے اور ان کی وحشیانہ یورش کی وجہ سے غذائی اجناس کے گودام کے گودام خالی ہو گئے تھے۔ اگر یہ کھیتوں پر حملہ کر دیتے تو رات ہی رات میں تیار کھڑی فصل کتر جاتے تھے۔ یہ سلسلہ تو کافی پہلے سے چل رہا تھا، مگر اب اچانک ہی ان چوہوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا۔ سب سے پہلے محکمہ آب ونکاسی نے اس خطرے کو دیکھا تھا۔ جب انہوں نے صفائی کی غرض سے گٹروں کے ڈھکن ہٹائے تو انہیں گندے پانی کے بجائے موٹے موٹے چوہوں کا ریلہ نظر آیا تھا۔ شہر کے تمام چھوٹے بڑے میں ہولوں میں یہ چوہے تیزی سے اپنی نسل میں اضافہ کر رہے تھے۔ نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ اب یہ میں ہولوں تک محدود نہیں رہے تھے، بلکہ گھروں میں گھس جاتے تھے۔
کئی جگہوں سے یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ وہاں چوہوں نے کسی گھر میں گھس کر سوئے ہوئے لوگوں پر حملہ کر دیا اور ان کو شدید زخمی کر ڈالا تھا۔ اگر ان کی چیخ پکار سن کر آس پڑوس والے نا آتے تو شاید جوہے انہیں کھا ہی جاتے، مگر اعلیٰ حکام نے اس جانب سنجیدگی سے اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا تھا، لیکن جب چوہوں کی چیرہ دستیاں اور ہرزہ سرائیاں برداشت کی حد سے تجاوز کر گئیں اور انہوں نے اسکولوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر چلتے پھرتے راہ گیروں پر حملے کرنا شروع کیے تو شہری اور اخبارات حکام کی غیر ذمے داری اور بے حسی پر چلا اٹھے۔ حکام کی جانب سے خونی چوہوں سے مکمل طور پر نمٹنے کے کے لیے ٹھوس پلاننگ کی گئی اور ایک حتمی منصوبہ بنا کر کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی۔ ان ٹیموں کو چمڑے کے لباس فراہم کیے گئے اور ساتھ ہی انہیں موٹے موٹے لانگ شوز بھی مہیا کیے گئے۔ وہ لوگ زہریلی گیسوں کے سلنڈرلے کر میں ہولوں میں اتر گئے۔ خود ان لوگوں نے اپنی پشت پر آکسیجن سلنڈر لگائے ہوئے تھے تاکہ زہریلی گیس کے مضر اثرات سے محفوظ رہیں۔ وہ میں ہولوں میں بڑی بڑی ٹارچیں لے کر اتر گئے۔
لیکن انہیں حیرت کے بے پناہ جھٹکے لگے، جب انہوں نے ایک چوہا بھی نہ دیکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ چوہے خطرے کی بو کو سونگھ کر کسی پوشیدہ مقام پر جا کر چھپ گئے ہیں۔ ٹیموں کی رپورٹیں تقریباً ایک ہی جیسی تھیں کہ انہیں کوئی چوہا تو کجا۔۔۔ چوہے کا بچہ بھی نظر نہیں آیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے چوہے کسی اور جگہ چلے گئے ہیں، لیکن انہیں آخری ٹیم کے بارے میں بڑی خوف ناک رپورٹ ملی۔ اس ٹیم کے آٹھ آدمی میں ہولوں میں چوہوں کی تلاش کر رہے تھے کہ اچانک ان لوگوں پر کسی عفریت نے حملہ کر دیا اور پھر ایسا لگ رہا تھا کہ سارے شہر کے چوہے اس میں ہول میں جمع ہو گئے ہیں۔ عفریت نے ان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا اور اپنے خوف ناک پنجوں سے ان کے چمڑے کے لباسوں کو ادھیڑ ڈالا۔ چوہے ان کے کٹے پھٹے لباسوں سے اندر گھس کر جسموں سے چپک گئے۔ ایسے میں ایک آدمی نے اپنے حواس قابو میں رکھے۔ اس نے چوہوں پر زہریلی گیس کی دھار مارنا شروع کر دی اور خود ان کو روندتا ہوا نکاسی کے راستے کی طرف بھاگنے لگا۔
وہ پراسرار عفریت زہریلی گیس محسوس کرتے ہی بھاگ نکلی۔ اس طرح وہ آدمی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا اور اسی نے یہ رپورٹ دی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ خطرہ اب تک شہر کے میں ہولوں میں چکرا رہا ہے۔ قیاس یہی کیا گیا کہ یہ وہی عفریت ہے، جس نے شہر میں پہلے ہی خوف وہراس پھیلایا ہوا تھا۔
باب 9
انسپکٹر عاصم اب تک اسٹینلے عرف مسٹر اسٹیل کا کھوج لگانے میں ناکام ہی ثابت ہوئے تھے۔ اس کی تلاش میں انہوں نے بے شمار مشکوک جگہوں کو چھان مارا تھا۔ میک اپ میں انہوں نے ساری ایسی جگہوں کو دیکھ لیا تھا۔ جہاں مجرموں کی اکثریت پائی جاتی تھی۔ لیکن مسٹر اسٹیل ایسے غائب ہو گیا تھا کہ دوبارہ اس کا نشان تک نہیں ملا تھا۔ پھر ایک اور کیس انسپکٹر عاصم کے سپرد کر دیا گیا۔
یہ مشہور سنکی سائنسدان پروفیسر نجیب کے پراسرار قتل کا کیس تھا۔ انسپکٹر عاصم نے خود جا کر پروفیسر کی لاش کو دیکھا تھا، جو تجربہ گاہ میں پڑی ہوئی تھی۔ اس کے منہ میں گولی ماری گئی تھی۔ گوشت اور خون کی پپڑیاں تجربہ گاہ کی مشینوں پر جمی ہوئی تھیں۔ وہاں بہت لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ پولیس والے اپنی تفتیش کر رہے تھے۔ فوٹو گرافر دھڑا دھڑ تصویریں اتارنے میں مصروف تھے اور فنگر پرنٹس کا عملہ اپنے کاموں میں مشغول تھا۔ اخباری اور چینلز کے رپورٹر انسپکٹر عاصم سے قتل کے بارے میں اس کی رائے دریافت کر رہے تھے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ ادھر پروفیسر نجیب کا دوست ڈاکٹر بیدی بھی آ گیا تھا۔ وہ انسپکٹر عاصم کو پروفیسر سے اپنی آخری ملاقات کے بارے میں بتا رہا تھا۔ اس نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ یہ کار روائی پروفیسر نجیب کے اسسٹنٹ اختر کی بھی ہو سکتی ہے، کیوں کہ اب تک اس کی لاش ملی تھی اور نہ اس کا کہیں اور پتا چل سکا تھا۔
بظاہر ایسا ہی لگتا تھا کہ پروفیسر کے اسسٹنٹ اختر نے اسے قتل کیا ہو گا اور تمام قیمتی اشیاء لے کر فرار ہو گیا۔ اختر کا ملنا بے حد ضروری تھا۔ معاملہ چوں کہ پروفیسر نجیب کا تھا، اس لیے کئی بڑے افسران لامحالہ دلچسپی کا اظہار کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ انسپکٹر عاصم نے از سر نو پوری عمارت کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا۔ باقی تو ہر چیز ٹھیک تھی، مگر چند باتوں نے انہیں مخمصے میں ڈال دیا تھا۔ ایک تو تجربہ گاہ کے دروازے کا شگاف انہیں مزید عقل کے گھوڑے دوڑانے کی دعوت دے رہا تھا۔ پھر ماہرین کی ٹیم نے میں گیٹ میں موجود جدید میکنزم اور خود کار کیمرا بھی تلاش کر لیا تھا۔ اس کیمرے کو نامعلوم طریقے سے ضائع کر دیا گیا تھا اور اس کے اندر موجود میموری خالی ملی۔
انسپکٹر عاصم سوچنے لگے کہ بفرض محال۔۔۔ پروفیسر کو اختر نے ہی قتل کیا ہے تو اسے دروازے میں شگاف ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وہ اجازت لے کر بھی اندر داخل ہو سکتا تھا۔ پھر میں گیٹ کے کیمرے کے بارے میں بھی اسے علم ہی ہو گا۔ وہ عقبی راستہ بھی اختیار کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر بیدی سے اسے یہ معلوم ہوا کہ اختر کے پاس اس کا پالتو کتا بھی ہے۔ اگر یہ سب اختر کا کیا دھرا ہے تو وہ کتا کہاں گیا؟ کیا اختر اتنا احمق ہے کہ کتے کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا۔ کتے ہی کی وجہ سے وہ کہیں بھی پکڑا جا سکتا ہے۔
انسپکٹر عاصم جتنا سوچ رہے تھے۔ ان کا ذہن الجھتا ہی چلا جا رہا تھا، لیکن ان کی تفتیش کی گاڑی آگے نہ بڑھ سکی تھی۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے تھے کہ مسٹر اسٹیل اور پروفیسر کے معاملات کہاں تک آپس میں مل رہے ہیں۔ کیا اس معاملے کے پیچھے مسٹر اسٹیل کا ہاتھ ہے؟ یا پھر۔۔۔ واقعی یہ قتل پروفیسر کے اسسٹنٹ اختر نے کیا ہے؟ اور وہ آخر کہاں غائب ہو گیا ہے؟
باب 10
اختر اس آدمی کے کمرے میں تھا۔ وہ آدمی رائٹنگ ٹیبل پر لیمپ کی روشنی میں کچھ لکھ رہا تھا۔ اس ٹیبل پر ٹیلی فون بھی رکھا ہوا تھا۔ اختر نہایت غور سے اسے لکھتا دیکھ رہا تھا۔ اچانک نہ جانے کیا ہوا ۔۔۔وہ لکھنا چھوڑ کر کچھ سوچنے میں مشغول ہو گیا۔ لیمپ کی روشنی میں اس کے چہرے پر فکر مندی کے آثار واضح نظر آ رہے تھے۔ معاً فون کی گھنٹی نے اسے بری طرح چونکا دیا۔ وہ وحشت زدہ نظروں سے ٹیلی فون کو دیکھنے لگا ہے جیسے وہ کوئی خوفناک جانور ہے۔ پھر اس نے اپنے اعصاب جمع کیے اور فون کا ریسیور اٹھایا۔ اس نے آہستگی سے کچھ کہا، مگر اختر نے سن ہی لیا۔
’’ہیلو۔۔۔ جمال بول رہا ہوں۔‘‘
پھر وہ دوسری جانب کی آواز سنتا رہا۔ اس کے چہرے کے نقوش تبدیل ہو گئے۔
’’کیا۔۔۔؟ کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟ علی کا ایکسی ڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔۔؟ لیکن ۔۔۔ کک ۔۔۔ کیسے؟ او۔۔۔ مائی گاڈ۔۔۔ ٹرک سے ۔۔۔ اب کیسی حالت۔۔۔ کیا۔۔۔ بہت خراب۔۔۔ سیریس ۔۔۔ کون سے اسپتال میں ہے ۔۔۔؟ ہاں ۔۔۔ اچھا۔۔۔ اچھا ٹھیک۔۔۔ میں ۔۔۔ میں آتا ہوں۔‘‘
اس نے ریسور رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے منہ سے ایک تیز سسکی نکل گئی۔ وہ اپنا سینہ تھام کر آگے جھک گیا۔ ریسیور ٹیلی فون کے برابر ہی گر پڑا۔ جمال دل کا مریض تھا۔ ایکسی ڈنٹ کی خبر سن کر اس پر دل کا دورہ پڑ گیا تھا۔ اس نے تکلیف کے مارے ہاتھ چلائے تو لیمپ ہاتھ کی ٹکر لگنے سے نیچے کارپٹ پر گر گیا، لیکن اتفاق سے گر کر بھی وہ روشن ہی رہا۔ اس کی روشنی کا دائرہ سامنے والی سفید دیوار پر پڑ رہا تھا۔ اختر اور ہیرا اپنی جگہ سے نکل کر گرے ہوئے لیمپ کے قریب آ گئے تھے۔ جمال نے تکلیف کے عالم میں دیوار کی جانب دیکھا تو اس کا دم لبوں پر آ گیا۔
اسے دیوار پر ایک انسان کا بڑا سا ہیولہ دکھائی دے رہا تھا۔
اس کے ساتھ ایک کتے کا بڑا سا عکس بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بھلا کمرے میں انسان اور کتا کہاں سے آ گئے۔ وہ تو کمرے میں اکیلا ہی تھا۔ اس سے زیادہ جمال میں قوت برداشت نہیں تھی۔ اس پراسرار منظر نے اس کی حرکت قلب کو بالکل ہی بند کر دیا۔ وہ کرسی پر ہی ڈھیلا پڑ گیا اور اس کے دونوں ہاتھ پہلوؤں پر سے نیچے کی طرف جھول گئے۔
اختر کی ترکیب کار گر ثابت ہوئی تھی۔ وہ جان بوجھ کر لیمپ کی روشنی کے سامنے آیا تھا۔ ایک مجرم سے تو اس نے نمٹ لیا تھا۔ وہ آدمی بھی پروفیسر کے قاتلوں میں سے تھا، اس لیے اختر کو اس کے مرنے کا ذرا بھی ملال نہیں ہوا۔ اختر نے نیچے سے ہی دیکھ لیا تھا کہ وہ آدمی ریسیور کو فون پر رکھ نہیں سکا تھا۔ اختر نے سوچا، کیوں نا ٹیلی فون کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسے پولیس کا نمبر بھی معلوم تھا۔ چناں چہ ہیرا کو اُدھر ہی روک کر وہ آگے بڑھا اور ٹیبل سے نیچے لٹکتے ہوئے ٹیلی فون کے تار کو پکڑ کر کسی ماہر کوہ پیما کی طرح اوپر چڑھنے لگا۔ اس نے دونوں پیر ٹیبل کی ایک ٹانگ پر جمائے ہوئے تھے۔ اسے اونچائی کافی زیادہ لگ رہی تھی، لیکن اختر نے ہمت نہیں ہاری اور جان توڑ کوشش کر کے اوپر چڑھ ہی گیا۔ ٹیبل کی سطح پر آتے ہی وہ چت لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔ اس مشقت نے اسے بری طرح تھکا مارا تھا۔ اس کا ننھا منا سا سینہ بری طرح پھول پچک رہا تھا۔ دل ہی دل میں وہ پروفیسر نجیب کی مغفرت کی دعائیں بھی کرتا جا رہا تھا، جس کی دریافت کردہ شعاع کی بدولت اسے ایسے حالات سے گزرنا پڑ رہا تھا۔
کچھ دیر سانسیں استوار کرنے کے بعد اختر اُٹھا اور ٹیلی فون کے پاس آ گیا۔ ٹیلی فون اسے کسی بڑے سے اسٹیج کی طرح لگ رہا تھا۔ یک بارگی اختر کی نظر کھلی ہوئی ڈائری پر پڑی، جس میں وہ آدمی کچھ لکھ رہا تھا۔ اختر ڈائری کا تازہ ترین صفحہ دیکھنے لگا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس آدمی کا نام جمال ہے اور وہ کسی اسٹینلے نامی غیر ملکی کے لیے کام کرتا تھا۔ اس کے ساتھ دو اور مقامی بھی تھے۔ ایک کا نام علی اور دوسرے کا ہمدانی تھا۔ اختر کو یاد آیا فون پر باتیں کرتے ہوئے اس آدمی کے منہ سے علی کا نام بھی نکلا تھا۔ اختر ڈائری پر چڑھ کر اسے پڑھ رہا تھا۔ پھر اس نے الگ ہٹ کر دونوں ہاتھوں سے اس کے کئی ورق پلٹ کر پڑھ ڈالے۔
تب اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسٹینلے در اصل پروفیسر سراج خان سے فائل حاصل کرنے ہی آیا تھا، لیکن سراج خان خطرے کو بھانپ گیا اور فائل پروفیسر نجیب کے پاس امانت کے طور پر رکھوا کر خود پراسرار طور پر روپوش ہو گیا۔ کسی طرح مجرموں کو علم ہو گیا کہ وہ فائل پروفیسر نجیب کے پاس ہے، چناں چہ انہوں نے پروفیسر نجیب کو قتل کر ڈالا اور فائل لے اُڑے۔ اختر یہ سب کچھ جانتا تھا۔ اسے ڈائری سے جو کام کی معلومات ہوئیں، وہ کچھ فون نمبر اور ایڈریس تھے۔ اس نے وہ ایڈریس اور فون نمبر ذہن نشین کر لیے۔ پھر وہ فون پر چڑھ گیا اور وہ اپنے پیروں کی مدد سے بٹن دبانے لگا۔ پولیس کا نمبر اسے ازبر تھا۔ نمبر ڈائل کر کے وہ جلدی سے ریسیور کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور دعا کرنے لگا کہ کوئی فون اٹھا لے۔ بیل جانے کی آواز اسے واضح طور پر سنائی دے رہی تھی۔ پھر اختر ایک دم ڈگمگا گیا۔
دوسری جانب سے کسی نے پولیس اسٹیشن کا حوالہ دے کر ہیلو کہا تھا۔ وہ آواز اختر کو اتنی گرج دار اور گونجیلی لگی تھی، جیسے اس کے جسم سے ہوا کا انتہائی تیز جھکڑ آ کر ٹکرایا ہو۔ اختر جلدی سے ماؤتھ پیس کی طرف منہ کر کے چلا کر بولا۔ ’’ہیلو۔۔۔ کون۔۔۔؟‘‘
’’میں انسپکٹر عاصم بات کر رہا ہوں ۔۔۔ آپ کون؟‘‘
’’انسپکٹر صاحب۔۔۔ میں اختر بول رہا ہوں۔‘‘
’’اختر۔۔۔؟ کون اختر۔۔۔؟ ذرا وضاحت کریں؟‘‘
’’جناب میں پروفیسر نجیب کا اسسٹنٹ اختر بات کر رہا ہوں۔ آپ کو یقیناً پروفیسر کے بارے میں اب تک بہت کچھ معلوم ہو گیا ہو گا۔‘‘
دوسری طرف سے انسپکٹر عاصم ایک دم اچھل کر کھڑے ہو گئے۔‘‘ ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ میں جانتا ہوں۔ میں ہی اس کیس کو ڈیل کر رہا ہوں ۔۔۔ تم کہاں ہو۔۔۔؟ ہم تو تمہیں تلاش کر رہے تھے۔‘‘
’’انسپکٹر صاحب۔۔۔ میں پروفیسر کے قاتلوں کو جانتا ہوں ۔۔۔ ان میں سے ایک تو میرے سامنے ہی مرا پڑا ہے، لیکن یہ تو محض ایک مہرہ ہے اصل مجرم کا نام اسٹینلے ہے۔‘‘ اختر نے ایک ہی سانس میں بتایا۔
’’اوہ۔۔۔‘‘ انسپکٹر عاصم کے منہ سے نکلا ’’آخر میرا خدشہ درست ہی ثابت ہوا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ کیا آپ کو اسٹینلے کے بارے میں علم ہے؟‘‘ اختر نے حیرت سے پوچھا۔
’’بہت اچھی طرح۔۔۔ میری اس سے مڈبھیڑ ہو چکی ہے ۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن تم قاتلوں سے بچے کیسے ۔۔۔؟ اور اب تک کہاں غائب رہے۔‘‘ انسپکٹر عاصم تذبذب کا شکار تھا۔
جواب میں اختر نے سارے حالات و واقعات ان کے گوش گزار کر دئیے۔ انسپکٹر عاصم بے یقینی کے عالم میں یہ انوکھی داستان سن رہے تھے۔
اختر کے چپ ہونے پر وہ بولے۔ ’’یعنی تمہارا یہ کہنا ہے کہ تم اور تمہارا کتا۔۔۔ انگلی سے بھی چھوٹے ہو گئے ہو۔۔۔؟ یہی بتایا تھا نا۔۔۔ تم نے؟‘‘ وہ دوبارہ سننا چاہ رہے تھے۔
’’جی ہاں انسپکٹر صاحب۔۔۔ بدقسمتی سے یہ درست ہے ۔۔۔ انسپکٹر صاحب چند فون نمبرز اور ایڈریس نوٹ کر لیں ۔۔۔ یہ اس مجرم کی ڈائری میں لکھے ہوئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی ضرورت پڑ جائے۔‘‘ پھر اختر نے وہ انہیں نوٹ کرا دئیے۔
’’کیا تم اس جگہ کا ایڈریس بتا سکتے ہو، جہاں سے تم بات کر رہے ہو؟‘‘
’’ایڈریس کا تو علم نہیں ہے، البتہ ٹیلی فون نمبر کی چٹ لگی نظر آ رہی ہے، وہ نوٹ کر لیں ۔۔۔‘‘
’’فون نمبر ہی بہت ہے ۔۔۔ بتاؤ؟‘‘ پھر انہوں نے فون نمبر بھی نوٹ کر لیا اور بولے ’’ٹھیک ہے میں آ رہا ہوں ۔۔۔ تم اسی کمرے میں رہنا، جہاں وہ آدمی مرا پڑا ہے، تاکہ تمہیں تلاش کرنے میں مجھے مشکل نہ ہو۔‘‘ اتنا کہہ کر انسپکٹر عاصم نے فون بند کر دیا اور آپریٹر کا نمبر لگا کر کہا۔ ’’ابھی جس جگہ سے مجھے فون کیا گیا ہے اس کا ایڈریس فوراً نوٹ کراؤ۔۔۔ فوراً۔۔۔‘‘
’’او کے سر۔۔۔‘‘ آپریٹر نے کہا اور جلد ہی انہیں ایڈریس سے آگاہ کر دیا۔ اسی وقت آپریٹر نے انسپکٹر عاصم سے رابطہ منقطع کر کے ایک اور نمبر ملایا۔ دوسری جانب رابطہ ملتے ہی اس نے کہا۔
’’ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔ سر میں مختار بول رہا ہوں ۔۔۔ ایک اہم خبر ہے۔‘‘
’’بتاؤ۔۔۔؟‘‘ دوسری جانب اسٹینلے تھا۔
مختار نے فون پر ہونے والی گفتگو من و عن دُہرا دی۔ اسٹینلے خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کے لبوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی۔ مختار اس کا زر خرید غلام تھا، جو پولیس کی شہہ رگ میں بیٹھا تھا۔
وہ بولا ’’اب آئے گا مزا۔۔۔ انسپکٹر بہت بے چین ہو رہا ہے۔ اسے چین کی ضرورت ہے ۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ تم اچھے جا رہے ہو۔۔۔ مختار۔۔۔ ویلڈن۔۔۔‘‘
’’تھینک یو سر۔۔۔‘‘ مختار نے خوشی سے لبریز لہجے میں کہا۔
اسٹینلے نے فون رکھا اور پھرتی سے باہر نکل گیا۔ اس نے اپنے چند آدمیوں کو کچھ ہدایات دیں۔ اب وہ اکیلا ہی انسپکٹر عاصم کو قابو کرنے جا رہا تھا۔ اس سلسلے میں اس نے بہت شان دار انتظام کر رکھا تھا۔ ادھر انسپکٹر عاصم اپنے ساتھ ایک ایس آئی، یعنی سب انسپکٹر کو لے کر جیپ میں روانہ ہو گئے تھے۔ راستہ کافی طویل تھا، اس لیے وہ نہایت برق رفتاری سے جیپ کو دوڑا رہے تھے۔ ایس آئی خالد فرنٹ سیٹ پر خاموشی سے بیٹھا تھا۔ راستے میں ہی انسپکٹر عاصم اسے مختصراً ساری بات بتا رہے تھے۔ ابھی زیادہ رات نہیں ہوئی تھی۔ شاید ساڑھے دس بجے ہوں گے، لیکن سڑکیں ابھی سے ویران ہو گئی تھیں۔ اس کی وجہ ایک تو خونخوار چوہوں کے بے باکانہ اور ہول ناک حملے تھے، جو وہ لوگوں پر کسی وقت بھی کر ڈالتے تھے۔ دوسرا اس عفریت کا خوف بھی تھا، جو شہر میں ہونے والی کئی وحشیانہ اموات کی ذمہ دار تھی۔
اس وقت جیپ ایک ویران سڑک سے گزر رہی تھی۔ انسپکٹر عاصم نے آگے ایک بڑے سے ٹرک کو جاتے دیکھا۔ ٹرک کے عقبی حصے میں ایک بہت بڑا کنٹینر لگا ہوا تھا۔ پہلی نظر میں وہ کسی آئس کریم کمپنی کا ٹرک نظر آیا تھا۔ انسپکٹر عاصم نے ہیڈ لائٹس کا اشارہ دیا کہ انہیں آگے نکلنے کا راستہ دیا جائے، کیوں کہ ٹرک تقریباً پوری سڑک گھیر کر عین درمیان میں چل رہا تھا اور اس کی رفتار بھی زیادہ تیز نہیں تھی، مگر ٹرک ڈرائیور پر کسی قسم کی کوئی اثر نہیں ہوا وہ بدستور اپنی دھن میں ٹرک اسی طرح چلائے جا رہا تھا۔ انسپکٹر عاصم کے ماتھے پر بل پڑ گئے ان کا ایک ایک لمحہ بے حد قیمتی تھا، جو وہ احمق ٹرک ڈرائیور اپنی بے پروائی سے ضائع کر رہا تھا۔ انہوں نے ہارن پہ ہارن بجانا شروع کر دئیے۔ اچانک انہوں نے دیکھا۔ کنٹینر کا عقبی حصہ اوپر سے خود بخود کسی خود کار نظام کے تحت کھل گیا اور آہستہ آہستہ وہ نیچے ہوتا ہوا سڑک سے جا لگا۔ جیپ کی روشنی کنٹینر کے اندر پہنچ رہی تھیں، پورا خالی تھا، البتہ آخری سرے پر کیبن کی دیوار کے ساتھ کوئی عجیب سے مشین رکھی نظر آ رہی تھی۔ انسپکٹر عاصم جان نہ سکے کہ یہ کیسی مشین ہے۔ انہیں یک بیک بے حد خطرے کا ٹھنڈا سا احساس ہوا۔ اس سے قبل وہ کچھ کرتے۔ ایک دھماکا ہوا۔
کنٹینر کے اندر رکھی چرخی نما مشین میں سے ایک بڑا سا آہنی نیزہ کسی تیر کی طرح اُڑتا ہوا آیا اور جیپ کے اگلے حصے میں انجن میں پیوست ہو گیا۔ پوری جیپ جھٹکے سے لرز کر رہ گئی۔ انسپکٹر عاصم نے بروقت اسٹیرنگ سنبھال کر جیپ کو اُلٹنے سے بچایا۔ ایس آئی خالد کا ما تھا ونڈ اسکرین سے ٹکرایا تھا، لیکن وہ اسے زخمی ہونے سے بچ گیا۔ لوہے کے موٹے نیزے نے انجن کو بالکل توڑ پھوڑ ڈالا تھا۔ انجن گھڑ گھڑ کر بند ہو گیا۔ ادھر ٹرک کی رفتار میں یک لخت اضافہ ہو گیا تھا۔ انسپکٹر عاصم نے پوری قوت سے بریک لگائے۔ فضا ٹائروں کی چیخوں سے گونج اٹھی، لیکن یہ دیکھ کر ان کے ہوش اُڑ گئے۔ جیپ اب تک اسی رفتار سی دوڑ رہی تھی۔
اگلے ہی لمحے انسپکٹر عاصم نے اس کی وجہ جان لی۔ نیزے میں ایک مضبوط زنجیر بندھی ہوئی تھی، جو کنٹینر میں رکھی مشین سے نکل رہی تھی۔ معاً مشین کی بڑی سی چرخی گھومنا شروع ہو گئی تھی۔ زنجیر چرخی میں لپٹ رہی تھی۔ اس طرح جیپ آہستہ آہستہ کنٹینر کی طرف بڑھنا شروع ہو گئی۔ انسپکٹر عاصم نے بریکوں پر سے پیر نہیں اٹھایا۔ ٹائروں سے دھواں نکلنے لگا، لیکن جیپ کنٹینر کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ اس کا کھلا ہوا دروازہ سڑک پر لگا ہوا تھا۔ اب انسپکٹر عاصم جیپ سے کود بھی نہیں سکتے تھے، کیوں کہ اس کی رفتار بہت زیادہ تھی۔ کودنے کا مطلب واضح طور پر یہ ہوتا کہ شوق سے اپنی کئی ہڈیاں تڑوا لی جائیں۔
جیپ دروازے پر چڑھ گئی اور اندر آ کر رک گئی۔ اس کے اندر آتے ہی دروازہ اٹھا کر دوبارہ بند ہو گیا۔ انسپکٹر عاصم کو جیپ سمیت اغوا کر لیا گیا تھا۔ اسٹینلے اکیلا ہی ٹرک ڈرائیور کر رہا تھا۔ یہ کام اس نے تنہا ہی کر لیا تھا۔ وہ ٹرک چلاتے ہوئے سیٹی بجا رہا تھا۔ پھر اس نے ایک اور بٹن دبا دیا۔ کنٹینر میں سفید گاڑھا دھواں بھرنا شروع ہو گیا تھا۔ انسپکٹر عاصم اور ایس آئی خالد بری طرح کھانسنے لگے، مگر کب تک دھوئیں کی یلغار سے خود کو محفوظ رکھتے۔ آخر دونوں بے ہوش ہو کر لڑھک گئے۔ ان کی پستول ہاتھوں سے چھوٹ گئے تھے۔ اسٹینلے عرف مسٹر اسٹیل بڑے اطمینان سے سیٹی بجاتا ہوا ٹرک چلاتا رہا۔
باب 11
اختر بڑی بے تاپی سے انسپکٹر عاصم کا منتظر تھا۔ نیچے ہیرا ٹیبل کے پائے کے ساتھ لگ کر اونگھنے لگا تھا۔ اختر ٹیبل پر ہی رہا۔ اس طرح انسپکٹر عاصم کو اسے تلاش کرنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ نہ جانے کتنی گھڑیاں بیت گئیں۔
اچانک اس نے دروازے کا ہینڈل گھومتے دیکھا۔ اختر جلدی سے ٹیلی فون کی اوٹ میں ہو گیا۔ پھر دو ہیولے اندر گھس آئے۔ اختر نے کبھی انسپکٹر عاصم کو نہیں دیکھا تھا۔ اس لیے وہ یہی سمجھا کہ وہ انسپکٹر عاصم اور ان کے کسی ماتحت کے ہیولے ہیں۔ آنے والے سیدھا ٹیبل کے پاس آئے۔ پھر ان میں سے ایک نے سوئچ بورڈ کے کئی بٹن دبا دئیے۔ کمرا روشن ہو گیا۔ دوسرے آدمی نے لیمپ کو ٹھوکر مار کر ایک طرف کیا۔ وہ دونوں لاش کو دیکھنے لگے۔ پھر ایک نے ٹیبل کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم کدھر ہو۔۔۔ سامنے آؤ۔۔۔‘‘
یقیناً وہ اختر سے ہی مخاطب تھا۔ اختر فوراً ٹیلی فون سیٹ کے عقب سے نکل کر سامنے آ گیا اور اپنے دونوں ننھے منہ ہاتھ لہراتا ہوا چلایا۔
’’میں ادھر ہوں ۔۔۔ یہاں ۔۔۔‘‘
دونوں آدمیوں نے حیرت اور تعجب بھری نظروں سے دنیا کا عجوبہ دیکھا۔ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ انہیں اپنی نگاہوں پر اعتبار نہیں ہو رہا تھا کہ وہ واقعی اتنے مختصر سے انسان کو جیتی جاگتی حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک آدمی نے جھک کر اسے بغور دیکھا اور پوچھا۔
’’تمہارا کتا کہاں ہے؟‘‘
اختر نے بتایا۔ ’’وہ نیچے ہے میز کے پائے کے ساتھ۔۔۔‘‘
دوسرے آدمی نے جھک کر ہیرا کو ہتھیلی پر اٹھا لیا۔ ہیرا بھونکنے لگا تھا۔
’’آپ انسپکٹر عاصم ہی ہیں ناں؟‘‘ اختر نے اس سے سوال کیا۔
اس آدمی نے اختر کو اٹھایا اور تمسخرانہ انداز میں ہنستا ہوا بولا ’’انسپکٹر عاصم بے چارہ تو اب تک باس کی قید میں ہو گا۔۔۔ ہم تو اپنے باس اسٹینلے کے آدمی ہیں ان کے ہی حکم پر ہم تمہیں لینے آئے ہیں۔‘‘
اختر کا دل دھک سے رہ گیا۔ یہ سب کیا ہو گیا ہے؟ اسٹینلے کو بھلا کس طرح علم ہو گیا کہ وہ ادھر ہے۔ کہیں اسٹینلے نے اس کا فون تو ٹریس نہیں کر لیا تھا۔
اس آدمی نے اختر اور ہیرا کو اپنی شرٹ کی جیب میں ڈال لیا اور ہنستا ہوا کہنے لگا ’’اب تم دونوں کچھ دیر یہاں آرام کر لو۔‘‘
اختر بے بس ہو گیا تھا۔ اس کی تلوار یعنی وہ سوئی ٹیلی فون کے پاس ہی پڑی رہ گئی تھی، لیکن بھلا ایک سوئی سے وہ ان دونوں کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ اس کا دماغ تیزی سے بچاؤ کی ترکیب سوچ رہا تھا، مگر جیب سے نکلنا فی الحال اس کے بس میں نہیں تھا۔ چناں چہ اس نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا۔ موقع کی مناسبت سے بچاؤ کے بارے میں کچھ عملی قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ حالات کا پانسہ جس انداز میں اچانک پلٹا تھا، اس نے اختر کی عقل ماؤف کر دی تھی۔ جو کچھ اس نے سوچا تھا بالکل اس کے برعکس ہی ہو گیا تھا۔ انسپکٹر عاصم کو بھی سوچے سمجھے جال میں پھنسایا گیا تھا۔ اس آدمی کی بات سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ ان لوگوں نے انسپکٹر عاصم کو بھی پکڑ لیا ہے۔ اب نہ جانے وہ لوگ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ ان دونوں کی باتوں سے لگتا تھا کہ وہ دونوں چوکی دار کے بے ہوش کر کے اندر گئے تھے۔ انہوں نے کمرے کی تلاشی لی اور ڈائری سمیت کئی چیزیں اٹھا لیں۔ پھر وہ مرنے والے کی لاش لے کر باہر نکل گئے۔
ایک گاڑی میں کافی دیر تک سفر جاری رہا اور آخر کار وہ مختلف مراحل سے گزر کر اپنے باس اسٹینلے کے سامنے پہنچ گئے۔ اسٹینلے انسپکٹر عاصم کول اچکا تھا۔ اس وقت انسپکٹر عاصم اور ایس آئی خالد اس کے سامنے ایک بڑے سے پنجرے میں قید تھے۔ اسٹینلے ان کو مسکراتی فاتحانہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اسٹینلے نے اپنے آنے والے ساتھیوں سے پوچھا۔
’’جمال کی لاش کہاں ہے؟‘‘
’’اسے ہم لے آئے ہیں ۔۔۔ اب تک عرفان نے اسے برقی بھٹی میں ڈال دیا ہو گا۔‘‘
’’بہت اچھے ۔۔۔‘‘ اسٹینلے نے تحسین آمیز نظروں سے دیکھا۔
’’باس۔۔۔ ہم آپ کے لیے حیرت انگیز تحفے بھی لائے ہیں۔‘‘ اس آدمی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر نہایت احتیاط سے اختر اور ہیرا کو نکالا اور ان کے باس کے آگے رکھی میز پر ڈال دیا۔
اسٹینلے آگے جھک آیا اور حیرت پاش نظروں سے اختر اور ہیرا کو دیکھنے لگا۔ اس کی حیرت کے ساتھ دل چسپی بھی بڑھ رہی تھی۔
’’کمال ہے ۔۔۔ یہ تو جادو ہو گیا ہے۔‘‘ اسٹینلے بڑبڑایا۔ ’’پروفیسر نجیب نے ان کو چھوٹا کس طرح کیا ہے؟‘‘
’’یہ بات تو یہی بونا ہی بتا سکتا ہے۔‘‘ اس کے آدمی نے تجویز دی۔
اسٹینلے نے جھکے جھکے اختر سے پوچھا۔ ’’تم بتاؤ۔۔۔؟ پروفیسر نے تم دونوں کو کس طرح اتنا مختصر سا کر دیا ہے؟‘‘
اختر نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ لائیٹر کے بارے میں بتانا نہیں چاہتا تھا۔
اسٹینلے نے اسے انکار کرتے دیکھ کر ہاتھ بڑھایا اور اختر کو ہتھیلی پر اٹھا لیا۔ پھر بولا۔ ’’ تو تم بتانا نہیں چاہتے ۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں ۔۔۔ ویسے میں کسی بات کے پیچھے نہیں پڑتا۔۔۔ مگر ساتھ ساتھ میرے چند شوق ہیں۔‘‘
اس نے معنی خیز نظروں سے اختر کو دیکھا۔ اس کے لبوں پر ایک عجیب و غریب مسکراہٹ تھی۔ ’’سب سے پہلا شوق یہ ہے کہ میں اپنی بات کا جواب ضرور چاہتا ہوں ۔۔۔ چاہے اس کے لیے مجھے دوسرے کی جان ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑے۔‘‘
یہ کہتے کہتے اسٹینلے ایک بڑے سے ایکوریم کے پاس آ گیا تھا، جس میں مختلف اقسام کے بہت سی چھوٹی بڑی رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ ایکوریم میں کئی شوپیسز اور کھلونے بھی پڑے تھے۔ اس کی تہہ میں خوبصورت اور سوراخوں والے پتھر بھی دکھائی دے رہے تھے، جن کے سوراخوں سے چھوٹی مچھلیاں آ جا رہی تھیں۔ ایکوریم کے اوپر ایک چھوٹا سا پلاسٹک کا کھلونا آدمی بیٹھا تھا۔ جس کے ہاتھ میں فشنگ راڈ تھی۔ اس کی ڈور ایکوریم میں کافی نیچے تک جا رہی تھی۔ اسٹینلے نے اختر کو ایکوریم میں ڈال دیا۔ وہ اوپر سے کھلا ہوا تھا۔
اختر کے لیے یہ ایکوریم کسی گہری جھیل سے کم نہ تھا۔ یہ اس کی خوش بختی تھی کہ وہ تیرنا جانتا تھا۔ جب اختر ایکوریم میں ایک چھپا کے کے ساتھ گرا تو فوری طور پر اس کا جسم تیر کی طرح سیدھا ہونے کی وجہ سے کافی گہرائی میں ڈوبتا چلا گیا۔ یہ گہرائی اختر کی جسامت کے حساب سے بہت زیادہ تھی۔ پھر اس نے ایک دم سنبھالا لیا اور اپنے اردگرد دیکھا۔ رنگ برنگی مچھلیاں اس کے قریب سے گزر رہی تھیں۔ اختر کو وہ مچھلیاں خود سے بہت بڑی بھی لگ رہی تھیں۔ ایکوریم میں مچھلیوں کا چارا ڈالا جاتا ہے تو وہ ایک جگہ جمع ہو کراس پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ اس وقت بھی مچھلیاں یہ سمجھی تھیں کہ ان کے چارا ڈالا گیا ہے۔ کئی مچھلیاں یوں تیر کی طرح جھپٹی تھیں، جیسے شارک مچھلی اپنے شکار پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اختر کے چہرے پر پانی میں بھی ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔ اس کی آنکھیں اپنے حلقوں سے باہر نکلنے کو آ گئی تھیں۔ اس نے فوراً ہاتھ پیر چلائے۔
مچھلیاں ’’چارے‘‘ کو حرکت کرتے دیکھ کر کچھ بدک گئیں اور انہوں نے منہ مارنے کی کوشش نہیں کی، البتہ اس کے گرد و پیش ہی منڈلاتی رہیں۔ فرض کریں آپ اختر کی جگہ ہوں اور گہرے پانی کے اندر زندگی کی بقاء کی جد و جہد میں مصروف عمل ہوں ایسے میں آپ کو آپ سے بڑی مچھلیاں گھیر لیں تو آپ کی کیا حالت ہو گی؟ بس کچھ ایسی ہی صورت حال اختر کو درپیش تھی، لیکن اس نے اپنے ہوش وحواس برقرار رکھے تھے اور ایک نہایت قریب آنے والی ٹرانس پیرنٹ فش کے منہ پر لات ماری۔ گو کہ لات میں زیادہ طاقت نہیں تھی، لیکن اتنا ضرور ہوا کہ وہ مچھلی گھبرا کر دور چلی گئی۔ اختر کا دم اُکھڑ رہا تھا۔ ایکوریم کے نچلے حصے میں رکھے ہوئے پتھروں کی درمیان میں سے ہوا کے بلبلے خارج ہو رہے تھے۔ اختر اچانک ہی ایک بڑے ہوا کے بلبلے کی زد میں آ گیا۔ اگلے ہی لمحے اسے یوں لگا جیسے اس کا جسم کسی ریگستانی ریت کے بگولے میں پھنس گیا ہے۔ بلبلے کے اندر اختر کا جسم اُلٹ پلٹ ہوتا ہوا پانی کی سطح پر آ گیا۔ اختر کے پھیپھڑے پھٹنے کے قریب ہو گئے۔ اوپر آ کر ہی اسے سانس لینا نصیب ہوا۔ نیچے سے بلبلے تواتر کے ساتھ خارج ہو رہے تھے۔ اختر بلبوں کی زد سے نکل گیا۔ وہ سطح پر آ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ تب اس نے اسٹینلے اور اس کے ساتھیوں کے چہروں کو ایکوریم سے بہت قریب دیکھا وہ لوگ بڑی دل چسپی کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے۔ ناگہاں ایک موٹی سی سیاہ مچھلی پانی سے نکل کر اوپر اچھل پڑی۔
جب وہ واپس گرنے لگی تو اس کا رخ اختر کی طرف تھا۔ بروقت اختر نے اسے دیکھ لیا۔ غیر ارادی طور پر وہ فوراً غوطہ مار گیا۔ مچھلی اس کے عین قریب ہی پانی میں داخل ہوئی تھی اور اس کی جانب بڑھی۔ اختر کی رفتار مچھلی سے تیز نہیں تھی۔ چناں چہ اس نے پلٹ کر ہاتھ پیر چلائے۔ مچھلی کا رخ تبدیل ہو گیا اور وہ دوسری جانب ہو گئی۔ اختر بدحواسی میں ایکوریم کی تہہ میں رکھے پتھروں تک آ گیا۔ یک لخت اسے یوں لگا جیسے اس کے عقب میں کوئی ہے۔ وہ تیزی سے پلٹا۔ ایک لمبی سی مچھلی لہراتی ہوئی اس پر لپک رہی تھی۔ اس مچھلی کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ اس سے خوف زدہ ہونے والی نہیں ہے۔ اختر فوراً پتھروں کے درمیان تیر گیا۔ مچھلی اس پر سے نظریں نہیں ہٹا رہی تھی۔ وہ ادھر بھی اس کے پیچھے آ گئی۔ یہ دیکھ کر اختر ایک بڑے پتھر کے آر پار سوراخ میں گھس گیا۔ وقتی طور پر اسے اطمینان ہو گیا تھا کہ مچھلی اس جگہ نہیں آ سکتی تھی، لیکن وہ آخر کب تک وہاں چھپا رہتا۔ اسے سانس لینے کے لیے پانی کی سطح پر تو جانا پڑتا۔
اچانک اسی لمبی مچھلی نے پتھر کے سوراخ میں منہ ڈال دیا وہ اختر کے اتنے قریب آ گئی تھی کہ اس کا کھلا ہوا منہ اختر کو چھو گیا تھا۔ اختر گھبرا کر پیچھے ہٹا۔ مچھلی نے منہ اور اندر گھسیڑ دیا۔ اختر نے اپنی شرٹ اُتاری اور مچھلی کے کھلے ہوئے منہ میں ڈال دی۔ مچھلی بری طرح مچلی، لیکن اختر کی شرٹ اس کے تیز دانتوں میں اٹک گئی۔ اتنے میں اختر پتھر کے سوراخ کے دوسرے راستے باہر نکل گیا۔ اس کا سانس بند ہونے لگا تھا۔ اسی وقت لمبی مچھلی نے پتھر کے سوراخ سے اپنا منہ نکالا اور وہ اپنا منہ ادھر ادھر ہلاتی ہوئی سطح کی طرف اٹھنے لگی۔ اختر کو اور کچھ نا سوجھا تو اس نے قریب سے گزرتی ہوئی اسی مچھلی کی دم دونوں ہاتھوں سے پکڑ لی، کیوں کہ وہ یہ بھی دیکھ چکا تھا کہ مزید کئی مچھلیاں اس کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ وہ اکیلا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا اور پھر اب اس کا دم بھی اکھڑنے لگا تھا۔ مچھلی پانی میں کسی تارپیڈو کی طرح لپک رہی تھی۔
اختر اس کی دم پکڑے اس کے ساتھ ساتھ اوپر اٹھتا چلا گیا۔ مچھلی اپنی پوری قوت سے پانی کی سطح سے نکل کر ہوا میں اچھلی۔ اختر بھی مچھلی کے ساتھ ہوا میں اڑ گیا تھا اور اچانک ہی اختر نے اس کی دم چھوڑ دی۔ مچھلی تو واپس پانی میں چلی گئی، لیکن اختر اوپر ہی رہ گیا، اس لیے کہ اس نے پانی سے نکلتے ہی وہ ڈور دیکھ لی تھی، جو پلاسٹک کے گڈے کے ہاتھ میں پکڑی فشنگ راڈ کی تھی۔ وہ اس کے عین اوپر آ گئی تھی۔ اختر نے ہوا میں ہی وہ مضبوط ڈور پکڑ لی۔ اب وہ ڈور پکڑے لٹکا ہوا تھا۔ مچھلیوں نے اسے یوں بچ نکلتے دیکھا تو وہ بپھر گئیں۔ کئی مچھلیاں اُچھل اُچھل کر اس پر منہ مارنے کی کوششیں کر رہی تھیں، مگر اختر بری طرح تھکا ہونے کے باوجود ڈور کے ذریعے اوپر چڑھتا چلا گیا اور مچھلیوں کی پہنچ سے دور ہو گیا۔ بڑی محنت اور جستجو کے بعد آخر کار وہ اس تختے پر آ کر لیٹ گیا جس پر پلاسٹک کا گڈا بیٹھا تھا۔ اختر کی سانسیں بری طرح پھولی ہوئی تھیں۔ وہ موت کے منہ میں جا کر لوٹ آیا تھا، ورنہ اسے اپنی زندگی کی کوئی امید ہی نہیں رہی تھی۔ سانسوں کی بحالی کے دوران اختر دیکھ چکا تھا کہ کمرے میں اور کوئی نہیں ہے۔ اسٹینلے اپنے چیلوں کے ساتھ باہر چلا گیا تھا۔ صرف انسپکٹر عاصم اور ان کا ساتھی پنجرے میں بند دکھائی دے رہے تھے۔ پنجرے کا دروازہ لاک تھا۔
اختر نے بے چینی سے ہیرا کی تلاش میں نگاہیں دوڑائیں اور ہیرا کو دیکھ ہی لیا۔ ٹیبل پر ایک کانچ کے گلاس میں ہیرا بھی اسے دیکھ کر بری طرح اچھل اچھل کر اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اختر نے ہیرا کو دیکھتے ہی زور زور سے دونوں ہاتھ فضا میں لہرائے۔ ہیرا خوش ہو گیا تھا۔ وہ بھونک بھی رہا تھا، لیکن اختر کو اس کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اب مسئلہ یہاں سے نیچے اترنے کا تھا۔ ایکوریم ایک لمبے ڈوائیڈر پر رکھا ہوا تھا۔ فی الحال تو اسے ایکوریم کے اوپر سے ڈوائیڈر کی سطح پر آنا تھا۔ وہاں سے فرش تک پہنچنا بعد کا مسئلہ تھا۔ اس کام کے لیے بھی اختر نے وہی فشنگ راڈ کی ڈور استعمال کی
اور با آسانی ڈوائیڈر کی سطح پر آ گیا۔ پنجرے کے اندر سے انسپکٹر عاصم اور ایس آئی خالد پلکیں جھپکائے بغیر اختر کی تمام حرکات بغور دیکھ رہے تھے۔ اب فرش پر اترنے کا مرحلہ آ گیا۔ وہاں کوئی ایسی چیز نہیں تھی، جس کی مدد سے وہ لٹک کر فرش تک پہنچ جاتا۔ اختر اس بار کچھ پریشان ہو گیا تھا۔ وہ ایسے ہی فرش پر کودنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ انسپکٹر عاصم نے اس کی پریشانی کو بھانپ لیا۔ تب انہوں نے ایک خیال کے تحت اپنی شرٹ اتاری اور پنجرے کی سلاخوں کے درمیان میں سے ہاتھ نکال کر اسے ڈوائیڈر کے نیچے پھینک دیا۔
ساتھ ہی انہوں نے بلند آواز میں اختر کو مخاطب کیا۔
’’میں نے شرٹ نیچے پھینک دی ہے ۔۔۔ اس پر چھلانگ لگا دو۔‘‘
اختر بھی شرٹ کو دیکھ چکا تھا۔ یہ بہتر ترکیب تھی۔ اس میں جسمانی ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ نہیں تھا۔ چناں چہ اختر اللہ کا نام لے کر شرٹ پر کود گیا۔ وہ کسی تنکے کی طرح اڑتا ہوا شرٹ پر آ گرا۔ توقع کے مطابق وہ بالکل محفوظ رہا تھا۔ اختر تیزی سے پنجرے کی قریب پہنچا۔ انسپکٹر عاصم اور خالد جھک کر اسے دیکھنے لگے تھے۔
اختر نے کہا۔ ’’انسپکٹر صاحب۔۔۔ میں نے ہی آپ کو فون کیا تھا۔۔۔ لیکن شاید کسی نے فون پر ہماری گفتگو سن لی تھی۔۔۔ اس لیے ہم اس حال کو پہنچ گئے ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ اب اسٹینلے یہاں سے بھاگنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گا، کیوں کہا س کا مقصد تو حل ہو چکا ہے۔‘‘
انسپکٹر عاصم بولے ’’پروفیسر سراج خان والی فائل تو اس کے پاس پہنچ چکی ہے ۔۔۔ لیکن ابھی اس کا ایک کام اور بھی رہتا ہے ۔۔۔ اس نے ابھی مجھے بتایا تھا وہ اور اس کے آدمی سراج خان کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔۔۔ وہ چاہتا ہے کہ فارمولے کی فائل کے ساتھ سراج خان کو بھی ساتھ لے جائے، تاکہ اسی سے فائل پر کام کروایا جائے اور فارمولے کو ٹھوس شکل دی جائے۔‘‘
اختر حیرت سے بولا۔ ’’لیکن سراج خان تو بہت دنوں سے لا پتا ہے ۔۔۔ نہ جانے وہ زندہ بھی ہے یا مر چکا ہے؟‘‘
’’میرا بھی یہی خیال ہے ۔۔۔‘‘ انسپکٹر عاصم نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ’’اگر وہ زندہ ہوتا تو اب تک کہیں نہ کہیں اس کا کوئی نشان مل چکا ہوتا۔۔۔ اور کچھ نہیں تو وہ کم از کم کسی بھی ذریعے پروفیسر نجیب سے رابطہ ضرور کرتا۔‘‘
’’یہ بھی قابل غور بات ہے۔‘‘ اختر نے تائید کی پھر کہا۔ ’’انسپکٹر صاحب اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آپ کی اور آپ کے ساتھی کی رہائی کا ہے ۔۔۔ اور اس پنجرے کا لاک اسی کی چابی سے ہی کھل سکتا ہے ۔۔۔ میں دوسری جگہوں پر جا کر دیکھتا ہوں ۔۔۔ شاید چابیوں کا سراغ لگ جائے ۔۔۔‘‘
انسپکٹر عاصم اور ایس آئی خالد ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے۔ جیسے اختر نے کوئی انہونی بات کر دی ہو، مگر انہوں نے کچھ کہا نہیں۔ اختر نے ایک نظر اس ٹیبل پر ڈالی۔ جس پر کانچ کے گلاس میں ہیرا قید تھا۔ اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا۔ نہایت آسانی سے وہ دروازے کے نیچے سے نکل گیا۔ دروازہ کراس کرنے کے بعد اس نے خود کو ایک بڑے ہال کے اندر پایا۔ اس ہال میں کئی طویل سائیڈ ٹیبلیں دیواروں سے منسلک نظر آ رہی تھیں۔ ان ٹیبلوں کے اوپر دیوار میں اسے بہت سی اسکرینوں دکھائی دیں۔ وہاں اسکرینوں کے آگے اسٹول پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اسکرینوں پر عمارت مختلف حصے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ آدمی وہاں بیٹھے بیٹھے پوری عمارت کے چپے چپے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ ساتھ ساتھ وہ کچھ کھاتا بھی جا رہا تھا۔
اختر نے دیکھا، اس کی پینٹ کی جیب سے چابیوں کا ایک بھاری گجھا لٹک رہا تھا۔ یقیناً اس میں ہی پنجرے کی چابی بھی ہو گی، لیکن یہ گچھا کس طرح حاصل کیا جائے؟ اختر تیزی سے کوئی ترکیب سوچ رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر ٹیبلوں کے نیچے پھیلے ہوئے بجلی کے تاروں پر پڑی۔ ایک خیال اس کے دماغ میں شعلے کی طرح لپکا۔ اختر خوشی کے مارے اچھل پڑا تھا۔ اگر یہ ترکیب کار گر ثابت ہوئی تو چابیوں کا حصول آسان ہو جائے گا۔ وہ اپنی ترکیب پر عمل پیرا ہونے کے لیے جلدی سے تاروں کی طرف بڑھا۔ یہ تار اوپر جا کر مختلف مشینوں کو بجلی فراہم کر رہے تھے۔ ان کو کھینچ کر مشینوں سے نکال لینا اختر کے باس کی بات نہیں تھی۔ ایک پتلے تار کے درمیان اختر نے جوڑ سے کچھ فاصلے پر تار کو پکڑا اور کھینچا تو دونوں جوڑ الگ ہو گئے۔ اب بجلی کا ننگا تار اس کے ہاتھ میں تھا۔ اختر بڑی احتیاط سے اسے کھینچتا ہوا اسٹول کے پائے کے نزدیک لے گیا۔ وہ آدمی اپنی عبرت ناک موت کی چاپیں نہ سن سکا۔
اب وہ ایک ٹھنڈی بوتل منہ سے لگائے غٹا غٹ پانی پی رہا تھا۔ اختر نے وقت ضائع کیے بغیر تار کو ہلا کر اسٹول کے پائے سے لگا دیا اور خود ٹیبلوں کے نیچے بھاگا۔ دوسرے ہی ثانیے اس نے آدمی کی ایک چیخ سنی۔ وہ آدھی تھرتھرائی ہوئی آواز میں بری طرح لرز رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ اس نے ابھی ابھی ڈھیر سارا پانی بھی پیا تھا، جس نے کرنٹ کی قوت کو بے تحاشا بڑھا دیا تھا، لہٰذا بچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ وہ آدمی تھر تھر کانپتا ہوا اسٹول سے نیچے آ گرا۔ اس وقت تک اس کی روح عالم بالا کی جانب پرواز کر چکی تھی۔ مرنے والے کا منہ اختر کی جانب تھا۔ اختر نے اس کی بے نور اور پھٹی پھٹی سی آنکھوں میں اذیت کا بحر بیکراں ساکت و منجمد دیکھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کرنٹ نے اس کے بدن کا خون نچوڑ لیا ہے۔ اس کے ہونٹ سفید پڑ چکے تھے۔ اختر اس کی جیب کے پاس آیا۔ چابیوں کا گچھا تقریباً جیب سے نکل کر گرنے کو تھا۔ اختر نے ایک چابی پکڑ کر معمولی سا جھٹکا دیا تو گچھا نیچے آ گرا۔ اس میں بہت سی چابیاں لگی ہوئی تھیں۔ اس وجہ سے وہ بے حد وزنی ہو گیا تھا، کم از کم اختر کے لیے۔ اختر نے طاقت لگا کر اسے کھینچا، مگر گچھا اپنی جگہ سے حرکت بھی نہ کر سکا۔ وہ اس مہم میں کامیاب ہو کر بھی ناکام ہو رہا تھا، یعنی ہاتھی تو سوراخ سے نکل گیا، اس کی دم پھنسی رہ گئی۔
اختر امید و بیم کی کیفیت میں وہاں دیکھنے لگا۔ کافی دور اس نے ایک گتے کا کارٹن پھٹا پڑا دیکھا، جس میں مختلف چیزیں اسے نظر آ رہی تھیں۔ ان چیزوں کو ناکارہ سمجھ کر کارٹن میں بھر دیا گیا تھا۔ کسی خیال کے تحت وہ کارٹن کی طرف بڑھا۔ قریب پہنچ کر اس نے دیکھا کہ پھٹے ہوئے کارٹن میں خراب تار، چند پرانے رجسٹر اور پیڈ پڑے تھے۔ ان کے علاوہ مشینوں کے ناکارہ پرزے بھی دکھائی دیتے تھے۔ ایک چیز نے اختر کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ وہ ایک باریک ستلی کی لچھی تھی۔ اختر کو بروقت ایک ترکیب سوجھ گئی۔ وہ لچھی کو کھینچتا ہوا چابیوں کے گچھے کے پاس لے آیا اور اس کی باریک، لیکن مضبوط ڈور کا ایک سرا چابیوں کے چھلے میں باندھ دیا اور پھر لچھی کو کھولتا ہوا اس کا دوسرا سرا لے کر پہلے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ آہستہ آہستہ وہ ڈور کا سرا لے کر انسپکٹر عاصم اور ایس آئی خالد کے قریب آ گیا۔ دونوں حیرت ناک نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ ان کو اس قدر حیرانی تھی کہ وہ اپنی سمجھ کا استعمال ٹھیک سے نہ کر سکے۔ اختر نے سرا پنجرے کی سلاخوں کے پاس ڈال دیا اور شوخ نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔
انسپکٹر عاصم اور خالد دوبارہ جھک گئے۔
’’یہ۔۔۔ یہ کیا ہے ۔۔۔؟‘‘ انسپکٹر عاصم نے تعجبانہ لہجے میں سوال کیا۔
’’ایک ڈور ہے ۔۔۔ اسے اٹھا کر کھینچیں ۔۔۔‘‘ اختر نے اشارہ کیا۔ ایس آئی خالد نے ڈور کا سر اٹھایا اور اسے کھینچنے لگا۔ پھر جب انہوں نے دروازے کے نیچے سے چابیوں کا گچھا نمودار ہوتے دیکھا تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ خوشی اور جوش کے مارے ان کے منہ سے کوئی آواز نہ نکل سکی، البتہ دونوں کے چہرے نئے جذبے کے ساتھ تمتمانے لگے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے پنجرے کا دروازہ کھول لیا اور وہ باہر آ گئے۔
انسپکٹر عاصم تشکرانہ لہجے میں بولے ’’نوجوان۔۔۔ تم نے واقعی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔۔۔ ورنہ ہم تو یہی سوچ بیٹھے تھے کہ شاید ہمیں اس قید خانے سے رہائی نصیب نہیں ہو گی۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھے اور ڈوائیڈر کے نیچے پڑی ہوئی اپنی شرٹ اٹھا کر پہن لی۔ ایس آئی خالد نے اختر کو ہتھیلی پر اٹھا لیا تھا۔
اختر نے کہا۔ ’’میرے کتے ہیرا کو اس گلاس میں سے نکال لیں۔‘‘
انسپکٹر عاصم نے ہیرا کو نکال لیا۔ ان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ خالد سے کہنے لگے۔ ’’خالد۔۔۔ خدا کی قسم۔۔۔ یہ منظر میری زندگی کا سب سے انوکھا اور یادگار منظر ہے۔ میں اس کو شاید کبھی بھلا نہ سکوں گا۔‘‘
’’مجھے خود یقین نہیں آ رہا ہے سر۔۔۔‘‘ خالد کبھی ہیرا اور کبھی اختر کو دیکھ رہا تھا۔ انسپکٹر عاصم دروازے کی طرف لپکے، لیکن دروازہ لاک ملا۔ چابیوں کے گچھے کو آزمایا گیا۔ خوش قسمتی سے ایک چابی اسی لاک کی نکلی۔ وہ بڑے ہال نما کمرے میں آ گئے، جہاں وہ آدمی مرا پڑا تھا۔
انسپکٹر عاصم نے حیرت سے اختر کو دیکھا ’’تم نے اسے کیسے مارا۔۔۔؟‘‘
اختر نے اسٹول کے ساتھ لگے تار کی طرف اشارہ کیا۔ ’’کرنٹ سے ۔۔۔‘‘
انسپکٹر عاصم پاگلوں کی طرح تار کو دیکھنے لگے۔
پھر ان لوگوں نے اسکرینوں کی طرف دیکھا۔ جہاں عمارت کے مختلف حصے دکھائی دے رہے تھے۔ معاً ان کی نظریں فون پر پڑی۔ انہوں نے خالد اور اختر کو مخاطب کیا۔
’’تم دونوں ان اسکرینوں پر نظر رکھو۔ میں فون کرتا ہوں ۔۔۔‘‘
انسپکٹر عاصم نے اپنے آفس کے نمبر گھمائے۔ دوسری جانب سے کسی ہیڈ کانسٹیبل نے فون ریسیو کیا۔ انسپکٹر عاصم کی آواز سن کر وہ حیران پریشان رہ گیا تھا۔ انسپکٹر عاصم نے اسے کہا کہ وہ فوراً آپریٹر سے نمبر معلوم کرے اور فوراً اس جگہ ریڈ کرے۔ جتنی نفری ہو سکے لے آئے۔ ہیڈ کانسٹیبل نے ان کی ہدایت پر عمل کیا اور آپریٹر نے اس فون نمبر کا ایڈریس معلوم کیا، جہاں سے انسپکٹر عاصم نے فون کیا تھا۔ خوش قسمتی کہہ لیں یا اتفاق کہ آپریٹر کوئی دوسرا آدمی تھا۔ وہ آپریٹر مختار جو مجرموں سے ملا ہوا تھا، وہ اپنی ڈیوٹی ختم کر کے جا چکا تھا۔
انسپکٹر عاصم نے مطمئن ہو کر فون بند کر دیا۔ ادھر خالد اور اختر اسکرینوں پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ اسٹینلے کے آدمی ہتھیار لیے عمارت میں پھیلے ہوئے تھے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کو پوری طرح چوکس تھے، لیکن خود اسٹینلے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ انسپکٹر عاصم اس جگہ کی تلاشی لینے لگے، کیوں کہ وہ اپنے ہتھیاروں سے محروم کر دئیے گئے تھے اور ان کے پاس دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لیے کوئی آتشیں اسلحہ نہیں تھا۔ یہ ہال نما کمرا شاید عمارت کا کنٹرول روم ہی تھا۔ انسپکٹر عاصم نے ہال سے ملحقہ ایک اسٹور دیکھا، جہاں آکسیجن سلنڈروں کے علاوہ اور بھی کئی گیس سلنڈر موجود تھے۔ وہ ان کے کسی استعمال میں آتے ہوں گے۔ ادھر ہی انہوں نے ایک چرمی بیگ دیکھا وہ بیگ اٹھائے اسٹور سے باہر نکل آئے۔ اختر نے جونہی بیگ دیکھا، وہ خوشی سے اچھل کر چیخ پڑا اور حلق پھاڑ کر چلایا۔
’’یہ۔۔۔ یہ بیگ تو مجرموں کے باس کا ہی ہے ۔۔۔ جب مجرموں نے پروفیسر نجیب کو قتل کیا تھا تو یہی بیگ میں نے باس کے ہاتھوں میں دیکھا تھا۔ پروفیسر کی تجربہ گاہ سے باس نے بہت سے چیزیں اُٹھا کر اس میں ڈال لی تھیں۔ یقیناً اس میں وہ جادوئی لائیٹر بھی ہو گا، جس کی وجہ سے میں اور ہیرا اس حال کو پہنچے ہیں۔‘‘
اختر ایک ہی سانس میں کہتا چلا گیا۔ اختر پینٹ اور بنیان میں ملبوس تھا۔ انسپکٹر عاصم نے بیگ کی زِپ کھولی اور اسے فرش پر اُلٹ دیا۔ بہت سی الم غلم چیزیں فرش پر ڈھیر ہو گئیں۔ ان چیزوں میں وہ لائیٹر بھی تھا۔
’’وہ مارا۔۔۔ زبردست۔۔۔‘‘ اختر خوشی سے ناچ اٹھا ہیرا حیرت سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ پھر اختر نے لائیٹر استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ انسپکٹر عاصم نے ہیرا اور اختر کو ٹیبل سے اٹھا کر فرش پر ڈال دیا اور اسی طریقے پر عمل کرتے ہوئے لائیٹر کی نچلی سطح الٹی طرف سے دس مرتبہ دبائی لائیٹر میں لال شعاع نکلی اور ان دونوں پر پڑی ایک تیز جھماکا سا ہوا۔
اگلے ہی لمحے انسپکٹر عاصم اور خالد نے دیکھا کہ اختر اور ہیرا اپنی اصل حالت میں ہال کے فرش پر کھڑے تھے۔ وہ اپنے سابقہ قد و قامت میں آ گئے تھے۔ سب سے پہلے اختر نے اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور پھر ہیرا کے گلے لگ گیا۔ ہیرا بھی اپنے اصلی قد میں آ کر خوش ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ ان لوگوں کے درمیان ڈائیلاگ بازی ہوتی۔ ایس آئی خالد ایک اسکرین کو دیکھ کر چونک گیا۔
’’ارے یہ کیا۔۔۔‘‘ اس کی آواز نے انسپکٹر عاصم اور اختر کو چونکا دیا۔ دونوں اسکرین کے پاس پہنچے۔ انہوں نے دیکھا کہ اسٹینلے عمارت میں آ گیا تھا اور اپنے کسی ساتھی سے کچھ باتیں کر رہا تھا۔
’’اوہ۔۔۔ اس کا مطلب ہے ۔۔۔ اب یہ ادھر ہی آئے گا۔۔۔‘‘ انسپکٹر عاصم بڑبڑائے۔
’’ہمیں فوراً کچھ سوچنا پڑے گا۔۔۔ دروازے سے باہر نکلنے کا وقت نہیں ہے۔ اسٹینلے کے مسلح ساتھی باہر موجود ہیں۔ وہ ہمیں بھون ڈالیں گے ۔۔۔‘‘ ایس آئی خالد نے تشویش زدہ لہجے میں کہا۔
’’انسپکٹر صاحب یہ دیکھیں ۔۔۔‘‘ اختر ایک دیوار کے ساتھ کھڑا اوپر دیکھ رہا تھا۔ وہاں ایک چوکور سوراخ تھا۔ جس میں لوہے کی پتلی جالیاں لگی ہوئی تھیں۔ اس جگہ شاید ایگزاسٹ فین لگایا جاتا تھا، جسے خراب ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر ہٹا لیا تھا۔
’’ویری گڈ۔۔۔‘‘ انسپکٹر عاصم پر جوش لہجے میں کہنے لگے ’’ہم یہاں سے باہر نکل سکتے ہیں، لیکن ہم جانے سے پہلے اس ہال میں ایسا انتظام کر جائیں گے کہ دشمنوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس کے لیے ہمیں یہاں اپنی موجودگی کا احساس دلانا پڑے گا۔‘‘
’’لیکن ہم ادھر کیا انتظام کریں گے؟‘‘ ایس آئی خالد مضطرب لگ رہا تھا۔
’’دونوں آؤ میرے ساتھ۔۔۔‘‘ انسپکٹر عاصم انہیں ساتھ لیے اسٹور میں آئے اور انہیں گیس سلنڈر دکھائے۔
’’ان سے ہم کام لے سکتے ہیں ۔۔۔ میرے ذہن میں ایک ترکیب ہے۔ انہیں لے کر ہال کے دروازے تک لے چلو۔۔۔‘‘
پھر ان لوگوں نے دو بڑے بڑے سلنڈر ہال میں پہنچا دئیے۔ انسپکٹر عاصم نے ایک سلنڈر دروازے کے لاک کے عین سامنے سیدھی حالت میں کھڑے کر دیے اور بجلی کے تار لاک سے ٹچ کر دیے۔ عین اسی لمحے انہوں نے باہر کئی قدموں کی چاپیں سنیں۔ اسٹینلے ان کی جانب ہی آ رہا تھا۔ اس کے ساتھ کئی ساتھی تھے۔ ایک ساتھی نے آگے ہاتھ بڑھا کر بڑے اطمینان سے دروازے کا ہینڈل پکڑ کر گھمانا چاہا۔ اگلے ہی لمحے وہ ہنس دیا۔ اسٹینلے اور باقی ساتھی چونک کر اسے دیکھنے لگے۔ جسے وہ اپنے ساتھی کی ہنسی سمجھے تھے، وہ موت کے قہقہے تھے۔ اس آدمی کے جسم میں کرنٹ کی نیلی لہریں بالکل واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ فرش پر گر گیا۔ اسٹینلے اور اس کے ساتھی سناٹے میں آ گئے تھے۔
’’یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ کیسے ہو گیا۔۔۔؟‘‘ ایک ساتھی نے ہکلاتے ہوئے کہا ’’دروازے میں کسی نے اندر سے کرنٹ چھوڑ رکھا ہے۔‘‘
’’بالکل ٹھیک سمجھا تم لوگوں نے ۔۔۔‘‘ اندر سے انسپکٹر عاصم کی آواز سن کر وہ سب حیرت سے اچھل پڑے۔
’’تم۔۔۔ تم سب آزاد کیسے ہو گئے؟‘‘ اسٹینلے تو حیرت سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔
’’تمہاری بے وقوفی کی وجہ سے ۔۔۔‘‘ اندر سے جواب آیا۔
’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ اسٹینلے دروازے کو گھورنے لگا۔
’’کس بات کا مطلب پوچھ رہے ہو۔۔۔؟‘‘ انسپکٹر عاصم نے اس کا تمسخر اڑایا۔ ’’میرے آزاد ہونے کا۔۔۔ یا اپنی بے وقوفی کا۔۔۔؟‘‘
’’شٹ اپ۔۔۔‘‘ اسٹینلے اپنے ساتھیوں کے سامنے بے عزتی محسوس کر کے چلا پڑا۔ ’’میں نے تمہیں زندہ چھوڑ کر غلطی کی ہے ۔۔۔ اب تم زندہ نہیں بچو گے۔‘‘
’’آ جاؤ ۔۔۔ہمت کر لو۔۔۔‘‘ انسپکٹر عاصم نے اسے اشتعال دلایا۔
’’فائر کر کے لاک توڑ ڈالو۔۔۔‘‘ اسٹینلے پھر چیخا۔
’’ایسی غلطی بھی مت کرنا احمق۔۔۔‘‘ انسپکٹر عاصم نے فوراً کہا۔ ’’ میں نے اسٹور میں سے ایک گیس سلنڈر نکال کر دروازے کے لاک کے آگے کھڑا کر دیا ہے ۔۔۔ فائر کرو گے تو عین ممکن ہے کوئی گولی لوہے کی چادر کو پھاڑتی ہوئی گیس سلنڈر میں لگ جائے ۔۔۔ خود ہی سوچ لو۔۔۔ نتیجہ کیا ہو گا۔۔۔؟‘‘
اسٹینلے بے بسی کے عالم میں ناچ کر رہ گیا۔ وہ لوگ دروازے کو چھوسکتے تھے اور نہ اسے کھولنے کے لے لاک پر گولیاں برسا سکتے تھے۔ یہ ایک عجیب بلکہ دلچسپ صورت حال ہو گئی تھی۔ ادھر اختر ایک ٹیبل پر چڑھ کر چوکور سوراخ کی جالیاں ہٹانے کی کوششیں کر رہا تھا۔ اچانک اسٹینلے باہر سے دروازے کے آگے جھکا اور نیچے جھری سے جھانک کر دیکھا تو اسے واقعی گیس سلنڈر کا پینڈا نظر آیا۔ ساتھ ہی اس نے بجلی کا تار بھی دیکھ لیا۔ اس نے پھرتی سے اپنے ایک ساتھی کے ہاتھ سے لمبی نال والی گن چھینی اور دوبارہ جھک کر گن کی نال سے تار کو دروازے سے الگ ہٹا دیا۔ یہ کام اس نے بڑے دھیان سے کیا تھا۔ اگر تار ذرا بھی گن کی نال سے چھو جاتا تو اسٹینلے زندہ نہ رہتا۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے گن کی نال کو سلنڈر کو پیندے سے لگایا اور اپنے ساتھیوں سے دھیمی آواز میں بولا۔
’’اسے زور سے دھکیلو۔۔۔ اندر کھڑا سلنڈر گر جائے گا تو ہم فوراً لاک پر فائر کر کے دروازہ کھول لیں گے ۔۔۔‘‘
اس کے ساتھی اپنے ہتھیار رکھ کر آگے بڑھے اور اس مشقت طلب کام میں جت گئے۔ اس وقت تک اختر نے جالیاں اکھاڑ ڈالیں اور ہلکی سی سیٹی بجا کر انسپکٹر عاصم کی توجہ اس جانب کرائی۔ انہوں نے سر ہلایا اور خالد کو ایک اشارہ کیا۔ خالد نے آگے بڑھ کر دونوں سلنڈروں کے والو کھول ڈالے۔ انسپکٹر عاصم نے دیکھ لیا کہ ان لوگوں نے کرنٹ کا تار بھی ہٹا دیا ہے اور اب وہ سلنڈر گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقیناً اس کے بعد وہ لاک پر فائرنگ ہی کریں گے۔ سب سے پہلے ہیرا کو چوکور سوراخ سے دوسری جانب کھڑے اختر کے حوالے کیا۔ پھر خالد بھی نکل گیا۔ انسپکٹر عاصم کو وہاں شدید گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔ گیس پورے ہال میں بھر گئی تھی۔ انہیں اپنا دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہوا، لیکن انہوں نے اپنے حواس و اعصاب سنبھالے اور ٹیبل پر چڑھ گئے۔ عین اس وقت انہوں نے سلنڈر گرنے کی آواز سنی۔ اسٹینلے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا۔
خطرہ ایک دم بڑھ گیا تھا۔
انسپکٹر عاصم نے اپنا بدن اٹھا کر سمیٹا اور سوراخ سے گزر گئے۔ دوسری طرف سے اختر اور خالد نے انہیں سنبھال لیا۔ فوراً ہی انہوں نے فائرنگ کی گرج دار آوازیں سنی تھیں۔ اسٹینلے کے آدمیوں نے سلنڈر گرا کر کے دروازے کے لاک پر تڑاتڑ گولیاں برسانا شروع کر دی تھیں۔ اندر گیس کسی بپھرے ہوئے بھوت کی طرح قید تھی۔ رپیٹر کی ایک ہولناک گولی لوہے کی چادر چیرتی ہوئی اندر چلی گئی۔ سرخ انگارے کی مانند دہکتی ہوئی گولی نے اندر شعلے بھڑکا دئیے۔ ایک قیامت خیز دھماکا ہوا۔
دروازے کے آگے دو آدمی کھڑے تھے۔ دھماکے سے سب کے ہی اوسان خطا ہو گئے۔ اسی لمحے ایک اور دھماکے سے دروازہ اپنے قبضوں سے اُکھڑا اور بم کے گولے کی طرح ان دونوں آدمیوں سے ٹکرایا۔ دروازہ انہیں کھڑی حالت میں لیتا ہوا سامنے کی دیوار سے پوری شدت کے ساتھ جا لگا۔ دونوں بدنصیب دروازے اور دیوار کے درمیان کسی غبارے کی طرح پچک کر پھٹ گئے۔ اسٹینلے اور باقی آدمی دھماکے کی شدت سے الٹ کر گر گئے تھے۔ پوری عمارت لرز اٹھی تھی۔ باہر کھڑے مسلح آدمی پاگلوں کی طرح اندر بھاگے چلے آئے۔ اسٹینلے بری طرح چلا رہا تھا اور انہیں پوری عمارت میں پھیل کر قیدیوں کو تلاش کرنے کا کہہ رہا تھا، کیوں کہ اس نے دیکھ لیا تھا کہ ہال خالی پڑا ہے اور ایگزاسٹ فین کے سوراخ پر سے جالیاں ہٹی ہوئی تھیں۔ اس کے آدمی عمارت میں پھیل گئے۔ انسپکٹر عاصم، اختر اور خالد وہاں سے نکل کر ایک لمبی راہداری میں بھاگے۔
دفعتاً سامنے سے دو مسلح آدمی نمودار ہوئے۔ انہیں دیکھتے ہی ان آدمیوں نے فائر کھول دئیے۔ برابر میں ایک زینہ تھا۔ وہ لوگ ان آدمیوں کے فائر کرنے سے پہلے ہی زینے پر بھاگتے ہوئے چڑھ گئے۔ گولیاں شراروں کی طرح سیدھی نکل گئیں۔ وہ آدمی ان کے پیچھے لپکے۔ اوپر منزل پر بھی ویسی ہی لمبی راہداری تھی۔ انہوں نے دونوں اطراف نظریں دوڑائیں۔
ایک نے دوسرے سے اشاروں میں کہا کہ تم دائیں جانب جاؤ۔۔۔ میں بائیں طرف کا انہیں تلاش کرتا ہوں۔
اس آدمی کا ساتھی دوسری طرف چلا گیا۔ پہلا آدمی راہداری میں آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ اس نے ایک دروازہ کھلا دیکھا۔ بڑی احتیاط سے وہ اندر داخل ہوا اور اس نے ان تینوں قیدیوں کو دیکھا۔ وہ کچھ حیران ہوا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ دو قیدی ہیں، جب کہ یہ تو تین تھے۔
اس نے وقت ضائع کیے بغیر فوراً ان تینوں پر گن تان لی اور دبنگ آواز میں غرایا ’’خبردار۔۔۔ حرکت مت کرنا۔۔۔ ہاتھ اوپر اٹھا لو۔‘‘ لیکن ان پر اس کے لہجے کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ اطمینان سے یونہی کھڑے رہے۔
’’سنا نہیں تم لوگوں نے ۔۔۔‘‘ وہ پھر چلایا۔
’’سن لیا ہے ۔۔۔ اب ذرا اپنے پیچھے بھی دیکھ لو۔‘‘ اختر نے مسکراتے ہوئے اس کے عقب میں اشارہ کیا۔
وہ آدمی بھی اپنی دانست میں بڑا ذہین تھا۔۔۔ وہ مڑا نہیں۔ ہنس کر بولا۔ ’’یہ دھوکا پرانا ہو چکا ہے ۔۔۔ بے وقوف کسی اور۔۔۔‘‘ اس کا جملہ درمیان میں رہ گیا۔
ہیرا اس کے عقب میں غرایا تھا۔ اس کے گھومنے سے پہلے ہی ہیرا اپنا کام کر گیا۔ وہ ایک جنگجو اور خونخوار کتا تھا۔ آناً فاناً اس آدمی کو نیچے گرا لیا۔ انسپکٹر عاصم نے بڑھ کر اس آدمی کی گری ہوئی گن اٹھا لی اور اس کی گن پٹی پر دستہ مار کر بے ہوش کر دیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں ہیرا نے اس کا اچھا خاصا حلیہ بگاڑ ڈالا تھا۔ اچانک ہی وہ عمارت گولیوں کے دھماکوں سے گونجنے لگی۔ ساتھ ساتھ انہیں انسانی چیخوں کی دل دوز آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ ایسا لگتا تھا دو مسلح گروہ آپس میں ٹکرا گئے ہیں۔
انسپکٹر عاصم تیزی سے بولے۔ ’’یقیناً‘‘ پولیس کے آدمی آ چکے ہیں اور وہ مجرموں سے مقابلہ کر رہے ہیں ۔۔۔ جلدی آؤ۔۔۔ ہمیں اسٹینلے کو قابو کرنا ہے، ورنہ وہ نکل جائے گا۔ وہ سراج خان والی فائل بھی اس کے قبضے میں ہو گی۔۔۔ آؤ۔۔۔‘‘
وہ کمرے سے نکلے ہی تھے کہ ان پر گولیوں کی ایک باڑ ماری گئی۔ انسپکٹر عاصم آگے تھے اگر وہ فوراً نہ رکتے تو گولیوں سے ان کا جسم چھلنی ہو کر رہ جاتا۔ دوسری جانب جانے والا آدمی پلٹ آیا تھا۔ وہ آدمی ان کو فائر کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔ اتنے میں اختر نے انسپکٹر عاصم کو آواز لگا کر مخاطب کیا۔ انہوں نے دیکھا، اختر کے ہاتھ میں ایک موٹی سی بوتل تھی، جس کا منہ لمبا اور پتلا تھا۔ یہ بوتل اس کمرے کی تلاشی لینے پر ایک الماری سے ملی تھی۔
اختر کہہ رہا تھا۔ ’’یہ اس آدمی کا علاج کرے گی۔۔۔‘‘ بوتل میں سفید پانی سا تھا۔
انسپکٹر عاصم نے پوچھا ’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’تیزاب۔‘‘ اختر نے بوتل ہلا کر بتایا ’’اب آپ بوتل کا کمال دیکھیں۔‘‘
ادھر دشمن انہیں للکار رہا تھا۔ باہر سے مسلسل گولیوں کے دھماکے سنائی دے رہے تھے۔
اختر نے بوتل کا منہ مٹھی میں پکڑا۔ ایک دم اوٹ سے باہر آ کر اس نے بوتل دور راہداری میں چوکنے کھڑے دشمن پر اُچھال دی۔ وہ آدمی پہلے ہی بھرا کھڑا تھا۔ اس نے قریب آتی ہوئی بوتل پر فائر کر دیا۔ یہی اس کی زندگی کی سب سے ہولناک غلطی ثابت ہوئی۔ گولے لگنے سے بوتل ہوا میں چکنا چور ہو گئی۔ سارا تیزاب اس آدمی کے چہرے، سینے، ہاتھوں پر آ گرا۔ پھر جو اس نے دل پھاڑ دینے والی چیخیں ماری ہیں۔ اس کا پورا چہرہ ایک لمحے میں جھلس کر رہ گیا۔ یہ لوگ تیزی سے اس کے نزدیک پہنچے۔ تو ایک عبرت انگیز منظر دیکھا۔
اس آدمی کے چہرے پر چربی اور گوشت کے بلبلے اُبھر رہے تھے۔ اور ان میں سے دھواں خارج ہو رہا تھا۔ آنکھوں کے ڈیلے ایک گاڑھے ملغوبے میں تبدیل ہو کر بہہ گئے تھے۔ چہرے پر گوشت تقریباً ختم ہی ہو گیا تھا۔ چند ہی سیکنڈ میں اس کے چہرے کا ڈھانچا نمودار ہو گیا۔ وہ لوگ اس کا انجام دیکھ کر سرتاپا لرز گئے، مگر وہ مجبور تھے۔ اگر اسے نہ مارتے تو وہ ان کو ختم کر ڈالتا۔ وہاں گوشت اور چربی کی ناگوار بو کے ساتھ تیزاب کی تیز بو بھی پھیلی ہوئی تھی۔ انہیں چھینکیں آ گئی تھیں۔ وہ زینے کی طرف لپکے۔ ہیرا بدستور ان کے ساتھ تھا۔ چلتے چلتے ایس آئی خالد نے مرنے والے کی سب مشین گن اٹھا لی تھی۔
پوری عمارت میں پولیس اور مجرموں کے درمیان فیس ٹو فیس مقابلہ ہو رہا تھا۔ چند ایک پولیس والے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ بہت سے مجرم بھی مارے گئے۔ انجام آخر وہی ہونا تھا، یعنی مجرم آہستہ آہستہ پسپائی اختیار کرنے لگے اور پھر بچنے والوں نے گرفتاری دے دی۔ انسپکٹر عاصم نے پولیس والوں کو بہت سی ہدایات دیں اور سختی سے حکم دیا کہ کوئی غیر متعلقہ شخص وہاں داخل نہ ہو۔ انہیں وہاں اسٹینلے کی لاش نہیں ملی اور نہ ہی گرفتار شدگان میں اسٹینلے نظر آیا۔ یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ وہ پولیس کی نظریں بچا کر بھاگ نکلا ہوا۔ پولیس والوں نے بڑی پلاننگ سے گھیرا ڈال کر وہاں ریڈ مارا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسٹینلے ابھی عمارت میں ہی تھا۔ انسپکٹر عاصم کا ارادہ تھا کہ پولیس والوں کی مدد سے اسے تلاش کیا جائے، لیکن اختر نے اس موقع پر مداخلت کی۔
انسپکٹر صاحب۔۔۔ ان لوگوں کو زحمت دینے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔؟ یہ اپنا ہیرا کس کام آئے گا۔‘‘
انسپکٹر عاصم چونک پڑے۔ ’’او، ہاں ۔۔۔ میں تو ہیرا کو بھول ہی گیا تھا۔‘‘
’’آپ پہلے شخص ہوں گے جو ہیرا کو بھول گئے ۔۔۔ ورنہ ہیروں کو کون بھولتا ہے۔ چلو بھئی۔۔۔ ہیرا صاحب۔۔۔ اسٹینلے بھائی کا کھوج تو لگانا اپنی ناک سے ۔۔۔ یقیناً ان کی بدبو تو تمہیں یاد ہو گی۔‘‘
ہیرا سمجھ گیا۔ اس نے تھوتھنی اٹھا کر فضا میں سونگھا اور عمارت کے اندر دوڑتا ہوا گھس گیا۔ انسپکٹر عاصم، اختر، خالد اور کوئی پولیس والے اس کے پیچھے لپکے۔ کچھ ہی دیر بعد ہیرا عمارت کے انتہائی گوشے میں بنے ہوئے ایک ایسے کمرے میں آ گیا، جہاں پر بے شمار کاٹھ کباڑ جمع تھا۔ وہاں مٹی دھول اَٹی ہوئی تھی۔ ادھر ہی پانی کی موٹر بھی نصب تھی۔ ہیرا ادھر آ کر بہت زیادہ بے تاب ہو رہا تھا۔ ان لوگوں نے اسلحہ نکال کر ہاتھوں میں تیار پکڑ لیا تھا۔ یک بیک ہیرا لکڑی کے بڑے بڑے تختوں کے عقب میں جھپٹا اور بری طرح بھونکنے لگا۔ سب لوگ ادھر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ وہاں ایک بڑا گول ڈھکن فرش پر دکھائی دے رہا تھا۔ یقیناً یہ میں ہول تھا۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ اسٹینلے اس میں ہول کے ذریعے فرار ہو گیا تھا۔ یہ دیکھ کر انسپکٹر عاصم کے ماتھے پر اَن گنت شکنیں نمودار ہو گئیں۔
’’وہ یہاں سے ہی فرار ہوا ہے ۔۔۔ اس وقت تک وہ نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہو گا۔‘‘
’’انسپکٹر صاحب ہمیں اس کا پیچھا کرنا چاہیے ۔۔۔‘‘ اختر نے رائے دی۔ ’’میرا خیال ہے وہ ابھی زیادہ دور نہیں جا سکا ہو گا۔۔۔ کیوں کہ میں ہول میں سفر کا کرنا خاص دشوار ہے۔‘‘
انسپکٹر عاصم نے تائید انداز میں گردن ہلائی اور کانسٹیبلوں سے مخاطب ہوئے۔ ’’تم لوگوں کے پاس ٹارچیں ہیں یا نہیں؟‘‘
’’سر ۔۔۔ہم ٹارچیں تو نہیں لائے ۔۔۔ اس وقت ہمیں ان کی ضرورت ہی نہیں تھی۔‘‘ ایک سپاہی نے جواب دیا۔
’’میں نے دیکھی ہیں جی ادھر۔۔۔ ایک کمرے میں ٹارچیں ۔۔۔ بولیں تو لاؤں؟‘‘ دوسرا سپاہی آگے لایا۔
’’بولنے کی کیا ضرورت ہے لے آؤ۔‘‘ اختر مسکرا اٹھا۔
وہ سپاہی چلا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے چار ٹارچیں لا کر دے دیں ۔۔۔
انسپکٹر عاصم، اختر، خالد اور دو سپاہی میں ہول میں اتر گئے۔ ہیرا کو ساتھ لیا گیا تھا کیوں کہ اسی کی مدد سے وہ درست راستے پر پیش قدمی جاری رکھ سکتے تھے۔ ٹارچوں کی روشنیاں میں ہول میں گردش کر رہی تھیں۔ میں ہول کافی چوڑا اور کشادہ تھا۔ وہ لوگ آرام سے بغیر کسی دشواری کے اس میں چل رہے تھے۔ ہیرا آگے آئے ان کی راہ نمائی کر رہا تھا۔ اب تک تو میں ہول سیدھا ہی جا رہا تھا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آگے موڑ آئیں یا کئی راستے آئیں۔ تب ہیرا ہی اسٹینلے کی بو محسوس کر کے انہیں ٹھیک راستے پر لے جا سکتا تھا۔ اس جگہ گرمائش کافی تھی۔
ان لوگوں کو اپنے جسموں میں سوئیاں سی چبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ یہ ان کے حق میں بہتر میں ہوا کہ میں ہول میں گندہ پانی زیادہ نہیں تھا۔ وہ زیادہ سے زیادہ ان کے ٹخنوں سے اوپر تک آ رہا تھا۔ ٹارچوں کی روشنی میں انہوں نے وہاں بے شمار قسم کے کیڑے دیکھے۔ جگہ جگہ بڑے بڑے لال بیگ بھاگتے دکھائی دے رہے تھے۔ بہت سے ان کے کپڑوں پر بھی چڑھ گئے، جنہیں فوراً جھٹک دیا گیا۔ میں ہول میں غضب کی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف ان کے پیروں تلے گندہ پانی احتجاجی انداز میں شڑاپ شڑاپ کر رہا تھا۔ بڑی دیر تک وہ لوگ خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔ آخر ایک جگہ موڑ آ گیا۔
یہاں بیک وقت تین راستے مختلف سمتوں میں جا رہے تھے۔ وہ لوگ ہیرا کی طرف دیکھنے لگے۔ ہیرا ہر راستے پر کچھ دور تک گیا اور سونگھنے کی کوشش کرنے لگتا۔ وہاں گندے پانی کی شدید بو پھیلی ہوئی تھی، اس لیے ہیرا کو کافی دشواری ہو رہی تھی۔ پھر شاید اس نے اسٹینلے کی بو پا لی اور سیدھے ہاتھ والے راستے پر بڑھا۔ ان لوگوں نے ہیرا کی تقلید میں ادھر ہی قدم بڑھائے۔ میں ہول تھا کہ شیطان کی آنت۔ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ کئی جگہ انہوں نے سیمنٹ اور لوہے کے بڑے بڑے پائپ دیکھے تھے، جہاں سے غلیظ سیاہ پانی پر شور آواز کے ساتھ میں ہول میں گر رہا تھا۔ کہیں کہیں ان کونیولے بھی ملے۔ جو انسانی آہٹیں پا کر پوشیدہ مقامات پر تیزی سے روپوش ہو جاتے تھے۔ سفر بہت طویل ہو گیا تھا اور اب بھی اس کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ ایسے میں خالد نے پریشان ہو کر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
’’سر کہیں ہم راستے سے تو نہیں بھٹک گئے ۔۔۔؟ اب تک تو ہمیں کسی نا کسی مقام پر پہنچ جانا چاہیے تھا۔‘‘
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ ہم یقیناً درست ہی راستے پر بڑھ رہے ہیں۔‘‘ اختر نے فوراً اس کی تردید کی۔ ’’ہیرا ہمیں غلط راستے پر نہیں ڈال سکتا۔‘‘
ان کے ساتھ آئے ہوئے دونوں سپاہی چپ چاپ ان کا ساتھ دینے پر مجبور تھے۔ انہیں مزید بیس منٹ تک اور چلنا پڑا تھا کہ ہیرا ایک جگہ منہ اٹھا کر دیکھنے لگا۔ وہ تیزی سے آگے آئے۔ تب انہوں نے ایک حیران کن منظر دیکھا۔ اس جگہ میں ہول کی دیوار ٹوٹی ہوئی تھی اور دیوار کے پار انہیں جو کچھ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ان کو پاگل کر دینے کے لیے کافی تھا۔ دیوار پار انہیں ایک راہداری نما راستہ نظر آ رہا تھا۔ اس راہداری کا فرش، چھت اور دیواریں انسانی ہاتھوں سے بنائی گئی تھیں۔ مگر شاید اس کی بہت عرصے سے صفائی نہیں ہوئی تھی اور نہ توجہ دی گئی تھی، اس لیے وہ جگہ انتہا سے زیادہ غلیظ اور بدبودار ہو رہی تھی۔ مکڑیوں کے سفید جالے اتنے بڑے اور موٹے تھے کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا چھت سے سفید چادریں لٹک رہی ہیں۔ ان میں اگر کوئی آدمی پھنس جائے تو وہ بھی دشواری کا شکار ہو سکتا تھا۔
میں ہول میں ایسی جگہ کی موجودی تعجب خیز اور انوکھی تھی۔ وہ لوگ ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ اسٹینلے اسی جگہ سے نکل کر گیا ہو گا۔ انسپکٹر عاصم نے اندر کا اچھی طرح جائزہ لیا اور اندر داخل ہو گئے۔ ٹارچوں کی روشنیوں کے بڑے بڑے دائرے اس جگہ خوفناک انداز میں گردش کر رہے تھے۔ وہاں قبر جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ فرش غلاظت سے بالکل سیاہ ہو رہا تھا۔ انہیں پھسلن کا بھی ڈر تھا۔ وہ آگے بڑھتے رہے۔ اس لمبے اور پتلے راستے سے گزر کر وہ ایک بڑے کمرے میں آئے۔ یہاں بھی بہت برا حال ہو رہا تھا۔ وہ لوگ مزید حیران ہوئے، کیوں کہ یہ کمرا اپنی ہیت اور گرد آلود فرنیچر سے کوئی تجربہ گاہ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہاں کئی اونچے اونچے آہنی شیلفس رکھے ہوئے تھے۔
کمرے کے عین وسط میں ایک پتلی اور لمبی ٹیبل رکھی ہوئی تھی، اس پر شیشے کی مختلف النوع بوتلیں اور شیشے کی ٹیوبزبے ترتیبی کی حالت میں اُلٹی سیدھی پڑی ہوئی تھیں۔ اسی ٹیبل پر کئی چھوٹی پیچیدہ مشینوں کے ساتھ ایک خوردبین بھی موجود تھی، لیکن یہ سب اشیاء بہت ہی دگرگوں حالت میں تھیں اور شاید استعمال کے قابل بھی نہ رہی تھیں۔ وہ لوگ منہ پھاڑے اس ہولناک ماحول کا جائزہ لے رہے تھے۔ اختر نے آگے بڑھ کر ایک شیشے کی بوتل اٹھائی۔ اگلے ہی لمحے اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ بوتل کے عقب میں ایک گول مٹول سا چوہا چھپا ہوا تھا۔ وہ اب ٹیبل پر بوتلوں اور نلکیوں کو پھلانگتا ہوا بھاگا جا رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹیبل سے کودا اور ایک سوراخ میں گھس کر غائب ہو گیا۔
اختر کا سانس پھول گیا تھا۔ چوہے کی موجودی نے تقریباً سب کو ہی خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ انسپکٹر عاصم نے ٹیبل کے نیچے بہت سے خانوں کے چھوٹے چھوٹے دروازے دیکھے، جو تھوڑے تھوڑے کھلے ہوئے تھے۔ انہوں نے ٹارچ کی روشنی میں ایک دروازہ کھولا۔ روشنی اندر پڑتے ہی کلبلاہٹ شروع ہو گئی۔ وہ پورا خانہ چوہوں کے ننھے منے بچوں سے بھرا پڑا تھا۔ وہ بچے ایک دوسرے کے اوپر قلابازیاں کھا رہے تھے۔ انسپکٹر عاصم نے باری باری تمام خانے دیکھ ڈالے۔ سارے خانے چوہوں کے بچوں سے بھرے ہوئے تھے اور بلا شبہ ان بچوں کی تعداد صرف ان خانوں میں ہی ہزاروں تک پہنچ رہی تھی اور بھی نہ جانے کہاں کہاں چوہوں نے بچے دے رکھے ہوں گے۔ ان کے جسم میں غضب کی سنسنی دوڑ رہی تھی۔ انہیں یوں لگ رہا تھا کہ موت بھیانک شکل میں ان کے پاس ہی منڈلا رہی ہے۔ اچانک اختر نے ان لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرائی۔ اس کی آواز جوش سے لرز رہی تھی۔ انہوں نے دیکھا اختر کے ہاتھ میں ایک پھٹی ہوئی ڈائری تھی۔
اختر دبی دبی آواز میں کہہ رہا تھا۔ ’’یہ۔۔۔ یہ تو پروفیسر سراج خان کی ڈائری ہے ۔۔۔ یہ دیکھیں اندر اس کا نام۔۔۔ یہ لکھا ہے ۔۔۔ اُف میرا خدا۔۔۔ تو ہم سراج خان کی تجربہ گاہ میں آ گئے ہیں ۔۔۔‘‘
انسپکٹر عاصم نے اس کے ہاتھ سے ڈائری چھینی اور اس کے اوراق الٹ کر سرسری نظر ڈالی۔ واقعی وہ پروفیسر سراج خان کی ڈائری تھی۔ وہ لوگ تو اسٹینلے کی تلاش میں نکلے تھے۔ اتفاقی طور پر وہ سراج خان کی تجربہ گاہ میں آ گئے تھے۔ تو کیا اسٹینلے اس جگہ سے واقف تھا۔ انسپکٹر عاصم نے سوچا۔ اختر انہیں بغور دیکھ رہا تھا گویا ان کا ذہن پڑھ کر بولا۔
’’میرا خیال ہے اسٹینلے بھی اتفاق سے ادھر آنکلا ہو گا، کیوں کہ اگر اس نے پہلے ہی یہ جگہ دیکھ رکھی ہوتی تو وہ اس ڈائری کو ہم سے پہلے دریافت کر چکا ہوتا۔‘‘
معقول بات تھی۔ انسپکٹر عاصم کو اس سے متفق ہونا پڑا تھا۔ عین اسی لمحے انہوں نے ایک بھیانک انسانی چیخ سنی۔ وہ لوگ اچھل پڑے۔ انسپکٹر عاصم نے جلدی سے ڈائری کو شرٹ کے اندر ڈال لیا۔ دونوں سپاہیوں کے منہ پر ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔ ان کے ہاتھ واضح طور پر لرز رہے تھے۔ انہیں خیال آیا کہ اس راستے اسٹینلے ہی گیا تھا۔ یہ چیخ اس کی ہو سکتی ہے۔ شاید وہ کسی مصیبت شکار ہو گیا ہے۔ ہیرا انتہائی مضطرب اور سخت بے تاب ہو رہا تھا۔ جانور آنے والے خطرے سے پہلے ہی واقف ہو جاتے ہیں۔
’’آؤ۔۔۔ اسے دیکھتے ہیں یقیناً اسے مدد کی ضرورت ہو گی۔‘‘ انسپکٹر عاصم نے تیزی سے کہا اور چیخ کی سمت قدم بڑھا دئیے۔ چاروناچار باقی لوگوں کو ان کی پیروی کرنا پڑی تھی۔ چند موڑ مڑنے کے بعد آخر وہ ایک دروازے کے نزدیک پہنچے۔ دروازے کے دوسری جانب انہیں روشنی دکھائی دے رہی تھی، لیکن یہ آگ کی روشنی تھی۔ چیخ ادھر سے اُبھری تھی۔ قریب آنے پر انہیں عجیب وغریب آواز میں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ ان لوگوں نے بہت احتیاط سے دروازے کی اوٹ لے کر جھانکا اور دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔
ایک ہوش اُڑا دینے والا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔ ان پانچوں کے اوسان خطا ہوتے چلے گئے۔ خود انسپکٹر عاصم کو بھی ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے جسم سے جان نکل رہی ہے۔ دہشت کے مارے ان کی ہتھیلیاں بھی پسینوں سے بھیگ گئی تھیں۔ خوف کی لہریں ان کی ہڈیوں میں گھسی جا رہی تھیں، جس کی وجہ سے ان کے اعصاب میں ارتعاش پیدا ہو گیا تھا۔ دروازے کی دوسری جانب ایک بڑی وسیع جگہ تھی۔ اس کے عین وسط میں لکڑیاں چٹ چٹ جل رہی تھیں۔ جس نے وہاں کے سارے ماحول کو روشن اور خوف ناک کر دیا تھا۔ آگ کے نزدیک ہی ایک انسانی جسم پڑا ہوا تھا۔ وہ اسٹینلے تھا۔ وہ مرا نہیں تھا، بس پھٹی پھٹی نظروں سے اپنے اردگرد کا ماحول دیکھ رہا تھا۔ اس کے قریب ہی ایک انسانی قد سے اونچی عفریت کھڑی تھی۔ یہ وہی بلا تھی، جس نے شہر میں خوف پھیلایا ہوا تھا۔
اس کا حلیہ دیکھ کر آنالوگوں کی عقلیں ماؤف ہو گئیں۔ انسپکٹر عاصم کا سابقہ ایک مرتبہ اس عفریت سے پڑ چکا تھا، لیکن انہوں نے اسے ٹھیک سے دیکھا نہیں تھا، صرف اس کو ہیولے کی شکل میں دیکھا تھا۔ اب پہلی مرتبہ وہ اس عفریت کو اچھی طرح سے دیکھ رہے تھے۔ اگر کوئی چوہا انسانی قد وقامت کا ہو جائے تو کیسا لگے گا؟ بس آپ اپنے تصور میں انسانی قامت کا چوہا دیکھیں، سمجھیں آپ نے وہ بلا دیکھ لی۔ اس کی ایک لمبی سی موٹی دُم بھی عقب میں کوڑے کی طرح لہرا رہی تھی۔ ابھی یہ دہشت انگیز منظر اس بلا پر ہی ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ لوگ اس بڑی جگہ پر لاکھوں چوہے بھی دیکھ رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شہر بھر کے چوہے یہاں جمع ہو گئے ہیں۔ چوہوں کے اچھلنے کودنے اور کلبلانے کی وجہ سے پورے ماحول میں ایک بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ جلتی ہوئی آگ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ اس بلا میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی موجود ہیں، ورنہ وہ روشنی کے لیے آگ روشن کیوں کرتی۔ اسٹینلے لاکھ بہادر سہی، لیکن اس بلا اور ان گنت خونی چوہوں کے آگے اس کی ساری دلیری ہوا ہو گئی تھی۔ اچانک اس بلا نے جھک کر اسٹینلے کو اٹھا لیا۔ وہ پھر بری طرح ڈاکرانے لگا۔ بلا نے اپنا لمبوترا منہ پھاڑا اور بجلی کی تیزی سے اس کے پیٹ پر اپنے لمبے دانت گاڑ دئیے۔ اُف۔۔۔ ان سے اسٹینلے کی بے پناہ تکلیف اور اذیت دیکھی نہیں گئی تھی۔ بلا اپنا منہ جھٹکوں سے اس کے پیٹ میں اندر گھسا رہی تھی۔ خون کی دھاروں نے بلا کا منہ بھگو ڈالا تھا۔ وہ انتہائی غصے میں نظر آ رہی تھی۔
ان لوگوں نے بلا کی ہولناک ترین غراہٹیں سنی تھیں، جیسے کوئی بہت سی بدروحیں مل کر آوازیں نکال رہی ہوں۔ بلا کے نوکیلے پنجوں نے اسٹینلے کے لباس چیتھڑوں میں بدل دیا۔ اسٹینلے اس کے پنجوں میں کسی بے بس چڑیا کی طرح تڑپ رہا تھا۔ وہ اپنے پھٹے ہوئے پیٹ کو دیکھ رہا تھا، جس میں سے آنتیں اور بھاری پیٹا نکال کر باہر لٹک آیا تھا۔ بلا نے اسے دور اچھال دیا۔ اسی لمحے اسٹینلے کے لباس میں سے کوئی چیز نکل کر گر پڑی۔ انہوں نے آگ کی روشنی میں دیکھ لیا، وہ ایک فائل ہے۔ اختر اور انسپکٹر عاصم سمجھ گئے۔ یہ پروفیسر سراج خان والی فائل ہو گی۔ اسٹینلے کے زمین پر گرتے ہی ہزاروں چوہے خونخوار انداز میں اس پر ٹوٹ پڑے۔ اسٹینلے زیادہ چیخ بھی نہ سکا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا پورا وجود چوہوں میں چھپ گیا۔ یہ پانچوں افراد خوف زدگی کے عالم میں ہوش رُبا منظر دیکھ رہے تھے۔ اسٹینلے اپنے بھیانک انجام سے دوچار ہو چکا تھا۔ ابھی وہ لوگ اس بھیانک منظر کو دیکھ ہی رہے تھے کہ یک لخت انہوں نے اپنے پیروں کے قریب چیں چیں کی آوازیں سنی۔ انہوں نے جلدی سے ٹارچوں کی روشنیاں ڈالیں۔ پیروں کے پاس کئی چوہے کھڑے جارحانہ انداز میں ان پر غرا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر ایک سپاہی کے منہ سے چیخ نکل گئی۔
اس کا چیخنا ہی ایک بھونچال پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ بلا چونک کر ان کی طرف متوجہ ہو گئی اور بھیانک آواز میں زور سے دھاڑی۔ ان کے اعصابوں پر برف کے تودے آن گرے تھے۔ صرف دھاڑنے پر ان کے حواس گم کر رہے تھے۔ انسپکٹر عاصم نے قریب کھڑے چوہوں پر ایک فائر کیا۔ ایک چوہا گولی کی زد میں آ کر پلاسٹک کی گیند کی مانند پھٹ گیا۔ بلا کے ساتھ ہزاروں چوہے ان کی جانب لپکے۔ وہ پانچوں وقت ضائع کیے بغیر واپسی کے راستے پر بھاگے۔ بلا کی رفتار حیرت انگیز طور پر انتہائی تیز تھی۔ آگے آگے بلا کسی سپہ سالار کی طرح چیختی چلاتی اور غراتی ہوئی آ رہی تھی۔ اس کے پیچھے آدم خور چوہوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا لشکر جرار چلا آ رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ چوہے نہیں، بلکہ کالے پانی کا عظیم الشان ریلا ہے۔ جہاں انہیں پروفیسر سراج کی ڈائری ملی تھی، اس جگہ بھاگے بھاگتے انہوں نے ٹیبل پر رکھی ہوئی شیشے کی بوتلیں اور دوسری چیزیں نیچے لڑھکا دی تھیں۔ جلد ہی وہ میں ہول کی ٹوٹی ہوئی دیوار تک پہنچ گئے۔ سب سے پہلے ہیرا کود کر میں ہول میں چلا گیا۔ پھر باقی لوگ کودے۔ سب سے پیچھے ایک سپاہی دہشت زدہ انداز میں گرتا پڑتا آ رہا تھا۔ اس اثناء میں بلا اس کے عقب میں نمودار ہو گئی۔ انسپکٹر عاصم نے اسے دیکھتے ہی اس پر گولیاں برسا دیں۔ چوہا اونچی چھلانگیں لگاتا ہے۔ وہ بلا خطرہ بھانپ کر چھلانگ لگا گئی۔
وہ اتنی اوپر اچھلی تھی کہ چھت کے جالوں کو لیتی ہوئی نیچے آئی تھی۔ اس کا پورا جسم موٹے جالوں میں بھر گیا تھا، لیکن بدنصیب سپاہی پھر بھی نہ بچ سکا۔ چوہوں کا لشکر ان کے پیروں تک آ گیا تھا۔ چوہے اس پر چڑھتے چلے گئے۔ سپاہی کا چہرہ انسپکٹر عاصم کے سامنے تھا۔ وہ اس کے چہرے پر سمٹ آنے والی دہشت کو کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ صرف پلک جھپکنے کا وقفہ درمیان میں حائل تھا اور سپاہی کا چہرہ بھی چوہوں میں چھپ گیا۔ وہ اب تک کھڑا تھا اور پورے جسم پر چوہے چپکے ہوئے تھے۔ یہ ایک بڑا ہی بھیانک منظر تھا۔ ایسا لگ رہا تھا، چوہوں کا مینار وہاں کھڑا ہے۔ یہ سب کچھ صرف چند سیکنڈ میں ہوا تھا۔ پھر انسپکٹر عاصم بھی اپنے ساتھیوں کے پیچھے بھاگے۔ سب سے خوف ناک صورت حال یہ تھی کہ واپسی کا راستہ بہت طویل تھا اور پھر انہیں اندھا دھند بھاگنا پڑ رہا تھا۔ بلا اور چوہے بدستور ان کے تعاقب میں تھے۔ یہ تو ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ نہ جانے اس طرح کتنے ہی شکار کر چکے تھے۔ اس وقت چوہے ان کے بہت نزدیک آ چکے تھے۔
یہ محسوس کر کے انسپکٹر عاصم گھومے اور قریب آنے والے چوہوں پر گن سے برسٹ دے مارا۔ گولیوں نے کتنے ہی چوہے ادھیڑ کر ان کی صفوں میں اضطراب کی لہر میں دوڑا دیں۔ چوہے اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو کھانے میں مصروف ہو گئے، لیکن بلا کی رفتار میں کوئی واقع نہیں ہوئی۔ وہ لمبی لمبی چھلانگیں مارتی ہوئی لحظہ بہ لحظہ انسپکٹر عاصم کے قریب آتی جا رہی تھی اور پھر بلا نے انہیں چھپا لیا۔ اس کے پنجے انسپکٹر عاصم کے کندھوں میں دھنس گئے تھے۔ انہیں ایسا لگا جیسے کندھوں میں دہکی ہوئی سلاخیں گھونپ دی گئی ہیں۔ بے ساختہ ان کے منہ سے ایک تیز چیخ نکل گئی۔ گن پر وہ اپنی گرفت نہ رکھ سکے تھے۔ اختر اور خالد نے پلٹ کر ٹارچوں کی روشنی میں انسپکٹر عاصم کو سخت دشواری میں دیکھا۔ اختر کے ہاتھ میں ایک مجرم کا رپیٹر تھا، لیکن وہ اسے ٹھیک سے استعمال کرنا نہیں جانتا تھا۔ ہیرا بھی بھونک رہا تھا۔ اچانک ہیرا بلا پر جھپٹ پڑا وہ بھی آخر ایک جنگجو نسل کا کتا تھا۔ ہیرا کے جبڑوں میں بلا کی ایک ٹانگ آ گئی۔ اس نے ٹانگ کو بری طرح چبا ڈالا۔ بلا ایک مکروہ آواز میں چیخی۔ اتنے میں خالد اور دوسرے سپاہی نے اسی جانب آتے ہوئے چوہوں کے جم غفیر پر فائرنگ کر دی۔
چوہے ایسے اُچھل اُچھل کر گرنے لگے، جیسے مکئی کے دانے پک پک کر اُچھلتے ہیں۔ ہیرا کی مداخلت سے یہ ضرور ہوا کہ بلا نے انسپکٹر عاصم کو چھوڑ دیا۔ انسپکٹر عاصم نڈھال سی حالت میں میں ہول کی دیوار سے جا گلے۔ اختر نے راستہ صاف دیکھا تو رپیٹر کا رخ بلا کی طرف کر کے فائر کر دیا۔ کان کے پردے پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا۔ رپیٹر کی خوف ناک گولی بے شمار چھروں کی صورت میں ہو کر بلا کے ایک کندھے سے ٹکرائی۔ اگلا لمحہ ایک اور بھیانک منظر لے کر آیا۔ بلا کا ایک ہاتھ ہی کندھے پر سے غائب ہو گیا۔ کٹے ہوئے کندھے کی جگہ سے کھال، گوشت اور سفید ہڈی جھانک رہی تھی۔ پھر خون کا آبشار بہہ نکلا۔ بلا کی چیخیں گولیوں کے دھماکوں سے کہیں زیادہ تیز اور دل ہلا دینے والی تھیں۔ ایسا لگنے لگا کہ میں ہول کی چھت کسی بھی لمحے ان پر آگرے گی۔ اتنی مہلت کافی تھی۔ وہ دوبارہ بھاگ نکلے۔ اختر اور خالد نے انسپکٹر عاصم کو سہارا دے رکھا تھا۔
ان کے دونوں کندھوں سے خون نکل رہا تھا۔ بلا زخمی حالت میں غصے اور جنون میں چلا رہی تھی۔ اس مرتبہ ان لوگوں کے بڑھنے کی رفتار قدرے سست تھی، کیوں کہ انسپکٹر عاصم کے زخمی ہونے کی وجہ سے انہیں بھی کچھ آہستہ بھاگنا پڑ رہا تھا۔ زخمی بلا اور چوہے ایک مرتبہ پھر بجلی کی سرعت سے ان کی طرف آ رہے تھے۔ اب ان لوگوں کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ان کو چیر پھاڑ ڈالیں گے۔ آخر وہ کتنے چوہوں کو گولیوں سے مارتے۔ وہ اب تک لاکھوں کی تعداد میں تھے۔ اور ان کا جنون اور اشتعال نقطہ عروج کو چھو رہا تھا۔ چوہے نما بلا بھی اپنے خون بہتے کندھے کی پروا کیے بغیر اُچھلتی چلی آ رہی تھی۔ پھر ایک دم ایک معجزہ ظہور پذیر ہوا۔ جس سمت میں یہ لوگ بھاگ رہے تھے، اس سے کچھ آگے میں ہول کی چھت پر ایک پوشیدہ ڈھکن اپنی جگہ سے ہٹا اور سورج کی روشنی کا بڑا سا دائرہ اندر گھس آیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک رسی کی سیڑھی اندر پھینکی گئی اور یکے بعد دیگرے کئی انسان نیچے اتر آئے۔ انہوں نے مکمل حفاظت لباس اور جوتے پہن رکھے تھے۔ ان کی پشت پر کسی قسم کے سلنڈر بھی دکھائی دے رہے تھے۔ ان آدمیوں کے آہنی ہیلمٹ پر ٹارچوں کی طرح سے روشنی بھی پھوٹ رہی تھی اور ہاتھوں میں موٹی موٹی نالوں والی گنیں تھیں۔ انہیں دیکھتے ہی وہ آدمی زور سے چلائے۔
’’نیچے ہو جاؤ۔‘‘
وہ چاروں ایک دم نیچے تقریباً لیٹ ہی گئے۔ ان کے ہاتھ پیر اور منہ میں ہول کے گندے پانی میں لتھڑ گئے تھے۔ ہیرا ایسے اشارے بخوبی سمجھتا تھا۔ وہ بھی بیٹھ گیا۔ جونہی وہ نیچے ہوئے آنے والوں نے فائر گنوں کے لیور دبا دئیے۔ ایک زور دار بھھک کے ساتھ آگ کا لمبا سا گولا زخمی بلا اور چوہوں سے اژدھے کی طرح جا کر لپٹ گیا۔ بلا کی کریہہ اور آسیبی چیخوں نے ان سب کو کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے پر مجبور کر دیا۔ جلتے ہوئے چوہوں کی قیامت خیز چیں چیں نے میں ہول ہلا کر رکھ دیا تھا۔ آنے والے چوہوں پر آگ کی بارش کرتے ہوئے آگے بھی بڑھ رہے تھے۔ بلا پہلے ہی زخمی تھی، آگ نے اسے مکمل طور پر چاٹ لیا تھا۔ پورے میں ہول میں گوشت اور چربی جلنے کی اس قدر بوبد بھر گئی تھی کہ اُن لوگوں کو اپنا کلیجہ منہ کو آتا محسوس ہو رہا تھا۔ مغز بدبو کی انتہائی شدت سے اُلٹے جا رہے تھے۔ انسپکٹر عاصم، اختر، خالد اور سپاہی اس سیڑھی کے ذریعے اوپر آ گئے۔ کسی نہ کسی طرح ہیرا کو بھی اوپر کھینچ لیا گیا تھا۔ پہلی بار انہوں نے اس جگہ کا جائزہ لیا۔ وہ لوگ اس وقت ایک ویران علاقے میں موجود تھے۔ یہ علاقہ شہری آبادی سے قدرے ہٹ کر تھا اور کچھ ہی آگے جنگل کا علاقہ شروع ہو جاتا تھا۔ اس جگہ بھی میں ہول بنے ہوئے تھے، کیوں کہ ادھر ہی سے گزر کر گندہ پانی دریا میں جا گرتا تھا۔ دس پندرہ منٹ بعد میں ہول سے وہ آدمی نکل کر باہر آ گئے۔ وہ ان لوگوں کا ایک منی ٹرک کھڑا تھا۔ ٹرک میں دو آدمیوں اور تھے، جو ان کے پاس آ گئے تھے۔ انسپکٹر عاصم کے زخمی کندھے دیکھ کر ایک آدمی منی ٹرک سے جا کر فرسٹ ایڈبکس نکال لایا اور زخم جراثیم سے پاک کر کے بینڈیج کر دی۔ انسپکٹر عاصم بڑی تھکن محسوس کر رہے تھے۔ یہ تھکن جسمانی نہیں تھی، بلکہ اعصابی تھی۔ معاملہ نمٹ چکا تھا۔ اسٹینلے اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچ گیا تھا۔ شہر میں ہونے والی وحشیانہ اموات کی ذمہ دار عفریت بھی مر چکی تھی۔ خوف ناک چوہے بھی ختم کر دئیے گئے تھے۔ جو بچ گئے تھے، انہیں بھی اندر جا کر جلد ختم کر دیا جائے گا۔ پروفیسر نجیب کا معاملہ بھی واضح ہو گیا تھا کہ اسے در اصل اسٹینلے نے قتل کیا تھا۔ اختر کی پوزیشن بھی صاف ہو گئی تھی۔ انسپکٹر عاصم کے پاس وہ جادوئی لائیٹر بھی تھا اور پروفیسر سراج کی ڈائری بھی۔ انسپکٹر عاصم نے ان آدمیوں سے پوچھا۔
’’آپ لوگوں کو کس طرح علم ہوا کہ ہم یہاں ہیں۔‘‘
وہ لوگ در اصل اس خصوصی ٹیم کے ارکان تھے، جن کے ذمے شہر میں تباہی مچانے والے خونی چوہے کھوجنے اور انہیں مارنے کا کام تھا۔ ان میں سے ایک نے جواب دیتے ہوئے بتایا۔
’’ہمارا تعلق ایک سرکاری ادارے کی خصوصی ٹیم سے ہے ۔۔۔ ہمارا کام ہی ان چوہوں کا پتا لگا کر انہیں ختم کرنا تھا۔ اتنا ہمیں علم ہو گیا تھا کہ یہ خونی چوہے اپنا کام کر کے میں ہولوں میں چھپ جاتے ہیں، لہٰذا ہم میں ہولوں میں ہی ان کو تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ یہاں آ کر ہم نے گولیوں کے دھماکوں کی ہلکی آوازیں سنی تھیں۔ فوراً ہمارے ذہنوں میں یہ خیال آیا تھا کہ شاید ہمارے ہی آدمیوں کی کوئی ٹیم میں ہول میں ہے اور چوہوں پر گولیاں برسا رہی ہے ۔۔۔ لیکن اندر تو کوئی بڑا جانور بھی تھا۔‘‘
انسپکٹر عاصم نے بھی مختصراً اپنی روداد سنا دی۔ وہ لوگ بڑے متحیر نظر آنے لگے۔
’’اوہ۔۔۔ تو اس کا مطلب ہے ۔۔۔ وہ جانور اصل میں وہی بلا تھی، جو بہت سے لوگوں کو چیر پھاڑ کر غائب ہو گئی تھی؟‘‘ وہ لوگ تعجب سے انہیں تکنے لگے۔
انسپکٹر عاصم اور اختر وغیرہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
پھر وہ سب ٹرک کی جانب بڑے۔ عین اسی لمحے انہوں نے اپنے عقب میں ایک ہول ناک دھاڑ سنی۔ وہ سب چونک کر مڑے۔ یہ دیکھ کر ان کی سٹی گم ہو گئی کہ جھلسی ہوئی بلا میں ہول سے باہر نکل رہی تھی۔ ایک ہاتھ نہ ہونے کی وجہ سے اسے باہر نکلنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ اختر کے ہاتھ میں ابھی تک رپیٹر تھا۔ اس نے درمیانی فاصلہ دیکھا۔ وہ زیادہ تھا۔ فائر گن کی آگ بلا تک نہیں جا سکتی تھی۔ چناں چہ اس نے اپنا رپیٹر سیدھا کیا اور اسے لوڈ کر کے ٹریگر دبا دیا۔ رپیٹر کی دہشت اس کے اوسان خطا کر دینے والے دھماکے سے ہے۔ اس کا کارتوس پھٹ کر لاتعداد چھروں میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ہدف کو کسی صورت نہیں بخشتا۔ بلا باہر نکل کر ان کی طرف ہی آ رہی تھی۔ اس کے سیاہ جسم کے بیش تر حصوں سے کھال غائب ہو گئی تھی۔ اندر کا گوشت اور چربی اب باہر آ گئی تھی۔ رپیٹر نے اسے موت کی نیند سلا دیا۔ بلا جھٹکے سے اپنے عقب میں اُلٹ کر گری تھی۔ پھر وہ ہمیشہ کے لیے ساکت ہو گئی۔
’’خس کم۔۔۔ جہاں پاک۔۔۔‘‘ اختر نے کسی فلمی ہیرو کی طرح رپیٹر ہاتھ میں گھمانا چاہا، لیکن وہ نیچے گر گیا۔ اختر شرمندہ ہو گیا تھا۔
اس دہشت ناک ماحول میں انسپکٹر عاصم، خالد اور دوسرے لوگ ہنس دئیے۔ ہیرا بھی مذاق اڑانے والے انداز میں اختر کو دیکھنے لگا، جو جھینپ مٹانے کی خاطر کھسیانی ہنسی کے ساتھ مسکرا بھی رہا تھا، لیکن وہ دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ اس عفریت کا اینڈاس کے ہاتھوں ہوا ہے۔ واقعی وہ خود کو ہیرو تصور کر رہا تھا۔
باب 12
پروفیسر سراج خان کی ڈائری سے ایسے ایسے راز منکشف ہوئے کہ انسپکٹر عاصم چکرا کر رہ گئے۔ یہ تو اتفاق تھا کہ ان کے ہاتھوں پروفیسر سراج خان کی ڈائری لگ گئی تھی، ورنہ بہت سی باتیں شاید انہیں کبھی معلوم نہ ہوتیں، کیوں کہ اس کیس کا سہرا انسپکٹر عاصم کے سر جا رہا تھا، اسی لیے ایک زمانہ ان کے پیچھے لگ گیا تھا اور ان سے مکمل حالات وواقعات اور تمام تر حقائق سننے کو بے تاب تھا، لیکن خود انسپکٹر عاصم نے اس کیس کا ہیرو اختر کو قرار دیا تھا۔ واقعی یہ بات درست ہی تھی، اختر نے مختصر سا ہونے کے باوجود جو کارنامے سر انجام دئیے تھے، وہ حیران کن تھے۔ انسپکٹر عاصم کے خیال میں اگر اختر ان کو فون نہ کرتا تو وہ اس معاملے سے لا علم رہتے اور اسٹینلے کا کھوج کبھی نہیں لگا پاتے۔
پروفیسر سراج کی ڈائری سے معلوم ہوا تھا کہ وہ چوہوں کے اوپر کسی قسم کی ریسرچ میں لگا ہوا تھا۔ پھر اس نے ایک کیمیکل بنایا اور تجرباتی طور پر اسے اپنی لیبارٹری کے قریب میں ہول کے گندے پانی میں ملا دیا۔ اس کا رد عمل انتہائی نتیجہ خیز تھا۔ چند ہی دنوں میں جہاں چوہے بہت کم تھے۔ وہاں چوہوں کی تعداد میں یک لخت بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا۔ چوہے عام سائز سے کچھ بڑے اور خونخوار بھی ہو گئے تھے۔ اس تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اگر اس کیمیکل کو دشمن ممالک کے میں ہولوں اور پانیوں کی جگہ استعمال کیا جاتا تو کچھ ہی دنوں میں وہاں چوہوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا۔ اس کیمیکل کو دشمن ملک کے حساس مقامات پر استعمال کر کے دشمن ملک کو پریشان کیا جا سکتا تھا۔ ان حساس مقامات میں ہوائی اڈے، فوجی چھاؤنیاں، ریلوے اسٹیشن وغیرہ ہو سکتے تھے۔ چوہوں کا بڑھتا ہو سیل رواں نا صرف اس ملک کو حواس باختہ کر دیتا، بلکہ دوسرے مخالف ممالک کو موقع بھی فراہم کرتا کہ وہ اس ملک کی غفلت اور حواس باختگی سے فائدہ اٹھا کر اس پر دھاوا بول دیں۔ پروفیسر سراج کے ایک ماتحت نے یہ راز کچھ لوگوں پر آشکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نامعلوم لوگ اس کے پیچھے پڑ گئے۔ پروفیسر سراج نے فائل پروفیسر نجیب کے پاس امانتاً رکھوا دی، لیکن اسی رات اس کی تجربہ گاہ میں رکھا خوفناک کیمیکل کا ایک جار پھٹ گیا۔ سارا کیمیکل پروفیسر پر آگرا تھا۔ پروفیسر سراج تجربہ گاہ سے نکل کر میں ہول میں بھاگ لیا، کیوں کہ دشمن اس پر حملہ کرنے کی نیت سے آ چکے تھے۔ اس نے کچھ دیر قبل پولیس کو بھی فون کر دیا تھا۔ پروفیسر تو میں ہول میں بھاگ گیا، لیکن پولیس اورمجرموں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا آخر بچنے والے مجرم اس کی لیبارٹری تباہ و برباد کر کے کھنڈرات میں بدل کر فرار ہو گئے۔ صرف تجربہ گاہ کے نیچے خفیہ تہہ خانہ محفوظ رہا تھا۔ ادھر پروفیسر سراج میں ہول میں ہی بھٹکتا رہا۔ وہ باہر نہیں نکلا، کیوں کہ اس کی ہیت تبدیل ہوتی گئی تھی۔ اس نے بھاگتے وقت اپنی یہ ڈائری ساتھ ہی لے لی تھی اور جب تک ہو سکا، اپنی بدلتی ہوئی کیفیت کے بارے میں لکھتا بھی رہا۔ اس نے لکھا تھا کہ میری جسمانی ہیئت حیرت انگیز طور پر تبدیل ہو رہی ہے۔ میرا منہ کسی چوہے کی طرح لمبا ہوتا جا رہا ہے۔ میرا دبلا پتلا سا بدن پھولنا شروع ہو گیا ہے اور چوہے جیسی دم بھی نکلتی جا رہی ہے۔ میں خود ہی اپنے تجربے کی بھینٹ چڑھ گیا ہوں ۔۔۔ ڈائری میں آگے ٹیڑھے میڑھے الفاظوں میں لکھا گیا تھا۔ اب مجھ سے لکھا نہیں جا رہا ہے۔ میری یادداشت غائب ہوتی جا رہی ہے۔ شاید چند گھنٹوں کے بعد میں سب کچھ بھول جاؤں۔ میرے ذہن پر وحشتوں کی یلغار ہو رہی ہے۔ بے شمار چوہے میرے پاس آ کر جمع ہو گئے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے وہ مجھ سے مانوس ہیں ۔۔۔ وہ خاموشی سے مجھے تک رہے ہیں ۔۔۔ اور اب شاید۔۔۔ آگے جگہ خالی تھی، بلکہ آگے کے بقیہ صفحات آخر تک خالی ہی تھے۔
پروفیسر سراج اس طرح دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر ایک عفریت کا روپ دھار گیا، مگر وہ عفریت کے روپ میں آنے کے بعد بھی اپنی تجربہ گاہ کے تہہ خانے اور میں ہولوں میں ہی رہا تھا۔ کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ پروفیسر سراج ابھی تک اپنے ٹھکانے پر ہی رہ رہا ہے۔ اس تمام قصے کے ختم ہونے کے بعد انسپکٹر عاصم نے پروفیسر سراج کی لیبارٹری پر ایک ٹیم کے ساتھ بغور معائنہ کیا۔ وہاں موجود زندہ بچ جانے والے خونی چوہوں کو اور ان کے بچوں کو بھی ختم کر دیا گیا تھا۔ پروفیسر نجیب کا لائیٹر اختر کی فرمائش پر ضائع کر دیا گیا کہ اس کی وجہ سے پھر کوئی نیا کھیل شروع نہ ہو جائے۔ اسٹینلے کے ساتھ دینے والے ہمدانی اور زخمی حالت میں پڑے ہوئے علی کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اختر اور ہیرا، اب بھی پروفیسر نجیب کی رہائش گاہ میں ہی رہتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*