.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » ادب » راجدھانی ایکسپریس، حصہ دوم ……. ڈاکٹر سلیم خان

راجدھانی ایکسپریس، حصہ دوم ……. ڈاکٹر سلیم خان

پڑھنے کا وقت: 127 منٹ

نوجوان شاہ جی کے شرن میں پہنچے تو وزیر انسانی وسائل نے چین کا سانس لیا اور جئے پور میں موجود اپنے جیوتش کے آشرم کی جانب چل پڑیں۔ شاہ جی نے ایک عرصے کے بعد جب چند نوجوانوں کو اپنے دفتر میں آتے دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟
راہل نے پوچھا خدمت کی بات بعد میں ہو گی پہلے یہ بتائیے کہ ہم بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں آپ لوگوں نے کیا سوچا ہے؟
اس بابت ہم لوگ بہت سنجیدہ ہیں۔ ہمارے پاس ایک طویل المدّتی منصوبہ جس پر اگر عمل درآمد ہو جائے تو بیروزگاری کا خاتمہ ہو جائے گا۔
مکُل خوش ہو کر بولا لیکن وہ منصوبہ کیا ہے؟
لگتا ہے آپ لوگ ٹی وی نہیں دیکھتے۔ وزیر اعظم نے ’’میک ان انڈیا‘‘ نامی مہم شروع کر رکھی ہے۔ وہ اس کیلئے ساری دنیا کے سرمایہ کاروں کو ہندوستان آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مختلف سربراہان مملکت کو سرمایہ کاری کیلئے آمادہ کیا جا رہا ہے۔
نکُل بولا لیکن ہم نے سنا ہے خود ہمارے دیسی سرمایہ دار بیرونِ ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں ان کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیوں نہیں کیا جاتا؟
دیکھو آپ نوجوان ہو اس لئے نہیں جانتے سیاست کی تجارت میں سرمایہ کاروں کی احسانمندی بہت اہم ہوتی ہے۔ ہم ان پر اپنی مرضی نہیں لاد سکتے اور پھر چونکہ وہ یہاں کی حالتِ زار سے واقف ہیں اس لئے ان کو تیار کرنا مشکل ہے جو غیر ملکی سرمایہ دار زمینی حقیقت سے واقف نہیں ہیں ان کو جھانسے میں لینا سہل تر ہے۔
شاہ جی کی ساری باتیں معقولیت سے پر تھیں اس لئے نوجوانوں کے پاس ان سے اتفاق کرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ اس بیچ نکُل نے سوال کیا کہ پھر اس میں رکاوٹ کیا ہے؟ اس نیک کام میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
شاہ جی اس سوال کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے تھے وہ بولے دیکھو بیٹے یہ صنعتیں خلاء میں تو نہیں بن سکتیں۔ انہیں قائم کرنے کیلئے زمین چاہئے جو کسانوں کے پاس ہے۔ ہم وہ زمین ان کسانوں سے لینا چاہتے ہیں لیکن حزب اختلاف اس میں رکاوٹ کھڑی کر رہا ہے۔
راہل بولا زمین کسان کی ہے سرمایہ دار اسے خریدنا چاہتا ہے تو ان کے بیچ حزب اقتدار و اختلاف کہاں سے آ گئے؟
در اصل بات یہ ہے کہ کسان اپنی زمین صنعتکاروں کو دینا نہیں چاہتے۔ ہم صنعتکاروں کی مدد کیلئے قانون بنا کر کسانوں سے زبردستی ان کی زمین لے کر سرمایہ کاروں کو دینا چاہتے ہیں لیکن حزب اختلاف اس قانون کو بننے نہیں دیتا۔
نکُل بولا کیا آپ کسانوں کا حق مار کر ہمارا پیٹ بھرنا چاہتے ہیں؟ ہمارا ضمیر اسے گوارہ نہیں کرتا۔
نہیں ایسی بات نہیں۔
نکل نے پوچھا تو کیا بات ہے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*