.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » ادب » راجدھانی ایکسپریس، حصہ اول …… ڈاکٹر سلیم خان

راجدھانی ایکسپریس، حصہ اول …… ڈاکٹر سلیم خان

پڑھنے کا وقت: 156 منٹ

انتساب
مرنجان مرنج رفیق و دمساز مولانا ارشد سراج الدین مکی صاحب کے نام جن کا اور میرا ساتھ اس کتاب کے چنگو اور منگو جیسا ہے چنگو اور منگو کی اس داستان میں بیان کردہ واقعات اور کردار حقیقی نہیں خیالی ہیں ان کی مشابہت اتفاقی ہے۔ اس لیے کہ وہ کسی کے بھی بارے میں کچھ بھی کہتے ہیں۔
………………………………………………….
دہلی انتخابات کے نتائج سارے ٹی وی چینلس پر زور و شور سے نشر ہو رہے تھے۔ نامور صحافی چوں گیری لال عرف چنگو کی آنکھیں ان حیرت انگیز مناظر کو دیکھ رہی تھیں جن کا تصور محال تھا۔ اپنے حواس خمسہ کے اوپر سے اس کا اعتماد اٹھ گیا تھا اس کے باوجود اس کے ہاتھ گرم گرم معلومات قلمبند کر رہے تھے۔ ہمہ تن گوش چنگو اپنے تازہ مضمون میں غرق تھا کہ جیسے ہی شاہ جی منہ لٹکائے ٹی وی کے پردے پر نمودار ہوئے اس کے بچپن کا یار منگیری لال عرف منگو بن بلائے آ دھمکا۔
چنگو سمجھ گیا کہ اب اس کا کام بند ہو جائے گا یہ نووارد مصیبت نہ کچھ دیکھنے کی اجازت دے گی اور نہ سننے کی مہلت عطا کرے گی بس پردھان جی کی طرح اپنے من کی بات سناتی رہے گی اور اپنا گن گاتی رہے گی۔ چنگو معذرت خواہانہ انداز میں ہاتھ جوڑ کر بولا بھائی منگیری لال معاف کرنا میں فی الحال ذرا مصروف ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تم اپنے بچے کچے کام نمٹا کر آ کر کچھ دیر بعد آ جاؤ تاکہ ہم لوگ فرصت سے گپ شپ کر سکیں۔
منگیری چہک کر بولا کام؟ کیسا کام؟؟؟ اب تو آم ہی آم؟
چنگو نے حیرت سے کہا ا س موسم میں آم؟ تمہارا دماغ تو ۰۰۰۰۰۰۰
منگو بات کاٹ کر بولا ارے بھائی کیوں اپنا وقت خراب کرتے ہو جو شئے موجود ہی نہ ہو وہ خراب کیسے ہو سکتی ہے۔ ویسے اگر آم خراب بھی ہو جائے تو چنتا کی کوئی بات نہیں بلا تکلف کھڑکی سے باہر پھینک دینا۔ ہر طرف ہماری پارٹی کا جھاڑو چل رہا ہے صفائی ہو جائے گی۔
تمہاری پارٹی۔ تمہیں کس احمق نے اپنی پارٹی میں لے لیا۔
منگیری سینہ ٹھونک کر بولا بھئی مجھے کون روک سکتا ہے۔ تمہیں یاد ہو گا ایک زمانے تک میں بھی انّا تھا تم بھی انّا تھے۔ اب ہم سب عام آدمی ہیں۔ عاپ ہماری پارٹی ہے اگر اجگر کینچلیوال بھی ہمیں روکنے کی جرأت کرے گا تو ہم لوگ اسے خاص آدمی بنا کر پارٹی سے نکال دیں گے۔
یہ اجگر کہاں سے بیچ میں آ گیا؟
منگو بولا یہ ہمارے چہیتے رہنما کی نئی عرفیت ہے۔
لیکن تم لوگ کوئی اچھا سانام بھی تو رکھ سکتے تھے یہ کیا۰۰۰۰۰۰
منگو بولا بھئی یہ نام ہم لوگوں نے نہیں رکھا بلکہ دشمنوں کی مہربانی ہے
کیا مطلب، انہوں نے ایک برا نام رکھا اور تم لوگوں نے اپنا لیا؟
شروع میں ہمیں بھی بہت برا لگا لیکن جب اس کی وجہ معلوم ہوئی تو اس قدر پسند آیا کہ اب ہم انہیں آپس میں اسی نام سے پکارتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*